زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

 

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں سی ووٹر ٹریکر  واحد تحقیقی ادارہ ہے جو سال بھر ایک   لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان  کے رحجانات کی مدد سے سائینٹفک انداز میں سیاسی درجۂ حرارت ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔   ملک کی گیارہ زبانوں میں یہ کام گزشتہ دس سالوں سے جاری ہے۔  سی ووٹر ہر تین ماہ میں ملک کے 543 حلقہ ٔ پارلیمان پر محیط  ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔ اس اعدادی  جائزے میں بھول چوک کا اوسط امکان  قومی سطح پر 3فیصد اور صوبائی سطح پر 5 فیصد مانا جاتا ہے۔   ابھی حال میں اس نے آئی اے این ایس کے تعاون سے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی کا جائزہ شائع کیا اور اس کے مطابق چھتیس گڑھ کے بھوپیش بگھیل کو پہلے نمبر پر رکھا کیونکہ ان سے صرف 6 فیصد رائے دہندگان ناراض ہیں۔  اس سروے کے مطابق چھتیس گڑھ کے 44.7% لوگ مرکزی حکومت سے ناراض ہیں جبکہ ریاستی حکومت سے  ان کی ناراضی  36.6% ہے ۔  چھتیس گڑھ کی عوام نے کورونا سے یتیم ہونے والے بچوں کی کفالت  کے فیصلے کو ستائش کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ جنسی مساوات کی  معاملےمیں سرکاری جائزے کے مطابق  چھتیس گڑھ پچھلے سال ساتویں مقام پر تھا مگر اب پہلے نمبر آگیا ہے۔

اس سروے میں عوام کا جھکاو  جذباتی نعرے باز رہنماوں کے مقابلے قوت فیصلہ کے حامل کام کرنے والےرہنماوں کی جانب دکھائی دیا جوسیاست میں تواچھا شگون ہے مگر بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔اس جائزے میں  دوسرا نمبر اتراکھنڈ کے پشکر سنگھ دھامی  کا آیا کیونکہ وہ نئے ہیں۔  اس طرح بی جے پی  کی وزیر اعلیٰ کو بدل کر گنگا اشنان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ دھامی  سے بہت قریب اڑیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک ہیں۔  اس فہرست میں اگر نیچے سے جائزہ لیں تو سب سے زیادہ 30.30 %  لوگوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راو کے خلاف اپنی ناراضی جتائی ۔ اس سیاسی صورتحال کا فائدہ اٹھانےکے لیے بی جے پی زور لگائے گی ۔ چندر شیکھر راو نے  ابھی تک تو مرکزی حکومت سے خوشگوار  رشتے استوارکر رکھے ہیں لیکن اب انہیں ممتا  بنرجی کی مانند تال ٹھونک کر میدان میں آنا پڑے گا ورنہ ان کی لٹیا ڈوب جائے گی ۔ مرکز سے مزاحمت علاقائی رہنماوں کی بنیادی ضرورت ہے جو لوگ اس سے صرف نظر کرتے ہیں ان کے لیے تمل ناڈو کی  مثال موجود ہے جہاں اے آئی ڈی ایم کے کو بی جے پی کا سہارا کام نہیں آیا۔

اس جائزے میں نیچے سے دوسرے اور تیسرے مقام پر اتر پردیش اور گوا کےبی جے پی  وزرائے اعلیٰ ہیں۔  ان دونوں ریاستوں میں  انتخاب سر پر ہے اس لیے یہ بی جے پی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ جن کو بی جے پی اپنا اسٹار پرچارک مانتی  مقبولیت کی دوڑ میں بہت پیچھے ہوگئے ہیں ۔   28.10 %  فیصد رائے دہندگان ان سے ناراض ہیں جبکہ گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کے تئیں 27.70 %  لوگوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ کروڑہا کروڈ روپئے اپنی تشہیر پر خرچ کرنے کے باوجود یوگی ادیتیہ ناتھ کا پچھڑ جانا اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی ہوا سے یہ غبارہ اب مزید پھلایا نہیں جاسکتا ۔ ایسے میں قوی امکان ہے کہ مایوسی کا شکار یوگی ادیتیہ ناتھ کی  مسلم دشمنی میں مزید اضافہ ہو کیونکہ’ مرتا کیا نہ کرتا‘  کی مصیبت میں مبتلا یوگی کے سیاسی وجود پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ گوا میں انتخابی مہم کی کمان امیت شاہ نے سنبھال لی ہے کیونکہ اترپردیش میں ان کا داخلہ تقریباً ممنوع ہے۔ یہ قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ امیت شاہ  کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ان کے چہیتے یوگی بن گئے ہیں۔

