مقصد حیات: ایمان کا تحفظ یا جان کی امان؟

مفتی محمد اللہ قیصر قاسمی
ماضی قریب کے چند سالوں میں مسلم قوم کے رویے میں کچھ ایسی تبدیلیاں ظاہر ہوئی ہیں جس نے ہر دل حساس کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا واقعی آئندہ بیس ،تیس سالوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہندو قوم میں ضم ہو جائے گی،یہ اپنے دین و ایمان سے محروم ہوسکتے ہیں؟ یہ ارتداد کا شکار ہو جائیں گے؟ فرقہ پرست جماعتیں مسلمانوں کو اپنے مذہب میں ضم کرنے کے اپنے دیرینہ مقصد میں کامیاب ہو جائیں گی؟
آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہوگا کہ مسلم لیڈران ہندو دیوی دیوتاؤں کی پوجا ارچنا کر رہے ہیں، کئی گاؤں کی مسجدوں میں مورتیاں بٹھائی گئیں، گنیش جلوس میں مسلمانوں نے گل پاشی کی، ہولی دیوالی میں شرکت تو عام ہوگئی ہے، اب شاید کچھ دنوں میں یہ بالکل معمول کا حصہ بن جائے گا، جسے کوئی برا نہیں سمجھے گا، نمشکار، اور نمستے کس قدر عام ہے اس سے ہم سب واقف ہیں، ” ہر ہر مہادیو” کے نعرے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی، "ہون” میں انہیں ہندو مسلم اتحاد کا راز نظر آتا ہے، بعض بدقسمت ایسے بھی ملے جو غیروں کے سامنے دعائیہ کلمات میں "اللہ” کا نام نہیں لیتے، کہ کہیں ہمارے مخاطب کو برا نہ لگے، اور یہ سب "باہمی یکجہتی” اور "اظہار محبت” کے نام پر ہو رہا ہے، غیر مسلموں کے ساتھ اظہار محبت کے کیا حدود ہیں وہ الگ موضوع ہے، یہاں اس سوال کا جواب مقصود ہے کہ غیروں کے تئیں ہمارے سلوک میں اس "تیز ترین تبدیلی” کی وجہ کیا ہے۔
مقاصد اور ترجیحات انسانی زندگی میں اس کے عمل کا رخ طے کرتے ہیں، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہر جگہ یہ فطری قانون کارفرما ہوتا ہے۔
آزادی کے بعد سے ہی مسلمان سیاسی، سماجی، اقتصادی اور تعلیمی کشمکش میں مبتلاء رہے ہیں، جس سے ایک مقابلہ آرائی کا ماحول ہمیشہ رہا ہے، بی جے پی کے آنے کے بعد یہ کشمکش مزید تیز ہو گئی، مسلمانوں کے ایک طبقہ نے جرأت کے ساتھ مقابلہ کا عزم کیا، تو دوسرے نے سمجھوتے کو مناسب سمجھا، اب تو مقابلہ کرنے والے بھی ٹوٹنے لگے ہیں، انہیں بھی لگنے لگا ہے کہ فرقہ پرستوں کی قربت ضروری ہے، اور اس کیلئے وہ ایمان سے سمجھوتہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
سوال یہ ہے کہ فرقہ پرستوں سے مقابلہ آرائی کرتے ہوئے ، ہماری ترجیحات کیا ہیں، مقاصد کیا ہیں، کس لئے ہم مسلمان فرقہ پرستوں سے نبرد آزما ہیں؟
ہندستان میں صرف اپنا وجود بچانا چاہتے ہیں؟ یا ایمان کی حفاظت ہمارا مقصد ہے؟
اگر صرف اپنا وجود بچانا مقصود ہے تو اس کیلئے جو بھی ضروری ہوگا وہ کریں گے، خواہ وہ عمل ایمان کے مخالف ہو یا موافق، اگر جان کی حفاظت کیلئے کہیں جے ایس آر کا نعرہ لگانا پڑے گا، تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آئے گا، کہیں ہولی، دیوالی میں شرکت سے جان کی امان ملتی ہو، تو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئے گی، اگر کہیں ایسا محسوس ہوگا کہ پوجا ارچنا سے ” باہمی رواداری” میں اضافہ ہوگا،اور اس طرح جان بچ سکتی ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں ہوگا۔
ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ، خاص طور پر سیاست سے جڑے افراد، ایسا محسوس کرتے ہیں، کہ مسلمانوں کے خلاف جرائم میں جو بے انتہا اضافہ ہوا ہے، اس کی وجہ ہے، فرقہ پرستی میں اضافہ، اور مسلم و غیر مسلم کے درمیان بڑھتی خلیج، لہذا مسلم مخالف جرائم کی روک تھام تبھی ممکن ہے جب فرقہ پرستی کی آگ پر قابو پالیا جائے، اور اس آگ پر ہم "یکجہتی”، ” رواداری” اور "با ہمی اخوت” کے اظہار سے قابو پاسکتے ہیں، پھر مسلم مخالف جرائم خود بخود کم ہوجائیں گے، اس طرح ہم محفوظ رہ سکتے ہیں، پھر اس "رواداری” اور ” اخوت” کے چکر میں وہ تمام امور انجام دئے جاتے ہیں، جو یقینا ایمان مخالف ہیں، جب مقصد صرف جان بچانا ہے تو ظاہر ہے جس عمل سے بھی جان کی حفاظت ہوگی وہ کریں گے، لذا مسجد میں "مورتی کی استھاپنا” ، "ماتھے پر قشقہ” ” گنیش وسرجن کے جلوش پر گل پاشی” "نمشکار” اور ” نمستے” ” ہر ہر مہادیو” کے نعرے، کسی عمل میں کوئی خرابی نظر نہیں آئے گی، اسلئے کہ ان سے جان بچ رہی ہے، جسے اصل مقصد سمجھا جا رہا ہے، ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں کا ایک چھوٹا طبقہ مراعات کے حصول کیلئے، مشرکانہ عمل میں شرکت کرلیتا تھا، اب بھی کچھ لوگ سیاسی فوائد کیلئے یہ سب کرنے پر مجبور ہیں، لیکن دور حاضر میں ایک نئی مصیبت یہ سامنے آئی ہے، کہ اکثریت کو مراعات کی آرزو کے بجائے "جان کا خوف” یہ سب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
شخصی وجود کو اولیت دینے کے برعکس اگر ہم یہ سمجھیں، کہ ایمان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، دین کی بقا مقصد حیات ہے، تو ہماری ہر کوشش ایمان کیلئے ہوگی، ایمان کے دائرے میں ہوگی، ہمارا ہر قدم دین کی بقا کیلئے اٹھے گا، دین کے قائم کردہ حدود اربعہ سے نکلنا محال ہوگا، اور ہم کسی بھی عمل سے پہلے سو بار سوچیں گے کہ یہ ایمان مخالف تو نہیں، ہم "رواداری” اور "اخوت” کی بقاء کیلئے جو کوشش کریں گے، اس میں غور کریں گے، کہ دین کو نقصان پہنچانے والا عمل تو نہیں، اگر دین و ایمان کے لئے خطرہ ہوگا تو یقینا ایسا کوئی عمل نہیں کر سکتے، کیوں کہ ہر سرگرمی کا مقصد ہی ایمان کا تحفظ ہے تو پھر اس کی مخالفت والا عمل چہ معنی دارد۔
اس وقت ہر مسلمان کیلئے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہماری ترجیح ہے کیا، ایمان یا صرف ہمارا شخصی وجود، ایمان پر وجود موقوف ہے یا اس کے برعکس، اگر کسی کے نزدیک وجود پر ایمان موقوف ہوگا تو اس کیلئے کوئی مشرکانہ عمل غلط نہیں، لیکن اگر کسی کی فکر یہ ہے کہ ایمان پر ہمارا وجود موقوف ہے، ایمان ہے تو ہم ہیں، تو چاہے جتنی مخالفت ہو، دشواریوں کی آندھی چلے، مصائب کا طوفان آجائے، مشکلات کے تلاطم خیز تھپیڑے ہمیں بے سدھ کردیں، ہم کسی بھی صورت میں مشرکانہ عمل نہیں کرسکتے، "باہمی یکجہتی،”رواداری”اور "اخوت” کو عام کرنے کے دوسرے جائز راستوں کی تلاش کریں گے، جو ملکی قانون مخالف نہ ہونے کے ساتھ ایمان مخالف بھی نہ ہوں۔
