اکیسویں صدی کا ایک بیش قیمت شعری اثاثہ
حسین احمد ہمدم
مدیر چشمۂ رحمت ارریہ
الہ آباد کی سرزمین علم نوازی اور مردم خیزی میں قطعی غیر محتاج تعارف ہے,تاریخ کا دامن یہاں کے یگانۂ روزگار اصحاب کمال کے تذکرے سے بھرا ہوا ہے,اردو ادب میں لسان العصرحضرت اکبر الہ بادی سے لے کر شمس الرحمن فاروقی تک ایک زریں سلسلہ ہے الہ آباد کے شعراء ادباء اور نقادان فکروفن کا, مولانا افضال احمد قاسمی اکمل الہ آبادی صاحب اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز دینی, علمی, وروحانی خانوادے کے ممتاز فرد ہیں, آپ کے آباواجداد گھوسی ضلع مئو اعظم گڑھ کے بڑے زمیندار تھے. حضرت اکمل ازہر ہند سے فضیلت مکمل کرنے کے بعد شہر الہ آباد میں اپنے والد گرامی(عالم ربانی مولانا عمار احمد بے نشاں رح شاگرد رشید مصلح الامۃ مولانا شاہ وصی اللہ خلیفہ حضرت تھانوی رح) کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ اسلامیہ افضل المعارف الہ آباد میں مدرس ومنتظم ہوگئے, ایک طرف ملک وبیرون ملک سے علمی شخصیات کی آمد , بڑے بڑے شعراء و ادباء کی والد محترم کی خدمت میں حاضری نے کم سنی سے موجود شعری استعداد کو مائل پختہ کاری کیا تو دوسری طرف عظیم والد کی تربیت , معروف صوفی شاعر مولانا محمد احمد پرتاپگڈھی رح کی قربت اور افضل المعارف کے سابق سرپرست عارف باللہ حضرت مولانا قاری صدیق احمد ثاقب باندوی رح کی شفقت نے فطری صلاحیتوں کو کمال عطا کیا, اور اب آپ کے چالیس سالہ شعری وادبی سفر کا مختصر انتخاب "کلام اکمل” منظر عام پر آیا ہے, فیس بک اور دیگر سوشل میڈیائی پلیٹ فارم پر ہندوپاک کے بہت سارے اہل قلم آپ کی شاعری کے شائق ہیں سال 2021 ان اکمل پسندوں کے لئے ایک یادگار سال رہے گا.
کلام اکمل میں زبان کی رعنائی , بیان کی تہ داری , لہجے کی انفرایت اور فکر کی ندرت موجود ہے, دوران مطالعہ قاری کو ہربار لطفِ کلام فزوں تر محسوس ہوتا ہے بلکہ حضرت اکمل کی شاعری پڑھتے ہوئے کسی دوسرے شاعر کی طرف ذہن ہی نہیں جاتا جو کسی بھی فنکار کی عظیم ہونے کی پہچان یے.
افقِ شاعری پراستادانہ عظمت وانفرادیت کے ساتھ جلوہ گر "حضرت اکمل الہ آبادی” اسلامی علوم وفنون کے باکمال استاذ ہیں, خاص طور پر تفسیر قرآن, بلاغت اور منطق آپ کا پسندیدہ موضوع ہے,ایک بلندپایہ استاذ ہونے کے علاوہ مولانا افضال احمد قاسمی اکمل الہ آبادی ایک خوش اسلوب منتظم, اور نکتہ سنج, صاف گو, بیدار مغز,حاضر جواب, وسیع الفکر, سلیم الطبع, ہرفن مولا, بلند ہمت,خوش رو, بارعب و مہربان شخصیت کے مالک ہیں.
