کیا ہم آزاد ہیں؟
صائمہ نذیر نوشہرہ
ملک کی دیانت کا اگر پاس ہے تجھ کو
تو غیر کی تقلید پہ فقط آہ کیا کر
کیا ہم آزاد ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لفظ آزادی کا مطلب جان لیں آزادی کیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے اور یہ لفظ اپنے اندر کتنی وسعت رکھتا ہے۔قرآن مجید انسانوں کو ہر قسم کی آزادی دلانے پر گہری توجہ دیتا ہے انسان کے اندر آمریت جبر اور تقلید کے رجحان کو پہچانتے ہوئے قرآن مجید کی سورہ ال عمران میں واضح الفاظ میں کہا گیا۔” یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص جسے کتاب اور عقل دی گئی ہو اور پیغمبر کا درجہ دیا گیا ہو وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے میری عبادت کرنے والے بن جاؤ اس کے برعکس وہ کہے گا اس کی بندگی کرنے والے بن جاؤ جو سب کا مالک ہے۔کیا ہم اپنی سوچ، فکر، نظریات، رسم ورواج، اور اقدار میں مکمل طور پہ آزاد ہیں؟
بحثیت ملک و وطن ہم بات کریں تو ہم آزاد ہیں کیونکہ 3 جون 1947 کے منصوبے کی رو سے مشرقی بنگال اور مغربی پنجاب کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا اور قائداعظم محمد علی جناح 7 اگست 1947 کو کراچی پہنچے گیارہ اگست 1947 کو اسمبلی کا صدر مقرر ہوئے اور ٹھیک تین دن بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا اور یوں 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا اور پاکستان کے حدود مقرر ہو کر ایک آزاد وطن کے طور پر سامنے آیا۔لیکن بدقسمتی سے بحثیت قوم ہم آج بھی غلام ہی ہیں کیونکہ آزادی کا مطلب خودمختاری، خلاصی اور ہر قسم کی غلامی سے نجات ہوتا ہے لیکن افسوس ہم آج بھی آزادیِ عمل اور آزادیِ اظہار میں قید ہیں۔
قوم ایک اجتماعی نظریاتی سوچ کا عکس ہوتی ہے اور ہمارے نظریات پر غلامی کا وہ سایہ چھایا ہے جو تاریکی میں بھی ساتھ نہیں چھوڑتا کیونکہ ہم آج بھی اعلٰی ادنیٰ اونچا نیچا لسانی و نسلی امتیازات میں جگڑے ہوئے ہیں ہم نے انگریزی سامراج سے تو آزادی حاصل کر لی لیکن اپنے ہی ملک میں طبقاتی نظام، حدود، عالم بالا اور عالم ادنیٰ کے بنائے ہوئے نظریاتی تنزل کے غلام بن کے رہ گئے۔
ایک اجتماعی نظریہ کے تحت بنایا گیا یہ ملک آج مختلف نظریات کا شکار ہے کہیں سنی شعیہ کو ایک دوسرے سے مسئلہ ہے تو کہیں اہل حدیث اور اہل سنت کے اختلافات نظر آتے ہیں کہیں پر سبز پگڑیوں کا راج ہے تو کہیں کالی جھنڈیوں کا رواج اور یہ صرف اس لیے کہ ہمیں مختلف افکار، نظریات اور عقائد میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ ہم ذہنی طور پر مفلوج ہو جائیں تاکہ ہم کبھی بھی ایک نہ ہو سکیں۔بے شک اب بھی ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جو حلقوں میں یہ اکثریت میں ہیں جن کے ساتھ ہمارے بنیادی معاشرتی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی عقائد اور امنگیں مشترک ہیں لیکن ہم ایک ایسے وسیع و عریض معاشرتی نظام کی بات کر رہے ہیں جو بیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور جن کی تاریخ چودہ سو صدیوں سے زیادہ طویل ہے اور اس میں متنوع اور کئی صورتوں میں ایک دوسرے سے متصادم روایات پائی جاتی ہیں۔
بے شک ہمارے ملک نے جدید علوم و فنون سے آشنا کرانے کے لئے بڑے بڑے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا ہے بہت بڑی اور شاندار قسم کی یونیورسٹیاں قائم کی ہیں اس کے علاوہ مقامی طور پر لوگوں کے تعاون سے نجی اور سرکاری اسکول اور کالجز بھی قائم کیے۔لیکن افسوس کہ یہ تعلیمی نظام بھی طبقاتی تقسیم پر مبنی ہے اس سے جہاں بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے وہاں نتیجے کے طور پر معاشرہ مزید طبقاتی تقسیم کا شکار ہو رہا ہے جدید تعلیم یافتہ لوگ اور روایتی دینی علوم حاصل کرنے والے افراد میں ایک بہت بڑی خلیج پیدا ہو رہی ہے۔
