جہیز کے بارے میں ایک فکری تحریر!

 

محمد صابر حسین ندوی

کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے، انسان بھی اپنے آس پاس اور گرد ونواح کا تاثر لیتا ہے، وہ جہاں رہے جس جگہ اور مقام پر رہے، جس ملک اور بستی میں رہے وہ وہاں کی تہذیب و ثقافت اور تمدن و حضارت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا؛ اسی لئے اسلام مسلمانوں کو ایک ایسا ماحول بنانے کی تلقین کرتا ہے جہاں ہر طرف معروف ہی معروف ہو، اور جب کبھی وہاں کوئی غیر اسلامی ایکٹیویٹی دیکھی جائے تو لوگ اسے منکر سمجھیں اور اس کی نکیر کریں، ہجرت کی ترغیب اسی لئے موجود ہے، خیر میں تعاون کا تصور اسی پر مبنی ہے؛ بالخصوص تشبہ بالقوم کی ممانعت بھی اسی پر مشتمل ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ مسلمان رفتہ رفتہ دینی شعائر اور علم سے روگردانی کرنے لگیں یا انہیں کمتر سمجھنے لگیں، اسی لئے قرآن و حدیث میں بار بار تشبہ بالقوم سے روکا گیا؛ حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اس تشبہ کے خلاف عمل کر کے اصحاب کو مضبوط پیغام دیا؛ مثلاً مکہ مکرمہ میں کفار و مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، تو آپ ان سے امتیاز اور تشبہ سے بچنے کیلئے سیدھے بال رکھتے تھے، پھر ہجرت مدینہ کے بعد دیکھا کہ مدینہ منورہ میں اہل کتاب سیدھے بال رکھتے ہیں تو آپ نے مانگ نکالنا شروع کیا اور اس کے بعد اسلام کو غلبہ ہوگیا تو دونوں صورتوں میں تخییر دی گئی، یہ سب صرف اس لئے تھا کہ مسلمانوں کی الگ پہنچان رہے، وہ دیگر مذاہب والوں کے مابین شان امتیازی رکھیں؛ لیکن دقت تب ہوئی جب مسلمانوں میں یہ شعور کم ہونے لگا، اب اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلاً اقلیتی حیثیت، قبائے خلافت کا چاک ہونا، اور سب سے بڑھ کر دین کے تئیں لاشعوری اور لاابالی کا رویہ عام ہوجانا، اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کے ایمانی ڈھانچے پر پڑا ہے، جس کا اثر ان کی معاشرتی زندگی میں نمایاں ہو کر جھلکتا ہے؛ بالعموم غیر منقسم ہندوستان اور بالخصوص موجودہ ہندوستان کی مخلوط معاشرت نے مسلمانوں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے؛ کہ اسلام کی رو سے زندگی کی سب سے آسان اور عام چیز نکاح کو مشکل، مصیبت اور تکلفات سے ایسا پر کردیا ہے کہ اس میں سے اسلام کو آٹے سے بال کی طرح نکال پھینکا گیا ہے، جس بچی کو اسلام نے اللہ تعالی رحمت، والدین کیلئے جنت قرار دیا تھا اسے زحمت اور بوجھ بنا کر رکھ دیا، جہیز کی رسموں نے گھر اجاڑ دیے، اچھے اچھے پڑھے لکھے اور اعلی و نسلی گھرانوں کی عقلیں مار دیں اور چند ٹکوں اور نام و شہرت کی خاطر سماج کو تار تار کردیا، اب کون ہے جو شادی بیاہ کو اسلامی طور و طریق پر کرنا چاہتا ہے؟ بظاہر دیندار ہوں یا غیر دیندار ان سب میں یہ قدرے مشترک امر ہے کہ وہ اب شادی بیاہ کو خواہشات کی بھرپائی کا ایک آلہ محض سمجھتے ہیں، آہ!! مسلمانوں نے اپنی معاشرت کا کیا حال کر دیا ہے، کاش! وہ جانتے کہ اسلامی نظام نکاح میں جو برکت و خیر ہے وہ کسی میں نہیں ہے، خاص طور پر جہیز صرف اور صرف لعنت ہے، لعنت ہے؛ خواہ اسے کسی بھی بہانے اور وسیلے سے لیا جائے یہ اسلامی نقطہ نظر بلکہ انسانی حقوق کے اعتبار سے غیر منصفانہ امر ہے.
اس موضوع پر ایک بڑی معتدل اور فکری تحریر مولانا وحیدالدین خان مرحوم کی زیر مطالعہ آئی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے عام کیا جائے، آپ بھی پڑھیے! مولانا رقمطراز ہیں: "شادی میں جہیز دینے کی رسم ہندوستانی مسلمانوں میں بہت زیاده بڑه گئی ہے- نہ صرف یہ کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ رسم ہندوستان اور پاکستان کے سوا دوسرے مسلم ملکوں میں بهی نہیں پائی جاتی- برصغیر کے مسلمانوں میں یہ رسم یقینی طور پر ہندووں سے آئی ہے- ہندو لوگ، اپنے قدیم قانون کے مطابق، بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تهے، اس کی تلافی کے لئے ان کے یہاں یہ رواج پڑ گیا کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو زیاده سے زیاده دیا جائے- چناچہ وه جہیز کے نام پر بیٹی کو اپنی دولت کا ایک حصہ دینے کی کوشش کرنے لگے، اسی