’’کلام اکمل‘‘ اس اکیسویں صدی کے خزینۂ شعر وسخن کا ایک خوبصورت و بیش قیمت ہے اثاثہ ہے جسے مستقبل میں بھی شاعری کے ایک معیار کے طور پر پیش کیا جائے گا, اس کا سب سے بڑا ثبوت خود "کلام اکمل” ہے جس میں شاعر نے اپنے احساسات,تجربات, مشاہدات و تخیلات کو حمد نعت نظم غزل قطعات رباعیات جیسے اصناف سخن کے دل آویز سانچوں میں ڈھالا ہے, ہر صنف میں معانی کو الفاظ کے اس قدر عمدہ لباس پہنائے ہیں جو رنگ میں لاجواب ہیں, ناپ میں بے مثال ہیں اور موسمِ مزاج کی ہر تبدیلی سے سے ہم آہنگ ہیں, مزید جب شاعر نے پیکر کلام کو اپنی نسبی نجابت کا وقار عطاکیا, روایات کی نفاست دی, جدید رویوں کی دلکشی دی, تشبیہات واستعارات کی دلنواز خوشبووں سےمعطر کیا اور صنائع وبدائع کے سنگار سے آراستہ کیا تو ہر شعر اپنے شاعر کی استادانہ عظمت کی مثال بن گیا.
حضرت اکمل بحیثیت شاعر حلقۂ خواص میں معروف ہونے کے باوجود باضابطہ اشاعت سے قبل زائد از چالیس سال تک اپنی شاعری کو فن کی کسوٹی پر کسا اور پرکھا ہے,کئ مزاجوں کے دشت دیکھے ہیں کئ گلستاں و بیاباں کی خاک چھانی ہے, کیونکہ بلبل شوریدہ کی طرح نالۂ خام کا اظہار آپ کی حسن پرست و اکملیت پسند طبیعت کے خلاف ہے,چنانچہ عمر کی تقریبا 55 بہاریں دیکھ چکے حضرت اکمل اپنے اس پہلے مجموعۂ کلام کے صفحہ 37 پر خود لکھتے ہیں” میری یادداشت کے مطابق میری زندگی کا سب سے پہلا شعر, غالبا 14 سال کی عمر میں کہا تھا:
احساس نہیں مجھ کو کب تر ہوا یہ دامن
دریائے ندامت تھا چپکے سے بہا ہوگا.”
کلام اکمل سے خاص انتخابی کاوش کے بغیر نمونۂ کلام پیش ہیں, ماہرینِ فن وقدردان سخن صاحبِ کلام کی اکملیت پسندی کا لطف لیں, اور ہم جیسے اردو کے طلبہ حسب استطاعت استفادہ کریں :
حمد
سانسوں کی دھن پہ رقص بدن ہے ترا کمال
دھڑکن کو دل کا ساز بنانا تری عطا
آئینۂ جہاں میں سنورتے وجود کا
سجدے میں سر پٹک کے بکھرنا تری عطا
…………………………………….
نعت
منور تھا نبوت کا فلک دلکش ستاروں سے
مگر جب آپ آئے تب لگا ماہ مبیں آیا
مدینے کی جانب سفر کرنے والو
ادب تم کو لازم حیا تم کو لازم
مزار منور پہ تم جاکے سمجھو
تمہیں دیکھتی ہے نگاہ محمد
اے کاش ہو جبیں پہ غلامِ نبی لکھا
جنت میں کون جائے گا پہچان کے بغیر
…………………………………….
نظمیات
*طواف وداع کے بعد…*
دیوار ودرو کوئے صنم چھوڑ چلے ہیں
ہم بیت کرم صحن حرم چھوڑ چلے ہیں
تھکنے کا مزہ دوڑتے پھرنے کی وہ لذت
دزدیدہ نظر بہکے قدم چھوڑ چلے ہیں
اس کیف کو اکمل کوئی دیوانہ لکھے کیا
فرزانے بھی ہاتھوں سے قلم چھوڑچلے ہیں
*بموقع آل انڈیا مظاہرۂ قرأت*
فرشتو! تم نےدیکھی ہے کہیں یہ جلوہ آرائی
انہیں میری محبت کھینچ کر اس بزم میں لائی
مرا قرآں سراپا نور ہے شمع ہدایت ہے
مرا قرآں مرے محبوب کی پاکیزہ سیرت ہے
*فیس بک کے احباب کے لئے…*
سب کے دل میں الفت و توقیر کے جذبے ملے
اور لہجہ لطف سے بھرپور دیکھا رک گیا
اے شخص اے ہم نفس…….