 وزرائے اعلیٰ کے علاوہ ارکان پارلیمان کے تئیں پائی جانے والی بے چینی کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ   یہ راجستھان میں سب سے کم ہے۔ اس کے بعد آندھرا پردیش اور بہار کا نمبر آتا ہے۔  اس کے برعکس جھارکھنڈ اور آسام اور ہماچل پر دیش کے لوگ  ایوان پارلیمان میں اپنے نمائندوں سے سب سے زیادہ ناراض ہیں ۔  آسام کے اندر ہیمنتا بسوا سرما کی مسلم دشمنی میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے تاکہ ہندو ووٹرس کی منہ بھرائی کی جاسکے۔ ارکان  اسمبلی کی جانب چلیں تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے کم غم و غصہ کیرالہ ، گجرات اور مہاراشٹر کے اندر ہے۔  بی جے پی کے لیے اس میں ایک خوشخبری ہے کیونکہ گجرات کے انتخاب آئندہ سال کے اواخر میں ہونے ہیں۔  یہاں بھی آندھرا پردیش اور تلنگانہ سب سے نچلی پائیدان پر ہیں اس لیے جگن موہن ریڈی کو بھی چندر شیکھر کی مانند ہوشیار ہوجانا چاہیے۔ اس موقع پر کے سی آر کو اپنے بیٹے کے ٹی رام راو کو گدی ّ سونپنے کا خیال آسکتا ہے اس لیے کہ  نیا چہرہ پرانی   ناراضی کی جگہ نئی امید پیدا کرتا ہے۔پانچ سال قبل  جگن موہن ریڈی اس کی جیتی جاگتی مثال تھے مگر بہت جلد پرانے ہوگئے ۔

دبستان دہلی میں جہاں میر اور غالب کا چرچا ہے وہیں  شیخ محمد ابراہیم  ذوق  بھی بڑی اہمیت حامل ہیں ۔ ذوق نے اپنے مکتب کے استاد حافظ غلام رسول سے ترغیب لے کر شاعری شروع کی اور پھر اس  دورکے مشہور شاعر  شاہ نصیر دہلوی کےشاگرد ہو گئے۔ آگے چل کر ان کی شاعرانہ مقبولیت انہیں  علمی و ادبی حلقوں سے  قلعہ معلیٰ تک لے گئی اور بہادر شاہ ظفر کے استاد کہلائے ۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے عوض  انہیں  ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب دیا اور  ظفر کے استاد  کی حیثیت سے چار روپے ماہانہ ملنے والی  تنخواہ وقت کے ساتھ  سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے پیر پسا رہی تھی اور مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہورہا تھا ۔ اس وقت جمہوریت کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھی ،  اس کے باوجود ذوق نے ایک ایسا شعر کہہ دیا کہ جو موجودہ نظام سیاست پر پوری طرح صادق آتا ہے اور سیاسی جائزوں کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے کیونکہ ؎

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو                                       زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو ​

