سبق ضروریاددلاتارہے گا
سمیع اللہ ملک
امریکانے دوعشروں تک افغان سرزمین پرموجودرہتے ہوئے وہاں شدیدنوعیت کی خرابیوں کابازارگرم رکھا۔امریکانیاپنی افواج کاانخلا توکرلیاہے لیکن اپنی پالیسی کوتبدیل نہیں کررہا ۔ نئی دہلی کے بزرجمہراس حقیقت کاادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ امریکاجوکچھ کررہا ہے اس کے نتیجے میں خطے میں محض کشیدگی نہیں بڑھے گی بلکہ بہت کچھ الٹ پلٹ جائے گا۔ افغانستان کی کوکھ سے بحران جنم لیتے رہے ہیں اورابھی تک ایساہی ہورہاہے۔ایسے میں ناگزیرہے کہ دانش مندی سے کام لیتے ہوئے بیرونی قوتوں کوخطے کے معاملات سے دور رکھنے پرتوجہ دی جائے۔افغانستان کی صورتحال کاتقاضاہے کہ اسے سلجھانے کیلئیخطے کے تمام بااثرممالک مل بیٹھیں اور کوئی ایساسیٹ اپ تیارکریں جس کے تحت کسی کوبھی نقصان نہ پہنچے۔امریکامیں سیاسی وسفارتی امورکے تجزیہ کارقیاس کے گھوڑے دوڑانے میں مصروف ہیں۔ان کاایک بنیادی خیال یہ ہے کہ افغانستان سے مکمل فوجی انخلاکے ذریعے امریکاکو چین کے مقابل مسابقت کے حوالے سے پوزیشن بہتربنانے میں مددمل سکے گی۔دوسری طرف بہت سے ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ محض خام خیالی ہے۔
جوبائیڈن کے مطابق افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ ختم کرنے اوروہاں سے فوج واپس بلانے کی صورت میں امریکاکیلئے چین کے حوالے سے واضح حکمتِ عملی تیار کرنے میں غیرمعمولی حدتک مدد ملے گی اورتمام توانائیاں چین کوایک خاص حدتک رکھنے پرصرف کرناممکن ہوسکے گا۔امریکاکے پالیسی سازوں میں یہ خیال عام ہے کہ چین جس تیزی سے ابھررہاہے اورمعاشی، ٹیکنالوجیکل اوراسٹریٹجک معاملات میں شہ زوری دکھانے لگاہے اس کے پیشِ نظرلازم ہے کہ ایک بے مقصداورلامتناہی نوعیت کی جنگ ختم کرکے ساری توجہ چین کوقابومیں رکھنے پرمرکوزکی جائے۔
پالیسی کے حوالے سے ایک بنیادی حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکااب مشرقِ وسطیٰ سے بھی نکلناچاہتاہے۔وہ اس بکھیڑے سے نکلنے کی کوشش اس لیے کررہاہے کہ اب اسے ایشیاوبحر الکاہل کے خطے پرمتوجہ رہناہے۔ایک طرف بھارت ہے اوردوسری طرف چین۔ بھارت اگرچہ اب تک مغرب کاحاشیہ بردارہے تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کیلئے کبھی بھی منہ موڑسکتاہے کہ ہندوتواہر طاقتورکوسجدہ کرناجائزسمجھتے ہیں،اس حوالے سے وہ مغرب کیلئیکسی حد تک ایک چیلنج ہی ہے۔بہرکیف،چین کوقابومیں رکھنے کیلئے امریکاکومشرقِ وسطی سے جان توچھڑانی ہے۔عراق سے نکلنے کابھی بنیادی مقصدیہی تھااوراب افغانستان سے جان چھڑاکرچین پرمتوجہ رہنے کے قابل ہونے کی بھرپورکوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کاایک طبقہ ایسابھی ہے جویہ سمجھتاہے کہ افغانستان سے نکل جانے کی صورت میں بھی امریکاکوچین کے مقابل نہ تواسٹریٹجی کے حوالے سے بالادستی حاصل ہوسکے گی اورنہ ہی وہ معاشی اعتبارسے کچھ زیادہ کرنے کے قابل ہوسکے گا۔بائیڈن انتظامیہ کاخیال ہے کہ افغانستان سے مکمل فوجی انخلاکے بعدہی امریکاکیلئے چین کے سامنے زیادہ قوت کے ساتھ کھڑارہناممکن ہوسکے گا۔افغانستان سے انخلا مکمل ہوجانے کے بعدکی حکمتِ عملی کے اجزاجوں جوں سامنے آتے جارہے ہیں،ماہرین میں یہ رائے زورپکڑتی جارہی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس انخلا سے وہ فوائدحاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جواب تک سوچے جارہے ہیں۔