گوڈسے کے نام پر گاندھی کا قتل

احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن
آزادی کے بعد 73 سالوں سےہرسال 2 اکتوبرکو ملک بھر میں گاندھی جی کی یوم پیدائش کی مناسبت سے گاندھی جینتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔آج بھی ملک بھر میں ملک کی سماجی و سیاسی شخصیات سے لے کر اسکول کے بچوںتک نے گاندھی جی کو اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا وہیں دوسری جانب ایک ایسا طبقہ بھی تھا جس نے گاندھی جی کے قاتل ملک کے پہلے دہشتگرد گوڈسے کے نام پر گوڈسے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ٹوئیٹرپر ٹرینڈ چلایا، جس میں تقریبا 60 ہزار لوگوں نے حصہ لیا اور ملک و انسانیت کے لئے گاندھی جی کی خدمات ،اُن کی قربانیوں کو سرے سے فراموش کرتے ہوئے فادر آاف دا نیشن یعنی بابائے قوم کہے جانے والے گاندھی جی کی توہین کی ۔۔۔۔۔
72 سال قبل جس گوڈسے نے گاندھی جی کے سینہ پر گولی چلا کر انہیں قتل کیا تھا آج اُسی گوڈسے کو ماننے والے ملک کے غدار آتنکوادیوں کی جانب سے بار بار گاندھی جی کا پتلا بناکر انہیں قتل کیا جاتا ہے،اُن کی تعلیمات اُن کے پیغام کو بھلاکر گاندھی کے بھارت کو گوڈسے کی نسلوں نے آج ہائی جیک کرلیا ہے ۔۔۔۔۔۔
ان حالات میں جب تک گاندھی جی کی تعلیمات پہ عمل کرتے ہوئے بھارت میں اہنسا اور بھائی چارگی کا پیغام عام نہیں کیا جاتا اُس وقت تک گاندھی جی کے تصور کا بھارت بنا پانا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ جب تک گاندھی جی کی توہین کرنے والے گاندھی کا بار بار قتل کرنے والے گوڈسے کی غدار نسلوں کو حکومت کی جانب سے سخت سزا نہیں دی جاتی، اُس وقت تک حکمراں جماعتوں کی جانب سے گاندھی کی یوم پیدائش پہ پیش کی جانے والی خراج عقیدت بےمعنی ہے، ڈھکوسلہ ہے اور منافقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.