عنقریب بھارت کو ہندوراشٹر بنانے کی تیاریاں ۔۔۔!!!
ممکن ہے جلد بھارت کے آئین کو ہٹاکر منوسمرتی کو لایا جائے
احساس نایاب ( شیموگہ،کرناٹک )
اس وقت آئی اے ایس افسر افتخارالدین پر لگے الزامات اور اُس کو لے کر جو تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے وہ ایسے ہی نہیں ہے …..
آپ کو یاد ہو تو چند سال قبل آپ کی عدالت نامی ایک پروگرام میں یوپی کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ بڑے ہی فخریہ انداز میں مسلمانوں و عیسائیوں کا مذہب تبدیل کروانے پہ فخر محسوس کررہے تھے اور آج بھی کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ آن کیمرہ بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ انہوںنے کتنوں کو مسلمان سے ہندو بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہیں حال ہی میں سوشیل میڈیا پہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں مذہبی پروگرام چل رہا ہے اور اجتماعی طور پہ چند لوگ جمع ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس ویڈیو پہ یہی بھاجپائیوں نے بوال مچایا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔
دراصل بی جے پی راج میں فرقہ واریت اور تعصب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ برابری کے حقوق کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں ایک مسلم آئی اے ایس افسر کا اپنے گھر پہ قرآن کی آیت پڑھنا اور سننا اتنا بڑا جرم بناکر پیش کیا جارہا ہے کہ بی جے پی کی یوگی حکومت نے آ ئی اے ایس افسر افتخار الدین کے خلاف تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔
ملی و سیاسی رہنماؤں کے بعد اب سرکاری اہلکار اور سول افسران پہ شکنجہ کسنے کی ناپاک کوشش ہے ۔۔۔۔۔۔۔
مذہب تبدیلی کا الزام لگا کر بھارت کے لوگوں کے سامنے ان شخصیات کو مجرم ثابت کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔
جیسے پچھلے سال تبلیغی جماعت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ماحول بنایا گیا تھا، اور حال ہی میں عمر گوتم، مولانا کلیم صدیقی جیسے مذہبی رہنماؤں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے بالکل اُسی طرح آج ان کے نشانہ پر مسلم رہنما و سوشیل ایکٹویسٹ کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران بھی آچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
یہ پورا معاملہ کچھ یوں ہے!
آئی اے ایس افسر افتخارالدین کی 5 سال پرانی ایک ویڈیو جو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہے ، جس میں نہ وہ رشوت لے رہے ہیں نہ ہی کسی کا قتل یا کوئی اور جرم کررہے ہیں بلکہ وہ صرف قرآن پاک کی آیت پڑھ رہے ہیں اور ویڈیو میں ان کے ساتھ چند اور مسلمان بیٹھے ہیں ، بتایا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو 2017 ماہ رمضان کی ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ساری دنیا جانتی ہے کہ ماہ رمضان میں اس طرح کی تقریبات مسلم گھروں میں معمول کی بات اور ہمارا ہندوستانی آئین بھی ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
باوجود کانپور بی جے پی کے نائب صدر شیلیندر ترپاٹھی نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے آن لائن شکایت کی ہے۔ کانپور کے اسٹاف لیڈر بھوپیش اوستھی نے بھی اس بارے میں شکایت کی ہے۔ بھوپیش اوستھی نے وائرل ویڈیو کو ٹویٹ کرکے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھا ہے کہ ویڈیو ہندوؤں اور سناتن دھرم کے خلاف پروپیگنڈا کرتی دکھائی دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اس پر کانپور پولیس نے ٹوئیٹ کرکے تفتیش کرنے کی معلومات دی تھی۔ پولیس نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ کانپور کمشنر کی رہائش گاہ میں آئی اے ایس محمد افتخارالدین کی وائرل ویڈیو کی جانچ کانپور نگر پولیس کے ’’اے ڈی سی پی‘‘نے کی ہے۔ تحقیقات جاری ہے کہ کیا یہ ویڈیو سچ ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟
دراصل یہاں پہ یہ سارا ڈرامہ 2022 کے اترپردیش انتخابات کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔
اس ویڈیو کو بلاوجہ کا مدعا بناکر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور فی الحال یوگی سرکار نے اس پہ تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے، یعنی( سپشیل انویسٹگیشن ٹیم )جو ہائی پروفائیل شخصیات بالخصوص سرکاری افسران کے خلاف انویسٹیگیشن کے لئے بنائی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
آئی اے ایس افسر افتخار الدین پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری بنگلے میں مذہبی گفتگو کی ۔۔۔۔۔۔
یہاں پہ آپ کو بتاتے چلیں کہ افتخار الدین 1985 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔اور فی الحال یوپی اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے چیئرمین ہیں۔ وہ 17 فروری 2014 سے 22 اپریل 2017 تک کانپور کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
لیکن ان دنوں محض ایک پرانی ویڈیو کو وجہ بناکر ان کے خلاف تنازعہ کھڑا کرکے ان کے سابقہ خدمات کو فراموش کیا جارہا ہے ،جبکہ بھارت کا آئین ملک میں بسنے والے ہر شخص کو اپنے من چاہے مذہب کو ماننے اُس پہ چلنے کی اجازت دیتا ہے ساتھ ہی یہ بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکے ۔۔۔۔۔۔