انیسویں صدی میں جو بات ذوق ؔ کی سمجھ میں آگئی اس کو  اکیسویں صدی میں بھی بی جے پی کے رہنما  کیو ں سمجھ نہیں پارہے ہیں؟   اس کی وجہ خود بی جے پی کے مقرر کردہ گورنر ستیہ پال ملک نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ  کسانوں کی ناراضی کے سبب میرٹھ، مظفر نگر اور باغپت یعنی مغربی اترپردیش میں بی جے پی رہنماوں کی مجال نہیں کہ وہ گاوں میں قدم رکھیں  ۔ بقول ستیہ پال  ملک  ان کے  اس سے عبرت  نہ پکڑنے کی  وجہ سرکارکا  گھمنڈ ہے۔ان کے خیال میں  جب تک پورا ستیہ ناش(مکمل تباہی) نہ ہوجائے وہ نہیں سمجھیں گےکیونکہ  سرکاروں کا دماغ آسمان میں ہوتا ہے لیکن وقت آنے پر انہیں دیکھنا اور سننا بھی پر پڑتا ہے ۔ انہوں نے کسانوں کی حمایت میں کہا کہ اگر دہقانوں کی نہیں سنی گئی تو یہ مرکزی حکومت دوبارہ (اقتدار میں)  نہیں آئے گی ۔  ستیہ مالک نے ببانگ ِ دہل کہا کہ لکھیم پور کھیری معاملے میں  مرکزی وزیر اجئے مشرا کا اسی دن استعفیٰ ہونا چاہیے تھا ۔ وہ وزیر بننے کے لائق نہیں ہیں۔

ستیہ پال ملک وقفہ وقفہ سے حکومت ہند کو کسانوں کی بابت خبردار کرتے رہے ہیں۔  وہ اب کہتے ہیں کہ کسانوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جو دس مہینے سے پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے گھربار چھوڑ رکھا ہے۔ فصل بونے کے وقت بھی وہ دہلی میں احتجاج کررہےہیں اس لیے کہ    سرکار ان کو نظر انداز کرتی ہے ۔ انہوں نے بتایا  کہ وہ کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے وزیر اعظم و وزیر داخلہ سے لڑ چکے ہیں۔  وہ سب کو بتا چکے ہیں کہ یہ  غلط ہورہا ہے۔     یہی بات بی جے پی کے مرکزی وزیر وریندر سنگھ نے حال میں دوہرائی ہے۔ وہ بھی کسانوں کے ساتھ  اپنی حکومت کے خلاف بھوک ہڑتا ل کرچکے ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ صرف مودی کے نام پر آئندہ انتخاب نہیں جیتا جاسکتا۔   بی جے پی کے سینئر لیڈر چودھری وریندر سنگھ کے علاوہ  ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج  اور ہریانہ بی جے پی حکومت کے اتحادی ‘جے جے پی’ کے رہنما و ڈپٹی وزیر اعلیٰ  دشینت چوٹالہ  بھی فکر مند ہیں ۔ 

کسانوں کے  مسئلہ پر پہلے شرومنی اکالی دل نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑا لیکن بعد میں  بی جے پی کے سابق چیف پارلیمانی سکریٹری اور فیروز پور سے دو بار ایم ایل اے سکھ پال سنگھ ننو نے الوداع کہہ کر 41 سالوں سے اپنے مکان  پر لہرانے والا پارٹی  کا پرچم  اتار دیا ۔اس موقع پر انہوں نے اشکبار ہوکر کہا تھا یہ تکلیف دہ فیصلہ انہوں نے کسانوں کی تحریک اور اس  کےدوران ہونے والی اموات کے پیش نظر کیا ہے ۔ بی جے پی کسان سیل کے ریاستی صدر ہونے کی وجہ سے کسانوں سے ان کا لگاؤ زیادہ رہا ہے ۔  اسی لیے  وہ ان کے دکھوں کو اپنا دکھ  سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس کے بعد بی جے پی کے  سابق وزیر انل جوشی  اپنے حامیوں سمیت  شرومنی اکالی دل میں  شامل ہوگئے مگر ہائی کمان کے کان پر جوں نہیں رینگی  ۔ ان جھٹکوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اب بی جے پی سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ ارمیندر سنگھ کے سہارے اپنی ڈوبتی کشی کو کنارے لگانے  پر مجبور ہوگئی ہے  ۔ پنجاب میں  بی جے پی کی حالت زار پر معین الحسن جذبی کا یہ مشہور شعر صادق آتا ہے؎

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی                                         اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

Comments are closed.