میں نہیں تھکا تھا
الطاف جمیل
بچپن سے اپنوں کی جدائی اور تلاش معاش اور اوپر سے زندگی سنوارنے کے آداب سیکھنے کے لئے تلاش علم
جدائی اپنوں کی سہہ لی تلاش معاش کے لئے کشمکش چلتی رہی اور علوم اسلامیہ کے لئے تک دو کرتا رہا جوانی کی دہلیز پر دستک دی تو سامنے ایک خوبصورت صحراء جس کے اندر رنگ بہ رنگ آسائشوں سے مزین راستے اور رہنے کی گھر ساتھ میں مسکان سجائے لوگ محو سفر
ایسا لگتا تھا سب میرے ہی ہیں اپنائیت کو جتنا مزید گہرا کرنا چاہا اسی قدر اس مسکان کے پیچھے چھپی ضد و انانیت کا سامنا ہوا لوگ کیا تھے یہ تو چلتے پھرتے لاشے تھے جن کے پاس احساس مروت محبت و خلوص میں سے کچھ بھی میسر نہ تھا ہاں انانیت مفاد پرستی مطلب براری وافر تھی
اب اس زندگی کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راہ تھی بھی نہیں سو چل پڑا
کبھی بھوک نے ستایا تو کبھی کام کی شدت نے رلایا کبھی کسی نے دھتکار دیا تو کبھی کسی نے آغوش محبت وا کرکے خوب دکھ درد کے حوالے کردیا
پھر وہ لمحات آئے اس بھیڑ میں اپنی جگہ بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے پر اس کے لئے ایک الگ وضع قطع کو اختیار کیا اور صف صالحین میں جا بیٹھا خوب بنتی رہی اس صف میں پر
اب صف صالحین نے بھیجا سے اچانک میرا پتہ پوچھنا شروع کیا پوچھا گیا کون ہو جواب دیا مولوی پوچھا مسلک تو کہا حنفی مذہب کہا اسلام فکر کہا اسلامی پھر یوں ہوا کہ میں دیوبندی تھا تو وہ تھا مظاہری میں مظاہری بنا تو وہ ندوی ہوا میں قاسمی تھا وہ مدنی تھا میں مدنی ہوا تو وہ مکی ہوا میں مکی ہوا تو وہ ازہری ہوا اور کوشش یہ ہوئی کہ مجھے اپنی صف میں رہنے کو جگہ نہیں دی گی کبھی کسی نام سے تو کبھی کسی نام سے صف صالحین سے نکلنا پڑا مجھے مسلک و منہج کے نام سے بھی نچوایا گیا فکر و نظر سے بھی خوب دوڑایا گیا
( سچ ہے کہ پچھلے ہفتے ایک ادارے سے صرف اس لئے رخصت ہونا پڑا کیونکہ وہاں کے اعلی ناظم نے فرمایا کہ تم میرے ادارے میں صرف اس شرط پر رہ سکتے ہو کہ گر تم میرے مادر علمی کے ہی ہو جب ان کے یہ الفاظ میرے دوست نے کہے تو دل دھک سے رہ گیا اور سوچنے لگا میں کون ہوں یا ربی میرا واسطہ کہاں پڑا ہے )
جب تھکاوٹ سے چور ہوا تو
میں نے خیالوں ہی خیالوں میں مدینہ کے در و دیوار کو چومتا ہوا جارہا تھا کہ میری نظر مقدس جالیوں پر پڑی جہاں لکھا تھا اشھد ان محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھ گیا یہیں تسکین قلب میسر آسکتی ہے جالیوں کو پکڑ کر صف صالحین کی روداد جو سنائی آنسوؤں اور ہچکیوں کے ساتھ ندائے دل سنائی دی کہ کیا تم میرے وفا شعاروں میں ہو عرض کیا در محبت پر کہ بلکل تو جواب ملا آخری زمانہ ہے قرب قیامت کی علامات کا ظہور ہوچکا ہے عرض کی جی تو جواب ملا
جاؤ پھر ان پہاڑوں کی گود میں جہاں تم اپنی محبت و شوق و طلب دید کی تمناؤں کے رنگ میں رنگ بھرتے رہو گئے کوئی تم سے کیا پوچھے گا بس تم آجانا حوض کوثر پر یوں کہ تم کہنا میں تھکا ہوا نہیں ہوں
عرض کیا جی جی
جواب ملا تو سنو ابوذر غفاری ؓ کی معیت نصیب ہوگی بروز قیامت تو حق یہ کہ نیند سے جو جاگا تو
آنکھ کے کنارے بھیگ چکے تھے چہرے پر چند قطرے آنسوؤں کے اور دل مطمئن اٹھا منہ ہاتھ دھوئے اور مسجد میں نماز ادا کی جہاں قاری سورہ الملک سنا کر دلوں کو جنجوڑ رہا تھا بس پھر دعا کو ہاتھ اٹھائے اور کہا میں تھکا تو نہیں ہوں نا یا الہی میری مدد فرما ان کرب کے دنوں میں جب میں تنہا اور تنہا رہ گیا ہوں اس جہاں میں
#فکریات الطاف جمیل آفاقی
Comments are closed.