جب امریکہ کاآخری فوجی افغانستان سے بھاگ گیا
عبدالرافع رسول
تاریخ اٹھاکردیکھ لیجے کہ افغانوں کے عزم وہمت ، بہادری اور انکی سپاہ گری نے دنیاکی تین سپرپاورزکوتین الگ الگ وقتوں میں شکست دے کر سرزمین افغانستان سے بھگادیا۔افغانوں کے ہاتھوں پہلے برطانیہ ،پھرسوویت یونین اوراب امریکہ کوایسی ذلت آمیزشکست ملی کہ انکی نسلیں تازیست یادرکھیں گی ۔عصرحاضرکی سپرپاورافغانستان کے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے امریکہ کاآخری فوجی افغانستان سے بھاگ گیااوریوں افغانوں کوفتح اورامریکہ اوراس کے اتحادیوں کوذلت آمیزشکست سے لت پت ہوئے ۔ دنیامیں جن قوموں،تحریکوں اورافرادنے جہدپیہم یقین کامل اوراُمیدواثق کو زندہ رکھاتووہ کامیاب ہوئے ، کیونکہ حالات کی تبدیلی فطرت کا قانون ہے۔(HOPE it keeps you alive) مقصدکی راہ کوچھوڑکر منفی سوچ اختیارکرنے سے گریزکیاجائے اور مثبت پہلووئوں کوتھامے ہوئے کامیابی کی منزل پانے کے لئے تدبراورتفکرکرناچاہئے ۔ جہدپیہم ،یقین کامل اوراُمیدواثق یہ تین عناصرانسانی زندگی میں سانس کی مانند ناگزیر ہیں،اس امرپریقین محکم ہوناچاہئے کہ اہل ایمان کے مقدرمیں ہمیشہ کے لئے آزمائشیںاوران کے لئے شکست وریخت ،ناامیدی ،مایوسی کی قعرمذلت میں رہنا نہیں لکھاگیااسے خلیفہ فی الارض کی خلعت پہناکراس دنیامیں اپنی خودی ،خودداری اورخودمختاری کے حصول کے لئے پیہم جدوجہدکرنے کوکہاگیااورپھرکامیابی کے ثمرات اسے یقینی طورپرملنے کاوعدہ کیاگیاہے ۔بلاشبہ اگرچہ وقت کو پل جھپکتے ہی گزر جانا ہے،لمحہ نہیں لگتا گزرنے میں، مگر کبھی کبھارجب مشکلات وآزمائشوں کاسامناہوتوپھر اک اک پل بھی صدی جیساہوتا ہے۔لیکن حواس خمسہ برقراررکھتے ہوئے مشکلات اورآزمائشوں سے گذرکراہل ایمان کی بالآخر آسانیوں کی طرف مراجعت ہوجاتی ہے ۔جس کی تازہ ترین مثال افغان طالبان ہیں جورب کی نصرت سے کابل کے صدارتی محل کے مرصع ایوانوں میں رونق افروز ہوکرفروکش ہوئے اوررب کی زمین پر رب کے نظام کی بساط پھیلانے کے لئے وسیع ترمشاورت جاری ہے امید ہے کہ دوتین یوم تک شرعی نظام کے نفاذ کے لئے باقاعدہ نفیرعام کی جائے گی اورمژدہ جانفزاسنایاجائے گا۔رب کے فضل وکرم سے تاریخ کروٹ بدل رہی ہے اورافق سے ایک نیاسورج طلوع ہورہاہے ۔یہ سارامنظر استبدادکے پجاریوں اورچیرہ دستیوں کے حمایتیوں پرلازماََگراں گذرجائے گااوروہ نئی سازشوں کے لئے سرجوڑکربیٹھیں گے کیونکہ ایسے حسرت زدہ لوگوں کے احوال اورانکی چالوں کے حوالے سے قرآن مجیدمیں پوری طرح بتادیاگیاہے۔
طالبان کی فتح پرلکھے مضامین میں یہ خاکسارباباریہ جملہ دہراتارہاہوں کہ طالبان کی فتح کودیکھنے کے لئے بصیرت اورنوروالی آنکھیں چاہییں بے نوراورحسرت زدہ آنکھ کیاخاک دیکھ سکے۔تاریخ لکھے گی کہ محض سترہزار طالبان نے وقت کی سپرپاورکوخاک چٹوادی اوراسے اپنے تمام حلیفوں بلکہ اسکی ہاں میں ہاں ملانے والی اورطالبان سے مکمل طورپردستکش ہوئی پوری دنیاکو اپنے سامنے جھکادیا۔یہ سہراان کی جہدپیہم کوجاتاہے ۔اس کے برعکس کوئی قوم قربانیاں دینے کے باوصف ہمت ہارکراپنی جدوجہدترک کردے توخس وخاشاک بن جاتی ہے ۔تاریخ کادھاراموڑنے کے لئے جہد پیہم ،یقین کامل اوراُمیدواثق کے دامن کے ساتھ چمٹے رہناہی کامیابی دلاسکتی ہے ۔ تاریخ اس امرپرشاہد ہے کہ جب قوموں،تحریکوں اورافراد نے جہد پیہم ،یقین کامل اوراُمیدواثق کا دامن چھوڑ دیا اوران میں اتنی سکت بھی باقی نہیں دو قدم بھی چل سکیں توتاریخ انسانی انہیں ناکام ترین قوم ،ناکام ترین تحریک یاناکام ترین ا فرادکہہ کرپکارتی ہے۔ اس لئے انسان کوجدوجہدکرنے کے ساتھ ساتھ کامیابی کے خواب دیکھتے رہنا چاہیے، اوراپنے اندرروشنی کا اَن مٹ دیا جلائے رکھناچاہئے ۔اگرچہ انسان کی چاہ کی کوئی حد نہیں ہے اور وہ چاہتاہے کہ اونچی اڑان بھرکر فلک سے تارے سمیٹ لائے،یعنی ایساکچھ کرے جوبادی النظرمیں ناممکنات میں سے ہے ایسا بھی ضرورہوسکتاہے لیکن بے شمارنشیب وفرازسے گذرناپڑے گااور اس کے لئے جہدمسلسل اور زور بازولڑنا پڑے گااورکشمکش میں گزرا ہر لمحہ جدوجہدسے بھرپور ہوناچاہئے۔ جب کوئی اس عزم کے ساتھ آگے بڑھناچاہے تو کئی بار اس کی ہمت ٹوٹ سکتی ہے۔ مگر مشکل سے مشکل حالات میں بھی اگر امید کا دامن نہ چھوڑاتومنزل پانایقینی بات ہے۔
مخالف سمت سے اٹھے باد صرصرکودیکھ کردل اور دماغ پرمایوسی کے گہرے اثرات کوپڑنے دیاجائے توتمام قوات مضمحل ہوجاتے ہیں۔اس لئے دل اور دماغ کوحاضراورانہیں اکٹھے رکھ کرکران کی مشاورت کرائی جائے اور ان سے عہد لیا جائے کہ ایک ساتھ رہیں گے اورمکمل اشتراک سے کام کریں گے۔اگردل و دماغ نے ایک دوسرے سے اختلاف برتاتوپھرایک ایسی کشمکش شروع ہوجائے گی کہ جس کاحتمی نتیجہ تباہی اوربربادی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔کوئی قوم ،کوئی تحریک یاافرادکے سامنے ڈیپریشن فل زورں پہ کیوں نہ ہو، مایوسی کے عمیق سمندر میں غوطہ زنی کاسامنا کیوں نہ ہو لیکن یہ امید بندھائی رکھنی ہے کہ ہمارابہترین کارسازہمارے ساتھ ہے اوروہ وہی ذات ہے کہ جس نے ہمیں وجود بخشااور وہی ہماری کشتی بھنورسے کھینچ کرکامیابی کی منزل سے ہم کنارکرے گا ۔ہم ہرگزڈوب نہیں سکتے مگر تیقن یہ ہوناچاہئے کہ ہمارے اوپر ہمارے رب کاسایہ رحمت ہے اور وہ ہماری مددکے لئے فرشتوں کوحکم صادرکرے گاکہ بازو پھیلاکرمیرے بندوںکی نیاکوغرق ہونے سے بچائواوراسے کنارے لگادو۔
کامیابی کاخواب ہر کوئی دیکھتا ہے،یہ خواب قومی سطح پربھی دیکھے جاتے ہیں،تحریکوں کے بھی اپنے خواب ہوتے ہیں اورافراد بھی اپنے اذہان میں کئی طرح کے خواب سمائے بیٹھے ہوتے ہیں المختصریہ کہ ہر ایک انسان کے دل میں خواہش پنپتی ہے مگر خواب کو زندگی کا مقصد بنانے والے کھلاڑی ریس میں دوڑتے ہوئے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتے کہ کیا چھوٹ گیا،کیا کرنا باقی رہ گیا بس کر گزرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بازی ہے جس میں جو بھی لگایا جائے کم ہے۔مقصد وہ ہوتا ہے جو کسی ڈیڈ لائن سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچ جائے اور ڈیڈ لائن کا کوئی وقت متعین نہیں ،یہ آپکے ذہن کی مقرر کردہ حد ہے۔۔بس جب جنون میں آئیں کر گزریں،منزلوں کے راہی کا خدا محافظ ہوتا ہے۔انسانیت کے بدترین زوال کے دنوں میں جہدپیہم ،یقین کامل اوراُمیدواثق زندہ رکھنے کے واقعات زندگی سے محبت کی ایسی تصدیقات ہیں کہ جو انسانوں کوشب ظلمت میں دلداری کرتے ہیں، چاہے وہ ناٹزیوں کی حیاتی جگہ(لونگ سپیس) ہو یا ملکیوں کی تزویراتی گہرائی( سٹریٹیجک ڈیپتھ) ہوجہدپیہم ،یقین کامل اوراُمیدواثق کا دامن تھام لیناحوصلہ بخش ہوتاہے۔یوں کہہ لیں کہ یہ انسان کو مشکلوں اور غموں سے لازماََنجات دلاتے ہیں ۔ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دورکوہی دیکھ لیجئے کہ اگرعمل پیہم یقین کامل اوراُمیدواثق کادامن پکڑا نہ ہوتا تو انسان کبھی یہاں تک نہ پہنچ سکتا۔ اگر یہ عناصرکارفرمانہ ہوتے تو انسان آج بہت ساری ایجادات سے محروم ہوتا۔
Comments are closed.