ماں اس کائنات کے خوبصورت ترین رشتے کا نام ہے۔
ثانیہ جاوید گھوٹکی سندھ
ماں”شفقت،خلوص،محبت،ٹھنڈک کا دوسرا نام ہے۔
ماں” دنیا کا سب سے پیارا الفاظ ہے، ماں وہ ہستی ہے ،جس کی گود میں سر رکھ کر سکون کا احساس ہوتا ہے۔
ماں "جس کا سایہ تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے۔ دنیا میں اس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی پیدا نہیں ہوئی۔” ماں” جو دکھ پر دکھ اٹھا کر نو ماہ تک بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے۔ اس کی پیدائش کے لیئے جان پر کھیل جاتی ہے ۔ دو سال تک اس کو دودھ پلاتی ہے۔
خود تو بھوکی رہ سکتی ہےلیکن اپنی اولاد کو کبھی بھوکھا نہیں سونے دیتی۔ کچھ بھی ہو جائے اپنی اولاد کے لئیے اس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی، کبھی اسے اولاد سے اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی،ہر دن اس کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے،کم نہیں ہوتی۔اس لیئے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا گیا ہے۔ اس لیئے اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ہے۔ اب جس کا دل چاہےاس جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔ اس کی عزت، کر کے، اس کا احترام کر کے، اس کی خدمت کر کے، اس سے محبت کر کے ، اس کے فرمانبردار بن کے۔
"ماں” اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔عقل و شعور کی پہلی درسگاہ،خلوص،محبت کا پیکر ہے۔”ماں” جنت کا وہ پھول ہے جس کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے۔”ماں” کی قدر و قیمت ان سے پوچھیں جن کی مائیں اس فانی دنیا سے کوچ کر جاتی ہیں۔
ماں کا رتبہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بہت بلند رکھا ہے۔
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا!
تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا ، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا۔ ﴿۲۳
اس آیت میں واضح اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے، اپنے والدین کے آگے اف تک نہیں کرنا۔
جس "ماں” کے سامنے اف تک کرنے سے روکا گیا ہے۔
،کیا ہم ایسا کچھ کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو اولڈ ہوم کیوں بنائے گئے؟ کیوں ماؤں کو اولڈ ہوم بھیجا جاتا ہے، کیوں ہم اپنی ایک ماں کو پال نہیں سکتے، جو ماں ہمیں اتنی محبت دیتی ہے ، اتنی مشقت اٹھا کر ہمیں بڑا کرتی ہے۔اس لیئے کے ہم اپنی الگ دنیا بسا لیں؟ اس کو بھول جائیں؟ جو ماں اپنے دس بچوں کو ماتھے پر شکن لائے بغیر پالتی ہےکیا دس بچے اپنی ایک "ماں "کو نہیں پال سکتے۔کیا ایک ماں ہم پر بوجھ بن جاتی ہے۔ جو ماں ہمیں بولنا سکھاتی ہے ، بڑے ہوکر ہم ان سے اونچی اونچی آواز میں بات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو بات بات پر سمجھانا شروع کر دیتے ہیں۔ان پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں،چھوٹی چھوٹی بات پر ہم ان سے تیورچڑھا کر ب
نافرمانی پر ایک واقعہ یاد آیا مجھے حدیث میں آتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے جسم کو اس کے قابو میں دے دیا۔ آخر لڑکا پیدا ہوا۔ اور اس عورت نے الزام لگایا کہ یہ جریج کا لڑکا ہے۔ قوم کے لوگ جریج کے یہاں آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا۔ انہیں باہر نکالا اور گالیاں دیں۔ لیکن جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر اس لڑکے کے پاس آئے۔ انہوں نے اس سے پوچھا۔ بچے! تمہار اباپ کون ہے؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے) بول پڑا کہ چرواہا!
قوم خوش ہو گئی اور کہا کہ ہم آپ کے لیے سونے کا عبادت خانہ بنوا دیں۔ جریج نے کہا کہ میرا گھر تو مٹی ہی سے بنے گا۔
اس حدیث سے ہمیں پتا چلتا ہے نا کے "ماں” کے منہ سے نکلی ہوئی بدعا قبول ہوتی ہے۔
ہم اپنی "ماں”کی نافرمانی کر کے کیوں اس کی بدعا کے مستحق بنتے ہیں؟؟
جو "ماں” سب سے زیادہ ہمارے حسن سلوک کی مستحق ہے۔
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ
ہماری "ماں” کا سب سے زیادہ ہم پر حق ہے کیا ہم انھیں یہ حق دیتے ہیں؟کیا ہم اپنی "ماں” سے اتنی محبت کرتے ہیں جتنی وہ ہم سے کرتی ہے۔؟
اگر ہاں تو دنیا کے خوش نصیب لوگوں میں آپکا شمار ہے۔ جو اپنی "ماں” کے سارے حق پورے کرتے ہیں۔ جس کا اجر دنیا و آخرت میں ہے۔
اگر نہیں "تو اٹھیں جائیں اپنی "ماں”اپنی جنت کے پاس جاکر اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں،جائیں اپنی "ماں” کو گلے سے لگا لیں، پتا ہے نہ "ماں” کتنی شفیق، اور رحم دل ہوتی ہے۔”ماں” کا دل موم کا ہوتا ہے۔
آپکی ایک” پکار” پر پگھل جائے گی اٹھیں اپنی جنت نہ گنوائیں،
اپنی "ماں” کی خدمت کریں،اس سے پیار بھری باتیں کریں ۔اپنی "ماں” اپنی جنت کو منا لیں، اس کی دعائوں کے مستحق بنے۔اس سے دعائیں لیں۔
اللّٰہ سے دعا ہے اللّٰہ ہماری ماؤں کو سدا سلامت رکھے،اور ان کا سایہ اولاد پر قائم و دائم رکھے،
اللہ ہم سب کو اپنے والدین کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے،ان کی ساتھ حسن سلوک ، عزت و احترام ،اور خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
Comments are closed.