اب جمہوریت کو بچاؤ
محمد قاسم اوجھاری کے قلم سے خصوصی تحریر
15 اگست 1947 کو ہندوستان غیر ملکی انگریزوں کے جبرا تسلط سے آزاد ہوا تھا اور 26 جنوری 1950 میں اس ملک کا آئین نافذ ہوا تھا اسی وجہ سے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے اس آئین کے تحت ہندوستان کو جمہوری ملک قرار دیا گیا تھا اور اسی آئین میں بلا تفریق سبھی اقوام و مذاہب کو مساوات کا درجہ ؛ تحفظ ؛ مذہبی آزادی اور ہندوستان کی آزاد فضاء میں آزادی کے ساتھ سانس لینے کا حق بھی فراہم کیا گیا تھا۔ اس لئے کہ اس ملک کی آزادی کے حصول میں در پیش مصائب و مشکلات میں بلا تفریق سبھی مذاہب و برادری کے افراد شریک تھے ان سبھی کا خیال تھا کہ ہم سب مل کر ایک ایسے بھارت کی تعمیر کریں گے جس میں کسی ہندو مسلم برہمن دلت اور کسی ذات اور برادری کا امتیازی فرق نہ رہے
ہندوستان میں انتخاب کو جمہوریت کا تہوار کہا جاتا ہے، لیکن اس جمہوری تہوار کو منانے کا ڈھنگ گزشتہ چند سالوں سے مختلف ہوگیا ہے جہاں تک مختلف پارٹیوں کے الیکشن لڑنے کے طریقے اور حکمت عملی کا سوال ہے تو یہ ایک ایسے ڈگر پر چل پڑی ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے لئے بھی ایک ناسور بنتا جارہا ہے۔
دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جب الیکشن آتا ہے تو وہاں کی پارٹیوں کا ایجنڈا ملک کی ترقی ؛ عوام کی فلاح و بہبود ؛ ملک کو درپیش قومی ؛ بین الاقوامی ؛ خارجی اور داخلی مسائل ہوتے ہیں مگر یہ ہندوستان کی بد نصیبی ہے کہ جب بھی الیکشن آتا ہے تو ذات برادری ادنی اعلی اور اقوام و مذاہب کی سیاست کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور وہ مسائل جو قومی اور ملکی مفاد کے لئے ہونے چاہیئے تھے وہ پس پشت چلے جاتے ہیں۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں :
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
یوپی الیکشن کا زمانہ قریب ہے تمام پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لئے اپنی پوری کوششیں صرف کر رہی ہیں ایسے وقت میں مسلمانوں اور سیکولر عوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہندوستان کی جمہوریت اور قومی یکجہتی کو بچانے کا ہے، ملک کو فرقہ پرستی، ظلم اور دہشت گردی سے پاک کرنے کا ہے، حق و انصاف کے حصول کا ہے، گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم ایکتا کو بچانے کا ہے، اور اس میں ہم کامیاب ہوسکتے ہیں مگر اس کے لئے ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے،
اگر سیکولر ووٹ بالخصوص مسلم ووٹ ذات برادری مفاد پرستی اور دوستی یاری کی وجہ سے منتشر ہوگئے تو فرقہ پرست طاقتیں کامیاب ہوجائیں گی اس لئے سیکولر عوام بالخصوص مسلم ووٹرس کی ذمہ داری ہے کہ آنے والے الیکشن میں فرقہ پرست طاقتوں کے مقابلہ میں سیکولر پارٹیوں کے کسی بھی جیتتے ہوئے امیدوار کو دیکھ بھال کر ایک جٹ ہوکر کامیاب بنائیں کیونکہ سیکولر کی جیت جمہوریت ؛ قومی یکجہتی اور ہندو مسلم ایکتا کی جیت ہے۔
Comments are closed.