افغانستان سے مکمل انخلاکی حمایت کرنے والے تجزیہ کارکہتے ہیں کہ افغانستان کی دلدل سے نکلنے پرامریکااپنی عسکری قوت کو ایشیا وبحرالکاہل کے خطے میں اپنی پوزیشن بہتربنانے پرزیادہ آسانی سے صرف کرسکے گا۔افغانستان سے جان چھڑانے کی صورت میں امریکاکیلئے سفارت اوربیوروکریٹک سطح پربھی چین پرزیادہ توجہ دیناممکن ہوسکے گا۔عسکری قوت کے ساتھ ساتھ انتظامی قوت کابھی معقول حصہ افغانستان کے معاملات پرصرف کرنے سے امریکاکیلئے چین پرخاطرخواہ توجہ دیناممکن نہیں ہوپارہاتھا۔ایسے میں انخلاء کے سواکوئی چارہ نہیں رہاتھا۔
سب سے پہلے تواس حقیقت کوسمجھنالازم ہے کہ افغانستان میں امریکاکئی سال سے اس حدتک فعال نہیں رہاجس حدتک ڈیڑھ عشرے پہلے تھا۔جوبائیڈن کے امریکی صدرکے منصب پرفائزہونے تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعدادایک بریگیڈ کے مساوی رہ گئی تھی۔اس کامطلب یہ ہے کہ افغانستان میں امریکاکی عسکری قوت کامعمولی ساحصہ صرف ہورہاتھا۔ایسے میں یہ سوچناسادگی کی انتہاہے کہ افغانستان سے فوجیوں کاانخلامکمل کرکے ایشیاوبحرالکاہل میں چین کے مقابل عسکری قوت بروئے کارلاکرکوئی انقلاب برپا کیا جا سکے گا۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی ایشیاوبحرالکاہل میں چین کے مقابل درکارعسکری قوت کاعشرِعشیربھی نہیں۔کہاجارہاہے کہ امریکااب افغانستان میں فوجی سرگرمیاں ختم کرکے وہاں تعینات فوجیوں کوایشیاوبحرالکاہل کے محاذپربروئے کار لاناچاہتاہے۔یہ حقیقت نظراندازکردی گئی ہے کہ امریکانے افغانستان سے فوجی تونکال لیے ہیں مگروہ وہاں عسکری سرگرمیاں روکنے کے موڈمیں نہیں۔واضح طورپرکہاجارہاہے کہ افغان سرزمین پرباہرسے حملے جاری رکھے جائیں گے۔پورے خطے کیلئے اس کے کتنے خطرناک نتائج برآمدہوسکتے ہیں اِس کااندازہ لگاناکسی بھی سطح پرکوئی مشکل کام نہیں۔
ایک بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ امریکادہشتگردی ختم کرنے کے نام پرافغانستان میں جوکچھ کرتاآیاہے وہ ختم نہیں کرسکتاکیونکہ امریکی محکمہ دفاع نے ایک رپورٹ میں واضح طورپرکہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ دوبارہ منظم اورمضبوط ہوتی جارہی ہے اوروہ طالبان کی چھترچھایامیں اپنے قدم مضبوط تربنانے کیلئے کام کررہی ہے۔ایسے میں امریکاکیلئے افغانستان سے مکمل طورپربے نیازرہنا ممکن نہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی بتایاگیاہے کہ نائن الیون کے بعددہشتگردی کے خاتمے کے نام پرجوجنگ شروع کی گئی اس کے باعث القاعدہ کی قیادت افغانستان کی سرزمین چھوڑکرپاک افغان سرحد سے ملحق پاکستانی علاقوں میں مرتکزہوگئی تھی لیکن پاک فوج کے آپریشنزکے بعددوبارہ افغانستان منتقل ہوچکی ہے اورآج تک وہیں ہے۔ان میں بعض افرادٹی ٹی پی اوربعض داعش میں شمولیت اختیارکرچکے ہیں اورخودامریکی ایماء پربھارت ان کوپاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کررہاتھا۔ اب افغان طالبان کے توسط سے وہ پاکستان سے بھی ایمنسٹی کی درخواست کررہے ہیں جن پرپاکستانی حکومت چندکڑی شرائط کے ساتھ غورکررہی ہے۔ایسے میں امریکاکیلئے دہشتگردی کے خلاف جنگ کومکمل طورپرختم نہ کرنے کابہانہ موجودرہے گا۔