آنکھیں نہیں پورابدن روتاہے

سمیع اللہ ملک
لڑائی کی وجہ بہت دلچسپ تھی۔ایک صاحب ریڑھی پرکھڑے پکوڑے کھارہے تھے۔انہوں نے اچانک لفافہ نیچے رکھااور بھاگ کرپان فروش لڑکے کوگریبان سے پکڑلیا،لڑکا کمزور تھااوروہ صاحب خاصے مضبوط اورلحیم وشحیم،لہنداانہوں نے لڑکے کوزمین پرگراکرمارناشروع کردیا۔لوگوں نے بمشکل چھڑایا،تحقیق کی توپتہ چلا،لڑکا انہیں پکوڑے کھاتادیکھ کرہنس رہاتھا،لڑکے سے پوچھاگیاتواس نے بتایاوہ توان کے پیچھے کھڑی بلی پرہنس رہاتھا،بلی ریڑھی کے پہیوں میں چھپی چڑیاکو پکڑنے کی کوشش میں بارباراس پرجھپٹتی تھی لیکن وہ اس کے قابومیں نہیں آرہی تھی،یہ چھوٹی سی غلط فہمی ایک لمبے چوڑے فسادکاباعث بن گئی۔پکوڑے کھانے والے صاحب تھانے چلے گئے اورلڑکاہسپتال۔بظاہریہ ایک معمولی واقعہ ہے لیکن اگرہم اس کانفسیاتی تجزیہ کریں تومعلوم ہوگاپکوڑے کھانے والے صاحب میں قوتِ برداشت کم تھی۔وہ ایک بچے کامذاق تک برداشت نہیں کرسکا،اگروہ لڑکاواقعتاان پر ہنس رہاتھاتوبھی انہیں ناراض ہونے یالڑنے کی کیاضرورت تھی۔وہ خودبھی ہنس کرلڑکے کی حرکت سے لطف اندوزہوتے لیکن ایسانہ ہوا،انہوں نے چھوٹی سی غلط فہمی کو’’جنگ‘‘کی شکل دے دی۔
اعدادوشمارکاجائزہ لیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ سابقہ دس برسوں میں قتل کے جرائم میں آٹھ سوپچاس فیصد اضافہ ہواہے۔اس وقت پاکستانی جیلوں میں سزائے موت کے9410 مرد ، 200عورتیں اور1226نوعمرقیدی ہیں۔یہ تعداددنیامیں سب سے زیادہ ہے ۔اگرآپ ان10836مجرموں کی کیس ہسٹری کامطالعہ کریں توآپ یہ جان کرحیران ہو جائیں گے کہ 95کیسوں کی وجوہات’’تم مجھے دیکھ کرہنس رہے تھے‘‘سے ملتی جلتی ہیں۔پنجاب میں توگزشتہ برس دونوعمرلڑکے مرغی کاانڈہ چوری کرنے پر قتل ہوگئے اورچارمعصوم بچے آٹاچوری کرنے کے مقدمے میں دھرلئے گئے۔یہ کیاچیزہے،یہ کس بگاڑ،کس تبدیلی کی علامتیں ہیں۔یہ علامتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہم اعصابی طورپرایک کمزورمعاشرے میں زندگی گزاررہے ہیں۔ہم ایک ایسے ملک میں زندہ ہیں جس کے شہریوں کی قوتِ برداشت جواب دے چکی ہے۔آپ قتلوں کے اعدادوشمارایک طرف رکھ دیں،آپ ویسے غور کریں،آپ کے اردگردآج جن اختلافات پربڑے فسادات ہورہے ہیں،جن پردرجنوں لوگوں کے سرپھٹ جاتے ہیں، ٹانگیں ٹوٹ جاتی ہیں،کیاچندبرس قبل اختلافات پریہی
ردِعمل ہوتاتھا؟آپ کاجواب یقینانفی میں ہوگا،پھرسول پیداہوتاہے اتنی بڑی”ڈی جنریشن”اتنی بڑی مہلک تبدیلی کیسے آگئی۔
وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث پورے ملک کی سائیکی تبدیل ہوگئی،لوگ کیوں صرف دیکھنے’’کھنگورہ‘‘مارنے اور ہنسنے ہرایک دوسرے سے دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔ ملک میں بے قابومہنگائی نے بھی غریب وپسے ہوئے نوجوانوں کو جرائم کی طرف راغب کردیاہے۔نچلے اورمتوسط طبقے کے پاس اب گزربسرکاسامان نہیں رہاہے،یہ سب مہنگائی میں روزانہ کی بنیادپرہونے والے اضافے کے باعث مشکلات کاشکارہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف کی شرائط کوپوراکرنے کیلئے140/ ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی منظوری دیدی ہے جواس سال جولائی سے نافذالعمل ہوں گے۔سوچنے کی بات ہے کہ جن اداروں پرٹیکس لاگوکیاجائے گا،وہ عوام ہی کی جیبوں سے وصول کرکے حکومت کوادا کریں گے۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 2کروڑ6لاکھ افراد بیروزگارہوئے،66لاکھ افرادکی آمدن میں کمی ہوئی،اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ، زراعت ،ہول سیل، ٹرانسپورٹ ،تعمیرات ودیگرشعبوں سے منسلک 80 فیصد افراد متاثرہوئے جبکہ دیہی علاقوں کی49فیصدآبادی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے،اس کے علاوہ ملک بھرسے57فیصدشہری آبادی کی آمدنی میں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔سارے عوامل کے یکجاہونے اور آئے روزعوام کوریلیف دینے کی بجائے عوام پرمزیدبوجھ ڈالنے سے عوام کا جینا دوبھرہوگیاہے۔
