سرسید نئی صدی میں نسل نو کے معمار

قاسم کوثر رحمانی
ملت اسلامیہ جس پر فتن حالات سے دوچار ہے، ہر سمت انتشار پیدا کرنے کی سعی کی جارہی ہے ، ذرا سی بات کو لے کر دشنام طرازی کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے ان تمام مسائل کا علاج سرسید کے پیغام میں مضمر ہے ۔
یوم سرسید کے موقع پر ہم ان کی کوششوں اور خدمات کے ذیل کے تحت نئی صدی کے تغیر پذیر دور میں ان کی اہمیت اور اہلیت کو دکھانا مقصود ہے جو خصوصا دیں اسلام کی حمایت میں زمانۂ حال کی ضرورتوں کے موافق وہ اخیر دم تک انجام دیتے رہے ۔
یوں تو عالم رنگ و بو میں بے شمار شخصیات وجود میں آئیں، بہت سے فنکاروں نے اس کے سینہ کو کشادگی بخشی ،مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھنے والوں نے اس چمنستان کائنات کے حسن میں اضافہ کیا ؛لیکن یہاں ہماری گفتگو کا مرکز سر سید احمد خان کی ذات گرامی ہے ۔ بہرحال! جس واقعہ نے ہندوستان کی تاریخ میں ۱۸۵۷ء کے نام پر سیاہ دھبہ چھوڑا اور جو سرسید کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کرنے والا تھا وہ ۵۷ ء کے غدر کا واقعہ تھا ، دراصل انگریزوں کی نظر میں مسلمان زیادہ متشدد تھے کیونکہ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں دیگر ہندوستانیوں کی کم اور مسلمانوں نے کثیر تعداد میں حصہ لیا تھا ، اس وجہ سے انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ایسے پرآشوب دور میں سرسید مسلمانوں کی ترجمانی کرنے اور اسے جدید تعلیم سے آراستہ کرکے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک مسیحا کی شکل میں ابھرے ۔
سر سید نے جو خدمات غدر میں کیں وہ صلہ کی غرض سے نہ تھی مگر گورنمنٹ نے ان کی قدر کی ، اسی زمانے میں انہوں نے اردو اور انگریزی میں تعلیم کے متعلق اپنی رائے چھاپ کر شائع کی جس میں گورنمنٹ کے ورنا کیولر اسکولوں پر سخت اعتراض تھا اور انگریزی میں تعلیم دینے کا سرکار کو مشورہ تھا ، پوری رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ گورنمنٹ کا یہ خیال کہ کسی قوم کی تربیت اس کی زبان میں زیادہ موزوں ہے درست نہیں ؛کیونکہ بسا اوقات جو زبان ذریعۂ تعلیم قرار سی جاتی ہے اس میں یہ اہلیت نہیں پائی جاتی ، دوسرا اعتراض یہ تھا کہ مقصد تعلیم صرف اکتساب معاش کی سہولت ہو قطعا غلط ہے ۔
تعلیم ایسی ہونا چاہیے جو ہر قسم کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا دے اور اخلاقی حالت کو بھی درست کرے ۔ سرسید رح کا یہ بھی خیال تھا کہ رعایا کو جو شبہ دیسی زبان میں تعلیم رائج کرنے سے حکومت کی طرف سے پیدا ہوگیا تھا وہ انگریزی زبان میں تعلیم دینے سے زائل ہوجائے گا ۔
سرسید نے تمام واقعات غدر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے ۔ انہیں معلوم تھا کہ حکمران گورنمنٹ مسلمانوں کے کس قدر خلاف ہے ۔ اور اسے مسلمانوں کی طرف سے کتنی غلط فہمی ہے ۔ اور اس سے جو نقصانات مسلمانوں نے اٹھائے اور آئندہ جو خطرات ان کے لیے موجود تھے وہ ان کے پیش نظر تھے ۔ انہوں نے ایسے نازک وقت میں ملک و قوم اور خاص کر اپنی قوم کی وہ جلیل القدر خدمت کی جو ہمیشہ یاد رہے گی ۔
