پس منظر:۔مسئلہ اذان و اقامت: ایک معتدل نظریہ

تبصرہ نگار: مولانا ذیشان احمد مصباحی
’’مسئلہ اذان واقامت: ایک معتدل نظریہ‘‘ کا پہلا اور دوسرا ایڈیشن شاہ صفی اکیڈمی سے۲۰۱۷ء اور ۲۰۱۹ء میں شائع ہوا تھا۔ تیسرا ایڈیشن ورلڈ ویو پبلشرز لاہور کی طرف سے مصنف کی نظر ثانی اور راقم کے قلم سے کتاب اور موضوع کتاب کے تاریخی اور علمی ’’پس منظر‘‘ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ مؤلف محترم مولانا اصغر علی مصباحی اس علمی کام کے لیے قابل مبارک باد ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کے اندر جس دقت نظر، تحقیق و تنقیح اور ترتیب وتہذیب کے ساتھ حسن بیان اور کمال ادب کامظاہرہ کیا ہے، اختلافی-علمی مسائل پر قلم اٹھانے والوں کے لیے یہ ایک اعلیٰ مثال ہے۔
خانقاہ عارفیہ اور اس کے زیب سجادہ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کے داعیانہ و عارفانہ مشرب و منہاج سے جو حضرات واقف ہیں، بہت ممکن ہے کہ خانقاہ سے ایسی کتاب کی اشاعت اور پھر اس کے طبع جدید پر ان کے سامنے سوالیہ نشان ہو۔ امت مسلمہ کے سیاسی و سماجی، علمی و فکری اور دینی ودعوتی مسائل سے جڑے ہزاروں نئے موضوعات دعوت ِتحقیق دے رہے ہیں، ایسے میں اس قدیم، فرعی، استحبابی، معمول بہ مسئلے کو موضوعِ سخن بنانے پر سوالیہ نشان قائم ہونا کوئی باعث استعجاب بھی نہیں۔

ابوجعفر منصور اور امام مالک:
اس سوال کا جواب دینے سے قبل میں ایک دوسرے امر کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ کا سہارا لینا ہوگا۔ خلیفہ ابو جعفر منصور (دورِ خلافت:۱۳۶-۱۵۸ھ) شہر رسول میں حاضر ہے۔ عالم مدینہ امام مالک بن انس (۹۳-۱۷۹ھ) کو طلب کرتا ہے اور ان سے گزارش کرتا ہے کہ آپ اجازت دیں کہ میں مؤطا کے نسخے تیار کراؤں اور تمام بلاد اسلامیہ میں اسے نشر کرادوں تاکہ تمام قضایا اسی کی روشنی میں فیصل ہو ں اور یہ ہماری مملکت کے لیے دستور بن جائے، چوں کہ اہل مدینہ کا علم ہی اصل علم ہے۔
امام مالک کے لیے ابوجعفر کی یہ تجویز دوجہتوں سے بہت ہی اہم تھی۔ ایک تو یہ کہ امام مالک اس تجویز کو منظور کرلیتے تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالم اسلام میں فروعی اختلافات کا خاتمہ ہو جاتا اور امت اصول و فروع میں متفق و متحد ہو جاتی۔ اس تجویز کی دوسری اہم جہت یہ تھی کہ وہ فقہ جس پر امت کا اتحاد ہونے والاتھا ، کسی اور کی نہیں خود امام مالک کی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ کو حیرت ہوگی کہ امام مالک نے منصور کی اس تجویز کو صاف صاف رد کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”امیر المؤمنین! آپ ایسا نہ کریں۔ علما کے مختلف مذاہب ِفقہ ہیں۔ سب نے حدیثیں سنیں اور روایتیں کیں۔ ہر جماعت نے ان میں سے ایک موقف اختیار کر لیا اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے۔ اب ان کی آرا سے ان کو روکنا، ان پر گراں گزرےگا۔ اس لیے مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑدیں اور ہر شہر کے علما کو ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے دیں۔“
منصور نے کہا: ’’امام! میری زندگی کی قسم! آپ اگر میری بات مان لیتے تو میں اپنی سلطنت میں یہ حکم نافذ کر دیتا ۔“(سیر اعلام النبلاء، جلد: ۸، احوال امام مالک بن انس)
اس واقعے کو پڑھیے اور باربار پڑھیے اور عالمِ تخیل میں امام مالک سے سوال کیجیے کہ حضور! امت میں اتحاد ہو رہا تھا تو آپ نے اسے قبول کیوں نہیں فرمالیا، تاکہ ہمیشہ کے لیے امت کے اندرون سے اختلاف ختم ہوجاتا اور اتحاد کی راہ ہموار ہوجاتی؟
امام مالک آپ کو جواب دیں گے:
”میرے عزیز! فروعی اختلافات رحمت ہیں ۔ ہر عالم کو اس کی تحقیق پر اور ہر خطے کے عوام کواپنے امام کی تقلید میں عمل کی اجازت ہونی چاہیے۔ جب تک امت کا یہ تنوع و توسع باقی رہے گا، امت میں وحدت کی فضا قائم رہے گی۔ اس کے برخلاف جب بھی فروعی اختلافات میں اتحاد و اتفاق کی دعوت دی جائے گی، امت کا توسع و تنوع کے خلاف سوالیہ نشان قائم ہو جائےگا، پھر اس کوشش کے نتیجے میں امت میں اتحاد تو قائم نہ ہوسکےگا، البتہ انتشار اور باہمی بحث و جدال کا ماحول گرم ہو جائےگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت من حیث الکل ایک اللہ، ایک رسول، اور ایک قرآن پر ایمان لائی ہے، اب اس کےبعد یہ امت کسی فقیہ، امام، مجتہد اور غوث و قطب کو اپنے ایمان کا حصہ نہیں بنا سکتی۔ فروعات میں اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ تمام فقہا، علما اور مجتہدین و صالحین کو رد کرکے کسی ایک عالم و مجتہد کو سب پر تھوپ دیا جائے۔ ایسی کوشش کسی بھی عالم کے حق میں خاموش ادعائے نبوت ہے، اس لیے کہ کل امت کے لیے واجب التسلیم صرف پیغمبر کی ذات ہوتی ہے، کسی مجتہد اور فقیہ کی نہیں۔‘‘
امام مالک آپ کے لیے اس راز سربستہ سے بھی پردہ اٹھائیں گے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے علاوہ کسی بھی عالم کو کلی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ وہ عالم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اس کی کچھ باتیں مقبول ہوں گی تو کچھ مردود ہوں گی؛ کیوں کہ ’’كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُرَدُّ إِلا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (المقاصد الحسنۃ (ص: ۵۱۳ ، ح: ۸۱۵)