اک ترے نہ ہونے سے
یوں تو کچھ نہیں ہوتا
تھوڑے اشک کچھ آہیں, میرے پاس ہوتے ہیں
درد کے لبادوں میں زخم لہجے سوتے ہیں
کرب کی زمینوں پر فصلِ شعر بوتے ہیں
حرف بھی سسکتے ہیں,لفظ سارے روتے ہیں
اک ترے نہ ہونے سے
اور کچھ نہیں ہوتا
محبت بس محبت ہے
محبت کا کوئی سایا نہ کوئی جسم ہے یارا
محبت حرف ہے نہ لفظ ہے نہ اسم ہے یارا
محبت آس ہے اخلاص ہے احساس ہے یارا
محبت صبر ہے امید ہے وشواس ہے یارا
…………………………………….
*غزلیات*
ورق اندر ورو ڈھونڈیں گے ہم ان کے سراپا کو
کتاب حسن ہے خود کی نئی تفسیر دیکھیں گے
میری غزلوں میں سراپا ہے ترا
پڑھ رہی ہے ہر نظر پردہ تو کر
وہ اک حسین سے نازک سے خواب جیسا ہے
وہ میری فکر کا حصہ ہے مجھ میں رہتا ہے
جہاں پہ ذکر ہے اس کا حیات نامے میں
مری کتاب کا سب سے حسین صفحہ ہے
باوفا جگنو کو بھی رہرو بنالوں گا مگر
آفتابِ مکر کے ہمراہ چل سکتا نہیں
خون جگر کے جام پئے ہیں ابھی ابھی
لہجے میں ہے خمار غزل کہہ رہا ہوں میں
سورج ہے میرے سامنے تارے ہیں پشت پر
منزل دکھائی دے گی ہے اس کا یقیں مجھے
اکمل سکوتِ ذات بھی ہے شورِ بے فغاں
تنہائیوں کی چیخ نے سہما دیا مجھے
کچھ درختوں نے فقط سائے کا ذمہ ہے لیا
جو شجر ہو, باثمر ہو, یہ ضروری تو نہیں
طوفان ہو بھنور ہو تلاطم ہو رات ہو
رخ اپنے بادبان کا موڑا نہیں کبھی
اے کائنات حسن مجسم نظر تو آ
تصویر جب بناؤں گا اکمل بناؤں گا
نہ زنجیریں نہ نوحہ اور نہ آہیں
کوئی ماتم تو ایسا بھی کہیں ہو
احباب نے تو سارے کھلونے جمع کئے
پر جیسا چاہتے تھے تماشہ نہیں ہوا
زبان ودل میں کیسا فاصلہ ہے
نمازیں قبلہ رو سے ڈر رہی ہیں
آبل پائی فقط اک زاد راہ
کیا مری ہجرت رہے گی معتبر
اسے نہ ڈھونڈ تری جستجو ہے لاحاصل
وہ فلسفہ ہے مری داستاں میں رہتا ہے
وہ اک ستارہ ہے میرے نصیب کا اکمل
مرے مدار مرے آسماں میں رہتا ہے
ملتے ہیں کربلاؤں میں ماتم زدہ نفوس
مشکل یہ ہے حسین کا کردار کس کو دوں
انکار کررہا تھا مری دسترس سے وہ
پھر اس کے زاویوں میں سمانا پڑامجھے
اک تو غم ہجر کا, پھر اس پہ ڈھایا یہ ستم
فرقتوں کا ذکرِگریہ , در زبان ریختہ
سمجھے گا کیسے کوئی تری بے رخی کا لطف
جو التفاتِ یار سے آگے کی چیز ہے
چلنا سمٹ سمٹ کے حیا کے لباس میں
پھولوں سے سے اور بہار سے آگے کی چیز ہے
مجھے تو بھاتے ہیں ناز وغرور سب اس کے
مگر قصیدہ لکھوں گا تو سادگی کے لئے
زریں تخیلات پہ مبنی ردیف ہے
تو میرے ہر کلام کی ذیلی ردیف ہے
تو شعر ہے غزل ہے قصیدہ ہے حسن کا
تو میری پہلی بحر ہے ,پہلی ردیف ہے
خوشبو بہار چاند ترا قافیہ نہیں
تو خود ہی اپنا قافیہ اپنی ردیف ہے