آرٹیکل 25 میں یہ بات بھی واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ہر بھارتی کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنے من چاہے مذہب کو ایڈاپٹ کرسکے یعنی اپناسکے اور کسی کو ٹھیس پہنچائے بنا اپنے مذہب کا پرچار کرسکے ۔۔۔۔۔۔
لیکن افسوس گاندھی جی کے قاتل ملک کے پہلے دہشتگرد گوڈسے کی آئدئیالوجی کو ماننے والی بی جے پی آر ایس ایس ہمیشہ سے انڈین کانسٹیوٹیشن کی جگہ منوسمرتی کو لانے کی کوشش میں ہے جو ہندوتوا کو بڑھاوا دیتا اور ملک کے دبے کچلے طبقہ یعنی دلت اور آدی واسیوں کو انسان ماننے انہیں ایکول رائٹس دینے سے سخت انکار کرتا ہے ۔۔۔۔
فی الحال آر ایس ایس کا مقصد ہندوستانی آئین کو ہٹاکر ملک میں منوسمرتی کو لانا ہے تاکہ ایک بار پھر بھارت مین ہندوتوا کا غلبہ ہوسکے،لیکن اس مقصد کے سامنے ملک کی دوسری بڑی اکثریت رکاوٹ بن چکی ہے جس کی وجہ سے یہ مسلمانوں کو توڑنے کمزور کرنے کے لئے سام دام دنڈ بھید جیسے ہر قسم کے پینترے آزمائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس بار ان کے نشانہ پر ہر وہ شخص ہوگا جو ایکویلٹی ایکول رائٹس کی بات کرتا ہے اور ہندوستان کے آئین کو مانتا ہے ۔۔۔۔۔دوسری بات آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بھارت کی 130 کروڑ عوام کو ہندو کہنا یہ محض دھکوسلے اور کھلا فریب ہے۔
کیونکہ اگر واقعی میں یہ سبھی کو ایک مانتے تو ہندوستان کےسب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور اُن کی بیوی کو مندر کے اندر داخل ہونے سے نہیں روکا جاتا ۔۔۔۔۔۔
بس اس ایک واقعہ سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جب ملک کے سربراہ اعلیٰ صدر جمہوریہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاسکتا ہے تو یہ کسی کو بھی تعصب کا نشانہ بناسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پر ہم اپنی بات کو ایک بار پھر دہرانا چاہتے ہیں کہ ان کا ہدف 2024 ہے اور 2024 سے پہلے پہلے یہ طاقت کے بل پہ پورے ملک پر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور ان کے مطابق جو جتنا ظالم و جابر ہوگا اُسے قابل مانا جائے گا اور عدالت سے لے کر پارلیمنٹ تک اُس کی پہنچ ہوگی ۔۔۔۔۔
اور فی الحال سبھی خود کو اس ریس میں آگے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں چاہے وہ یوپی کا یوگی ہو، ایم پی کا شیوراج ہو یا آسام کا بسوا سرما ہو ۔۔۔۔۔۔
یہاں پہ غورطلب بات یہ بھی ہے کہ 2002 گحرات مین آتنک مچانے والا بھی آج کس مقام پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال ابھی ہم واپس افتخار الدین کے معاملہ پر لوٹ آتے ہیں ۔
مذہبی تقاریب میں شامل ہونے سے اگر ایک آیی اے ایس افسر مجرم کہلاتا ہے تو ہندوستان کے تمام سرکاری اہلکار ، اعلی عہدیداران بھی مجرم کہلائیں گے جو اپنے دفاتر مین مذہی تصاویر لگاتے ہیں ۔۔۔۔ بھلے وہ وزیراعلی ہوں یا وزیر آعظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یوپی میں دھرم پریورتن کے خلاف قانون نافذ کرکے مسلمانوں اور عیسائوں کو ٹارگیٹ کرنے والے یوگی آدیتیاناتھ بھی مجرم کہلائیں گے کیونکہ ایک وزیراعلی ہوتے ہوئے یوگی جس قسم کا لباس پہنتا ہے اُس مین فرقہ واریت نظر آتی ہے اس کے علاوہ آن کیمرہ مسلمانوں کو ہندو بنانے کی بات تسلیم کرنا کسی بھی صورت ایک وزیر اعلی کو زیب نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ یوگی کے شہ پر اترپردیش میں آئے دن گھر واپسی کے نام پہ بی جے پی لیڈران مسلمانوں اور عیسائیوں کا مذہب تبدیل کرواکر انہین ہندو بنانے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہیں دوسری جانب ایک مسلمان کا اپنے گھر پہ عبادت کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا بھی ان کے آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ۔۔۔۔۔
خیر ناظرین جاتے جاتے ایودھیا کے سنت جگد گرو پرم ہنس آچاریہ کا یہ اعلان بھی سن لیں ۔۔۔۔۔۔
ان مہاشیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر 2 اکتوبر تک ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا جاتا ہے تو وہ سریو ندی میں جل سمادھی لے لیں گے ۔۔۔۔۔۔ یعنی ندی میں ڈوب کر خودکشی کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔
سنت پر مہنس نے مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کی شہریت کو ختم کر دیا جائے۔۔۔۔۔
ویسے 2 اکتوبر کب کا گزر گیا لیکن مہاشئے ندی میں ڈوب کر خودکشی کرنا تو دور چلو بھر پانی میں بھی نہیں ڈوبے ۔۔۔۔۔
خیر اس سے پہلے بھی انہوں نے 15 دنوں کی بھوک ہڑتال کی تھی اور ملک کو ہندوراشٹر اعلان کرنے تک وہ بھوک یرٹال نہ توڑنے کا دعوی کررہے تھے لیکن امت شاہ سے ملاقات کے بعد مہاشئے نے مزید 5 سے 10 کلو وزن بڑھا لیا ۔۔۔۔۔۔
خیر اس سے پہلے (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی بارہا ملک کو ہندو راشٹر قرار دیئے جانے کی وکالت کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کوئی مانے نہ مانے ملک کے موجودہ حالات اُسی اعلان سے پہلے کی تیاریاں ہیں ۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.