ہمارے سامنے ملت اسلامیہ کی پوری تاریخ ہے۔ اس پورے عہد میں کبھی بھی ائمہ صالحین کی طرف سے فروعات میں اتحاد قائم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ امام شافعی نے تو فروعی اختلافات کو برداشت کرنے اوران اختلافات کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے حوالے سے ایک مستقل اصول دے دیا، جس پر کاربند رہتے ہوئے یہ امت قیامت تک کثرت میں وحدت کی مثال بنی رہےگی۔ آپ فرماتے ہیں:
رَأْئِيْ صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِيْ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ
(میری رائے درست ہے، احتمال خطا کے ساتھ اور میرے مخالف کی رائے خطاہے، احتمال صواب کے ساتھ) فروعات میں توسع اور فروعی اختلافات میں برداشت کی روایت اس امت کے مفاخر عالیہ( Highest Boasts) میں سے ایک ہے۔ اس حسین روایت کاایک حسن یہ بھی ہے کہ کبھی بھی کسی عالم کی تحقیق کو یہ کہہ کر نہیں ٹھکرایاگیا کہ آپ شاگرد ہیں، استاذ سے کیسے اختلاف کر سکتے ہیں؟ آپ چھوٹے ہیں، بڑے سے اختلاف کیسے کرسکتے ہیں؟ بلکہ فروعی اختلافات و تحقیقات کی پوری تاریخ میں بنائے اختلاف ہمیشہ دلیل کو بنایا گیا، نہ کہ شخصیت کو۔ کسی بھی رائے سے اختلاف اسی بنیاد پر کیا گیا اور پھر کسی کے اختلافِ رائے سے بھی اختلاف کیا گیا تو اسی بنیاد پر کیا گیا، خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے فقہی مناقشات اور اختلافات کی جو روایت قائم کی، اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔

اتحاد کی ایک نئی بِنا:
امت کی اس زریں روایت کے خلاف گذشتہ سو ڈیڑھ سو سال سے بغاوت کی جوایک نئی روایت قائم ہوئی ہے، اس نے امت مسلمہ ہندیہ، خصوصاً اہل سنت کے تارو پود بکھیرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ایسا فطری تھا؛ کیوں کہ امت مسلمہ ایک سیل رواں ہے جس کے سامنے بند باندھنے سے بکھراؤ اور انتشار کا ہونا لازمی ہے۔ (اس حوالے سے کسی ایک شخص یا طبقے کو مورد الزام ٹھہرانا مشکل ہے، البتہ اصولی طور پر جس نے فہم قرآن میں عدم تعدد پر اصرار کیا، وہ فراہی اسکول ہے، جس پر تفصیل پھر کبھی۔)
فروعات میں اتحاد کے لیے لازمی طور پر کسی ایک عالم کی رائے کو سب پر فائق اور سب کے لیے واجب القبول قرار دینا پڑے گا، ہندوستا ن کے سنی بریلوی طبقے کی بات کریں تو اس نے یہ منصب اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی کو تفویض کردیا۔ اتحاد جماعت کے لیے تاریخ اسلام کی اس منفرد کوشش کے بعد فوراً یہ سوال قائم ہوا کہ کیا کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے میں اعلی حضرت فاضل بریلوی سے اختلاف رائے کرے؟ جواب دیا گیا کہ نہیں! کیوں کہ وہ اعلم العلما ہیں، کیوں کہ ان کی نظر سب سے زیادہ دقیق ہے، کیوں کہ ان کے قد کے علما نہیں پائے جاتے، اور یہی نہیں، مزید یہ کہ اللہ نے ان کے زبان و قلم کو خطا سے محفوظ کردیا تھا۔ ایک نا روا دعوی کے اثبات کے لیے فاضل بریلوی کے حق میں اس قسم کی خاموش عصمت اور اپنے حق میں علم غیب کا دعوی کرلیا گیا۔ یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس قسم کی باتیں محض اظہار عقیدت کے طور پر، شاعرانہ نہیں کہی گئیں، بلکہ بیان حقیقت کے طور پر محققانہ انداز سے کہی گئیں۔ انتہا یہ ہوئی کہ بعض فقہی مجالس کے دستور میں فاضل بریلوی سے عدم اختلاف کو شامل کرلیا گیا۔
اتحاد جماعت کے لیے خشت خمیدہ پر قائم اس غلط مفروضے نے سب سے پہلے یہ کیا کہ بریلوی علما کو فاضل بریلوی سے اختلاف رائے رکھنے والے تمام علما کی تردید، تضحیک اور بسا اوقات تضلیل و تکفیر میں مبتلا کردیا۔ رضویات کا تنقیدی مطالعہ گویا کفر قرار پایا اور اثبات تحقیقات رضویہ ایک جم غفیر کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔
اس روش نے فاضل بریلوی کے تمام مخالفین کے خلاف نفرت و اشتعال کا ماحول گرم کردیا، قطع نظر اس سے کہ وہ مخالفین فقہیات میں ہوں یا اعتقادیات میں، فروعیات میں ہوں یا اساسیات میں۔
اس غیر فطری و غیر شرعی سعیِ اتحاد نے سب سے پہلے ملی اتحاد کا شیرازہ درہم برہم کردیا اور بریلوی علما و عوام کو ملی مسائل سے تقریباً کلی طور پر بے نیاز کر کے ’’سنی مسائل‘‘ پر ان کو مرکوز کردیا، پھر سنیت کی بھی خیر نہ رہی اور تحقیقات رضویہ کو ہی کل ’’حقیقتِ سنیت‘‘ قرار دے کر ’’بریلویت کو سنیت کا مترادف‘‘ قرار دے دیا گیا۔ رضوی تحقیقات کی روشنی میں تمام اعمال و اشغال – واجبات و مندوبات- کو شعار سنیت قرار دے دیا گیا اور ان سے اختلاف کرنے والے خواہ کوئی بھی ہوں، انہیں وہابی، دیوبندی، غیر سنی اور کچھ نہیں تو صلح کلی کی سند دے دی گئی۔

بریلوی علما کا داخلی انتشار:
اس غیر فطری سعیِ اتحاد کا اگلا منفی اثر یہ ہوا کہ خود بریلوی علما جو اپنی تمام تر تحقیقات فقہیہ اور مسائل علمیہ میں فرمودات رضا کو حرف آخر کا درجہ دیتے ہیں، یہ بھی آپس میں دست و گریباں ہو گئے۔ ان کے درمیان اس بات کی جنگ چھڑگئی کہ دعویٰ تو سب کو رضوی ہونے کا ہے، مگر صحیح رضوی یا مسلک اعلی حضرت پر صحیح طور پر قائم کون ہے؟ ان کے درمیان جب کبھی کوئی فقہی اختلاف رونما ہوا، طرفین میں سے ہر ایک صرف اپنے موقف کو مسلک رضا کے مطابق اور دوسرے کے موقف کو مسلک رضا کے خلاف ثابت کرنے میں لگ گئے۔
مسلک اعلی حضرت کا حقیقی پاسبان و ترجمان کون ہے؟ یہ سوال فاضل بریلوی کی وفات کے بعد بہت جلد ہی کھڑا ہو گیا تھا، البتہ فاضل بریلوی کے صاحب زادے مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان بریلوی نے اپنے ناخن تدبر سے ایسے مباحث کو عام طور پر پنپنے نہیں دیااور بڑی حد تک درون خانہ اتحاد و اتفاق قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ مفتی اعظم ہند کے بعد بریلی کی مسند علم علامہ اختر رضا خان ازہری کو تفویض ہوئی، جن کے عہد میں اس جماعت کے اندر داخلی سطح پر وہ استحکام باقی نہ رہا۔
