اخلاقیات
فریحہ جاوید(سیالکوٹ)
اخلاقیات کا لفظ "خلق” سے آیا ہے جس کے معنی "کردار” یا "رواج” کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاقیات سے مراد اخلاقی اقدار کا مجموعہ ہے۔ جس پر عمل پیرا ہو کر با شعور، متحد اور مستحکم معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سماج کی پہچان وہاں کے رسوم و رواج اور اخلاقی اقدار سے منسوب ہوتی ہے، کیونکہ اخلاقیات کرہ ارض پر پاۓ جانے والے ہر معاشرے اور قوم کی بنیاد ہے۔ اخلاقیات کو ہر مذہب کا مشترکہ منشور کہنا غلط نہ ہو گا، کیونکہ جب سے انسان کی پیدائش ہوئی ہے تب سے لے کر موجودہ دور تک اخلاقیات کا باب ہر مذہب و قوم میں بلا تعصب موجود ہے۔ دین اسلام میں بھی اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان ہے :
” مسلمانوں میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔”
اخلاق انسان کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، جس طرح ریڑھ کی ہڈی انسانی جسم کو سہارا دیتی ہے لیکن خرابی صحت یا مرض کے باعث جسم ناکارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب کسی معاشرے میں اخلاق زنگ آلود ہو جاتے ہیں تو معاشرے کی تنزلی کا دور شروع ہو جاتا ہے، افرادی قوت متزلزل ہو جاتی ہے، قوم میں فساد برپا ہو جاتا ہے، اتحاد کمزور پڑتا ہے، قوم کے افراد باہمی انتشار کا شکار ہو کر منتشر ہو جاتے ہیں، اجتماعی رواداری ناپید ہو جاتی ہے، مساوات کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے اور معاشرہ زوال پذیر ہو جاتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی بتدریج زوالِ اخلاقیات کی زد میں آ گیا ہے۔ مختلف بیماریوں نے قوم کو آن گھیرا ہے۔ان میں جھوٹ ، بددیانتی و نا انصافی، باختگی و حیاسوزی کے عناصر اور مکروفریب وغیرہ شامل ہیں ۔انہیں بیماریوں کی وجہ سے قوم کے افراد میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ سلسلہ جاری رہا توقوم کو ذلت و رسوائی سے کوئی نہیں بچا پاۓ گا ۔کیونکہ اخلاق کی موت دراصل قوم کی موت ہے۔ہماری نوجوان نسل اس انحطاط کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لیے ہمیں اس کے وجوہات محرکات اور اسباب پر غور وفکر کرنا چاہیے؛ تاکہ اس زوال کا سدّباب ممکن ہو سکے۔
مشاہدات و تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ زوالِ اخلاقیات کی سب سے بڑی وجہ تربیت کا فقدان ہے۔ انسان کی پہلی درسگاہ اس کے والدین ہوتے ہیں۔ مگر نہایت دکھ کی بات ہے کہ والدین اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔جس کے سنگین نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ یہی بچے جب تعلیمی اداروں کی طرف جاتے ہیں تو ذہنوں میں ڈگریوں کی تصویریں نقش کر دی جاتی ہیں۔ جن اداروں میں شعور و آگہی، انسانیت کا علم، انسانیت کا درس ملنا تھا، ان اداروں میں بھی تربیت کا فقدان ہے اور یوں تربیت کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوجوان اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
(شیخ ابراہیم ذوق)
نوجوانوں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ وہ جانے انجانے میں کس غلط سمت پر چل پڑے ہیں۔ نوجوانوں کے پاس رہنما موجود نہیں، جس سے وہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔ انتہا پسندی و شدت پسندی جیسے عناصر بھی بد اخلاقی کے ماحول کو جنم دینے میں پیش پیش ہیں۔
. یہاں مذہبی رہنماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نوجوانوں میں اخلاقی و دینی محبت بیدار کر کے اتحاد کی فضا قائم کریں تاکہ نفرت کا خاتمہ ہو اور اخلاقی قدریں مضبوط ہوں۔ جبکہ عوام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا یہ اصول بنا لیں،
کچھ اس طرح سے زندگی کو ہم نے آسان کر دیا
کسی سے معافی مانگ لی کسی کو معاف کر دیا
ان سب عناصر کے علاوہ غیر منصفانہ نظام، طبقاتی تقسیم اور بے روزگاری کی وجہ سے بھی اخلاقیات پامال ہو رہہی ہے۔ ہم اجتماعی طور پر کمزور سے کمزور قوم بنتے جا رہے ہیں۔
ان سب عناصر کے باوجود ابھی بھی وقت کی گھڑیاں ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں،قرآن و سنت کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کریں، تعلیمی اداروں میں تربیتی سیشن منعقد کروائیں، آگاہی مہم کو عملی جامہ پہنایا جائے تو یقیناً بیماریوں سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور دنیا کے نقشے پر ناصرف با اصول، قوی اور باصلاحیت قوم بن کر ابھریں گے بلکہ عظمتِ انسانیت کی بہترین مثال بھی قائم کر سکیں گے۔
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
(الطاف حسین حالی)
Comments are closed.