آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت تاجر
پیام حق :انصر خان کھچی
کسب معاش کے بیسیوں ذرائع میں سے ایک تجارت بھی ہے۔تجارت کسب معاش کا وہ ذریعہ ہے۔جس کو سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اختیار فرمایا تھا۔تجارت کی اہمیت وفضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے دنیا میں برکت کے دس حصوں میں سے نو حصے تجارت میں رکھے ہیں، باقی ایک حصہ زراعت، جارہ اور مویشی وغیرہ میں رکھا ہے، انسانی زندگی کے آغاز سے ہی انسانی کاوشوں کا محور خوراک کی طرف رہا ہے۔انسان کی اس فطرت ضروری کے تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی زندگی میں ”معاش” ایک اہم پہلو ہے، جس کا تذکرہ سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن سے ہی محنت و مشقت کرکے اپنی مدد آپ کے تحت ضروریات زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی حیات طیبہ کی ابتداء سے ہ اپنے معاش کے بارے فکر کی۔ابتداء میں اہل مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوان تو آپ نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔
اس انتخاب کی ایک وجہ یہ تھی کہ خاندان بنوہاشم اور قریش مکہ کا پیشہ تجارت تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤاجداد تجارت کی وجہ سے مشہور و معروف تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد بھی ایک تجارتی سفر کی واپسی میں ہی انتقال فرما گئے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تجارت انسان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتی ہے۔بات چیت کا ڈھنگ معاملہ فہمی، اپنی بات دلائل سے منوانے کا سلیقہ اور مختلف ممالک کے اسفار اس تجارت سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کا پیشہ اپنایا اور رزق حلال سے اپنی زندگی کا رشتہ استوار رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانی میں مکہ کے تاجروں کے ہاں مزدوری کی اور کبھی کبھی نفع پر کام شروع کردیا۔ مکہ میں رواج تھا کہ تاجر موسم حج میں مال خرید لیتے تھے اور کسی دیانتدار آدمی کے ساتھ نجد، یمن، اور شام کی منڈیوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ممالک کے تجارتی اسفار کیے، ان میں پہلا سفر 12 سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام کی طرف کیا، لیکن یہ سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور تاجر نہیں تھا، بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کیلئے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لے لیا۔لیکن کسی خطرہ کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی خاطر راستہ سے ہی مکہ واپس بھیج دیا۔
دوسرا سفر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ملک شام کی طرف ہی تھا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے کہنے پر بطور تاجر حضرت خدیجہ رض ک سامان تجارت لے کر ملک شام کی مشہور منڈی بصرہ کی طرف کیا۔اس سفر کیلئے خود حضرت خدیجہ نے بھی پیغام بھیج کر آپ کو بلوایا تھا اور کہا کہ جتنا معاضہ میں اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس سے دوگنا دونگی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت خدیجہ کا غلام میسرہ بھی تھا۔
اسی سفر کے دوران مختلف واقعات بھی پیش آئے اس تجارتی سفر میں بہت زیادہ تقریباً دوگنا یا اس کے قریب منافع ہوا۔ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشہ ورانہ مہارت اور صدق و امانت کی دلیل تھی۔ اس تجارتی سفر کی اجرت میں حضرت خدیجہ نے ایک یا دو اونٹ دیے۔