ادھر اعلی حضرت کے نامور خلیفہ مصنف بہار شریعت علامہ امجد علی اعظمی کے شاگرد رشید حافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز مرادآبادی ثم مبارک پوری نے جامعہ اشرفیہ کی شکل میں سنی بریلوی علما کا سب سے بڑا کارخانہ قائم کردیا۔ اپنی تعلیمی، تحقیقی، تصنیفی، اور علمی و دعوتی خدمات کے پیش نظر بہت جلد یہ ادارہ سنی بریلوی جماعت کی آبرو بن گیا۔ حضرت مفتی اعظم ہند کی وفات کے بعد ایک بڑے حلقے میں ایسا محسوس کیا جانے لگا کہ اب سنی بریلوی جماعت کی مرکزیت جامعہ اشرفیہ کو تفویض ہونی چاہیے۔
دوسری طرف اعلی حضرت کے ایک دوسرے نامور شاگرد محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچھوچھوی کے صاحب زادۂ گرامی علامہ سید محمد مدنی میاں کی طرف بھی بہت سی نگاہیں اٹھ رہی تھیں۔ یہ ۱۹۸۰ء کے بعد کا زمانہ ہے، جب سب سے پہلے ٹیلی ویژن کے مسئلے پر علامہ مدنی میاں کی رائے جواز پر آئی تو ہندو پاک کے بہت سے بریلوی علما نے ان کی تائید کی، مگر ۱۹۸۴ء میں علامہ اختر رضا خان ازہری کی طرف سے اس کی تردید آگئی۔ ایک مسئلے میں دوبریلوی علما کا اختلاف ہوگیا۔ فقہ اسلامی کی تاریخ میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا، لیکن نیا یہ تھا کہ اگر اس اختلاف کو راہ دے دی جاتی تو بریلویت کا مزعومہ اتحاد جو صرف ایک رائے پر قائم ہوسکتا تھا، وہ اب قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ اس لیے اس اتحاد کے قیام کے لیے زبردست قلمی و لسانی جنگ لڑی گئی اور اخلاق و ادب کے سارےحدود پامال کردیے گئے۔ کم و بیش پندرہ سالوں تک جاری رہنے والی اس اشرفی رضوی جنگ میں عام بریلوی حلقے میں رضویت یعنی علامہ اختر رضا خان ازہری کو فتح ہوئی، جب کہ اشرفیت کو اس معنی میں شکست ہوئی کہ اسے عام بریلوی حلقے سے دیس نکالا دے دیا گیا۔
معاملہ بچا اشرفیہ کے بڑھتے ہوئے اثرات کا، اس تفوق وتعلّی کا احساس کہیں نہ کہیں اشرفیہ کے فارغ مصباحی برادران کو بھی رہا اور بریلی کے ارباب درس و فتوی کو بھی رہا،لیکن بریلوی جماعت کے ایک بڑے مدبر عالم علامہ ارشد القادری مصباحی (۲۰۰۲ء) جب تک حیات رہے، اس قسم کے احساسات کو زبان وقلم تک آنے نہیں دیا۔ ان کے بعد یہ بند بھی ٹوٹ گیا۔ ۲۰۰۳ ء میں مولانا ضیاء المصطفیٰ قادری نے بعض ناچاقیوں کے پیش نظر اشرفیہ کو خیرباد کہا اور اسی سال علامہ اختر رضا خان ازہری کے زیر سر پرستی اشرفیہ مبارک پور کی مجلس شرعی کے بالمقابل شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی قائم فرمادی۔ شرعی کونسل آف انڈیا بریلی کا قیام بریلوی تاریخ میں کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے،یہ بریلوی جماعت کے اندر رضوی مصباحی انقسام کا سانحہ ہے۔ اس کے بعد علامہ مفتی محمدنظام الدین رضوی کی سرکردگی میں مجلس شرعی مبارک پور سے ایک فیصلہ صادر ہوتا اور پھر شرعی کونسل آف انڈیا بریلی سے اس کا رد بلیغ ہوتا، خصوصاً ٹرین پر نماز کے سلسلے میں جو تنازع پیدا ہوا، وہ مفتی اشرفیہ کی تضلیل اور مبہم تکفیر تک پہنچ گیا۔ ایک بار پھر بریلی سے یہ آواز اٹھائی گئی کہ سارے علما اس جماعت کے سب سے بڑے عالم مفتی اختر رضا خان صاحب کے ہر ہر فتوے کی تصدیق کریں؛ کیوں کہ وہی مسلک اعلی حضرت کے سچے ترجمان اور محافظ ہیں؛ لہٰذا جو ان کی رائے اور تحقیق سے اختلاف کرے گاوہ رضوی نہیں۔ اس کے بعد کے مقدمات تو بریلوی عوام اور عام مولویوں کو یوں ہی ازبر ہیں کہ ’’جو رضوی نہیں وہ سنی نہیں اور جو سنی نہیں وہ مسلمان نہیں۔‘‘
یہ بریلوی جماعت کی کل فکری تاریخ ہے، جس میں قدم قدم پر اتحاد کے نام پر انتشار اور نفرت انگیزی کی کار فرمائی ہے۔ یقیناً اس میں استثناءات بھی ہیں اور بعض مردان فکرو دانش نے اس کے قبلے کودرست بھی کرنا چاہا، مگر -کون سنتاہے فغان درویش! بھلا نقار خانے میں طوطی کی آواز سنائی کب دیتی ہے!

مقدمۂ بدایوں:
اب ایک مسئلہ اور سن لیجیے!بدایوں سے فاضل بریلوی کا گہرا عقیدت مندانہ ربط رہا۔ آپ مولانا فضل رسول بدایونی(۱۷۹۸-۱۸۷۲ء) سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ ان کی شان میں ’’مدائح فضل الرسول ‘‘ اور’’ حماید فضل الرسول ‘‘نامی عربی قصائد کہے ہیں۔ ان کے صاحب زادے مولانا عبد القادر بدایونی(۱۸۳۷-۱۹۰۱ء) سے بھی غایت درجہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ فاضل بریلوی نے ’’چراغ انس‘‘ نامی قصیدہ اِن ہی کی مدح میں کہا ہے۔ ان کے صاحب زادے مولانا عبد المقتدر بدایونی (۱۳۳۴ ھ/ ۱۹۱۵ ء ) فاضل بریلوی کے معاصر ہیں اور دوطرفہ محبت و احترام کا تعلق ہے۔ ۱۳۱۸ ھ /۱۹۰۰ ء میں آپ نے ہی سب سے پہلے فاضل بریلوی کے لیے پٹنہ کے ایک اجلاس عام میں ’’مجدد‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ربط الفت و محبت قائم تھا، پھر گردش ایام نے وہ دن بھی دکھائے جب بریلی سے مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی کی تجدید ایمان و نکاح و بیعت کا حکم صادر ہوا۔( سد الفرار، اشاعت دوم،مطبوعہ دارالعلوم رضائے خواجہ اجمیر،۲۰۰۹ء، صفحہ ۱۳۵؍پر حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی صاحب پر ’’بالاجماع کم از کم پانچ حکم‘‘ لازم کیے گئے ہیں: ۱-تجدید اسلام، ۲-اشاعت توبہ، ۳-تجدید نکاح، ۴-اعادۂ حج، ۵-تجدید بیعت۔) اور بدایوں سے فاضل بریلوی کے لیے متجدد صاحب! اور نہ جانے کیا کیا القابات عطا ہوئے۔(سد الفرفار، ج: ۲، ص: ۴۸، بحوالہ انکشاف حق، ص: ۱۸۸، مطبوعہ دار الخلیل بدایوں، ۱۴۰۴ھ)
اس دل خراش داستان کی ابتدا یوں ہوئی کہ:
۱ – ۱۲۹۷ھ (۱۸۸۰ء)میں فاضل بریلوی نے اذان ثانی کو اپنی مسجد کے اندرون سے خارج کرادیا۔(اس کا دعوی ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی نے فاضل بریلوی کے ایک مکتوب محررہ ۲۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۲ ھ بنام مولانا محمد حمد اللہ شاہ کے حوالے سے کیا ہے ، اس میں فاضل بریلوی کے الفاظ یہ ہیں : ’’اذان ثانی کا مسئلہ نیاز مند کے یہاں ۳۵ برس سے جاری ہے۔ اکابر علما آئے اور دیکھا اور انکار نہ کیا۔‘‘یہ قلمی مکتوب خود مولانا مصباحی کا مملوکہ ہے۔ (ماہنامہ سنی دعوت اسلامی ،ممبئی ، اگست ۲۰۱۶ ء ص: ۳۸) اس کے برخلاف مولانا حامد رضا خان کے الفاظ یہ ہیں:’’ یہ مسئلہ اذان ثانی جمعہ بھی آج کا نہیں ، یہاں عملی طور پر قرنوں سے دروازۂ مسجد پر ہوتی‘‘ (اجلی انوار رضا، ص: ۱۷ ، اشاعت دوم ، ۲۰۰۹ء ، دارالعلوم رضائے خواجہ، اجمیر)
۲ – ۱۳۱۱ ھ (۱۸۹۳ء)میں اس مسئلے پر بلگرام کے ایک استفتا کے جواب میں مختصر تحریر لکھی۔( مسئلہ اذان ثانی، از غلام جابر شمس مصباحی، سنی دعوت اسلامی ، ممبئی ، اگست ۲۰۱۶ ء بحوالہ سلامۃ اللہ لاہل السنۃ ، از حامد رضا خان)
۳- ۱۳۲۰ھ (۱۹۰۲ء) میں اس پر کسی قدر تفصیلی فتوی لکھا، عنوان تھا: ’’اوفی اللمعۃ فی اذان الجمعۃ ‘‘۔ یہی فتویٰ ۱۳۲۲ ھ (۱۹۰۴ء)میں تحفۂ حنفیہ، پٹنہ میں شائع ہوا۔(ماہنامہ سنی دعوت اسلامی ،ممبئی ، اگست ۲۰۱۶ ء ص: ۳۸)
۴ – اوفی اللمعۃ کی اشاعت کے فوراً بعد دیوبندی عالم مولانا خلیل احمد انبیٹھوی (۱۸۹۲-۱۹۲۷ء) نے ’’تنشیط الاذان‘‘ لکھی اور فاضل بریلوی کے موقف کو رد کیا(تذکرۃ الخلیل، ص : ۳۹۴ ۔فاضل بریلوی کے ایک مکتوب محررہ ۲۶؍ شعبان ۱۳۳۲ھ (۱۹۱۴ء) بنام مولانا ظفرالدین بہاری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک اس کا جواب بریلی سے نہیں گیا تھا، فاضل بریلوی کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی، پھر بھی وہ اس کا جواب چاہتے تھے۔(مکتوبات امام احمد رضا، مرتبہ: محمود احمد قادری، ص: ۵۷)
۵ – محرم ۱۳۳۲ھ (اوائل ۱۹۱۴ء) میں فاضل بریلوی پیلی بھیت گئے ۔ وہاں لوگوں نے اذان ثانی کا مسئلہ دریافت کیا۔ آپ نے اپنا موقف مدلل طور سے بیان کیا۔ لوگ قائل ہو گئے اور فوراً جمعہ میں اس پر عمل بھی کیا۔ جمعہ بعد پھر آپ کا خطاب ہوا۔ خطاب کے بعد بہت سے لوگ آپ کےدامن طریقت سے وابستہ ہوئے۔ ان میں بہت سے لوگ مجددی تھے، اب سلسلہ قادریہ میں داخل ہوگئے۔ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی نے فاضل بریلوی کے ایک قلمی مکتوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’یہ بات وہاں کے مجددیوں کو سخت ناگوار ہوئی اور وہ اس مسئلہ میں وہابیہ کے ساتھ ہوگئے۔‘‘ مولانا عبد الغفار رام پوری بھی اس مشربی تعصب کا شکار ہوگئے۔ وہاں کے متعصب مجددیوں نے مولانا سے استفتا کیا اور آپ نے فاضل بریلوی کے خلاف فتوی دے دیا۔(ماہ نامہ سنی دعوت اسلامی، اگست ۲۰۱۶ء، ص:۳۷) مولانا عبدالغفار صاحب کا یہ فتوی مختصر ڈیڑھ ورقی تھا، اس کے جواب میں ربیع الاول ۱۳۳۲ ھ (۱۹۱۴ء) میں فاضل بریلوی کا رسالہ ’’اذان من اللہ لقیام سۃ نبی اللہ‘‘ جلوہ افروز ہوا۔
۶- رام پور معرکہ چھڑاہی تھا کہ درمیان میں ایک تحریر مولانا اشرف علی تھانوی کی آگئی، جس کا جواب صاحب زادۂ اعلی حضرت مولانا مصطفی رضا خان بریلوی کے قلم سے ’’وقایۃ اہل السنۃ عن مکر دیوبند و الفتنۃ‘‘ (۱۳۳۲ھ) منصہ شہود پر آیا اور ۱۹؍ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ (فروری ۱۹۱۴ء) کی رجسٹری ڈاک سے مولانا تھانوی کو بھیجا گیا۔ (یہ رسالہ مجموعہ رسائل مفتی اعظم جلد ہفتم میں شامل ہے، مطبع امام احمد رضا اکیڈمی بریلی، ۲۰۱۵ء۔ حیرت ہے کہ جابر شمس مصباحی نے اپنے مضمون میں اسے مولانا حامد رضا خان بریلوی کا رسالہ قرار دیا ہے اور اس کا مطبع اہل سنت بریلی ۱۳۳۳ھ بتایاہے۔ (سنی دعوت اسلامی، ممبئی، اگست ۲۰۱۶ء)
۷- محرم ۱۳۳۲ ھ(اوائل ۱۹۱۴ء) میں رام پور بریلی نزاع شروع ہوا تھا۔ سال بھر کے اندر اندر طرفین سے درجن بھر سے زائد کتب و رسائل کا تبادلہ ہوگیا، جس کا منطقی انجام ’’نفی العارعن معائب المولوی عبد الغفار‘‘ اور نفی الحیاء عن الکیاد احمد رضا ‘‘ جیسی کتابوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔
۸ – اب اس کے بعد رخ بدایوں کی طرف پھرا۔اہل بدایوں کا کہنا ہے کہ رام پور- بریلی کے طویل تنازع میں فاضل بریلوی کو اپنے سابقہ تعلقات کے پیش نظر بدایوں سے اپنے موقف کی تائید کی امید تھی؛ لیکن بدایوں سے تصدیق کے بجائے ان کی رائے کے خلاف فتوی آگیا۔ اب پھر بدایوں سے سوال و جواب اور جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ تحریر مبارک، تعبیر خواب سے ہوتا ہوایہ سلسلہ سد الفرار اور سد الفرفار اورپھر کورٹ کچہری تک پہنچا۔ سد الفرار میں ایک ذیلی رسالہ نکس اباطیل مدرسہ خرما (۱۳۳۳ھ) بھی تھا، جس کے تعارف میں صفحہِ اول پر یہ سطور مرقوم ہیں: ”بہزار افسوس کہا جاتاہے کہ حضرت تاج الفحول کے بعد مدرسہ بدایوں کے عقائد واعمال سب متزلزل ہوگئے۔ ان کی ماہواری تحریروں ’’شمس العلوم‘‘ و ’’مذاکرہ ٔ علمیہ‘‘ سے پونے دو سو قول اس میں انتخاب کیے ہیں، جو خلاف شریعت و خلاف اہل سنت و خلاف اسلام واقع ہوئے ہیں۔ آخر میں گرامی برادران کو توبہ کی ہدایت ہے۔ ‘‘