سرسید کو یقین تھا کہ انگریزوں نے بغاوت کو سمجھنے میں غلطی کی ہے ، انگریزوں نے غدر کو ملکی بغاوت سمجھا حالانکہ وہ صرف سپاہیوں کا غدر تھا وہ بھی ان کی جہالت کی وجہ سے ہو ا لہذا ایسی صورت میں انگریزوں کا ملک کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا جو صرف باغی ملک کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے سراسر غلط تھا ۔ اس بناء پر سرسید نے رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھا جس میں نہایت دلیری کے ساتھ مسلمانوں کے سروں سے تمام الزامات ہٹائے اور انگریزوں کی غلط فہمی کی تردید کی ۔ اور سب سے اہم خدمات جو انہوں نے کی ہے وہ تعلیم کا میدان ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقدیر تعلیمی سطح پر جن لوگوں نے بدلنے کا کام کیا ہے ان میں سب سے اہم نام سرسید احمد خان ہی کا ہے ، انہوں نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیا ہے اسے رہتی دنیا تک امت مسلمہ فراموش نہیں کرسکتی ؛ کیونکہ سرسید علیہ الرحمہ نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی قسمت کو سنوارا بلکہ پورے ملک کو علم کی شمع سے روشن کرنے کا کام کیا ہے ۔ سرسید سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ وہ مسلمانوں کے لیے نشاۃ ثانیہ کی علامت ہیں ۔جدید ہندوستان کے معمار ، عظیم مصلح قوم، ادیب ، دانشور،صحافی اور نہ جانے کن کن خوبیوں کے مالک تھے محض قومی خدمت اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے دنیا میں آئے تھے تو غلط نہ ہوگا ۔
ہر لمحہ ان کو ایک ہی فکر تھی کہ کس طرح ملت اسلامیہ کی تعلیمی بدحالی کو دور کیاجائے تاکہ وہ جدید تعلیم یافتہ کی روشنی میں اپنے مسائل کا تدارک کرسکے ؛ کیونکہ سرسید نے اپنی آنکھوں سے جہالت کی زنجیروں میں قید مسلمانوں کو ظلم و زیادتی کرتے بے بسی کی حالت میں دیکھا تھا اور بعد میں یہی تاریخ خون سے رقم کی گئی ۔ سرسید ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اپنی قوم کی حالت پر محض آنسو بہا کر رہ جاتے ۔ انہیں قوم کی بدحالی سے نکالنے اور موجودہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف تعلیم ہی واحد ہتھیار نظر آیا ۔ سرسید کا یہ فلسفہ حیات کس قدر مضبوط تھا کہ وہ اپنی قوم کے ہر نوجوان کے ایک ہاتھ میں سائنس اور فلسفہ تو دوسرے ہاتھ قرآن پاک اور ماتھے پر لا الہ الا اللہ کا تاج جگمگاتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے ۔
اس تحریک کے لیے درجنوں تنظیم سے منسلک ہوئے ، غرض کہ سرسید اپنی اہمیت اور اہلیت کو سامنے رکھ کر قوم کے تئیں ہمیشہ نہایت متفکر رہتے تھے، ہر لمحہ انہیں ملت اسلامیہ کے فرزندوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ترقی کی راہ پر لے جانے کی فکر لاحق رہتی تھی تاکہ دوسری اقوام کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں قدم سے قدم ملاکر شان کے ساتھ چل سکیں ۔ سرسید نے نے مسلمانوں کو جدید و اعلی تعلیم سے روشناس کرانے و ملت اس کو فروغ کے لیے ملک کی متعدد علاقوں میں اسکول کھولنے و سوسائٹیاں بنانے کا کام کیا وہ جہاں بھی رہے مسلمانوں میں جدید تعلیم کو فروغ دیا ؛کیونکہ سرسید چاہتے تھے کہ ہر مسلم نوجوان اعلی تعلیم حاصل کرے تاکہ ترقی کا جو راستہ سائنس و ٹیکنالوجی سے ہوکر گزرتا ہے اس کو مسلمانوں میں عام کیا جائے ۔ تو معلوم ہوا کہ سرسید جب ملک ہر فرد کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتے تھے تو اس لیے ان کا اس وقت قطعی پورا ہوگا جب تک ملک کا ہر مسلم نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہوکر ترقی کے منازل نہیں کرلیتا ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ناخواندگی کی زندگی بسر کرنے والے مسلم افراد کو تعلیم دے کر سرسید کے تعلیمی مشن کو فروغ دے کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے ۔

Comments are closed.