صرف متحد ہونے کی نہیں منظم ہونے کی بھی ضرورت ہے

تنظیم کے انتخاب کا اختیار آپ کو ہے ،آپ اپنے مزاج اور ذوق کے مطابق موجودہ تنظیموں میں سے کسی سے وابستہ ہوسکتے ہیں
کلیم الحفیظ۔نئی دہلی
8287421080
مسلم مسائل کا جب اور جہاں تذکرہ آتا ہے،ان کے حل کے طور پر سب سے پہلا حل یہی پیش کیاجاتا ہے کہ مسلمان متحد ہوجائیں تو سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔مجھے بھی اس سے اتفاق ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیے۔لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ صرف اتحاد سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔اتحاد کا مظاہرہ تو ہم ہر ہفتہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے موقع پرکرتے ہیں اور صدیوں سے کرتے آرہے ہیں ،اس کے علاوہ عیدین میں یہ اتحاد بڑے پیمانے پر ہوتا ہے اور حج کے موقع پر عالمی اتحاد کا نظارہ پیش کیاجاتاہے ۔میدان عرفات سے بڑا اجتماع دنیامیںکہیں نہیں ہوتا ۔اس کے باوجود حج سے واپس ہونے والوں کے مسائل بھی جوں کے توں ہی رہتے ہیں۔کیوں کہ اتحاد کے یہ مظاہرے کسی نصب العین کے تحت نہیں ہوتے ،ان مواقع پر ملت کے مسائل بھی زیر بحث نہیں لائے جاتے ،اگر لائے بھی جاتے ہیں تو ان کا انداز ناصحانہ اور واعظانہ ہوتا ہے۔یہ اتحاد اگر تنظیم کی شکل اختیار کرلے جائے تو انشاء اللہ بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے اور مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں ۔
منظم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود کو کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ کرلیں۔عام طور پر شمالی ہندوستان میں کسی تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کو قابل فخر سمجھاجاتا ہے،اورسینہ تان کر کہا جاتا ہے کہ الحمد للہ میرا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے ۔حالانکہ احادیث میں تنظیم سے ایک بالشت بھر دور رہنے کو بھی جاہلیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔جنوبی ہندوستان میں ایسا نہیں ہے ۔میں ایک بار کیرالہ گیا ،وہاں چند دن قیام کیا،میں نے جتنے لوگوں سے بھی ملاقات کی وہ سب کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ تھے۔ان کی تنظیمیں الگ الگ تھیں،لیکن وہ سب کسی نہ کسی کے ساتھ منظم تھے۔مجھے ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو کسی تنظیم سے وابستہ نہ ہو۔
تنظیم کے انتخاب کا اختیار آپ کو ہے ۔آپ اپنے مزاج اور ذوق کے مطابق ،اپنے علم اور صلاحیت کے مطابق اپنی تنظیم بنا سکتے ہیں یاموجودہ تنظیموں میں سے کسی سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔تنظیم کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے ،خواہ چند افراد ہی سہی آپ کے ساتھ ہوتے ہیں ،آپ کی تنظیم کے افراد و ممبران کی سوچ،ان کی فکر اور ان کی منزل ایک ہی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اس منزل کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی یکساں ہوتا ہے ۔اسی لیے ایک تنظیم کے ممبران کے درمیان مضبوط تعلق ہوتا ہے ۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں بھائیوں کی طرح شریک ہوتے ہیں ۔دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی صلاحیتیں نکھر جاتی ہیں ،تنظیم سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے کے علم ،تجربہ حتیٰ کے پیسوں سے فائدہ پہنچتا ہے ،اور ایک دائرے ہی میں ہی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ملک و قوم کے لیے کچھ اچھے کام کرنے کا اسٹیج فراہم ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر آپ ٹیچر ہیں تو ٹیچرس کی کسی تنظیم سے وابستہ ہوجائیے،آپ کی خود کی علمی صلاحیتوں میں اضافہ تو ہوگا ہی اسی کے ساتھ ساتھ آپ اپنے ارد گرد کی جہالت کو دور کرنے میں بڑا رول ادا کرسکتے ہیں۔آپ ایڈوکیٹ ہیں تو اپنے پیشے میں تجربات کے ساتھ ساتھ آپ کو کمزوروں اور مظلوموں کی قانونی مدد کے مواقع حاصل ہوجاتے ہیں ۔آپ سوال کریں گے کہ کرنے والا یہ کام انفرادی طور پر بھی کرسکتا ہے ۔