جو مجھ میں جی رہی تھی مجھی میں مرگئ
کیسے وصال وہجر کی باہر خبر گئ
مجھ کو نہیں کسی کی رقابت سے کچھ گِلہ
اکمل میں تیرے چاہنے والوں کو چوم لوں
تم نے سوچا, تم نے پرکھا, تم نہ سمجھے رازِ عشق
ہم نے برتا, ہم نے دیکھا, ہم نے جانا عشق ہے
وہ شاخ سانپ بن کے ڈسے گی انہیں, جسے
صندل سمجھ رہے تھے سپیرے فریب میں
وہ بھی ملتا, جہان بھی ملتا
لاکھ چاہا پہ معجزہ نہ ہوا
مرے لہجے کے گھنگرو کہہ رہے ہیں اس کی پایل سے
چلو ہم درد کا نغمہ سناکر ٹوٹ جاتے ہیں
………………………. ……………
قطعات رباعیات
ماضی کا ہر اک خواب مرے پاس ہے اب بھی
ہاں ہاں تو وہی ہے مجھے احساس ہے اب بھی
ویران تخیل کو یوں آباد کروں گا
میں تجھ کو بہت یاد بہت یاد کروں گا
لفظوں کے انتساب کی کیا آرزو کریں
کچھ درد کی زباں میں چلو گفتگو کریں
ہمدم نہیں ہے کوئی تو پھر آج یوں سہی
اپنا ہی عکس آئینے کے روبرو کریں
مرے اندر کئی موسم ہیں پنہاں
شفق بھی بارشیں بھی آندھیاں بھی
ہے میرے کائناتی غم میں شامل
زمیں بھی یہ فضا بھی آسماں بھی
بہت سے آئنے ٹوٹیں گے سارے عکس بکھریں گے
وہ کل شب کہہ رہا تھا ہم تری نظروں سے اتریں گے
خدایا خیر ہو قلب حزیں ٹکڑے نہ ہوجائے
قیامت خیز جذبے دل کے شریانوں سے گذریں گے
میں چاہتا ہوں حلقۂ زنجیر توڑ دوں
پھر سوچتا ہوں ایسے بکھر وی بھی جائے گا
اس درجہ حبس ہے کہ گھٹا جائے دم مگر
میں سانس روک لوں گا تو مر وہ بھی جائے گا
اک آہ کی تھی اور تماشا عجب ہوا
اہل حرم خموش حرم بولنے لگا
وعدہ تھا چپ کا نزد خدا سو میں چپ رہا
میرے بدن سے اس کا ستم بولنے لگا
ہم خیالوں کے دشت باسی ہیں
یاس کو آس سے مٹاتے ہیں
لذتِ تشنگی بھی کیا شے ہے
پیاس کو پیاس سے مٹاتے ہیں
…………………………………….
نمونۂ کلام سے واضح ہے کہ "کلام اکمل ” زبان وبیان کی خوشبوؤں سے معطر ,فکر وخیال کی نزاکتوں سے مکمل اور لہجہ واسلوب کی انفرادیت سے مزین ہے. اور کتاب کی سعادت دید سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نام, سرورق اور صفحات کی سادگی و پرکاری حضرت اکمل کی بظاہر سادہ اور بباطن جامع کمالات شخصیت کا استعارہ ہے. کتاب 244 چوالیس صفحات پر مشتمل ہے اور تخلیق کار کے پتے پر بلاقیمت دستیاب ہے.
’’حقوق محفوظ نہیں ہیں‘‘ بلکہ چند ضروری تفصیلات کی حفاظت کی شرط پر طباعت کی اجازت عام ہے.
امید ہے کہ اردو شعر وادب کے معیاری شائقین, ناقدین, اشاعتی ادارے اور اردو کی سرکاری وغیر سرکاری انجمنیں اس فن پارے کی طرف متوجہ ہوں گے , قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے اور کلام و صاحب کلام کو وہ مقام دیں گے جس کےوہ حق دار ہیں.
Comments are closed.