اس لئے بعض عناصربشمول بھارت ابھی سے یہ جوازاوربہانہ گھڑرہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کربیرونی عسکریت پسندوں کوایک بارپھراپنی پوزیشن مضبوط کرنے کاموقع ملے گاجوامریکااوراس کے مغربی اتحادیوں کی زیادہ سبکی ہوگی جبکہ طالبان کئی باریہ وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ اب کسی صورت میں افغان سرزمین کودنیامیں کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت ہرگزنہیں دیں گے۔
افغانستان سے عملاًنکل جانے کے بعد وہاں اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے امریکاکواب قطراورمتحدہ عرب امارات پر انحصارکرناپڑے گا۔یہاں سے افغانستان تک کافضائی سفرکئی گھنٹے کاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ امریکی طیاروں کوافغانستان پرحملوں کیلئے خاصا فاصلہ طے کرناپڑے گااورزیادہ قوت کااستعمال بھی آسان نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں عسکری سرگرمیوں کے اخراجات بڑھیں گیاورمعاملات وہیں رہیں گے جہاں اس وقت ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کیلئے لازم ہوجائے گاکہ افغانستان پربمباری جاری رکھنے کیلئے زیادہ طیارے مختص کرے اورامریکی طیارہ بردارجہازکوپاکستان کے ساحلوں سے نزدیک رکھنابھی امریکا کیلئے لازم ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی طیارہ بردارجہازیوایس ایس رونالڈ ریگن بحیرہ جنوبی چین سے نکل کرپاکستان کی طرف جارہاہے۔افغانستان سے عسکری انخلا کے بعدبھی امریکی قیادت افغانستان کامیدان خالی نہیں چھوڑناچاہتی۔حقیقت یہ ہے کہ وہاں سے نکلنے کے بعدامریکا کے دفاعی اخراجات بڑھ جائیں گے اورخلیجی ممالک میں اپنے اڈوں سے افغان مشن جاری رکھنادشوارترہوگا۔اس کیلئے زیادہ وسائل مختص کرنا ہوں گے۔
امریکاکیلئے ایک بڑامسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کے اتحادیوں کی واضح اکثریت افغانستان پرفضائی حملوں سے دوررہناچاہتی ہے۔افغانستان میں بیرونی فوجی موجودگی میں غالب حصہ امریکاکاہے۔نیٹواتحادیوں کی واضح اکثریت افغانستان سے عسکری انخلامکمل کرچکی ہے اورمزیدکوئی سروکاربھی رکھنانہیں چاہتی۔اس کامطلب یہ ہے کہ اگرامریکی قیادت افغانستان میں طالبان کوکمزورکرنے کیلئے فضائی حملے جاری رکھناچاہتی ہے تواسے کم وبیش تمام اخراجات خودہی برداشت کرناہوں گے اورسفارت کاری کے محاذپربھی اتحادیوں کی حمایت حاصل نہ رہے گی۔امریکانے افغانستان میں طالبان اوران کے ہم خیال عناصر کے خلاف دہشتگردی ختم کرنے کے نام پرجوجنگ دوعشروں تک جاری رکھی اس میں بہت حدتک مالی اورعسکری بوجھ نیٹواتحادیوں نے برداشت کیا۔اب صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے۔ نیٹواتحادی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں طالبان کودبوچنے کے نام پروہ اس خطے میں مزیدالجھے رہیں۔اس کا خمیازہ انہیں جہاں اپنی سرزمین پربڑھتی ہوئی انتہاپسندی کی صورت میں بھگتنا پڑاہے وہاں ان کی اکانومی بھی بری طرح متاثرہوئی ہے۔اب وہاں کے شہری پہلے ہی اپنے ٹیکسزکوایک بے مقصدجنگ میں شمولیت اختیارکرکے امریکاکی مزیدمددکرنے کیلئے ہرگزتیار نہیں۔اب اگرامریکاافغانستان میں اپنامشن جاری رکھتاہے توتمام اخراجات بھی اسی کوبرداشت کرناہوں گے اورسفارتی بوجھ بھی خودہی اٹھاناپڑے گا۔نیٹواتحادی اس کابوجھ اٹھانے کیلئے قطعاتیارنہیں۔