ہوسکتاہے ہمارے ملک کے اعلی دماغ معاشی بدحالی اورکم علمی ہی کواس کی وجہ قراردیں لیکن یہاں ایک سوال اورپیدا ہوتاہے امریکامیں توکسی قسم کامعاشی مسئلہ نہیں،دنیامیں سب سے زیادہ فی کس آمدنی امریکاکی ہے،تعلیم بھی عام ہے، 99فیصدامریکی تعلیم یافتہ ہیں لہنداوہاں تواس قسم کے مسائل پیدانہیں ہونے چاہئیںلیکن حقائق یہ ثابت کرتے ہیں دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ جرائم امریکامیں ہوتے ہیں۔امریکامیں ہونے والے جرائم کا88فیصدتشددپرمبنی ہوتاہے۔سینٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی کے مطابق دوسال میں 13 لاکھ امریکی خواتین کی آبروریزی ہوئی،کمیٹی کے چیئرمین کاکہناہے کہ امریکا میں ہرہفتے3ہزارخواتین سے جنسی زیادتی ہوتی ہے جس میں93فیصدعورتیں قتل ہوجاتیں ہیں، ابھی چندروزپہلے امریکی ادارے نے انکشاف کیاہے کہ امریکاکے35لاکھ نوجوان خودکشی کرناچاہتے ہیں۔
امریکاکادفاعی بجٹ778بلین ڈالرہے،یہ دنیاکے168ممالک کے مجموعی بجٹ کے برابرہے لیکن اتنے بھاری بجٹ اور بھاری مراعات کے باوجودامریکی فوجیوں میں خودکشی کاخوفناک رحجان پایاجاتاہے،جبکہ بلندآوازمیں بولنے اوربرتن توڑنے میں توامریکیوں کی نظیرنہیں ملتی۔امریکاکے برعکس اسکینڈے نیوین ممالک میں قابلِ تعریف برداشت پائی جاتی ہے۔
ناروے،سویڈن اورڈنمارک میں توقتل توبہت دورکی بات ہے،عام لڑائی جھگڑوں کے واقعات بھی خال خال ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ان ممالک میں جرائم کی یہ صورتحال ہے کہ وہاں کے اخبارات میں کرائم رپورٹرکی آسامی ہی نہیں ہوتی۔چین اور جاپان میں جرائم نہ ہونے کے برابرہیں۔جاپان میں لوگوں کی قوتِ برداشت کایہ عالم ہے کہ ایک شاہراہ پربرفباری میں تین گھنٹے ٹریفک بلاک رہی اورمصروف ترین ملک کے مصروف ترین شہری بڑے صبرسیگاڑیوں میں بیٹھے رہے۔وجہ معلوم کی گئی توپتہ چلاسڑک پرکسی جانورکی لاش پڑی تھی۔ایک کاراس کے قریب رکی تواس کے پیچھے گاڑیاں کھڑی ہو گئیں۔کسی نے ہارن تک نہیں بجایا،اپنے سے اگلے کارڈرائیورکوبرابھلاتک نہیں کہا۔
چین میں پچھلے12برسوں میں قتل کے صرف2واقعات رپورٹ ہوئے۔یہ فرق کیوں ہے؟یہ فرق صرف سوشل جسٹس،صرف سماجی انصاف کی وجہ سے ہے۔جن معاشروں میں لوگوں کے حقوق،لوگوں کی عزتِ نفس محفوظ ہو،ان کے شہریوں کی قوتِ برداشت بھی قائم ہوتی ہے۔ان معاشروں،ان ملکوں میں لوگ ہنسنے کے جرم میں دوسروں کوگریبان سے نہیں پکڑتے، معمولی معمولی باتوں پرپستول نہیں نکالتے،لیکن جن ملکوں میں،جن معاشروں میں انصاف نہ ہو،حکومتیں کروڑوں لوگوں کے حقوق روند ڈالتی ہوں،لوگوں کا حکومتوں ، عدالتوں اورسیاستدانوں سے اعتماداٹھ گیاہو،ان ملکوں میں،ان معاشروں کے شہریوں کی قوتِ برداشت جواب دے جاتی ہے۔وہ نفسیاتی کینسرکاشکارہوجاتے ہیں۔کہاجاتاہے جب آنکھیں نہیں روتیں توپھر پورابدن روتاہے۔جب لوگ حکومتوں سے نہیں لڑسکتے،زیادتی پرچیخ نہیں سکتے تووہ پھرہردوسرے شخص سے لڑتے ہیں ،اپنے سے کمزورہرشخص پر چیختے ہیں۔
رہے نام میرے رب کاجوصبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔

Comments are closed.