خیال رہے کہ "یکجہتی” بڑھتی ہے ہمدردی، جذبہ تعاون، احترام، محبت، حسن سلوک اور اچھے اخلاق سے، نہ کہ ایک دوسرے کی عبادت میں شرکت سے، کس کس کی عبادت میں شرکت کریں گے، لاتعداد مذاہب ہیں، سب کو خوش کرنے کیلئے سب کی عبادت میں شریک ہونا پڑے گا، کہاں تک سر جھکائیں گے، جبکہ ایک دوسرے کی مدد ، بہتر سلوک، حسن اخلاق انتہائی آسان ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام دوسروں کے احترام، ان کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، اور ان کی عبادت میں شرکت سے روکتا ہے۔
اور یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کے مخالفین کو آپ کے وجود سے کوئی پریشانی نہیں ، انہیں بس آپ کا ایمان برداشت نہیں، وہ جو بھی مخالفانہ اقدامات کر رہے ہیں، ان کا مقصد آپ کے وجود کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ نشانہ آپ کا ایمان ہے، ذرا سوچیں تو سہی، اگر آپ کوئی مشرکانہ عمل کرتے ہیں، تو آپ کے لئے ان کی محبت جاگ اٹھتی ہے، جبکہ ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو انہیں تکلیف ہوتی ہے، اور فرقہ پرست جماعتوں کا بنیادی ہدف بھی انضمام کے علاؤہ اور ہے کیا؟
اس وقت ملی تنظیم اور مساجد و مدارس کے ساتھ انفرادی طور پر یہ فکر عام کرنے کی شدید ضرورت ہے، کہ ہمارا مقصد حیات ایمان کی بقاء ہے، ایمان نہیں تو وجود کچھ معنی نہیں رکھتا، ارتداد کی جو آندھی چل رہی ہے، اس پر روک لگانے کیلئے عام مسلمانوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمان ہماری تمام جدو جہد کا مرکز ہے، ہر سرگرمی کا مقصد ایمان کا تحفظ ہے۔
ایمان کو ثانوی درجہ دینے والوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو قوم پرست ہونے کی وجہ سے مشرکانہ عمل غلط نہیں سمجھتا، اس کے نزدیک قومیت کا متقاضی ہر عمل درست بلکہ ضروری ہے، ایمان سے متصادم ہو یا نہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ ایمانیات کے قابل عمل ہونے کیلئے معیار "قومیت” ہے، کہ اگر کوئی ایمانی عمل کسی قومی روایت سے متصادم ہو یا (بقول ان کے)قومی ہم آہنگی میں رکاوٹ بنے تو ( نعوذ باللہ) اسے ترک کرنا ضروری ہے، واضح رہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ کوئی ایمانی عمل قومی روایات سے نہ تو متصادم ہے نہ ان کیلئے رکاوٹ، ایمانیات سے متصادم جن قومی و ملکی روایات کو وہ ضروری قرار دیتے ہیں ، در حقیقت یا تو وہ قومی نہیں یا ضروری نہیں۔
خلاصہ یہ کہ ایمان کو اولیت دینے والوں کے مقابلے نمایاں طور پر دو طبقے ہیں، جو ان سارے مشرکانہ عبادات کو قومی روایات باور کرانے اور اسے برتنے پر تلے ہیں، ایک وہ جن کی نظر میں ایمان کے بجائے شخصی وجود ہی مقصد حیات ہے، دوسرے قوم پرست جن کے نزدیک قومیت کو اعلی ترین مرتبہ حاصل ہے، اور معدودے چند سیاسی لوگ بھی ہیں، جو سیاسی مفاد کیلئے ایمان مخالف اعمال میں شرکت کرلیتے ہیں۔
یقین کیجئے کہ دینی معلومات سے عاری طبقہ چوں کہ ایمان کی اہمیت سے واقف نہیں اسلئے ان کا بنیادی مقصد شخصی وجود کا تحفظ، "قومیت” کا اظہار، اور سیاسی مفاد کا حصول ہے، چناں چہ اس کیلئے جو مطلوب ہوتا ہے وہ کرتے ہیں، خواہ وہ دین سے متصادم ہو یا نہیں۔
لہذا سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ کہ ہمارا مقصد ایمان کی حفاظت کے علاؤہ کچھ نہیں، پھر آپ ہی آپ طور واطوار میں تبدیلی نظر آئے گی، اور اس طرح ارتداد کی لہر کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

Comments are closed.