اس طرح معاشرہ کہیں طبقات میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے ذات پات کی بنیاد پر تقسم، پیشوں کی بنیاد پر تقسیم، لسانی و نسلی بنیاد پر تقسیم وغیرہ ان نسلی و لسانی پیشہ ورانہ اور ذات پات کی بنیادوں پر گروہوں کو مزید پریشانی کا سامنا ہے ان تمام مشکلات میں گرفتار انسان کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟چلیں اگر ہم مان بھی لیں کہ ہم آزاد ہیں تو پھر پاکستان اور پاکستانی آئین کے مطابق قومی زبان اردو کے بجائے جب ہمارے بچیں فر فر انگریزی بولتے ہیں تو ہم کیوں اتنا خوش ہوتے ہیں؟ اپنی شادی بیاہ کی رسومات میں کیوں مہندی، دودھ پلائی اور جوتا چھپائی جیسے فضول رسومات پہ فخر کرتے ہیں جن کا ہمارے مذہب اور شعریت سے کوئی لینا دینا نہیں کیوں ہمارے اسکولوں میں کسی قومی تقریب میں بچہ قائد، غالب اور اقبالؒ کے بجائے قومی رابن ہڈ اور ٹارزن بنا پھرتا ہے؟
70 سال سے زائد بیت چکے لیکن آج بھی ہماری سوچ پر انگریز کی مہر ہے ہماری عدلیہ آج بھی برٹش انڈین ایکٹ 1935 پر انحصار کر رہی ہے ہماری معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے جبکہ یو ایس ایڈ یو این چارٹر ہمارے تعلیمی نظام کو بھی درہم برہم کر رہی ہے۔سب سے بڑی غلامی عام عوام پر سرکاری اختیارات کا غلط اطلاق ہے کئی بڑے بڑے سرکاری افسران اپنے سرکاری اختیارات اور وسائل کا ذاتی یا غلط استعمال کرتے ہیں بدعنوانی، اقربائپروری،اہلیت کا قتل، سرخ فیتہ، اختیارات کی مرکزیت، اور رشوت تو جیسے عام باتیں ہیں۔
ہمارے ہاں اکثر میرٹ اور اہلیت کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اہل لوگ مایوس نظر آتے ہیں قابل، دیانتدار، ذہین، محنتی اور ایماندار افراد کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے سرکاری محکموں میں خود غرض اور مفاد پرستوں کی اجارہ داری ہے بڑے بڑے عہدوں پر تقرری سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ان حالات میں ایک عام اردو میڈیم اسکول سے پڑھا ہوا بچہ اپنے ہاتھ میں ڈگری لے کر کس کے در پہ دستک دے کہ یہاں تو ہر دروازے پر انگریزی کا بورڈ آویزاں ہے پھر ہم کیسے آزادی کا نعرہ لگا سکتے ہیں؟ ہم غلام ہیں غلط سوچ کے ہم تو روشن خیالی اور آزاد خیالی کے مابین فرق کو مٹا کر اپنے مذہب کے ساتھ بھی اسی ملک میں کھیل رہے ہیں جو لاالہ الااللہ کی بنیاد پر بنا تھا۔ہمارے ہاں اجتماعی سوچ کا فقدان ہے ہمارے ملک میں علاقائیت اور صوبائیت کا غلبہ ہے ۔اصل آزادی تو وہ ہوتی ہے جہاں لوگ آزادی سے ایک آزاد معاشرے میں رہتے ہوں جہاں ان کے حقوق محفوظ ہوں ان حقوق میں اظہارِ رائے کی آزادی، اختلافِ رائے کی آزادی، نجی ملکیت و کاروبار کی آزاری، معلومات تک رسائی کا حق اور ہر فرد کے لیے تعلیم و ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں کیونکہ سوچ اور عمل کی آزادی سے ہی علم، ثقافت، سیاسی نظام، معشیت اور دوسرے تمام شعبوں میں ترقی ممکن ہے۔اور اگر ذہنوں پہ پہرے بٹھا کر جسموں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر اس معاشرے میں ”میرا جسم میری مرضی ”جیسے مفلوج اور غلام ذہنیت کے نعرے ہی بلند ہونگے۔
بال و پر توڑ کے صیاد کرے ہے آزاد
آہ بے رحم یہ کس کام آزادی ہے
Comments are closed.