تری پورہ فسادات؛ الٹا چور ۔۔۔۔۔ !

ڈاکٹر عابد الرحمن (چاندور بسوہ)
سپریم کورٹ کے وکلاء کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے تری پورہ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کر نے کے بعد دعویٰ کیا کہ وہاں اقلیتی برادری یعنی مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور مساجد پر حملے کئے گئے ۔ اس ٹیم نے مطالبہ کیا کہ پولس ہر متاثرہ کی الگ شکایت درج کرے ، نقصان کا معاوضہ دیا جائے اور عبادت گاہوں کی مرمت کی جائے ،نیز تشدد کے واقعات کے دوران مناسب اقدام نہ کرنے والے افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے وغیرہ۔ حکومت نے ان کے مطالبات پر یہ کارروائی کی کہ تری پورہ پولس نے ان لوگوں پر مجرمانہ سازش اور غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون ( یو اے پی اے ) کے تحت مختلف گروہوں کی مذہبی ہم آہنگی میں خلل اندازی ،دشمنی اور نفرت پیدا کر نے ،جعلسازی اور عوامی امن میں رخنہ اندازی کرنے کا مقدمہ درج کرلیا ۔( انڈین ایکسپریس آن لائن ۴،اکتوبر ۲۰۲۱ )۔
اس کے علاوہ پولس نے فیس بک ٹویٹر اور یو ٹیوب کے بھی ۱۰۲، اکاؤنٹس کے خلاف انہی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔ ان پر قابل اعتراض خبریں اور بیانات پھیلانے کا الزام ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قابل اعتراض مواد دراصل فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی بریفنگ ہے ( انڈین ایکسپریس ۶،اکتوبر ۲۰۲۱ )۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کس طرح مذہبی منافرت پھیلانے کی مرتکب ہو سکتی ہے یہی بات سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ تشدد اس ٹیم کے دورے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ محترم اپوروانند نے ۱۱،نومبر کو scroll.in میں لکھا ہے کہ’’ پولس کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ کارروائی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے کی ہے ۔۔۔جبکہ بنگلہ دیش معاملہ کی مخالفت میں نکلی ریلیوںکے لئے فیس بک اور واٹس ایپ سے موبیلائزیشن ہواجس میں بہت سے میسیج نفرت انگیز اور تشدد آمیز تھے لیکن پولس کو اس کی خبر نہیں ہوئی یا اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا،۔۔تری پورہ پولس ریلیاں روکنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ مسلمانوں کی دکانیں جلائی جاتی رہیں مسجدیں تباہ کی جاتی رہیں اور وہ دیکھتے رہی۔ اب وہ چاہتی ہے کہ یہ جو کچھ ہوا کوئی اس کی دستاویز نہ بنائے اور اسے عام نہ کرے اسی لئے وہ ایسی کوششوں کو سرکار کی شبیہ خراب کرنے اور مذہبی ہم آہنگی میں رخنہ اندازی کا نام دے رہی ہے۔‘‘ یعنی پولس اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے سوال کرنے والوں کو بلی کا بکرہ بنا رہی ہے۔
قانونی ماہرین اس ضمن میں یو اے پی اے کے اطلاق پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملاے میں یو اے پی اے لگانا دراصل قانون کا بے جا استعمال ہے ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات عدالت میں ٹک نہیں پائیں گے ۔تو کیا پولس سرکار اور سرکاری وکلاء کو اس بات کا ادراک نہیں ،بالکل ادراک ہے ۔ انہیں بھی معلوم ہوگا جن دفعات کے تحت ان لوگوں پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے ان کے تحت یہ لوگ عدالت سے چھوٹ جائیں گے ، لیکن عدالت سے چھوٹنے تک جس اذیت سے یہ لوگ گزریں گے وہی ان لوگوں کا مقصد ہے ، یہ چاہتے ہیں کہ اس کی مخالفت کرنے والا ہر ہر شخص اسی ذیت و ہراسانی سے گزرے ۔ اس سے ان کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کی ہراسانی دوسروں کے لئے مثال بنادی جائے تا کہ کوئی سچ بولنے کی سرکار سے سوال کر نے کی اور پولس پر غیر ذمہ داری کا الزام لگانے کی ہمت نہ کرے ۔ کوئی فسادات کی حقیقت معلوم کرنے( فیکٹ فائنڈنگ)،اس کے دستاویزات بنانے اور اسے لوگوں میں عام کر نے کی جرأت نہ کرے ۔ پولس کا کام قانون کی رکھوالی اور انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کی مدد ہوتا ہے لیکن ہماری پولس حکومت کی رکھوالی اور اس سے اختلاف کرنے والوں کو ہراساں کر نے کا کام کرتی ہے ۔ ایسے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کا پولس کے اس رویہ کے خلاف سامنے آنا ضروری ہے لیکن جب مسئلہ مسلمانوں کا آجاتا ہے تو سارے انصاف پسند خاموش ہو جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے تئیں پورے ملک کا ضمیر منافق ہو چکا ہے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سے کسی کو کوئی فرتق نہیں پڑتا کوئی کچھ نہیں بولتا ہے سوائے چند گنے چنے لوگوں کے ۔ مسلمانوں کے تئیں پورے ملک کے دل ودماغ میں نفرت اتنی سختی سے بیٹھ گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والے غیر مسلم بھی الگ تھلگ کردئے جاتے ہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا تا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے اس کے باوجود بھی اگر کوئی کچھ بولنے کی ہمت کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف قانون کا ایسا استعمال کیا جاتا ہے جس طرح تری پورہ میں کیا گیا ۔ مسلمانوں کے خلاف یہ تعصب ہماری سرکار اور ہمارے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تعصب بین الاقوامی سطح تک اسی طرح پھیلا ہوا ہے ۔تری پورہ میں جو کچھ ہوا محترم ودود ساجد صاحب نے انقلاب میں لکھے اپنے مضمون میں مختلف رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ سب کچھ دراصل بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے موقع پر ہوئے فسادات کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلیوں کی وجہ سے ہوا ۔ اب اقوام متحدہ کی منافقت دیکھئے کہ اس نے بنگلہ دیش میں وہاں کی اقلیتیوں ( ہندوؤں ) پر ہوئے حملوں کے معاملے میں کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے آئین کے خلاف ہیں نیز اس نے حکومت بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے ( دی ہندو اؤن لائن ۱۸،اکتوبر ۲۰۲۱ )لیکن تری پورہ میں جو فسادات شروع ہوئے اس پر اقوام متحدہ کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان پڑھنے میں نہیں آیا نہ حکومت ہند اور تری پورہ کی صوبائی حکومت سے مسلم اقلیت کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا نہ غیر جانبدار تحقیقات کا ۔نہ آئینی اقدار یاد دلائی گئیںنہ ہی ان فسادات کی مذمت میں کوئی عام سا بیان ابھی تک سامنے آیا ۔ہماری سیاسی پارٹیوں کی منافقت تو جگ ظاہر ہے کہ وہ جو بھی بولتی ہیں اپنے سیاسی نفع نقصان کو نظر میں رکھ کر ہی بولتی ہیںاور ویسے بھی حزب اختلاف اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اس کا بولنے سے نہیں بولنا بہتر ہے ۔ حزب اقتدار کا معاملہ یہ ہے کہ ملک میں مسلم منافرت پھیلانے والے لوگ زیادہ تر اسی کے حواری ہیں سو وہ ان کے معاملے بہت ڈھٹائی سے منافقت کرتا ہے ۔جیسے تری پورہ کے وزیر اعلیٰ نے بنگلہ دیش کے معاملے میں تشدد کے واقعات کو افسوسناک قرار دیا تھا لیکن جب تری پورہ میں وہی کچھ ہوا تواس پر اظہار افسوس کرنے والوں ہی کو ان کی پولس نے مجرم بنادیا ۔دی کوئنٹ ( thequint) میں وکاشا سچدیو نے وزارت داخلہ کے اعدادو شمار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ۲۰۱۵ سے ۲۰۱۹ کے درمیان یو اے پی اے کے تحت گرفتاریاں مستقل طور سے بڑھی ہیں لیکن ان میں کے صرف دو فیصد افراد ہی عدلیہ سے مجرم ثابت ہو پائے ہیں۔ملک کا پولس محکمہ گستاپو بنادیا گیاہے کہ وہ حکومت پر سوال اٹھانے والے ہر شخص کو یو اے پی اے کے تحت مجرم بنادیتاہیں ۔خیر سے ابھی عدلیہ زندہ ہیں کہ وہ انصاف کرتی ہیں لیکن یہ انصاف ہونے تک بے قصوروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔

Comments are closed.