لکھنا کیسے آتا ہے !
محمد عمر فاروق الحنفی بن محمد سلیم الدین
آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب کوئی انسان کسی چیز کا عاشق اور اسکا دلدادہ ہو جائے تو دنیا کی تمام صعوبتیں برداشت کرنا اور اسکا جھیلنا اسکے لئے آسان ہو جاتا ہے،اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس نے دم عیسیٰ اور یدبیضا اظہار کرنے کی ٹھان لی ہو۔
ٹھیک کچھ اسی طرح میرا بھی حال رہا کہ مختلف لوگوں کی مضمون و کتب بینی کے سلسلے میں ان کی زکاوت اور فہم و فراست کو دیکھ کر میرے اندر بھی مضمون نگاری اور کتب بینی کا کچھ شوق پیدا ہوا ۔
اولا میں نے ان کتب خانوں اور لایئبریریوں کا رخ کیا جہاں ادبی و۔ ثقافتی تہذیبی اور تاریخی کتابوں کا اکثر و بیشتر حصہ قابل تقلید اور لائق ترجیح ہوا کرتی تھی۔
بس میں نے جذبات میں آکر مذکورہ کتابوں کو اس مقصد سے خریدنا اور جمع کرنا شروع کیا کہ اس میں لگ کر بیش بہا عمدہ فوائد اور اسکے مفید باتوں پر دسترس حاصل کروں گا ۔
بہر حال کتابیں خریدتو لی کچھ دنوں تک مطالعہ بھی کیا مگر افسوس کہ دل اس پر جم نا سکا۔
جب بھی کتابوں کی ورق گردانی کا ارادہ کرتا تو دل ایسا بوجھ محسوس کرتا جیسے صحراؤں کے اندر ریشم کے کیڑے گھٹ گھٹ کر جیتی ہے……
وہ کہتے ہیں نا کہ چاردن کی چاندنی پھر وہی اندھیری رات ایسا ہی کچھ حادثہ مفاجاتیہ میرے ساتھ بھی ہوتا رہا ،مضمون نگاری سے متعلق سوچتا تو بالکل اجنبیت اور بیگانہ پن سا محسوس ہوتا گویا کہ یہ کوئی فن ہی نہیں۔
اس راستے کے الفاظ بے معنیٰ اور لغو معلوم ہوتے تھے،ایسا لگتا کہ میں نے مایوسی کی تاریک آندھیوں میں چراغ جلایا تھا اور وہ بجھ چکا ہے۔
لیکن مرتا کیا نہ کرتاپہلی بار میرے دل نے ساتھ دیا تو میں نے موقع غنیمت سمجھ کر اپنے دل کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر آج تم نے کتب بینی اور مطالعاتی نظام کو ترک کر دیا تو وہ شوق و جذبات کل بہت جلد چلا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کل کی انتظار میں کئی برس گذر جائے:
لہذا تمام تر غیر ضروری مشاغل سے اپنے پہلو کو مروڑ کر ازسرنو مطالعہ کے لئے اپنے اندر کے احساس وجذبات کو آمادہ کیا کہ کتب بینی سے ہی مضمون نگاری میں مدد مل سکتی ہے۔
بعدازاں مضمون و مقالہ سیکھنے اور اس پر پوری طرح دسترس حاصل کرنے کے لئے اپنے ان ساتھیوں کی راہ گیری اور رہبری و رہنمائی کے امید میں رہنے لگا،جو قابل تعریف اور باعثِ فخر وسعادت ہیں ۔جنکی کتابت قابل تقلید اور جنکے مضمون میں گراں قدر و بیش بہا عمدہ فوائد ہوا کرتی تھی،خیر بات دراصل یہ ہے کہ ان کی وسعت و بلندی کا تصور میرے فہم سے بالا تر ہے۔
ارض و سماوات کے مالک کی نعمتیں اور باری تعالیٰ کی ساری رحمتیں مذکورہ موصوفوں کے ہم رکاب رہی۔
انہیں میں سے ایک محسن محمد انس بجنوری مد ظلہ العالی بھی رہے
جنکے مضمون کو پڑھ کر ہمارے اندر کتب بینی اور مضمون نگاری کا شوق پیدا ہوا۔
یوں ہی سلسلہ دراز ہوتا رہااور؛من جد وجد؛ والی مشہور و معروف تعبیر کو اپنے گوشۂ دماغ کے گردونواح میں رکھتے ہوئے کچھ لکھنا شروع کیا..
اسی طریق کی وہ تعبیر
مالا یدرک کلہ ویترک بعضہ
کو ہمیشہ کے اپنا ہدف بنا کر مضمون لکھنے کا آغاز کیا۔
ابتداء مضمون کو منقح اور بے انتہا کانٹ چھانٹ اور بے انتہا نظم و ترتیب کی عمدگی اور اسکے مغلق و پیچیدہ باتوں کی تفصیل مشکل الفاظ کو انتہائی خوبصورت اور آسان لفظوں میں منتقل کر نے اور اسکی درستگی کیلئے اپنے سنیر اور ذی استعداد ساتھیوں کے پاس رات کے اس پہر میں آتا جب چاندنی اپنی پورے آب و تاب کے ساتھ عالم سماوات میں چمکتا ہوا ایسا ہی دلکش اور حسین لگا کرتا تھا جیسے دختر حوا اپنی رنگین پنڈلیاں برہنہ کرکے کسی شفاف پانی کی ندی میں اتری ہو ۔
اور کبھی اس وقت آتا جبکہ برف کے پگھلنے سے درختوں کی ٹہنیاں آہستہ آہستہ ننگی ہو جایا کرتی تھی..
بادلوں اور ہواؤں کی رقابت کے اندھیرے میں جہاں چاندنی راکھ اور ستارے زخم زخم رہتی
ایسے تاریک اور ظلمات کے گہما گہمی رات کے اندر
اپنی کدو کاوش کا ثمرہ لیکر اپنے مصلح کے پاس آتا
خوف و ہراس کے ساتھ دستک دیکر دروازے کے کسی کنارے پر کھڑا ہوکر ان کے اجازت کا منتظر رہتا۔
انکے اجازت کے بعد لب و لہجہ سے کہیں زیادہ انکی تیز نگاہیں ہمیں مرعوب کردیا کرتی ۔۔۔
ایک عرصہ دراز تک میں نے ان لوگوں کے راہ میں چکر لگاتا رہا کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مضمون کی تصحیح کے خاطر دو دو تین تین دفعہ جانا پڑتا ۔
لیکن مرتا کیا نہ کرتا میں نے اپنی محنت اسی طرح سے جاری رکھا بعدازاں اس سلسلے میں بفضل للہ تعالیٰ کچھ شناسائی ہوئی اور پھر مضمون لکھنے سے متعلق کچھ آشنائی ہوئی۔
Comments are closed.