شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!

 

احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن

یہ الفاط اُسی مرد مومن، شیردل مرد مجاہد کے ہیں جس کے ہوتے ہوئے انگریز بھارت پہ قبضہ جمانے میں ناکام رہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس مرد مجاہد نے کبھی حالات سے سمجھوتا نہیں کیا
بھارت کے لئے انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی ٹیپوسلطان ہیں جنہیں شہید کرنے کے بعد انگریز فوج کافی دیر تک خوف کے مارے آپ کی لاش کے قریب نہیں آئی
اور آپ کی شہادت کا یقین ہونے کے بعد انگریزوں کے جنرل نے کہا تھا کہ آج سے یہ بھارت ہمارا ہوا ۔۔۔۔۔یعنی بھارت پر قبضہ کرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔
یہ وہی ٹیپوسلطان ہیں جو بھارت اور انگریزوں کے درمیان مرتے دم تک چٹان بن کے کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

ٹیپوسلطان سلطنت میسور کے سلطان حیدرعلی کے سب سے بڑے بیٹے تھے
آپ کی والدہ کا نام فخرالنساء ہے ۔۔۔۔

جس وقت ٹیپوسلطان اپنا بچپن گزار رہے تھے یہ وہ دور تھا جب انگریز ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے تھے ۔۔۔۔
ٹیپوسلطان کے والد حیدرعلی نے ٹیپوسلطان کی پرورش کا بہت اچھا انتظام کیا تھا اُن کی تعلیم کے لیے دور دور سے قابل و ماہر اساتذہ کو مقرر کیا گیا
ٹیپوسلطان ایک باعمل عالم کے ساتھ ساتھ، عربی ، فارسی ، انگریزی ، فرانسیسی، اردو اور تمل جیسی کئی زبانوں کے ماہر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ بچپن ہی سے آپ نے گھوڑ سواری ، تیراندازی، تلوار بازی، نیزہ بازی میں مہارت حاصل کی تھی ۔۔۔۔۔۔
1779 میں انگریزوں نے ٹیپوسلطان کی سلطنت میں واقع ایک بندرگاہ پہ قبضہ کرلیا۔۔۔۔۔۔
ٹیپوسلطان اس حادثہ کی وجہ سے سکون سے نہیں بیٹھ سکے اور آپ نے اپنے والد حیدرعلی کے ساتھ مل کر بدلا لینے کی ٹھان لی تھی اور یہیں سے سکینڈ اینگلو میسور وار شروع ہوئی جس میں ٹیپوسلطان نے اپنے والد حیدرعلی کے ساتھ مل کر انگریزوں کو دھول چٹادی ۔۔۔۔۔۔۔

1780 میں انگریزوں نے ایک بار پھر جنگ چھیڑ دی لیکن اس بار بھی ٹیپوسلطان اپنے والد حیدرعلی کے ساتھ نوے ہزار کا لشکر لے کر بینگلور پہنچے، اس جنگ میں بھی ٹیپوسلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوادئے اور انگریزوں کو شکست دی.
یہ انگریزوں کی اتنی خطرناک ہار تھی کہ اس کا اثر بر طانیہ تک پہنچا اور وہان پر بھی ہار کا ماتم منایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
7 دسمبر 1782 کو والد حیدرعلی کا انتقال ہوا اُس وقت ٹیپوسلطان کی عمر 22 سال تھی
اور والد کے انتقال کے بعد ٹیپوسلطان کے اوپر میسور سلطنت کی ذمہ داری آن پڑی
اور جب ٹیپوسلطان میسور سلطنت کی تخت پہ بیٹھے تو انہیں کئی قسم کی دشواریون کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیپوسلطان کی جنگی صلاحیت، سمجھ بوجھ کے سامنے انگریزوں کی تمام تر سازشیں ناکام ہوئیں ۔۔۔۔۔۔
اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب انگریزوں کو ٹیپوسلطان کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا اور اس معاہدے مین ٹیپوسلطان نے جو بھی شرائط رکھی تھیں انگریزوں کو مجبوراً انہین ماننا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ تاریخ کا پہلا موقعہ ہے جب ایک ہندوستانی بادشاہ انگریزوں پر بھاری پڑا ۔۔۔۔۔۔۔
اُس وقت ٹیپوسلطان کی بحریہ فوج دنیا بھر میں اُس دور کی سب سے بڑی اور طاقتور فوج مانی جاتی تھی
اگر ٹیپوسلطان کے ایجادات اور کارنامون کا ذکر کیا جائے تو ٹیپوسلطان کو اُس وقت کا سائنسدان کہنا غلط نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔
ٹیپوسلطان اُس دور کے سب سے بڑے میزائل مین کہلائے جاتے ہین ،
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے مطابق ٹیپوسلطان ہی دنیا کے وہ پہلے انسان تھے جنہوں نے راکٹ ٹیکنالوجی پر کام کیا اور آپ ہی کی ٹکنالوجی کے ذریعہ دنیا نے راکیٹ کو بنانا سیکھا تھا
انگریزوں نے بعد میں جتنے بھی راکیٹس بنانئے وہ سلطان کی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہک بنائی گئی تھیں
ٹیپوسلطان کو شہید کرنے کے بعد آپ کی تمام ٹیکنالوجی انگریز ہندوستان سے لندن لے گئے تھے
ٹیپوسلطان نے انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے نہ صرف راکیٹ ٹکلنالوجی کا استعمال کیا بلکہ۔جنگ کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے تھے ٹیپوسلطان نے جنگ کرنے کے طریقوں پر ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا فتح المجاہدین
۔۔۔۔۔۔۔۔
فتح المجاہدین بھارت کی پہلی کتاب تھی جو جنگ کے طریقون کو سکھانے کے لیے لکھی گئی تھی ٹیپوسلطان نے اپنی سلطنت مین اپنے نام کے سکے بھی شروع کروائے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

