عدم برداشت کی وجوہات اور اثرات

آصف اقبال
اسلام نے روز اول ہی سے اپنے ماننے، سمجھنے اور تابع داری کرنے والوں کو "راہ اعتدال” کی ترغیب دی ہے۔ یہی دین اسلام کا طرہ امتیاز اور مذاہب عالم میں اس کے فوقیت اور برتری کی وجہ ہے۔ اسلام نے جہاں دیگر امور اور معاملات میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ راہ نمائی کی ہے، وہیں ایک کامیاب اور پر امن سوسائٹی کے قیام کے لیے بھی کچھ ہدایات اور حکمت عملی طے کیے ہیں۔
اگر کسی سوسائٹی میں اخلاقی اور امنی پسماندگی اور نقاحت محسوس ہو تو تلاش بسیار کے بعد جس بنیادی وجہ پر نظر اپنا ٹھکانہ کرے گی وہ "عدم برداشت” (Intolerant) ہے۔ یہ ایک ایسی دینی، دنیاوی، اخلاقی، معاشی، سماجی اور معاشرتی کمزوری ہے جو سوسائٹی میں پیدا ہونے والی تمام برائیوں کی اصل الاصول ہے۔
بر موقع سوال یہ ہے کہ دیمک کی طرح معاشرے کی ساخت کو کمزور بنانے والا یہ مرض، آخر اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور اس کے کون کون سے اور کن کن شکلوں میں اثراتِ بد معاشرے کو بری طرح متاثر کررہے ہیں۔
کارل پوپر کی تحقیق کے مطابق کسی بھی معاشرے کو اپنی رواداری برقرار رکھنے کے لیے عدم برداشت کے رویے کی طرف اپنی قبولیت کو ختم کرنا ہوگا۔ ماہرین نفسیات و عمرانیات کا کہنا ہے کہ "عدم برداشت” ایک ایسا زہر ہے جس سے صرف فرد واحد ہی نہیں بلکہ فرد واحد کے واسطے سے دو، تین، چار، سو، ہزار حتی کہ پوری سوسائٹی اس زہر کا اثر محسوس کرتی ہے۔ جہاں تک اس کے اثرات کا تعلق ہے معاشرے میں بے شمار خرابیاں اور بے سکونی محض اس "عدم برداشت” کے سبب ہی جنم لیتی ہیں۔
اس وقت طلاق کا تناسب بڑھنے کی بنیادی وجہ یہی "عدم برداشت” ہے۔ زوجین کے درمیان معمولی سی باتوں پر جانبین سے اپنی انا اور خود غرضی کو سر پر اٹھا کر جس قدر عدم تحمل کا مظاہرہ کیا جارہاہے، نتیجہ گھریلو ناچاقیوں کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے۔
اسی طرح سڑکوں پر ٹریفک کے ازدحام کے وقت ہر کس و ناکس کا بڑی بے صبری سے آگے بڑھنے کا جو دھن سوار ہوتا ہے اور نتیجے میں کسی سے ٹکراؤ ہوجائے تو فورا ہی عدم برداشت کی قوت سر چڑھ کر بولتی نظر آتی ہے اور معاملہ مزاحمت اور سنگین نوعیت کے جھگڑوں کی صورت میں دِکھنا معمول بنتا جارہا ہے۔
گیس، بجلی کے بل، مختلف اشیاءِ خوردونوش کی خریداری اور دیگر وہ تمام مقامات جہاں عوام الناس قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اسی عدم برداشت کی صفت کا ہی خاصہ ہوتا ہے کہ معمولی خلاف ورزی کی صورت میں ایک بدنظمی سی پیدا ہوجاتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کے گریبانوں تک رسائی میں ذرا بھی توقف نہیں کرتے۔
اسی "عدم برداشت” کی ہی نحوست کی وجہ سے آج تعلیمی اداروں میں بھی استاد اور شاگرد کے مابین ایک نوک جھوک کی کیفیت نظر آتی ہے۔ جو رشتہ اتنا پاکیزہ اور قابل احترام ہو اس بیماری نے اس مبارک رشتے میں بھی کئی سوالات کھڑے کر رکھے ہیں!! کسی زمانے میں شاگرد کبھی استاد کے سامنے نظریں اٹھانا اپنی موت تصور کرتا تھا آج اس عدم تحمل کا زہر اس طرح رگوں میں سرایت کر چکا ہے کہ وہی شاگرد آج استاد پر دست درازی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اسی طرح کسی وقت استاد اپنے شاگردوں کو اپنے نسبی اولاد سے زیادہ عزیز رکھتا تھا آج اس مرض نے استاد کو ایک جلاد اور ظالم کا روپ دے دیا ہے.
