زندگانی تھی تری ماہتاب سے تابندہ تر!
حیاتِ مفتی عبدالمغنی رحمہ اللہ کی چنداہم جھلکیاں!
ترتیب: حافظ محمد عمر نظام آبادی
مدیر: التذکیر فاؤنڈیشن نظام آباد
روزِ اول ہی سے یہ خدائی دستور اور کائناتی نظام چلا آرہا ہے کہ جو شخص بھی اس گلشنِ فانی میں آنکھیں کھولتا ہے اس کا اس دنیا سے چلا جانا ایک یقینی امر ہے، کسی کو یہاں بقا نہیں، اسی قانونِ ازلی کے مطابق ٨ ‚محرم ۱۴۴۳ھ مطابق ١٨‚ اگست ۲۰۲۱ء کو رہبرِ قوم و ملت، قائدِ جمعیت حضرت مولانا مفتی محمد عبدالمغنی صاحبؒ مظاہری اپنی حیاتِ مستعار کے قیمتی لمحات دین و شریعت اور ملک و ملت کی خدمت کے لیے وقف کرکے ہزاروں شاگردوں اور سیکڑوں عقیدت مندوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، انا لله و انا الیہ راجعون ۔
یقیناً مفتی صاحبؒ کی رحلت ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ اور بڑا سانحہ ہے، اور آپ کی وفات سے ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا اس عہدِ زوال اور دورِ قحط الرجال میں عنقاء ہے؛ کیوں کہ مفتی صاحب کی دل آویز شخصیت ملت کے لئے شجر سایہ دار اور متاعِ گراں مایہ تھی، اور آپ اپنی متنوع دینی و ملی، سیاسی و سماجی خدمات کی وجہ سے عوام و خواص میں ہر دل عزیز تھے، اور آپ کی خدمات میں تنوع کا عالم یہ تھا کہ کبھی وہ سٹی جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد کے پلیٹ فارم سے ملت کو درپیش سیاسی مسائل حل کرتے نظر آتے ، کبھی محکمہ شرعیہ کے ذریعہ سماجی مسائل و خانگی رنجشوں کا فیصلہ کرتے دکھائی دیتے، اور کبھی حریمِ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں اور تقدسِ صحابہ کو بیان کرنے کے لئے ہر آن مستعد رہتے؛ مختصر یہ کہ دین متین کے اس سچے خادم نے خدمات سے بھری زندگی گزار کر حقیقی سکون اور اصلی راحت پانے کے لئے داعیٔ اجل کو لبیک کہا؛ آپ کی رحلت سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ علم و عمل کی روشن شمع ہمیشہ کے لئے گل ہو گئی، اور بزرگانِ دین اور اسلاف و اکابر کی پاکیزہ روایات کا امین و پاسبان منہ موڑ گیا
جان کر من جملہ خاصان میخانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
*دور طالب علمی اور خدمت تدریس:
مفتی صاحب ؒ کی تعلیم کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ سب سے پہلے آپ مدرسہ فیض العلوم حیدرآباد میں داخل ہوئے اور وہیں ناظرہ اور قرآن مجید حفظ کرلیا اور شعبۂ عالمیت کی ابتدائی جماعتوں کے لئے حضرت محی السنہ شاہ محمد ابرار الحق صاحب ؒ کے ایماء پر مدرسہ أشرف المدارس ہردوئی بلالیے گئے وہاں چند سال تعلیم حاصل کی، پھر اگلی جماعتوں کے لئے جامعہ عربیہ ہتوراباندہ کا رخ کیا وہاں کچھ وقت گذرانے کے بعد درسِ نظامی کی تکمیل اور سندِ فضیلت کے لئے ملک کی معروف دینی درس گاہ مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخل ہوئے اور درجاتِ علیا کی تکمیل کی،اور تکمیل افتاء بھی کیا ابتداء میں جامع مسجد کاماریڈی میں امامت وخطابت اور تدریس کے فرائض انجام دئیۓ پھرمدرسہ فیض العلوم میں تدریسی خدمت سے منسلک ہوگئے کئی برس پڑھائے اور سینکڑوں شاگرد تیار کیے اور دو مرتبہ نائب ناظم مقرر ہوئے اور ہر مرتبہ شعبۂ عالمیت قائم کیا، اور اس کے علاوہ مختلف جگہوں پر بھی خدمت کی، اڑیسہ اور آندھراپردیش کے بعض ایسے بنجر علاقوں میں کام کیا (جہاں جانے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ہوتا) اور وہاں ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی جو آج تک قائم ہے جس سے سیکڑوں طلباء تیار ہورہے ہیں، پھر مدرسہ سبیل الفلاح کی داغ بیل ڈالی جس کا فیض ابھی بھی جاری ہے اور کئی طلباء استفادہ کررہے ہیں، یہ سب مفتی صاحب کے لئے ان شاء اللہ صدقۂ جاریہ ثابت ہوگا۔(ملخص از خطاب: مولانا محمد عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم)
*مجلسِ تحفظ ختم نبوت:
ناموسِ رسالت کا تحفظ آپ کی زندگی کا مشن رہاپھر جب مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہوئی تو اس کے نائب صدر منتخب کئے گئے اور کل ۲۱ سال تک اس عہدے پر فائز رہے، جب جب اور جہاں جہاں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جانا پڑا ہر وقت تیار رہے کبھی پیچھے نہیں ہٹے؛ حتیٰ کہ دیہاتوں میں جا جا کر قادیانیت سے متأثر لوگوں کو سمجھاتے، غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے حقائق سے آگاہ کرتے، عقائد کی اصلاح کرتے، توبہ کراکے مسلمان بناتے تھے؛ یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب ؒ کی تدفین کے وقت ایک شخص نے مرشدی و سیدی حضرت مولانا محمد عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم سے کان میں کہا : ” ہم سات گھرانے کے لوگ آئے ہیں جو قادیانیت کا شکار ہوگئے تھے مفتی صاحب نے ہمیں اس دلدل سے نکال کر توبہ کرائی اورایمان کی دولت سے مشرف کیا تھا“ ۔
یہ مفتی صاحب کی بے لوث خدمت ہی کا نتیجہ اور ثمرہ ہے، اور اس کے علاوہ بھی بےشمار خدمات ہیں جو آپ نے تحفظ ختمِ نبوت کے حوالہ سے سر انجام دیں۔
*تقدسِ صحابہ کرام ؓ:
مفتی صاحبؒ کو صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت سے عشق کے درجہ میں محبت تھی، بڑے ہی عظمت کے ساتھ ان کا نام لیتے، اور محرم کا پورا مہینہ شہر میں مختلف مقامات اور الگ الگ جگہوں پر جلسے اور پروگرام منعقد کرتے، نوجوانوں کو جوڑتے، اور صحابہ کرامؓ، خلفاء راشدین اور حضرات حسنینؓ اور امیر معاویہؓ کے فضائل و مناقب پر خوب سیر حاصل گفتگو فرماتے، شیعیت کا رد بھی خوب کرتے، اہلِ بیت کی توقیر میں کوئی فرق نہیں آنے دیتے، اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹتا، اور بڑی روانی سے بالکل صاف صاف بیان کرتے، اور سامعین کو زبان حال سے یہ کہنے پر مجبور کر دیتے تھے
آپ کی سحر البیان، آپ کا طرز خطاب
جو بھی سنتا آپ کو، کہتا تھا وہ ’’ھل من مزید‘‘
*بے لوث خدمت!
حضرت مفتی صاحب ؒ جو کام کرتے تھے وہ بے لوث کیا کرتے تھے کہیں کسی کام کے پیچھے صلہ، ستائش، تمنا اور اس کے بعد کسی شکریہ کے امید تو بہت دور کی بات کہیں اسکا وہم و خیال بھی محسوس نہیں ہوا ۔
اور مفتی ؒ صاحب نے اپنی مختصر زندگی میں بہت سی دینی خدمات سرانجام دی؛ لیکن کبھی اس کا معاوضہ نہیں لیا، اور مفتی ؒ صاحب عزم و ہمت کےکوہِ گراں مایہ تھے، حالات کیسے بھی ہو ، موافق ہو یا نامساعد کسی بھی قسم کے مسائل ہو کبھی مفتی صاحب ؒ پیچھے ہٹا نہیں کرتے تھے، جس بات کو سونچ لیتے اس کے لئے آگے ہی بڑھتے چلے جاتے۔
*اوصاف و خصوصیات:
مفتی صاحب ایک مثالی شخصیت تھے، آپ کے قابلِ ذکر اوصاف کا تذکرہ اخلاف و اصاغر کے لئے مشعل راہ ہے؛ چنانچہ آپ کی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و خود نوازی، تقوی و پرہیزگاری، اتباعِ سنت اور شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی، استقلال و استقامت، عزم بالجزم، توازن و اعتدال اور ملت کے مسائل کے لئے شب و روز متفکر و سرگرداں رہنا آپ کی طبیعتِ ثانیہ بن چکی تھی، اپنی متانت و سنجیدگی، میانہ روی وحسن انتظام سے ہر طبقے کو متأثر کردیا تھا، انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کرنے کی جرأت رکھتے تھے، ملت کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لئے جہاں تک پہنچنا ممکن ہو پہنچنے سے گریز نہیں کرتے تھے، بایں ہمہ سادگی اس درجہ تھی کہ آپ نے جدید ترین دور میں رہتے ہوئے تن آسانی و راحت طلبی کے تمام اسباب میسر ہونے کے باوجود مؤمنانہ اور صابرانہ زندگی گزاری، مادیت کے موجوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھا، حرص و ہوس کے صحرا میں قناعت و دیانت پر ثابت قدم رہے ، اور نئی تہذیب کے بیاباں میں پرانے چراغ جلائے، صرف یہی نہیں؛ بلکہ چھوٹوں کو لے کر کام کرنا اور آگے بڑھانا آپ کا خصوصی امتیاز تھا اور جب بھی خوانگی و ملی خدمات میں جو رنجشیں پیش آتی تو اس پر شکایت اور تکلیف کا اظہار تو فرماتے ؛ لیکن کبھی اپنے طرزِ عمل میں بدلاؤ نہیں لاتے، اور تعلقات میں کوئی فرق نہ آنے دیتے اور برابر مخلصانہ کام کرتے رہتے، ہر ایک سے دل صاف رکھتے تھے، مردم گری اور رجال سازی میں بھی بے نظیر تھے مختصر یہ کہ؎
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب، اس کی نظر دل نواز
*اتباعِ سنت کا اہتمام اور ذوق!
