اولاد کی تربیت ضرور کیجیے

 

تحریر: ایس فاطمہ

اولاد اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے، خوش قسمت ہیں وہ والدین جنہیں اللہ نے اولاد جیسی نعمت سے نوازا۔ اللہ نے والدین کو اولاد عطا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ ذمہ داری بھی دی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں، انہیں دین سکھائیں، اور دوزخ کی آگ سے بچائیں۔
اللہ تعالی نے قرآن شریف میں ارشاد فرمایا ہے: یا أيها الذین آمنوا قُوا أنفُسَکم و أھلیکم ناراً وقُودُھا الناس والحجارۃ. (سورۃالتحریم: ٦)
ترجمہ: تم خود کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ (سورہ تحریم: 6)
اس آیت میں خود کو اور اپنے بچوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ جہنم کی آگ سے کیسے بچایاجائے؟ تو یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے، اللہ تعالی نے قرآن شریف میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے: إِنَّ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡهِمۡ وَلَا هُمۡ یَحۡزَنُونَ. (سورة البقرة: ٦٢)
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ لوگ رنجیدہ ہوں گے۔ (سورہ بقرہ: 62)
یہاں اللہ تعالی نے خود جہنم کی آگ سے نجات پانے کا طریقہ بتا دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ان چیزوں پر عمل کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کی دعوت دیں۔
مثال کے طور پر اگر ہم کہیں مارکیٹ جاتے ہیں اور اگر ہمیں وہاں کوئی نفع بخش چیز نظر آتی ہے یا کسی دوکان پر کوئی آفر ہوتی ہے جس میں ہمیں ڈبل منافع ملتا ہے تو ہم خود تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر والے ہمارے پیارے بھی اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ ہم انہیں بھی بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ پر فلاں آفر ہے۔
دنیاوی معاملات میں تو ہم اپنے بچوں کی بہت فکر کرتے ہیں، ان خیال رکھتے ہیں، ان سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ کہیں اسے ٹھنڈ نہ لگ رہی ہو، رات رات بھر جاگ کر اسے سلاتے ہیں، اسے گرمی نہ لگے، اپنے آنچل سے ٹھنڈی ہوا دیتے ہیں، اس کی بھوک ہم سے برداشت نہیں ہوتی، خود اپنے حصے تک کا کھانا انہیں کھلا دیتے ہیں، یہ سب ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں سے محبت ہوتی ہے؛ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری یہ محبت، یہ فکر، یہ خیال صرف اس دنیا کے لئے ہوتا ہے۔ اس دنیا کے لئے جو چند روز کی ہے اور جو دائمی یعنی ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے معاملے میں ہم سے لاپرواہی ہو جاتی ہے۔ صبح نماز کے لیے ہم خود تو بیدار ہوجاتے ہیں؛ لیکن اپنے بچوں کو نہیں اٹھاتے۔ کیوں نہیں اٹھاتے؟ ارے وہ اتنی پیاری نیند سو رہا ہے سونے دو، ہماری محبت گوارا نہیں کرتی کہ ہم انہیں میٹھی نیند سے جگا دیں؛ لیکن حقیقت میں یہ محبت ہے ہی نہیں، یہ تو وہی بات ہو گئی نا کہ بچہ بیمار ہے؛ لیکن اس ڈر سے اسے دوا نہیں پلا رہے ہیں۔ اسے کڑوی لگے گی، تو یہ تو اپنے ہی بچوں سے اپنے ہی پیاروں سے دشمنی ہے۔ اصل محبت تو یہ ہے کہ آج دوا تھوڑی کڑوی لگے؛ لیکن کل اسے آرام ہو جائے، کل بچہ صحت یاب ہو جائے، آئیے! آج تھوڑی پریشانی ہو؛ لیکن کل کو یہی پریشانی بچے کی نجات کا سبب بنے، اس کے جنت میں جانے کا ذریعہ بنے تو اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی دین پر عمل کرے، اور اپنی اولاد کو، اپنے پیاروں کو اس کی طرف بلائیں تاکہ اللہ تعالی ہمیں بھی جنت جیسی نعمت سے نوازے اور ہمارے پیاروں کو بھی۔
بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی اور مضبوط معاشرہ وجود میں آتا ہے؛ کیوں کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے، اولاد کی تربیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انہیں برے اخلاق و عادات سے روکا جائے، غلط ماحول کو اچھے ماحول سے تبدیل کیا جائے، اولاد کی ظاہری تربیت کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، ملنے جلنے، پہننے اوڑھنے کے طور طریق کے ساتھ ساتھ ان کی باطنی تربیت یعنی ایمان و عقائد اور اخلاق کی اصلاح کی جائے، اولاد کی ظاہری تربیت جتنی ضروری ہے اتنی ہی باطنی تربیت بھی ضروری ہے، دونوں لحاظ سے بچوں کی تربیت کرنا والدین کا فرض ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ”عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ“ (النفقة على العيال لابن أبي الدنيا باب تعليم الرجل أهله وتعليم ولده وتأديبهم حديث رقم 319)
یعنی: تم اپنی اولاد کو تعلیم دو اور انہیں ادب سکھاؤ۔
(النفقة علی العیال: حدیث نمبر 319)
اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے بھی ہوتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ما نحل والد ولده من نحل أفضل من أدب حسن. (رواه الترمذي)
ترجمہ: کوئی والد اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھے آداب سکھائے۔ (ترمذی)
یعنی اچھی تربیت کرنا اچھے آداب و اخلاق سکھانا اولاد کے لئے سب سے بہترین عطیہ ہے۔ ایک اور حدیث شریف کا مفہوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور انہیں مارو جب وہ دس سال کے ہو جائیں۔“
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو بچپن سے ہی نماز کی ہدایت کرتے رہیں اور دس سال کے بعد سے ان پر سختی کرنے کا بھی حکم ہے۔ یعنی پیار سے یا سختی سے جس طرح بھی ہو سکے اپنے بچوں کو دین و ادب کی ہدایت کرتے رہیں۔

Comments are closed.