سیاسی اور مذہبی منافرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بالخصوص پاکستانی سیاست اور مذہبی حلقوں میں یہ کرشمہ تو روز بروز دیکھنے کو ملتا ہے۔ ذاتیات پر حملے تو مٹھائی پر مکھی کے حملوں کی طرح کیے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعت ہو یا مذہبی جماعت ان کے پیروکاروں میں ذاتیات پر نقب زنی ایک عام سے بات ہوچکی ہے۔ انہیں یہ احساس تک نہیں ہوپاتا کہ "عدم برداشت” کا زہر کس طرح ان کے وجود میں سرایت کررہا ہے۔
ان تمام تر اثرات کے مشاہدے کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اب اس منافرت کی وجوہات کو تلاش کیا جائے۔ آخر وہ کون سا بنیادی اور مرکزی نقطہ ہے جہاں کی کمزوری پورے معاشرے کو گھائل کررہی ہے۔ تلاش و جستجو کے بعد چند بنیادی وجوہات پیش نظر آئے ہیں:
سب سے پہلی وجہ "گھریلو تربیت” ہے۔ بچے کی تعلیمی ضرورت، بعد کے مراحل میں سے ہے۔ جب کہ تربیت کی حاجت گھٹی کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کے ساتھ رہن سہن کے طور طریقے کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے اور گھر کے افراد خصوصاً والدین مکالمے اور ڈیلنگ میں نوعمری سے ہی جارحانہ انداز کریں تو یہی بچہ اپنے بچپن سے ہی "عدم برداشت” کے رجحان کو پروان لیے پچپن تک کا سفر طے کرتا چلا جاتا ہے۔
تربیت کے ساتھ معاشرے میں”عدم برداشت” جیسے رجحانات کے پنپنے کی ایک وجہ ” دینی تعلیم کی کمی یا تعلیمی مواد میں اخلاقیات کی کمی” بھی معلوم ہوتی ہے۔ مشاہدے کی بات ہے کہ انسان جیسے جیسے علم سے سنورتا چلاجاتا ہے طبعیت میں سنجیدگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ ذرا اسلام کے احکامات کی طرف غور کریں تو اچھی طرح جان پائیں گے کہ اسلام نے کس طرح اظہار برہمی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے قوت برداشت، رواداری اور صبر و تحمل کی ترغیب دی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں:
اور اگر تم لوگ (کسی کے ظلم کا) بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی تھی۔ اور اگر صبر ہی کرلو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔” آگے مزید رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور ( اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ان (کافروں) پر صدمہ نہ کرو، اور جو مکاریاں یہ لوگ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے تنگ دل نہ ہو۔”(سورہ نحل، آیت 126اور 127)
فرامین نبویہ میں بھی بے شمار احادیث کے ذریعے مومنین کی کچھ یوں تربیت کی گئی ہے” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح اور صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا: "غصہ مت کیا کرو”
حضرت عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضبناک ہو تو وہ وضو کرے۔
(سنن ابو دائود ج 2 ص 304)
امام جریر طبری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اسکے اظہار پر قادر تھا اللہ تعالی اس کو امن اور ایمان سے بھر دےگا۔(جامع البیان ج 4 ص 61)
ان احادیث میں غور و خوض سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عدم برداشت کی سب سے بنیادی وجہ اور جڑ جو کہ "غصہ” ہے اس سے نہ صرف بچایا بلکہ بچنے کے طریقے بھی بتائے اور پھر عمل کرنے والوں کو بشارتیں بھی سنادی۔ لہذا اگر دین اسلام کے مزاج کو اس کے حقوق سمیت اپنایا جائے تو معاشرے سے "عدم برداشت” کا یہ سرطان ختم ہوسکتا ہے۔
ایک تیسری اور اہم وجہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں "میڈیا کا منفی کردار” بھی ہے۔ اس وقت ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھائے جانے والے وہ غیر اخلاقی ڈرامے، فلمیں، ٹاک شوز، پروگرامات، اور معاشرے کے منفی پہلو پر بنائی جانے والی ڈاکومنٹریز جس میں جارحیت اور بربریت کے نت نئے طور طریقے دکھا کر معاشرے میں پہلے سے موجود ایسے مریضوں کے مرض کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں اور ایسے مذموم مقاصد سے بہرور افراد کو ہر دن ایک نیا حوصلہ ملتا ہے کہ اچھا یوں بھی کیا جاسکتا ہے!!
یقینا وجوہات اور بھی ہوں گی مگر اختصار کی غرض سے انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے اور بالیقین غیر مذکورہ وجوہات بھی کسی نہ کسی درجے میں ان میں ہی شامل ہوں گی۔
لہذا ضروت اس بات کی ہے کہ معاشرے کو اس عدم برداشت نامی گندگی سے پاک کیا جائے اور حتی الامکان کوشش کی جائے کہ خود کو اس مذموم صفت کے ساتھ متصف ہونے سے بچایا جائے۔۔

Comments are closed.