اللہ کی محبت

 

ہادیہ خلیل (گھوٹکی)

جذبات مذاق نہیں ہوتے اور انہیں سب سے نہیں جوڑا جاتا- حقیقی محبت تو بس اللہ کی ہے’ جو سب رنج و غم سے دور رکھتی ہے اور محبت بہت پیارا پرسکون , آرام دہ, اور سب سے غافل رہنے والا جذبہ ہے- اور محبت گناہ نہیں ہے’ جو محبت آپ کو سجدہ کرنا سکھائے’ وہ کیسے گناہ ہوسکتی ہے اور جس طرح ایک پنجرے میں قید پرندے کو لگتا ہے’ کہ اڑنا گناہ ہے, اڑنا ایک بیماری ہے, اسی طرح جس نے ناپاک محبت کی ہو ‘اسے سب کی محبت گندگی لگتی ہے- جو جس چیز سے دور رہتا ہے’ جس چیز سے محروم رہتا ہے’ اسے اس چیز کا علم نہیں ہوتا اور اللہ کی محبت مقابلہ نہیں رکھتی – اور خدا تو نیتوں کو بھی جان لیتا ہے’ وہ جانتا ہے کہ کوئی انسان کتنے ظرف میں ہے- خدا کی محبت کا کوئی مقابلہ نہیں’ اللہ سے جڑ کر دیکھو’ تمہیں محبت کے جذبوں کی پہچان ہوگی- اللہ سے دل لگا کر تو دیکھو ‘تمہیں محبتوں کا احساس ہوگا – دنیا کی سبھی محبتیں سبھی چاہتیں بس وقتی ہیں’ ایک اللہ کی محبت ہے جو برقرار رہنے والی ہے -فقط اللہ کی چاہت ہے’ جو کبھی نا ختم ہونے والی ہے- اللہ پاک ہمیں 70ماؤں سے بڑھ کر چاہتا ہے- بے شک اللہ کی محبت سکون قلب ہے -اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے – اللہ پاک نے اپنی محبت میں ہمیں قرآن پاک تحفے میں دیا اور جسے اللہ نے قرآن پاک جیسی دولت دی ہو’ اور پھر بھیu کسی اور کو دیکھ کر اس کے دل میں خیال آئے’ اللہ نے اسے مجھ سے زیادہ نوازا تو اس نے اللہ کے تحفے کی نا قدری کی- جسے تحفے میں اللہ تعالی نے قران پاک دے دیا ہو’ اسے دنیا کی آسائشوں سے کیا غرض- لیکن ہم انسان بہت نا شکرے ہیں’ سب کچھ پا کر بھی کہتے ہیں’ کاش یے مل جائے, کاش وہ مل جائے, اس کے پاس مجھ سے زیادہ ہے , اسے اللہ نے مجھ سے زیادہ نواز دیا, کبھی شکر ہی نہیں کرتے’ اور نہ ہی اللہ کی محبت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ‘اور نہ ہی ہم قرآن پاک کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں – اور یاد رکھو کہ اللہ کا واحد ذکر ہے’ جو ہمیں سکون قلب دیتا ہے -وہ قرآن پاک ہی ہے’ جو ہمیں اندھیرے کھنڈروں سے نکال کر’ روشن زندگی میں لاتا ہے- ہم قرآن کو کبھی سمجھتے ہی نہیں’ کہ کچھ تو اس پاک کتاب میں خاص ہوگا’ جو اللہ نے اپنی محبت میں اس پاک کتاب کو ہمیں نواز دیا – ‏”اللہ تعالی ہمارے بہت نزدیک ہوتا ہے- اللہ تعالی نے فرمایا…

(اے پیغمبرﷺ!)جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو(آپ ان سے کہہ دیجئے کہ)میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکار تا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔لہٰذا وہ بھی میری بات دِل سے قبول کریں، اور مجھ پر اِیمان لائیں، تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔

(سورۃ البقرۃ،۱۸۶)

بے شک اللہ ہمارے بہت نزدیک ہے’ ہم جب بھی پکاریں وہ ہمیں غور سے سنتا ہے’ ہم جو مانگتے ہیں’ وقت آنے پہ ہمیں عطا کرتا ہے- ہر انسان کا اللہ سے ایک الگ رشتہ ہے ‘اس رشتے کو اپنائیں’ اس رشتے کو سمجھیں- اللہ کو اپنے نزدیک محسوس کریں ‘اس پے پورا یقین رکھیں’ اتنا کامل یقین’ کہ اس سے اپنی ہر بات منوا سکیں. یقین کریں اللہ کی محبت کے علاوہ کسی محبت میں سکوں نہیں ہے-اسکے علاوہ کوئی اچھا دوست نہیں ہے- اس سے دوستی کر لیں’ کوئی مشکل آپکو پریشان نہیں کرے گی-اپنی ساری باتیں اسکو سنائیں. اس سے لاڈ پیار سے مانگیں وہ ضرور نوازے گا- وہ تمہاری جھولیاں خوشیوں سے بھر دے گا اللہ کی محبت بے لوث محبت ہے- وہ ہمیں ہماری تکلیفوں سے نجات دلاتا ہے’ ہماری دعائیں قبول کرتا ہے ‘وہ کہتا ہے میرے بندے مجھ سے مانگ میں تجھے عطا کروں .اتنی نعمتیں دے کر بھی کبھی جتلاتا نہیں’ ہمیں تکلیفوں سے نجات دیتا ہے- اور جب تم درد سے نکل جاؤ ‘تکلیفوں سے نجات پا جاؤ’ دکھوں سے نکل کر آسانیوں میں ڈھل جاؤ ‘تو رب کے آگے ضرور جھکا کرو -جس نے تمہیں گرتے ہوئے تہاما’ ڈگمگاتے قدموں کو مضبوط کیا ‘اتنا کچھ عطا کرنے بعد بھی کبھی جتلایا نھیں .اور راح راست پر آجاؤ’ خدا کو نزدیک کرلو- وہ تمہیں تمہاری سوچ سے زیادہ عطا کرے گا- بن مانگے نوازے گا- اور اللہ کے ہوتے ہوئے’ کسی اور کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی- اور حقیقی کامیابی اللہ کے احکام’ اور نبی صلی اللہ علیہ و آله وسلم کی سنت پے عمل کرنے میں ہے- جو راستے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتے ہیں وہ راستے ہی بہترین ہوتے ہیں ۔ اللّہ تعالیٰ کی طرف جانے والا ہر راستہ دل کو سکون بخشتا ہے۔ ہر راستہ راحت دیتا ہے ہم وہ راستہ چن کر پر سکون رہتے ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے اکیلے ہونے کے باوجود بھی کوئی ساتھ ہے۔ انسان کی تمنا نہیں ہے، کیونکہ اللّہ ساتھ ہے۔ کوئی چھوڑ دے تو تب بھی دل تشکر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے ہم مصلحت سمجھ کر شکوے کے انبار نہیں لگاتے۔ وہ رحمٰن ہے۔ اس سے جڑنے والے غنی ہوتے ہیں جو اس سے جڑتا ہے وہ اسی کے دل میں ہمیشہ کے بس جاتا ہے۔ زندگی کے چاروں اطراف میں محبت الٰہی ہوتی ہے اور ہم ہوتے ہیں۔ بس یہ الفاظ ہوتے ہیں مبارک ہو تم نے اپنے رب کو پا لیا تم نے اپنے رب کو چن لیا سمجھو آج سے سب کچھ تمہارا ہوا جب اللہ تمہیں چن لے اللہ تمہارا ہوجائے تو سب تمہارا ہوجاتا ہے.

Comments are closed.