بے شک کرسکتا ہے ،مگر جب اس فرد واحد کو کوئی تکلیف پہنچے گی یا اس کی مخالفت کی جائے گی تو اس کی ڈھارس بڑھانے ،اس کی حمایت کرنے کو کوئی نہیں آئے گا اور وہ شخص گھبرا کر اپنی خدمات سے رک کر گھربیٹھ جائے گا۔تنظیم میں شامل ہوکر فائدے بھی دوچند ہوجاتے ہیں،ایک اور ایک مل کر دو نہیں گیارہ ہوجاتے ہیںاور ان کے کاموں کے نتائج بھی گیارہ گنا بڑھ جاتے ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کے باصلاحیت افراد کا استعمال قوم و ملت کی فلاح کے لیے نہیں ہورہا ہے۔ہمارے درمیان اساتذہ کی بڑی تعداد ہے،وکیلوں کی ہے،ڈاکٹرس کی ہے اور بھی دیگر باصلاحیت لوگ ہیں لیکن وہ غیر منظم ہیں ،اپنے دفتروں اور گھر میں آرام سے ہیں ،نہ وہ خود آگے بڑھ کر منظم ہوتے ہیں اور نہ کوئی تنظیم ان کو جوڑنے کا کام کرتی ہے ۔اس لیے ان کی صلاحیتیں قومی مفاد میں کا م نہیں آتیں۔جہاں جہاں یہ کام ہورہا ہے وہاں کے حالات بدل رہے ہیں۔
شمالی ہندوستان میں اس ضمن میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ یہاں مسلک واد عروج پر ہے ،اساتذہ و داکٹرس اور وکلاء کی کوئی تنظیم ہے بھی تو اس پر کسی مسلک کا ٹھپہ لگا ہوا ہے لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہر مسلک کے لوگ اپنے درمیان موجود با صلاحیت افراد کی ہی تنظیم سازی کرلیں اور صرف اپنے ہی مسلک کے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں،تب بھی ملک اور قوم کا کچھ بھلا ہوسکتا ہے۔
منظم ہونے میں ایک بڑی رکاوٹ تنظیم کے تقاضوں سے نا واقف ہونابھی ہے ۔تنظیم کوئی بھی ہوگی اس کا ایک مقصد ہوگا۔کئی مقاصد بھی اس کے پیش نظر ہوسکتے ہیں ۔مقصد تک پہنچنے کا لائحۂ عمل ہوگا،اس کو چلانے کے کچھ قاعدے قانون ہوں گے ۔جن کی پاسداری کرنی ہوگی ۔کچھ عہدے داران ہوں گے ،لیکن شمالی بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ منظم ہونے اور کسی تنظیم میں شامل ہونے سے پہلے اس کا صدر بننے کی خواہش رکھتے ہیں،اس کے عہدے اور مناصب پر قبضہ چاہتے ہیں،ہر شخص امیر بننا چاہتا ہے مامور کوئی نہیں رہنا چاہتا ،اپنے ساتھی کو اپنا امیر ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔یہ مزاج تنظیم کو اپنے مقاصد سے دور کردیتا ہے اور مزید نقصان کا باعث ہوتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم تنظیم اور اجتماعیت کے تقاضوں سے واقف ہوں،ان کی پابندی کریں۔جہاں ایک طرف ہمیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو وہیں دوسری طرف اپنے بھائیوں کی صلاحیتوں کا اعتراف بھی ہو۔جہاں ہم خود کو تنظیم کے لیے مخلص سمجھتے ہوں وہیں دوسری طرف اپنی تنظیم کے ممبران کی وفاداری پر بھی شک نہ کریں۔تنظیم سے وابستگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم تنظیم کو صرف ذاتی مفاد کی خاطر استعمال نہ کریں اور اس کے فیصلوں کو ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔جب ہم تنظیم کو ذاتی جائداد سمجھنے لگتے ہیں تو اس میں کسی کے مشورے کو دخل در معقولات سمجھنے لگتے ہیں ۔اس طرح تنظیم اپنا راستا بھٹک جاتی ہے۔
بھارتی مسلمانوں کے موجودہ حالات کا تقاضاہے کہ ملت کا ہر فرد منظم ہو،اپنی صلاحیتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے،اس چراغ کا کیا فائدہ جو اپنے آس پاس کی تاریکی بھی دور نہ کرسکے۔اس عارضی دنیا کے عارضی مناصب کے پیچھے نہ بھاگے ،ذاتی انا کی خاطر قومی مفاد کو قربان نہ کرے،نہ کروں نہ کرنے دوں کے بجائے ،خود بھی کرے اور دوسروں کو بھی کرنے دے،اگر حوصلہ افزائی کرنے والا دل نہیں ہے تو ٹانگ کھینچنے والے ہاتھ بھی نہ رکھے،باہمی تعاون کی فضا بنائے،ذمہ داران کی اطاعت کرکے ان کے ہاتھوں کو مضبوط کرے۔یہ دنیا چند روزہ ہے ،یہاں کی آسائشیں فانی ہیں ،ان کی خاطر اپنی قبر تنگ کرنا اور ابدی زندگی کی آسائشوں سے ہاتھ دھونا کہاں کی عقل مندی ہے۔میری خواہش تو ہے کہ سارے مسلمان کسی ایک تنظیم سے وابستہ ہوجائیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ میری یہ خواہش ناممکنات کی فہرست میں شمار ہوگی لیکن یہ تو ممکن ہے کہ ہر شخص اپنی پسند کی تنظیم سے یا تو وابستہ ہوجائے یا خود اپنی تنظیم کھڑی کرے۔
مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ!

Comments are closed.