ایک معاصر مورخ مولاناسید محمد حسین سید پوری بدایونی(۱۹۱۸ء)رقم طراز ہیں: ”کچھ مدت سے مولوی احمد رضا خان نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے کہ جمعہ کی اذان ثانی جو مسجد کے اندر خطیب کے سامنے منبر کے نزدیک پڑھی جاتی ہے، وہ مسجد سے باہر ہونا چاہیے، ا گرچہ مجدد صاحب[نے] اس بارے میں بہت کوشش کی، مگر رواج بہت ہی کم ہوا- لڑائی جھگڑے برپا ہو گئے، گروہ بندی ، مقدمہ بازی، فضول خرچی، جہالت، نفسانیت، سب و شتم، بغض و عناد،غرض اس فتویٰ مبارکہ کی بدولت دولت و عزت خاک میں مل رہی ہے، مگر ہنوز روز اول ہے- سیکڑوں فتاوی و رسالے اِس فتویٰ کی تائید و تردید میں شائع ہوئے اور ہو رہے ہیں، اشتہارات کا تو شمار ہی نہیں-کہا جاتا ہے اور اکثر رسالوں میں لکھا ہوا پایا گیا ہے کہ مولانا حامد رضا خان و مولانا مصطفی رضا خان کے نام سے جو رسالے اور اشتہارات شائع ہو رہے ہیں، وہ خاص حضرت عالم اہل سنت والجما عت ، مجدد مائۃ الحاضرہ صاحب کے ہی لکھے ہوئے ہیں، ہم کو اس سے بحث نہیں- مولانا حامد رضا خان کی تحریر سے رسالہ، بدایونی غصے کا حق جواب، مسئلہ اذان کا حق نما فیصلہ، رمز شیرینی چاہ شور (۱۳۳۲ھ)، طب شورش چاہ شور(۱۳۳۲ھ)، قصدیم شیریں باچاہ شور (۱۳۳۲ھ)، رسالہ سدالفرار-اِس [مؤخرالذکرکتاب] پر مقدمہ چل گیا اور مولوی احمد رضا خان صاحب بھی ماخوذ ہیں- اذان ثانی پیش خطیب، متصل ممبر کے بارے میں کتاب ازالۃ الاوہام (مصنفہ مولوی فاضل عبدالواحد)، صدالفرفار (مولوی فاضل عبدالواحد)، مباحث الاذان (مولوی فاضل عبدالواحد)، بریلوی تحریر کا شافی جواب (مولوی مفتی حبیب الرحمن بدایونی) حبل اللہ المتین لہدم آثار المبتدعین (مولوی عبدالغفار خان رام پوری)- مولانا مصطفی رضا خاں صاحب کی تحریر سے رسالہ وقایۃ اہل السنۃعن مکر دیوبند والفتنۃ، مقتل اکذب و اجہل [وغیرہ]ہیں۔“ (مظہرالعلماء فی تراجم العلماء و الکملاء (تذکرہ علماے ہندوستان) حاشیہ در احوال مولانا حامد رضا خان) یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اسی لیے کہ ایک فرعی مسئلے کو معرکۂ حق و باطل گمان کر لیا گیا اور اس میں بجائے اس کے کہ تعدد آرا اور اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا، ایک متفقہ رائے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تحریر کے بعد جوابی تحریر اور ہر جواب کے بعد جواب الجواب کا سلسلہ چلتا رہا، جس کا منید نتیجہ وہی آیا جسے آنا تھا۔ بدایوں کے علاوہ مارہرہ، اجمیر، حیدرآباد، لکھنؤ، کولکاتا کے ارباب علم و مشیخت نے بھی اس فرعی بحث میں حصہ لیا۔ یہ بحث اگر بحث کی حد تک ہوتی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، انتہائی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تجہیل و تحمیق ، تردید و تفسیق، تضلیل و تکفیر، سب و شتم اور ترک تعلق سب کچھ اس کے زیر اثر ہوا۔ آج بھی ہمار ا یہی رویہ ہےکہ ہم اس قسم کےمسائل میں کسی ایک فریق کو محقق، اعلم اور برحق مانتے ہیں، دوسرے کو مجادل، جاہل، متعصب اور ناحق باور کرتے ہیں، جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم طرفین میں سے ہر ایک کا احترام کریں، ہر ایک کو بر حق سمجھیں اور ان کے اختلاف کو دلیل کا اختلاف سمجھیں، بلکہ جس طرح ائمہ اربعہ میں سے کسی کی تجہیل و تحمیق اورتفسیق و تضلیل ہمیں گوارا نہیں، اسی طرح علمائے متاخرین کے اختلافات میں بھی ان قبیح جذبات سے ہمارا سینہ پاک ہونا چاہیے، نہ اپنی ہر تحقیق کا جواب طلب کرنا چاہیے اور نہ جواب الجواب میں مبتلا ہونا چاہیے، نہ ترک تعلق اور بائیکاٹ کی پالیسی اپنانی چاہیے، بلکہ جس وقت بھی اپنی تحقیق پر زیادہ اعتماد اور یقین ہونے لگے، جو ایک طبعی امر ہے، فوراً امام شافعی کے اس ارشاد گرامی کوورد زبان کرلینا چاہیے:
رَأْئِيْ صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ!
اس کے بعد تحقیق کے ساتھ پیدا ہونے والے خودپسندی اور حقارت نگاہی جیسےمنفی جراثیم از خود فنا ہوجائیں گے۔

کتاب ہٰذا کا پس منظر:
اب قصہ اس کتاب کی اشاعت کا۔ ۲۰۰۷ ء میں خانقاہ عارفیہ میں پہلی بار میری حاضری ہوئی۔ اندر داخل ہوتے ہوئے ایسا لگا کہ وقت کی سوئی اچانک دو تین صدیاں پیچھے چلی گئی ہو۔ ایک عجیب لذت اور سرشاری سے دوچار ہوا۔ ساتھ ہی دوچیزوں پر میری نظراٹک گئی؛ اقامت اور مزامیر۔ اقامت کا مسئلہ میرے لیے زیادہ توجہ طلب نہیں تھا؛ کیوں کہ مجھے معلوم تھاکہ یہ استحبابی نوعیت کا مسئلہ ہے اور اہل سنت کے مختلف علمی وروحانی مراکز میں آج بھی مروجہ سنی بریلوی طریقے کے خلاف رائج ہے۔ مزامیر کے سلسلے میں زمانہ ٔ طالب علمی میں اعلیٰ حضرت کا حرمت کا موقف سن چکا تھا، علامہ غلام رسول سعیدی کی شرح مسلم نے اس موقف میں مجھے مزید پختہ کر دیا تھا، لیکن صاحب سجادہ ٔ آستانہ عالیہ عارفیہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی نے پہلی ملاقات میں ہی اس پر ایسی فاضلانہ اور نکات آفریں گفتگو کی کہ اسی مجلس میں حرمت کے تعلق سے میرا یقین پامال ہوگیا۔
۲۰۱۴ء میں جب پہلی بار حضرت مفتی محمد مطیع الرحمٰن مضطر رضوی خانقاہ میں تشریف لائے توان کی نظر بھی انہی دونوں باتوں پر پڑی اور ان کا تاثر بھی وہی تھا جو راقم کا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے معائنہ نامے میں لکھتے ہیں: ”الغرض! میں نے یہاں بعض فروعی مسائل، جن پر سنیت کا مدار نہیں ہے، جیسے اقامت کے شروع ہی میں سارے لوگوں کا کھڑا ہوجانا اور سماع بالمزامیر وغیرہ کو چھوڑ کر کوئی ایسی بات نہیں پائی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے یہ خانقاہ ’’سنیت ‘‘بلفظ دیگر ’’مسلک اعلیٰ حضرت‘‘ کی پابند نہیں ہے۔‘‘
