پردھان منتخب کرنا ہے گرگٹ نہیں!

عبد المتین اورنگ آبادی
چند روز سے جہاں ایک طرف گرام پنچایت الیکشن کی گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے، برساتی مینڈکوں کی طرح کِرائے کے اشتہاری لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر، محلہ محلہ گھوم پھر کر، اپنے امیدواروں کو برتر ثابت کرکے ووٹروں کو لبھانے میں لگے ہوئے ہیں، پرچار واشتہار میں ہر متعلقہ امیدوار کو اتنی مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے کہ گویا وہی قوم کا سب سے بڑا ہمدرد وغم خوار ہے، اور اب اس کے الیکشن میں کامیاب ہوکر منتخب ہوجانے کے بعد گاؤں یا شہر (وارڈ) کی قسمت ہی بدل جائے گی۔ وہیں دوسری طرف بے چارے بھولے بھالے عوام ہر بار کی طرح پھر برساتی مینڈکوں کی باتوں میں آکر اور چند روپیوں کی خاطر اپنا اور اپنے محلے، بستی وشہر کا پانچ سالہ مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں، اور گلیوں، نالیوں، سڑکوں، تعلیمی و صحتی اداروں کی کمی کا رونا روتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ پرچار واشتہار کے لیے جو لوگ نکل رہے ہیں، وہ نوجوان عموماً دلت وپس ماندہ طبقوں (آدیواسی وغیرہ) سے تعلق رکھنے والے ہیں یا پھر مسلمان ہیں، جو چند ٹکوں کی خاطر ان سیاسی نمائندوں کا چارہ وروزگار بنے ہوئے ہیں، کل جب الیکشن ختم ہوجائے گا، جیتنے والے جیتیں گے، ہارنے والے ہاریں گے، (جب کہ سیاست میں ہارنے والے کو بھی بازیگر سمجھا جاتا ہے، بلکہ آج کی جمہوری سیاست ہی بازیگری کا دوسرا نام ہے)، تو یہ نوجوان پھر اگلے پانچ سال تک بے روزگار بنے پھرتے رہیں گے، بے روزگاری کے خلاف احتجاج اور دھرنوں میں بھی شریک ہوں گے، لیکن جب موقع ہوتا ہے تو اصل نمائندوں سے کوئی بات نہیں کرتے، نہ ان کا احتساب کرتے ہیں، اور کریں بھی کیوں؛ آخر کار بریانی کی چند پلیٹیں جو ہضم کرچکے ہوتے ہیں؛ لہذا آج ضرورت ہے کہ ہمارے سماج ومعاشرے میں ایک ایسا طبقہ اٹھ کھڑا ہو جو: صالح معاشرے کے لیے صالح امیدوار کا انتخاب کرے۔
الیکشن کے موقع پر عوام کی صحیح نمائندوں کی طرف صحیح رہنمائی کرے۔ محلہ، بستی و شہر کے ضروری مسائل (پانی، بجلی، صفائی، صحت، تعلیم، روزگار) کی طرف عوام اور نمائندوں کو متوجہ کرے۔ماضی میں پرانے نمائندے نے جہاں کوتاہیاں کی ان کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے، اگلے نئے نمائندے کی ترجیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔
ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کی طرف اسے متوجہ کرے، مطلوبہ اعمال اور مانگیں پوری نہ ہونے اور کوتاہی کی صورت میں اس کا احتساب کیے جانے کا الٹی میٹم دیدے۔

Comments are closed.