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ پوری دلسوزی کے ساتھ دیہاتوں کا رخ کرکے صحیح عقائد سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے اور اشیاءِ ضروریہ کی فراہمی ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرتے، ہر رمضان میں خاص طور پر تعاون کرتے؛ لیکن ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک علاقے کے لوگوں نے آپ سے کچھ مطالبہ کیا؛ لیکن کسی مصلحت کی بنا پر آپ نے ان کے مطالبہ کو پورا کرنا مناسب نہیں سمجھا تو نفی میں جواب دے دیا تو وہاں کے لوگوں نے آپ کی بدتمیزی کی، برا بھلا کہا، دیہاتی اپنے اصلی رنگ میں اتر آئے، پھر آپ وہاں سے واپس آگئے؛ لیکن جوں ہی رمضان المبارک قریب آیا تو آپ نے ان کے تعاون کی تیاری اور فکر کی تو مولانا ارشد علی قاسمی صاحب نے تعجب سے پوچھا : کیا اس مرتبہ بھی آپ ان کا تعاون کریں گے؟ تو مفتی صاحب ؒ نے جواب دیا کہ ”یہی تو موقع ہوتا ہے اور یہی سنت نبوی بھی کہ برا سلوک کرنے والوں سے بھلا سلوک کرے“
اتباع سنت کا کیااہتمام اور کتنا ذوق تھا!
گویا
انسانیت کے دشت کو حیران کر گیا
کہنا پڑے گا واقعی احسان کرگیا
لوگوں کے کام آئے تفریق کے بغیر
انسانیت یہی ہے وہ اعلان کر گیا
*آپ کی مقبولیت اور جنازہ کا منظر:
مفتی صاحب ؒ ایک مردِ جفاکش اور پختہ عزم و ارادہ کے انسان تھے، ان کی پوری زندگی لوگوں کی خدمت اور جہد مسلسل سے عبارت تھی، اتحادِ ملت کے لئے کوشاں رہنے والے اور بے باکی وجرأت کے ساتھ ملت کی خدمت انجام دینے میں بے مثال تھے، فعال روشن ضمیر، اہلِ نظر، صاحبِ بصیرت و صاحبِ نسبت عالمِ دین تھے جن کی مخلصانہ خدمات کا دائرہ ہر میدانِ عمل کو محیط تھا۔
وہ بےباک عالم تھے تو بے داغ ملی قائد بھی
زینتِ محراب و منبرتھے تو رونقِ محفل بھی؛
یہی وجہ ہے کہ عوام وخواص میں غیر معمولی مقبولیت ومرجعیت آپ کو حاصل تھی، جس کا اندازہ آپ کے جنازہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اتنی کثیر تعداد نے شرکت کی کہ ہرطرف سروں کا سمندر نظر آرہا تھا۔
یہ حضرت کا دیکھو سفر آخری ہے
جنازہ نے ان کے گواہی یہ دی ہے
کہ ملت کی خاطر جو دن رات کاٹے
اسے رو کے دنیا نے رخصت کیا ہے۔
*خلاصۂ تحریر:
مفتی صاحبؓ ملت کا ایک قیمتی سرمایہ اور مخلص و سچے رہبر و قائد تھے، مفتی صاحبؒ ایک ایسا سائبان تھے جو اپنے سایۂ عاطفت و شفقت سے سب پر چھائے ہوئے تھے، جس کی چھاؤں میں کئی ایک تحریکیں اور تنظیمیں کام کر رہی تھی، بے شمار مدارس و مکاتب کا نظام چل رہا تھا، اَن گنت تلامذہ و شاگردوں نے زانوئے تلمذ تہہ کرکے اخذ و استفادہ کیا تھا، اور کتنے ہی مریدین و مسترشدین فیضانِ معرفت کے جام سے سیراب و فیض یاب ہوئے تھے، اور بہت سارے غریب گھرانے چین و سکون سے پل رہے تھے؛ لیکن جوں ہی موعودِ اجل کی تلوار نے اس سائبان پر وار کیا تو پھر سب پر یتیمی کے بادل منڈلانے لگے، محرومی کی چادر نے ڈھانک لیا، اور غم و اندوہ کی گھٹا چھا گئی
شوریدگی کے ہاتھ سے سرہے وبال ِدوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
اللہ تعالیٰ مفتی صاحب ؒ کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے دینی خدمات کو تا قیامت جاری وساری رہنے کے اسباب پیدا فرمائے اور ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے آمین
Comments are closed.