۲۰۱۲ء سے میں خانقاہ میں مستقل طور سے اقامت پذیر ہوگیا۔ اس بیچ مختلف ارباب علم و دانش کا خانقاہ آنا جاناہوا۔ میں نے دیکھا کہ بیشتر علما کی نگاہیں خانقاہ کے اندر اتباع شریعت کی جلوہ باریوں اور نماز کی پابندیوں سے کہیں زیادہ ابتدائے اقامت میں نمازیوں کے کھڑے ہوجانے پر ٹک جارہی ہیں۔ اس دوران اس مسئلے کا علمی مطالعہ بھی ہوگیا۔ جو بھی سوال کرتا چند جملوں میں اسے مطمئن کردیتا، یا کم از کم اس پر قائل کرلیتا کہ یہ اہل سنت کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک فرعی اختلافی مسئلہ ہے اور اس مسئلے میں جو علما ومشائخ کی قدیم روایت ہے، یہ خانقاہ بھی اپنی اسی روایت پر قائم ہے۔ اہل خانقاہ کی دلیلیں آپ کی نظر میں کمزور بھی ہوں، تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے نزدیک اقامت کے مسئلے میں خلاف استحباب طریقے پر قائم ہوں گے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
بعض اوقات کچھ سادہ لوح مولوی صاحبان اس قسم کے قابل افسوس شبہات میں مبتلا نظر آتے کہ کیا اعلی حضرت کی تحقیق غلط ہو سکتی ہے؟ یہ تو شعار اہل سنت ہے اور شعار اہل سنت کی مخالفت تو ضلالت ہے۔ اس قسم کی الجھنوں میں بارہا ہمارے جامعہ عارفیہ کے طلبہ بھی مبتلا ہوجاتے اور پھر بیٹھ کر تفصیل سے انہیں سمجھانا پڑتا۔
گذشتہ دس پندرہ سالوں میں خانقاہ عارفیہ اور جامعہ عارفیہ کی دعوتی، علمی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کے دائرے میں بے پناہ وسعت پیدا ہوئی۔ سوشل میڈیا کی مہربانی سے ملک بھر میں ان کی خوب تشہیرہوئی۔ ان کے سبب خانقاہ عارفیہ اور صاحب خانقاہ کی عزت و شہرت اور مقبولیت بہت جلد ملک اور بیرون ملک پھیل گئی ، لیکن اس کے ساتھ ایک فطری رد عمل یہ بھی ہواکہ خانقاہ کے کرم فرماؤں کی تعداد بھی بڑھتی گئی اور طنزو تعریض، سب و شتم، تمسخر اور فتویٰ بازیاں بھی ہونے لگیں۔ اس بیچ مخالفین کی طرف سے جو سوالات زیادہ اٹھائے گئے ان میں ایک اہم مسئلہ اقامت بھی تھا۔ اقامت کا معمول چوں کہ حسب سابق آج بھی جاری ہے، اس لیے اس پر سوالات بھی مسلسل ہوتے رہے، حتی کہ اس عمل کو بنیاد بنا کر خانقاہ پر وہابیت اور ضلالت کی تہمتیں لگائی گئیں۔ خانقاہ کی طرف سے مامور مختلف علاقوں میں ائمہ و اساتذہ اور فارغین عارفیہ کو طرح طرح سے پریشان کیا گیا۔ ان میں سے بعض اپنی قلت مطالعہ اور خارجی دباؤ کے سبب بعض اوقات الجھنوں کا شکار بھی ہوئے، جن کے پیش نظر اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ اذان و اقامت کے تعلق سے خانقاہ عارفیہ کا جو موقف ہے، اسے علمی انداز میں پیش کردیا جائے، تاکہ کم از کم خانقاہ کے متعلقین و منتسبین اور غیر جانب دار افراد تک مسئلے کی صحیح نوعیت مدلل طور پر سامنے آجائے، نیز مخالفین کے لیے بھی دعوت فکرو نظر اور پیغام صلح و امن ہو۔
دوسری طرف بعض ارباب علم ایسے تھے جو مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے تھے، تاہم ان کا اصرار یہ تھا کہ اس طریقے کو بدل دیا جائے۔ ان کے خلوص اور محبت کو سلام، مگر ایک فرعی، فقہی، استحبابی اور اختلافی مسئلے میں اس قسم کے اصرار کا جواز کیاہے، میں سمجھنے سے قاصر ہوں، اِلا یہ کہ یہ حضرات فاضل بریلوی کی محبت یا مسلکی جھنڈابرداروں کے خوف میں ایسے مبتلا ہیں کہ وہ سب کو ہر مسئلے میں فاضل بریلوی کی فکرو تحقیق کا پابند بنا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات میں پورے وثوق کے ساتھ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان میں سے کچھ وہ ہیں کہ مذکورہ بالا اسباب کے پیش نظر جب اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۲۰۱۷ ء میں منظر عام پر آیا تو انہوں نے خانقاہ سے قطع تعلق کرلیا،آنا جانا بند کردیا، یہاں کی دعوت ٹھکرادی، فون پر اپنے الطاف خاص سے نوازا۔ ان کی دلیل صرف یہ تھی کہ یہ استحبابی مسئلہ تھا، اس پر کتاب لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور غضب میں ایسے تھے کہ اس پر ہماری معروضات سننے کو بھی تیار نہیں تھے۔
اب ان تک یہ صدائے دلِ دردمند کیسے پہنچاؤں کہ جب یہ ایک فرعی مسئلہ ہے، تو اس پر اس قدر برافروختہ ہونے، پاؤں پٹخنے اور سر پر آسمان اٹھانے کا جواز کیاہے؟ اور ایک فرعی مسئلے پر کتاب آہی گئی-جس کی ضرورت سطور بالا میں بیان ہوچکی، اگرچہ وہ ضرورت ان مخلصین کی نظر میں متحقق نہیں ہے- تو اس پر اس قدر برہمی کہ نوبت قطع تعلق تک آپہنچی، کا کیا جواز؟ دین و سنیت کے ہزارہا ہزار مسئلے میں اتفاق کے باوجود ایک آدھ فرعی مسئلے میں اختلاف کے ساتھ آپ ہم سے اتحاد و محبت کیوں نہیں رکھ سکتے؟ آپ ایسا اتحاد ہم سے کیوں چاہتے ہںٓ کہ ہم آپ کے حرف حرف اسیر بن جائیں؟
وجہ وہی ہے جو ہم نے ابتدائی سطور میں بیان کی ہے کہ گذشتہ سو ڈیڑھ سو سالوں میں فروعات میں اتحاد کی جو ایک نئی ہوا چلی ہے، اس نے دین و سنیت کے شیرازے بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔
اس تلخ حقیقت کو اب بلا تاخیر اپنے حلق سے نیچے اتار لینا چاہیے کہ اگر امت مسلمہ اور بطور خاص جماعت اہل سنت میں اتحاد عزیز ہے تو ہمیں فروعات میں اپنی اسی قدیم علمی روایت پر آنا ہوگاکہ استاذ سے شاگرد اختلاف کر رہاہے اور اس اختلاف کو مذہب مدون میں شامل کیا جا رہا ہے اور جس کے لیے امام شافعی نے اور دیگر ائمہ اعلام نے بھی یہ اصول دیا:
رَأْئِيْ صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ!
اس کے خلاف اتحاد امت و جماعت کے لیے جو بھی کوشش ہوگی وہ انتشار و فساد پر منتج ہوگی۔ چوں کہ اختلاف امت رحمت اسی وقت تک ہے جب تک اسے گوارا کیا جائے۔ جن لوگوں کو یہ اختلاف گوارا نہیں ہوتا، وہ جوش اتحاد اور جذبۂ احقاق حق کے نام پر امت کو زحمت اور فساد کی نذر کر دیتے ہیں-نعوذ بالله من شرور أنفسنا و من سيِّئات أعمالنا و نتوب إليه إنه هو الغفور الرحيم.