اس سفر سے واپسی پر حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمانداری اور اخلاق کی کچھ باتیں بتائیں تو حضرت خدیجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور ایمانداری سے بہت متاثر ہوئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوشادی کا پیغام بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کے مشورے سے قبول کرلیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 سال کی عمر تک اجرت پر کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی سامان میں خوشبوئیں، جواہرات، چمڑے اور ایک روایت میں اونٹوں وغیرہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کے علاوہ جو تجارتی اسفار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی وجہ سے کیے، ان میں دو سفر یمن کی پرف بھی تھے۔قبل النبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بحرین کی طرف سفر کرنے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر مبارک کے پچیسویں سال تک تجارتی اسفار میں اپنے اخلاق کریمانہ، حسن معاملہ، راست بازی اور صدق و دیانت کی وجہ سے اتنے مشہور ہوچکے تھے کہ خلق خدا میں آپ صادق و امین کے لقب سے مشہور ہوگئے تھے۔ بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا شریک تجارت بننے کی خواہش کا اظہار کرنے لگے
جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارت میں شراکت کی تھی، ان میں سے اکثریت نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ وہ ہمیشہ آپ کی حسن خلق اور دیانتداری کی تعریف کرتے تھے۔ انہی خصائص و خصائل کی بناء پر حضرت خدیجہ کی رغبت آپ علیہ السلام کی طرف ہوئی تھی اور نکاح کا پیغام بھیج دیا تھا۔ تجارتی معاملات کی کامیابی کیلئے معاملات کی صفائی اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز اہم ترین کردار ادا کرتا ہے اور یہ صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بردجہ اتم موجود تھیں۔ چنانچہ حضرت قیس رض فرماتے ہیں کہ: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں میرے بزنس پارٹنر ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرکاء میں سب سے بہترین شریک تھے” نہ لڑائی کرتے تھے اور نہ ہی جھگڑا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجارت میں بے جا بحث و تکرار سے گریز فرماتے تھے۔ آپ علیہ السلام کے اس عظیم وصف کی گواہی زمانہ نبوت سے پہلے بھی دی جاتی تھی۔ تجارتی معاملات میں معاملات کی صفائی آپ علیہ السلام کا طرہ امتیاز تھی۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ و عکاظ جیسے مشہور بازاروں میں لگنے والی تجارتی نمائش میں اپنے بیس اونٹ لائے۔
جن میں سے ایک اونٹ معمولی لنگڑا تھا، جسے ہر کوئی پہچان نہیں سکتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام کو ہدایت فرمائی کہ مجھے ضروری کام پڑگیا ہے تو اگر کوئی اس اونٹ کا خریدار آئے تو اسے اونٹ کا عیب ضرور بتانا اور قیمت بھی نصف و وصول کرنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو پتاچلا کہ غلام نے اونٹ کو فروخت کردیا ہے، لیکن خریدار کو اونٹ کا عیب بتانا بھول گیا اور قیمت بھی پوری لے بیٹھا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت رنج ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اسے ساتھ لیا اور خریدار کی تلاش میں نکلے۔ خریدار چونکہ یمن کی طرف سے آئے تھے ایک دن ایک رات کے مسلسل سفر کے بعد ان کا قافلہ ملا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” ان میں ایک اونٹ لنگڑا ہے، تم یا تو وہ اونٹ واپس کردو یا اپنی آدھی قیمت واپس لے لو۔تو ان کی خوشی سے آپ علیہ السلام نے وہ اونٹ لیکر قیمت واپس کردی۔ اس امانت و دیانت کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر فوراً اسلام لے آئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاجرانہ زندگی کا یہ وہ حسین پہلو ہے جو تاجروں کیلئے قابلِ تقلید ہونا چاہیے۔ اکثر تاجروں کیلئے انتہائی مشکل یہ ہوتی ہے کہ ہم شرعی حکم کی وجہ سے اپنی چیس میں نقص بتا کر اپنا نقصان کیسے کریں، جبکہ خریدار کو عیب کا پتہ ہی نہ ہو۔ اس کے حل کیلئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کامل اور آخرت کے محاسبہ پر زوردیا اور اپنے عمل سے مال کی اہمیت کو گھٹایا۔ آمنہ کے دریتیم اور صدق و وفا کے پیکر کا یہ باب امت کے تاجروں کیلئے زریں اصول اور تاجر پیشہ برادری کیلئے اخلاق کریمہ اور اوصاف حمیدہ کے نقوش متعین کرتا ہے۔ مگر افسوس! آج کے دور میں تاجران زریں اصولوں سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ ہمارے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم ہر شعبہ زندگی میں اسو? حسن? سے روشنی حاصل کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے ۔
Comments are closed.