پولس حراست میں الطاف کا قتل !
احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن
یوگی کے اترپردیش میں پولس کی حراست میں ایک اور مسلم نوجوان کی موت ہوچکی ہے ۔
اترپردیش کے کاس گنج ضلع کے ایک پولیس اسٹیشن میں الطاف نامی 22 سالہ مسلم نوجوان کی لاش مشکوک حالت میں ملی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نابالغ لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملہ میں پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے نوجوان الطاف نے تھانہ میں بنے بیت الخلاء میں خود کشی کرلی ہے ۔
پولیس نے ایک لڑکی کو اغوا کرنے کے الزام میں الطاف کو حراست میں لیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ الطاف ٹائلس کا کام کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگل کے روز حوالات میں الطاف کی موت ہو گئی، جس پر پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان نے حوالات کے بیت الخلا میں پھانسی لگا کر جان دے دی۔۔۔۔۔
رپورٹ کے مطابق پھانسی لگا لینے کے بعد الطاف کو آناً فاناً میں پولیس اہلکار اشوک نگر واقع کمیونٹی ہیلتھ مرکز لے آئے۔ جہاں ڈاکٹروں نے نوجوان الطاف کو مردہ قرار دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔
ممکن ہے سوشیل میڈیا پر آپ سبھوں نے اُس بیت الخلاء کی وائرل ویڈیو دیکھی ہو، جس کے بارے میں پولس کا دعوی ہے کہ 22 سالہ الطاف نے لاک کی باتھ روم میں لگے اس کمزور سے نل سے لٹک کر خودکشی کرلی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس قدر بھدا مذاق ہے یہ
جس نل کی اونچائی مشکل سے دو سے دھائی فٹ کی ہے اس سے ایک ساڑھے پانچ فٹ کا نوجوان لٹک کر سوسائد کرلیتا ہے ،،،،،
اتنا ہی نہیں پولس کا دعوی یہ بھی ہے کہ نوجوان الطاف نے خودکشی کے لئے اپنی جیکٹ کے ناڑے کا استعمال کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جھوٹ کی بھی حد ہے ایک باریک سا ناڑہ جسے ایک نچہ بھی اگر زور سے کھینچے تو ٹوٹ جائے ایسے ناڑے سے کوئی کیسے سوسائڈ کرسکتا ہے ؟؟؟
جیسے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا خیالی ہے ویسے ہی اس ناڑے سے لٹک کر مرنے کا دعوی بھی بےتکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اترپردیش پولس ہے تو سب ممکن ہے ناڑے سے کیا چنے کے پیڑ سے بھی چھلانگ مار کر وہ کسی سے سوسائڈ کرواسکتی ہے ۔۔۔۔۔
خیر یوگی راج میں ہندوتوا کا اثر اس قدر سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ فی الحال یوگی پولس ذہنی توازن کھوچکی ہے اور اسے چوہے اور ہاتھی میں بھی فرق نظر نہیں آرہا ……
یہاں پر ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ سپریم کورٹ نے باقاعدہ گائڈ لائنس جاری کئے ہیں کہ ہر پولس تھانہ میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں تاکہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
لیکن کہاں ہے سی سی ٹی وی فوٹیج ۔۔۔۔۔ ؟؟
کیا یوگی پولس سپریم کورٹ کے گائد لائنس کی بھی فالو نہیں کرتی ؟؟؟
یا اسے تھانہ لاک اپ کے ظالمانہ راز فاش ہونے کا خطرہ ہے ؟؟؟
بہرحال حقیقت جو بھی ہو سوال بہت ہیں لیکن یوپی پولس نے جس طرح کی بھدی اسکریپٹ تیار کی ہے یہ ایک دم بیکار سڑک چھاپ ہے اور اس سے ہولس سوالوں کے گھیرے سے بچ نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ
نوجوان کے اہل خانہ نے پولس پر نوجوان کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ الطاف کے والد کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے بیٹے کو خود پولس والوں کو سونپا تھا لیکن ہولس نے مجھے اپنے بیٹے الطاف سے ملنے نہیں دیا ، مجھے وہاں سے دھتکار کر بھگادیا گیا اور کچھ ہی گھنٹوں بعد مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے نے خودکشی کرلی ۔۔۔۔۔۔
وہیں اس پورے معاملے پر
کاس گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پرمود بوترے پگلا چکے ہیں اور یہ آن کیمرہ بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں
انہونے نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف نے اپنی جیکٹ کی ڈوری سے اپنے گلے کو کسا اور باتھ روم کی ٹونٹی سے ڈوری باندھ کر زور لگایا جس سے اس کا گلا دب گیااور وہ باتھ روم میں ہی گر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر الطاف کی موت پہ ہنگامہ مچ گیا ، ایک بڑی تعداد اس موت کو قتل کہنے لگی اور الطاف کی موت پہ سی بی آئی جانچ کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اتنے میں اس پورے معاملے میں ایک ٹیوئسٹ پیش آیا جب سوشل میڈیا پر الطاف کے والد کی ایک ویڈیو بڑی ہی تیزی سے وائرل ہونے لگی جس مین الطاف کے والد یہ کہتے نظر آئے کہ وہ پولس کی کاروائی سے مطمئن ہیں اور اُن کے بیٹے نے خودکشی کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف کے والد کے اس ویڈیو بیان کے بعد پولس کی جان میں ابھی جان آئی ہی تھی اور ہولس اس پورے معاملے سے خود کو کلین چٹ دینے ہی والی تھی کہ الطاف کے والد اور اُن کے اہل خانہ کی جانب سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک اور دوسری ویڈیو منظرعام پر آچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس میں ہولس کا مجرمانہ کردار کھُل کر عوام کے سامنے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔
ویڈیو میں مقتول کے والد صاف طور پہ پولس کو الطاف کی موت کا ذمہ دار بتارہے ہیں ، ساتھ ہی انہونے پولس کے کالے کرتوتوں کو واضح کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے مطابق الطاف کو بےدردی سے پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا یے،
پھر الطاف کی موت کے بعد یوپی پولس نے انسانیت کی تمام حدیں پار کردیں اور الطاف کے والد چاند میان سے ایک کاغذ پر دھوکے سے انگوٹھا لگوالیا جس میں لکھا ہے کہ میرا بیٹا ڈپریشن میں تھا جس کی وجہ سے اُس نے خودکشی کرلی ، علاج کے لئے پولس اسے اسپتال لے کر گئی اور علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی ہے ، مجھے پولس سے کوئی شکایت نہیں ہے میں اور میرا پریوار کوئی کاروائ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی مستقبل میں کرے گا ۔۔۔۔۔۔الطاف کے والد کے مطابق پولس نے یہ سب کچھ اُن سے زبردستی اور دھوکے سے کہلوایا ہے ۔۔۔۔۔
الطاف کی پھوپی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی ان پڑھ ہیں وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے وہ کیسے خط لکھ سکتے ہیں ،،،،، پھوپی نے مزید کہا ہے کہ پولس نے اُن کے بھائی کے انگوٹھے کا نشان دھوکے سے لیا تھا اور ” سی ای او ” نے زبردستی اُن سے ویڈیو بیان دلوایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر پچھلے چند سالوں کے واقعات پہ نظر دوڑائین بالخصوص بی جے ہی اقتدار کے دوران تو ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن میں کئی بےقصور نوجوان ہولس حراست میں مارے جاچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
جیسے حال ہی میں اسی یو پی پولس نے سبزی فروش مسلم نوجوانوں کو بغیر کسی وجہ کے سبزی بازار میں بےرحمی سے مار پیٹ کر کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئی اور لاک اپ میں اُس نوجوان کی بھی موت ہوگئی ، اس کے علاوہ بھی ہولس کے جھوٹے اینکاؤنٹرس اور پولس کسٹڈی میں ہونے والی اموات کی ایک لمبی چوڑی فہرست ہی موجود ہے لیکن وقت کی کمی اور ویڈیو طویل ہوجانے کی وجہ سے ہم صرف ایک دو کا ہی ذکر کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس طرح ایک اور تازہ معاملہ اترپردیش کے بریلی ضلع سے سامنے آیا ہے ۔۔۔۔
جہاں ایک معذور لڑکے کو دو گشتی پولس اہلکاروں نے بےرحمی سے مارا ہے اور سارا واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
صحافی پئوش کی رپورٹ کے مطابق مچھلی بیج رہے اس معذور لڑکے سے دو پولس اہلکاروں نے لڑکے پر غیرقانونی کام کرنے کا الزام لگاکر ، کمائی کا آدھا حصہ مانگا ، جب لڑکے نے دینے سے منع کیا تو اُس کو جانوروں کی طرح مارنے لگے لڑکے کے مطابق پولس والے لڑکے کے جسم کے ہر حصہ پر ہاتھوں اور ٹانگوں سے مارتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دراصل آج پولس اور پیشہ ور مجرموں میں زیادہ فرق نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ آج مجرموں کے سامنے پولس کی دال نہیں گلتی تو وہ اپنی وردی کی دھاک جمانے کے لئے اکثر بےقصور نوجوانون کو نشانہ بنارہے ہیں بالخصوص مسلم نوجوانوں کو ویسے بھی بی جے پی اقتدار میں انہیں اس کے لئے کھلی پرمٹ بھی مل چکا ہے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت آج ہر مسلمان معصوم، بےگناہ ہونے کے باوجود گنہگار بنادیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں بالی ووڈ کی وہ تمام فلمیں یاد آرہی ہیں جن مین پولس نوجوانوں پہ جھوٹے الزامات لگاکر پہلے تو انہیں گرفتار کرتی یے پھر لاک اپ میں تھرڈ ڈگری ٹارچر دے کر اُن کا قتل کردیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ایسی ہی ایک فلم کا نام "برداشت” ہے
بوبی دیول اور ریتک دیشمکھ کی یہ فلم پولس کے کردار پر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی یے ، اور آج کے دور میں جو سچائی ایک صحافی یا اعلی عہدیدار بھی بتانے سے گھبراتا ہے وہ اس طرح کی فلموں میں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے لئے اگر حقیقت دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہے تو اس طرح کی فلمیں ہی دیکھ لیا کریں ممکن ہے دماغ کے سارے ڈھکن کھُل جائیں گے اور پولس کا مجرمانہ چہرہ آپ کے سامنے آجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.