جب انگریزون کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ ہم ٹیپوسلطان کا مقابلہ کھل کر نہین کرسکتے تو انہونے دوسرا طریقہ اپنایا اور انگریزون نے دولت اور تخت کا لالج دے کر ہندوستان میں رہنے والے لوگون مین ہی غداروں کو دھونڈنا شروع کردیا
ٹیپوسلطان کے محل مین ہی رہنے والا ٹیپوسلطان کا بہت ہی ْقریبی میرسادق نے لالچ میں آکر انگریزوں سے ہاتھ ملالیا
اور اس کے علاوہ حیدرآباد کے نظام اور مراٹھا بھی انگریزون کے ساتھ مل گئے اور ٹیپو سلطان کے خلاف چارون جانب سے حملے کی سازشیں کی گئی ۔۔۔۔۔
ایک طرف مراٹھا کی فوج دوسری طرف حیدرآباد نظام کی فوج اور تیسری طرف انگریزی فوج
تینوں افواج نے مل کر ٹیپوسلطان پر حملہ کردیا اور محل مین پل رہے آستین کے سانپ غدار اندرونی طور سے ان افواج کی مدد کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔

جس وقت محل پر حملہ ہوا اُس وقت ٹیپو سلطان کھانے کے لئے بیٹھے تھے اور جیسے ہی انہونے پہلا نوالا اٹھایا انہیں اطلاع دی گئی کہ محل پہ حملہ کردیا گیا ہے، وہ نوالہ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے
اُس وقت سلطان کے وفادار سپاہیوں نے انہیں محل کے پیچھے کے راستے سے نکل جانے کا مشورہ دیا یہ کہتے ہوئے کہ اس وقت ہمارے پاس مٹھی بھر فوج ہی موجود ہے بہتر ہے کہ آپ محل کے خفیہ راستون سے باہر نکل جائیں اور اپنی جان بچائین یہاں ہم سنبھآل لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس وقت
ٹیپوسلطان نے اپنے وفادار سپاہیون سے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح ہندوستان کی تاریخ مین ٹیپوسلطمطان ابگریشون کے ساتھ لڑنکر شہید ہونے والے بھارت کے پہلے بادشاہ ہیں

ٹیپوسلطان سے انگریز اس قدر خوف زرہ تھے کہ جب ٹیپوسلطان شہید ہوگئے تو بہت دیر تک انگریزون کے اندر اتنی جرات نہین تھی کہ وہ ٹیپوسلطان کی لاش کے ہاس آسکیں ۔۔۔۔۔
اس وقت انگریزوں کے جنرل نے یہ الفاظ کہے تھے کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آپ خود اندازہ لگاسکتے ہین کہ ٹیپوسلطان کے ہوتے ہوئے کسی کی اتنی جرات مجال نہ تِھی کہ وہ بھارت کی طرف نظر بھی اٹھاکر دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔
شہادت کے وقت ٹیپوسلطان کی عمر ۔۔۔۔۔۔۔ تھی جس کی وجہ سے انہئن ۔۔۔۔۔۔۔۔ توپوں کی سلامی دی گئی ۔۔۔۔۔۔۔

لیکن افسوس مسلمانون سے بفرت آج بھارت مین اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ٹیپوسلطان جیسے جانباز ، حب الوطن بادشاہ کی قربانیان اُن کی جرات اور بھارت کے لئے اُن کی خدمات کو فراموش کردیا گیا ہے
یہی وجہ ہے کہ آج کرناٹک بی جے پی گورنمنٹ اسکول کے ہسٹری کتابون سے ٹیوسلطان کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کررہی ہے ،اس کے علاوہ فی الحال کرناٹک اسکولس کو کرناٹک کے اس شیر کی یوم پیدائش منانے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سب سے بڑی افسوس کی بات تق یہ ہے کہ آج ہماری قوم نے بھی اپنے اس مرد مجاہد کو بھلادیا ہے
یاد رہے
جو قوم اپنی تاریخ بھلادیتی ہے، اپنے اسلاف کے کارناموں ان کی قربانیون کو فراموش کردیتی ہین عنقریب وہ دشمن کے ہاتھوں ذلیل و خوار کرکے مٹادی جاتی ہیں اور
جب سے یہ کائنات بنی ہے یہی نظام الہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.