میرے علم کی حد تک اس کتاب کی اشاعت کے جواز کے لیے اہلِ خانقاہ کے پاس یہ چند بنیادیں تھیں:
(۱)تواتر کے ساتھ اس مسئلے کی وجہ سے خانقاہ کو وہابیت اور دیوبندیت سے جوڑا گیا۔ یہ بات مختلف حلقوں سے خانقاہ کو موصول ہوتی رہی ہے۔
(۲) بعض تعلیم یافتہ اور نسبتاًسنجیدہ افراد کی طرف سے مخلصانہ انداز میں یہ حکم بصورتِ مشورہ آتا رہا کہ خانقاہ کا جو اپنا متوارث عمل ہے، اسے تبدیل کرلیا جائے۔ مگر خانقاہ کے اصحاب حل و عقد نے جب ان کے مشورے (حکم) پر عمل نہیں کیا تو وہ کسی قدر ناراض ہوگئے۔
(۳) اس قسم کے فروعی مسائل کو بنیاد بنا کر کہا گیا کہ ’’حی علی الصلاۃ‘‘ پر کھڑا ہونا اور خارجِ مسجد اذانِ ثانی دینا یہ شعارِ اہلِ سنت ہے، جس کی پاس داری واجب ہے اور اہلِ خانقاہ اس شعارِ اہلِ سنت کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
(۴) بعض دفعہ خانقاہ کے سادہ متوسلین -عوام اور عام علما- بھی تذبذب میں مبتلا ہوئے اور انہوں نے مسئلے کی نوعیت کو سمجھنا چاہا۔ انھیں انفرادی طور پر سمجھایا گیاتو وہ مطمئن ہوگئے، لیکن ظاہر ہے اس انفرادی تفہیم سے خانقاہ کے تمام متوسلین کی تفہیم ممکن نہیں تھی۔

تحقیقات مؤلف:
مذکورہ بالا وجوہات کے پیش نظر جامعہ عارفیہ کے استاذ اور لائبریرین مولانا اصغر علی مصباحی اس مسئلے کی پوری تحقیق میں لگ گئے۔ سال دوسال کے مطالعے کے بعد انھیں اس مسئلے کی تہ سے بہت سے حقائق نکلتے نظر آئے۔ مثلاً یہ کہ:
(۱) اقامت کے وقت کب کھڑا ہونا مستحب ہے۔ اس استحبابی مسئلے میں اختلاف ہے۔ بعض شروع میں کھڑے ہونے کے قائل ہیں اور بعض حی علی الصلاۃ وحی علی الفلاح یا قدقامت الصلاۃ پر۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور بعض دیگر تابعین، اولِ اقامت میں کھڑے ہونے کو واجب کہتے ہیں۔
(۲) مولانا اصغر مصباحی کو اپنے مطالعہ وتحقیق کے بعد اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ شروع اقامت میں کھڑا ہونا کسی فقیہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور جو بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ اقامت کے وقت مسجد میں داخل ہورہا ہو تو جہاں ہو وہیں بیٹھ جائے، یا حی علی الفلاح پر کھڑا ہو اور اگر کھڑے ہوکر سنا تو یہ مکروہ ہے، اس مسئلے کا سرا قدوری کی شرح مضمرات تک پہنچتا ہے، جو آٹھویں صدی ہجری کی کتاب ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب مضمرات نے اس کے لیے حضرت علی کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے اور اس استدلال میں تسامح کا شکار ہوئے ہیں۔ حضرت علی نے ان لوگوں کو کھڑا ہونے سے منع کیا ہے جو امام کے آنے سے پہلے ہی اس کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں اور ناحق خود کو مشقت میں ڈالتے ہیں۔ ظاہر ہےاس سے استدلال کرتے ہوئے مسجد میں موجودین کے حق میں شروع اقامت میں کھڑے ہوجانےکو مکروہ کہنا یا اس وقت مسجد میں داخل ہونے والے شخص کے حق میں فوراً نہ بیٹھنے کو اور صفوں تک آنے کو مکروہ کہنا ضعف وتسامح سے خالی نہیں۔ مولانا اصغر صاحب نے اپنی تلاش وجستجو کےبعد کہا کہ یہ مسئلہ مضمرات سے پہلے کسی بھی کتاب میں نظر نہیں آیا۔
(۳) اذانِ ثانی کے مسئلے میں انھوں نے اس حقیقت کا بھی انکشاف کیا کہ دوسری صدی سے یہ مسئلہ علمائے اسلام اور مشائخ دین کے یہاں متوارث رہا کہ اذان ثانی کا مقصد باہر والوں کو بلانا نہیں، ورنہ یہ اذان بھی آج مائک سے دی جاتی۔ یہ صرف اندرونِ مسجد بیٹھے مصلیوں کو آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے کہ اب خطبہ کا وقت آگیا، اسی لیے اسے اذان خطبہ بھی کہا جاتا ہے اور اسی لیے اسے داخلِ مسجد ہی دی جاتی رہی ہے، حتی کہ اعلیٰ حضرت کی مسجد میں اور ان کے پیر خانے اور دیگر خانقاہوں اور تعلیم گاہوں میں بھی پہلے یہی عمل تھا۔ اعلیٰ حضرت نے جب یہ تحقیق پیش کی تو اسے تمام اہل سنت نے قبول نہیں کیا۔ آج بھی بہت سے علمی وروحانی مراکز کا عمل اعلیٰ حضرت کی تحقیق کے خلاف قدیم طریقے پر ہے۔ خانقاہ عارفیہ بھی انھیں میں سے ایک ہے۔
مولانا اصغر مصباحی نے اس کی بھی تحقیق کی کہ کوئی چیز شعارِ دین اور شعارِ اہل سنت کب بنتی ہے۔ اس پر اعلیٰ حضرت کے والد گرامی علامہ مفتی نقی علی خان صاحب نے بڑی تفصیلی بحث کی ہے۔ جو لوگ ایسے مسائل کو شعارِ دین یا شعارِ اہل سنت کہتے ہیں، وہ حضرات مفتی نقی علی خان اور دیگر علما کی تحریروں سے واقف نہیں ہیں۔
مولانا اصغر مصباحی نے جب ان حقائق کو حضر ت شیخ سے بیان کیا تو شیخ نے اپنے متوسلین کی تفہیم کے لیے اور دوسروں کو بدگمانی وتبرا بازی اور تفسیق وتضلیل کے گناہ سے بچانے کے لیے مولانا اصغر کو حکم دیا کہ وہ سلیقے سے ان تمام حقائق کو مرتب کرلیں۔ جب مولانا اصغر صاحب نے انھیں مرتب کردیا تو شیخ نے خانقاہ کے متعدد علما کو اس پر نظر ثانی کرنے کے لیے کہا۔ جب سب نے دیکھ لیا اور کتاب چھپنے کے لیے تیار ہوگئی، پھر دوبارہ چند علما کو مطالعہ کرنے کے لیے کہا کہ وہ اس زاویے سے مطالعہ کریں کہ کہیں کسی مقام پر کسی عالم یا شیخ پر بطور خاص اعلیٰ حضرت پر کسی طرح کا طنزوتعریض تو نہیں ہے۔ ان حضرات نے دیکھا اور جہاں انھیں تھوڑا بھی شک ہوا، اس عبارت کی اصلاح کی گئی۔ بعد ازاں ہفتوں اس پر شیخ مشورہ کرتے رہے کہ کہیں لوگ اسے منفی معنی میں تو نہ لیں گے۔ جامعہ عارفیہ کے اساتذہ نے تقریبا ًیہ متفقہ رائے دی کہ چوں کہ کتاب میں اہل سنت کے کسی طریقے کو مطعون نہیں کیا گیا، نہ کسی پر طنز وتعریض کی گئی ہے، پھر یہ کہ ہم پر مسلسل اعتراضات ہو رہے ہیں، لوگ اپنی بات منوانے اور ہم کوخاطی بلکہ گنہگار ثابت کرنے کے درپے ہیں۔ اپنے لوگوں کو بھی ورغلایا جارہا ہے کہ خانقاہ میں گمراہوں کا طریقہ مروّج ہے۔ پھر یہ کہ کتاب نہایت علمی ہے ۔ اس کا اسلوب نہایت عالمانہ، محققانہ اورمعروضی ہے۔ ایسے میں اب اکیڈمی سے اس کی اشاعت کے لیے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ میں نے یہ بھی عرض کیا کہ کتاب ایسی جامع، محققانہ اور مکمل ہے کہ اب مزید اس کےبعد کچھ کہنے یا کسی جواب الجواب میں ہمیں الجھنا ہی نہیں ہے۔ اس لیے ہم اگر ادب وتحقیق کے ساتھ خانقاہ میں رائج روایت کی تائید اورتمام مراکز میں مروج صورتوں کی توثیق کرتے ہیں اور اس مسئلے کو بحث وجدل اور جواب الجواب کا ایشو بھی نہیں بناتے تو ایسے میں اس کی اشاعت میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ احباب نے اس بات کو بھی پسند کیا اور بالآخر یہ کتاب شاہ صفی اکیڈمی سے چھپ گئی۔

ردعمل اور اثرات:
اس کتاب کی اشاعت کے بعد اس کے مختلف رد عمل اور کئی اثرات سامنے آئے:
(۱)خانقاہ سے متوسل علما اور عوام پورے طور پر مطمئن ہوگئے اور ان کو اپنی خانقاہ کی روایت پر دلائل وشواہد مل گئے۔
(۲)جو لوگ مخلصانہ مسلسل نصیحتیں کررہے تھے، ان کو تھوڑی سی تکلیف ہوئی ہوگی کہ انھوں نے ہمارا مشورہ نہیں مانا اور مایوسی بھی کہ اب مستقبل میں مشورہ دینے کی گنجائش نہ رہی۔ان میں بعض حضرات قطع تعلق پر بھی آمادہ نظر آئے۔
(۳)جو لوگ ان مسائل کو بنیاد بناکر خانقاہ کو وہابیت اور دیوبندیت یا ضلالت سے جوڑ رہے تھے اور شعارِ اہلِ سنت کی خلاف ورزی کا طعنہ دے رہے تھے، اب ان کی زبان بند ہوگئی۔
(۴) کئی حضرات اس قسم کے سوالات کرتے نظر آئے کہ کیا ضرورت تھی کہ یہ کتاب لکھی جاتی؟یہ اہل سنت سے بغاوت ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کیوں ہوئی؟ وغیرہ وغیرہ۔
میں نےسوچا کہ اس کے پس منظر کی وضاحت کردی جائے،سو ہم نے وضاحت کردی۔ یقیناً اہل علم اور سنجیدہ حضرات پر اس کی اشاعت کا پس منظر بھی واضح ہوگیا ہوگا اور ہمارے جو کرم فرما ناراض ہیں، ان سے گذارش ہے کہ خدا کے لیے آپ ان فروعی مسائل میں اختلافِ رائے کی بنیاد پر ناراض نہ ہوں۔اس استحبابی مسئلے میں آپ کی جو تحقیق ہو اور آپ کے نزدیک جو راجح ہو، آپ اس پر عمل کریں، ہمیں آپ سے کوئی تعرض نہیں ۔ آپ کو اس کا بھی حق ہے کہ آپ بلا استثنا ہر ہر مسئلے میں حرفاً حرفاً اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی موافقت کریں، لیکن جن علما ومشائخ نے اعلیٰ حضرت کی بعض تحقیقات فرعیہ کو تسلیم نہیں کیا، یا اعلیٰ حضرت نے جن مسائل میں عام علماے اہل سنت سے اختلاف کیا، ان مسائل میں ان حضرات کو ان کی حالت پر چھوڑدیں۔ اہل سنت فروعی اختلاف کے ساتھ زندہ اور متحد رہ سکتے ہیں۔ ہر مسئلے پر سب کو ایک نقطے پر لانے کی کوشش، اتحاد کے بجائے ہمیشہ داروغہ گیری، تشدد وانتشار اور نفرت انگیزی پر منتج ہوگی، جس سے احتراز ہم سب کے لیے واجب ہے۔
(۵) ہمارے یہاں ایک بڑا طبقہ ردِّیوں کا ہے، جس کے پاس مثبت طور پر کرنے کا کوئی کام نہیں ہے، البتہ ہر وقت دوسروں کا رد کرنے اور دوسروں کے ایمان وعمل کی پیمائش کے لیے آستین چڑھائے رہتا ہے۔ پیش نظر کتاب کی اشاعت اول کے بعد وہ طبقہ حسب توقع اپنے فرض منصبی سے جڑگیا اور آناً فاناً کئی ایک تحریریں اس کتاب کے رد میں آگئیں۔ چوں کہ جدال اور جواب الجواب سے خانقاہ اور ارباب خانقاہ کو کوئی دل چسپی نہیں ہے، اس لیے ان تحریروں کے جواب کا نہ ارادہ تھا اور نہ بنا، البتہ صاحب سجادہ نے کہا کہ اس کتاب پر کیا کیا سوالات قائم کیے گئے ہیں اور مزید کیا قائم کیے جاسکتے ہیں، اپنی طرف سے قائم کرکے، کسی کا نام لیے بغیر، ان تمام کے جوابات دے دو، تاکہ یہ موضوع اپنے اختتام کو پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ اپنا لہجہ اور نرم کرواور کتاب کے جن جملوں پر ہمارے کرم فرماؤں کو اعتراض ہے، قطع نظر اس سے کہ ان کا اعتراض بجا ہے یا بےجا، نئی اشاعت میں ان تمام عبارتوں کویکلخت بدل دو۔
شیخ کے اس ارشاد کے بعد مولف کتاب مولانا اصغر مصباحی تعمیل حکم میں لگ گئے۔ آخر میں مجھے اور برادر گرامی مولانا غلام مصطفیٰ ازہری صاحب کو بھی حکم ہوا کہ اس کتاب پر کچھ لکھ دیں۔ مولانا ازہری کی تحریر کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں شامل ہے، جب کہ میری تحریر اب تیسرے ایڈیشن میں شامل ہو رہی ہے۔شاید اللہ کی یہی مرضی تھی۔ بہرکیف! کتاب آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ پڑھیے اور اپنی مفید اصلاحات وآرا سے ہمیں مستفید کیجیے۔
آخر میں برادر گرامی قدر جناب مقصود احمد کامران (ورلڈ ویو پبلشرز لاہور) کا شکریہ واجب ہے، جن کی کوششوں سے کتاب کا یہ تیسرا ایڈیشن منظر عام پر آرہا ہے اور پاکستانی اہل علم تک اس کی رسائی ممکن ہورہی ہے۔ اس سے قبل محترم موصوف شاہ صفی اکیڈمی کی شائع کردہ دوسری کتابیں، مثلاً ’’مسئلہ تکفیر و متکلمین‘‘، ’’مرج البحرین‘‘ اور مجلہ الاحسان کا سلطان المشائخ نمبر بھی اپنے اشاعتی ادارہ ورلڈ ویو پبلشرز سے شائع کرچکے ہیں، جس کے لیے ہم ان کے ممنون کرم اور مقروض محبت ہیں۔یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ مقصود بھائی ایک اچھے ناشر وتاجرکتب ہی نہیں،ایک خوش فکر، باذوق، اصلاح پسند، صاحب نظر اور وسیع القلب انسان بھی ہیں۔ مولیٰ کریم انہیں یوں ہی عازم سفر رکھے اور دارین کی سعادتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین

Comments are closed.