ہندو طریقہ کی تقلید ہندوستان کے مسلمان بهی کر رہے ہیں- اسلام میں اگر چہ لڑکی کو وراثت میں باقاعده حصہ دار بنایا گیا ہے- مگر مسلمانوں نے عملی طور پر لڑکیوں کو اس شرعی حق سے محروم کر رکها ہے- اس کی تلافی کے لئے انہوں نے اس ہندو طریقہ کو اختیار کر لیا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو کافی سامان دے کر اسے خوش کر دیا جائے – جہیز حقیقتہ اسلام کے قانون وراثت سے فرار کی تلافی ہے جس کو پڑوسی قوم سے لے کر اختیار کر لیا گیا ہے، کچهہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ جہیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے- کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے کیا تو ان کو اپنے پاس سے جہیز بهی عطا کیا- اس قسم کی بات دراصل غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے- کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچهہ دیا اس کو کسی طرح بهی ” جہیز ” نہیں کہا جا سکتا- اور اگر اس کو جہیز کہا جائے تو ساری دنیا میں غالباً کوئی ایک مسلمان بهی نہیں جو اپنی لڑکی کو یہ پیغمبرانہ جہیز دینے کے لئے تیار هو- وه جہیز کیا تها جو رسول اللی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو دیا- یہاں هم اس کی روایت نقل کرتے ہیں – :حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر ، ایک مشکیزه اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گهاس کا بهراو تها- واضح هو کہ حدیث میں جہیز کا لفظ معروف قسم کا جہیز دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ضروری چیزوں کا انتظام کرنے کے معنی میں ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتظام خود حضرت علی کی رقم پر کیا- یہ رقم حضرت علی نے اپنی ایک پرانی زره فروخت کر کے آپ کے حوالے کی تهی- مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حضرت فاطمہ کے علاوه تین صاحبزادیاں تهیں جو بڑی هوئیں اور پهر بیاہی گئیں- مگر مزکوره ” جہیز ” آپ نے صرف فاطمہ کو دیا- بقیہ صاحبزادیوں کو اس قسم کا کوئی جہیز نہیں دیا- اگر جہیز فی الواقع آپ کی مستقل سنت هوتی تو آپ نے بقیہ صاحبزادیوں کو بهی ضرور جہیز دیا هوتا- مگر تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں نہیں ملتا کہ آپ نے بقیہ صاحبزادیوں کو بهی ” جہیز ” دیا هو، یہ فرق خود ثابت کرتا ہے کہ مزکوره جہیز ، اگر اس کو جہیز کہا جا سکے ، بر بنائے ضرورت تها نہ کہ بربنائے رسم- حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی جب چهوٹے تهے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد (ابو طالب) سے کہہ کر ان کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تها- حضرت علی بچپن سے آپ کے زیر کفالت تهے- گویا حضرت علی ایک اعتبار سے آپ کے چچا زاد بهائی تهے اور دوسرے اعتبار سے آپ کے بیٹے کے برابر تهے- بچپن سے آپ کے تمام اخراجات کی فراہمی آپ کے ذمہ تهی- اس لئے بلکل قدرتی بات تهی کہ نکاح کے بعد نیا گهر بسانے کے لئے آپ انہیں ، بطور سرپرست کچهہ ضروری سامان دے دیں-اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام ایک ناقص دین ہے، اس میں زندگی کے تمام معاملات کے باره میں احکام موجود نہیں- تو مسلمان ایسے شخص سے لڑنے کے لئے تیار هو جائیں گے- مگر عملا مسلمان اسی بات کا مظاہره کر رہے ہیں کہ اسلام ایک ناقص دین ہے، یا کم از کم یہ کہ اس کا ہدایات کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کے طریقے زیاده بہتر اور زیاده قابل عمل ہیں- جہیز کے باره میں مسلمانوں نے واضح طور پر ہندو طریقہ اختیار کر لیا ہے اسی طرح شادی بیاه کی دوسری رسوم جو مسلمانوں میں رائج ہیں وه اسلام سے زیاده دوسری قوموں کے طور طریقوں سے ماخوذ ہیں- اگر مسلمانوں کا یہ خیال هو کہ اسلام کے کامل دین هونے پر فخر کرنا ہی خدا کے یہاں ان کی مقبولیت کے لئے کافی ہے تو اس سے بڑی غلط فہمی اور کوئی نہیں- کیونکہ یہود حضرت موسی علیہ السلام کی شریعت پر فخر کرتے تهے اس کے باوجود وه خدا کے یہاں ملعون قرار دیدئے گئے. ” (کامیاب ازدواجی زندگی)

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

Comments are closed.