ماہرین اورتجزیہ کاروں کاایک طبقہ یہ بھی کہتاہے کہ افغانستان سے نکلنے کی صورت میں امریکاکوچین کے خلاف کوئی مددتوکیاملنی ہے،شدیدمنفی نتائج بھگتناہوں گے۔ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے اس حالت میں باہرنکل رہی ہیں کہ وہاں کچھ بھی درست نہیں۔طالبان کوکچلنے کے نام پروہاں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے زیرِعنوان جوکچھ کیاگیااس کے نتیجے میں طالبان ختم تو کیاہوتے،مزیدابھرکرسامنے آگئے ہیں اوراس کی واحدوجہ یہ ہے کہ امریکانے اس خطے میں اپنی مددکیلئے بھارت پربھروسہ کیاجبکہ بھارت خوداپنے مفادات کیلئے امریکاکواستعمال کرتارہاجبکہ بھارت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ چھ دہائیوں تک وہ روس کی گود میں بیٹھ کرامریکاکے خلاف کام کرتارہااورجونہی افغان جہادکے نتیجے میں روس کوپسپائی اختیارکرناپڑی توایک لمحہ تاخیرکئے بغیریہ امریکاکی گودمیں پناہ لینے کیلئے پہنچ گیاجبکہ 1962 میں چین کے ساتھ جنگ میں ہزیمت اٹھانے کے بعدبھی اس نے امریکاو یورپ کوبہت سی یقین دہانیاں کروائی تھیں لیکن مفادات کی تکمیل کے بعدسوویت یونین کاہی آلہ کاربنارہا،اس لئے بھارت کی بے وفائی اورمفاد پرستی کی بھیانک تاریخ کوبھی مدنظررکھناضروری ہے۔
امریکاکے سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق افغانستان سے انخلانے امریکاکی انتظامی مشینری پردباؤمیں بھی اضافہ کردیاہے۔ افغانستان کے جولوگ دوعشروں سے امریکا کیلئے کام کرتے رہے ہیں انہیں طالبان سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ان لوگوں کوامریکا بلاکر بسانے کی ذمہ داری بھی امریکا کی انتظامی مشینری کواٹھاناپڑرہی ہے۔افغان
مترجمین اوردیگرسہولت کاروں کوان کے اہلِ خانہ سمیت امریکامیں فوری طورپربسانے کی ذمہ داری کابوجھ اٹھانے سے امریکامیں انتظامی مشینری کیلئے مشکلات بڑھی ہیں۔یہ بوجھ چھوٹاموٹا نہیں۔
یہ سوچنابھی محض خام خیالی کامظہرہے کہ افغانستان سے فوجیوں کونکال لینے کی صورت میں امریکاپرسے مالی بوجھ کم ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ بوجھ میں کمی محض برائے نام ہوگی ۔ امریکی قیادت کے عزائم بجٹ کے حوالے سے پیچیدہ ترصورتِ حال کوبرقرار رکھنے کاسبب بن رہے ہیں اوربنتے رہیں گے۔اگرافغانستان پرحملوں کاسلسلہ جاری رکھناہے تو امریکی فوجیوں کوکہیں نہ کہیں توبساناہی پڑے گا۔اب چاہے یہ کام افغانستان میں ہویاپھرقطرمیں یا ٹیکساس میں۔افغانستان سے فوجی انخلامکمل کرلینے پربھی امریکاکے دفاعی اخراجات میں کمی واقع ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ امریکامکمل طورپراپنی مالی مشکلات حل کرنے پرپوری توجہ دے کہ افغانستان میں جارحیت کے جواب میں جنگی خسارے نے سوویت یونین کے بطن سے سے چھ مسلم ریاستوں کے ظہور کے بعداسے ’’روس ‘‘بنادیاتھااوراب امریکی جنگی مالی خسارے کے بعدامریکی ریاستوں سے بھی علیحدگی کی آوازیں اٹھناشروع ہو گئی ہیں۔بیرون ممالک جارحیت کے نتیجے میں مارے جانے والے اورعمربھرکیلئے معذورہونے والوں فوجیوں کی فلاح وبہبودپر سالانہ 9/ارب ڈالرکے تاعمرمستقل اخراجات یقیناایک ایسابوجھ ہوگاجومستقبل میں بے مقصدجارحیت کوروکنے کاسبق ضروریاددلاتارہے گا۔
Comments are closed.