بہار پنچایت انتخابات کے تعلق سے کچھ کام کی باتیں

از: معراج خالد ارریاوی
دو سو، پانچ سو روپے دے کر ووٹ خریدنے والے پندرہ بیس ہزار روپے اندرا آواس میں لوٹ کرلے گیے جبکہ ممبر مکھیا کا اس میں کوئی بھی رول نہیں ہوتا حتی کہ ایک دستخط بھی نہیں، جو کچھ کرنا ہوتاہے وہ سرکار کی طرف سے متعین اندرا آواس سہایک (معاون) کو کرنا ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ یہ پانچ سوروپے میں بیوقوف بنانے والے پانچ سال تک سرکاری غلہ، منریگا، شوچالے وغیرہ کے فنڈ سے ایک ایک آدمی کے حق کا لاکھوں روپے نگل جاتے ہیں۔
کبھی اس پر سوچئے کہ آپ علماء پر مدارس اور مسجد کے چندہ وصولی کی وجہ سے تنقید اور برائی کرتے ہیں جبکہ وہ اشاعت دین کیلئے فنڈ جمع کر تے ہیں اور اگرکچھ لوگ غلط بھی کرتے ہوں تب بھی آپ کو آخرت کا اجر اپنی نیک نیت کی وجہ سے ضرور ملے گا، پھر وہ بے چارے عاجزی کے ساتھ مانگ کر دس بیس یا سو پچاس روپے یا پھر کچھ دھان گیہوں ہی لے جاتے ہیں جبکہ یہاں یہ نیتا لوگ سیدھے ہزاروں لاکھوں روپے آپ کے حق اور حصے کا دھاندلی سے ڈکار جاتے ہیں آخر ان مگر مچھوں کا گریبان کب پکڑیں گے آپ؟ کب غفلت وبزدلی سے باہر آئیں گے؟
پنچایتی انتخاب کا دور چل رہا ہے آپ ابھی سے طے کرلیں کہ جب کوئی نیا یا پرانا امیدوار آپ کے ووٹ کا خریدار بن کر آئے تو کم از کم اتنی رقم اس سے ضرور وصول کریں جتنا آپ سے اندرا آواس میں چھین لیا گیا تھا، پرانے سے کہیں کہ آپ کم از کم ہمارا وہ روپیہ لوٹادیں جو آپ نے بغیرکسی حق کے ہمارے اندرا آواس کی رقم سے لے لیا تھا۔۔۔نئے سے کہیں کہ ہمیں پرانے نیتا سے ہمارا وہ پندرہ ہزار واپس دلوا دو جو اس نے ہم سے اگلی قسطیں رکوانے کا ڈر دکھا کر چھین لیا تھا، اور تم پانچ سال چپ رہے،اگر تم ہمارا جائز حق نہیں دلوا سکتے تو تم کیسے ہمارے ووٹ کے امیدوار ہو۔۔
یہ باتیں تو وہ لوگ کہیں جن کا اندرا آواس کا پیسہ کھایا گیا، لیکن جن کا ابھی تک اندرا آواس آیا ہی نہیں وہ ہر ایک امیدوار سے کہے کہ بھائی اگلے پانچ سال کے بیچ میرا اندرا آواس آنے والا ہے تم اس وقت پندرہ بیس ہزار ڈرا دھمکا کر لوگے تو ہم تمہیں صرف پانچ سو میں بیس ہزار لینے کا حق کیوں دیں ایسا کرو وہ بیس ہزار ہم کو ابھی ایڈوانس دے دو تاکہ اس وقت جب تم مانگو تو ہم تمہیں تمہاری ہی رقم لوٹادیں ہمارا نقصان نہ ہو۔آپ دیکھیں گے خریدوفروخت کرنے والے کھسیا جائیں گے ، پھر ہوسکے تو پورے وارڈ بستی یا پنچایت کے لوگ متحد ہوکرسبھی امیدواروں کو دعوت دیں اور کھلا پلا کر بیٹھائیں اور ان کے سامنے تحریری صورت میں اپنی مانگیں رکھیں کہ:
(1) جو امیدوار اندرا آواس کی کمیشن خوری ایک روپیہ بھی نہیں کرے گا۔
(2) کوٹے کاسرکاری غلہ حقداروں کو صحیح طریقے سے تقسیم کروائےگا۔
(3) سڑک، شوچالے ،نالی ،مٹی بھرائی، آنگن باڑی، وردھا پنشن یوجنا، سیلاب راحت فنڈ وغیرہ سبھی کام مثالی ایمان داری سے انجام دلوائے گا، غرض یہ کہ عوامی خدمت کی نیت سے کام کرے گا ۔
(4) اور اگر کوئی ذاتی نقصان اس کو ہو تو جامع مساجد میں حاضر ہوکر صحیح صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کرے گا اور لوگوں سے مشورے کے ساتھ آگے کام جاری رکھے گا۔وہی امیدوار آگے آئیں اور قسم کھاکر حلف اٹھائیں اور اس کاغذ پر دستخط کریں جس کی فوٹوکاپی تمام لوگوں میں تقسیم ہوگی چناوی اشتہار کی جگہ اور اس کے علاوہ کسی اشتہار میں رقم برباد کرنے اور لاؤڈ اسپیکر میں گانے بجانے سے اعلان کی ضرورت نہیں بلکہ ہر آدمی بغیر ایک پیسہ لئے اور بغیر ایک کپ چائے پئے اپنا ووٹ ایک متفقہ امیدوار کوہی دے گا بلکہ ہر آدمی اپنی طرف سے سو روپے فی گھر کے اعتبار اپنی طرف سے الیکشن کا چندہ امیدوار کو دے گا۔
اگر ایسی سیاسی بیداری پیدا ہوجائے تو کوئ وجہ نہیں کہ سیاست کی گندی نالی صاف نہ ہو۔اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو سب گورکھ دھندہ اور ظلم وحق تلفی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔
اللھم احفظنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الآخرہ

Comments are closed.