زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 

منہاج قاسمی 

نئی دہلی

 

ملک کے موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے اور یہ سمجھ لینا ہوگا کہ پانی اب گردن سے اوپر آ چکا ہے اور اگر ان کی بے حسی کا یہی عالم رہا تو پھر ان کا ڈوبنا مقدر ہے.

اور اس سلسلے میں فوری اقدام کے تحت اپنے اپنے علاقہ میں ایسے نوجوانوں کا انتخاب کریں جو تعلیم یافتہ بھی ہوں اور سماجی خدمات کا بھی ان کے اندر ذوق ہو نیز وہ موجودہ سیاست سے پوری طرح آگاہ بھی ہوں.

میں اس سلسلے میں بہار کے سیمانچل علاقہ کے ایک تعلیم یافتہ، فعال اور ملت اسلامیہ کے لئے دل میں درد رکھنے والے نوجوان مولانا منہاج قاسمی کو دیکھتا ہوں جس نے اس بار پنچایت کے انتخاب میں ضلع پریشد کا انتخاب بھی لڑا تھا لیکن علاقائی سیاست کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے.

مولانا منہاج قاسمی کا تعلق ارریہ کے محل گا ءوں جوکی ہاٹ …………… سے ہے. اور انہوں نے مدارس اسلامیہ سے فراغت کے بعد گوتم بدھ یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہے اور اور اس دوران انہوں نے دہلی کے نامور اخباروں میں بطور صحافی خدمات بھی انجام دی ہیں. سیاسی رہنماؤں سے ان کی ملاقات تو ان کے پیشہ کا حصہ ہے لیکن ان کی اپنی خداداد صلاحیت نے انہیں سیاسی منظر نامہ کو سمجھنے کا بھی موقعہ فراہم کیا اور انہوں نے اپنی ذہانت کو بروئے کار لاکر سیاسی تعلقات کا فائدہ اپنے علاقہ کے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے اٹھایا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے.

دہلی میں رہ کر انہوں نے سیمانچل کے لوگوں کی جتنی مدد کی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے. اور یہاں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ منہاج قاسمی کو دہلی میں ہمیشہ یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ وہ اپنی جائے پیدائش کی درگت کو دیکھ کر ہمیشہ ملول ہو جاتے ہیں. اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے کے لئے ارریہ کا ہی انتخاب کیا ہے. ان کے پاس اپنی سرزمین کی حالت کو بہتر کرنے کا ایک لائحہ عمل ہے. وہ بہار کی سب سے گھنی مسلم آبادی کی کسمپرسی کو دیکھ رہے ہیں اور ملت کی زبوں حالی کے اسباب بھی تلاش کر چکے ہیں. اب ضرورت ہے کہ اہل علاقہ کا بھروسہ ان پر مستحکم ہو جائے اور وہ وہاں اپنے تجربات کے گل بوٹے لگا سکیں.

ملت کے سنجیدہ افراد کو اب یہ بات سمجھ لینی ہوگی کہ ان کے لئے پورا ملک اب ایک قید خانہ کی صورت اختیار کر چکا ہے. اور اب ضرورت صرف روزی روزگار اور سڑک و پل سے بہت آگے پہنچ چکی ہے اور انہیں اپنے وجود کو بچانے کے لئے بھی ایک لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے. کیونکہ ایک سازش کے تحت ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو حاشیہ پر پہنچا دیا ہے. آج ملک کے مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن سیاسی جماعت کا اقتدار پر قبضہ ہے اور اس کی ستم ظریفیاں آسمان چھو رہی ہیں. پورے ملک میں مسلمانوں سے نفرت کا زہر بو دیا گیا ہے اور ان نفرتی گروہ کی سرپرستی مرکزی حکومت کر رہی ہے. ان ساڑھے سات برسوں میں بی جے پی اور آر ایس ایس نے مسلمانوں کو مختلف انداز میں آزما بھی لیا ہے. چاہے وہ طلاق ثلاثہ کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کے فیصلے کا. دفعہ 370 کو ختم کرنے کا معاملہ ہو یا پھر شہریت کے قانون کا معاملہ مسلمانوں کے ساتھ کھل کر کسی سیاسی جماعت کھڑی نہیں ہوئی اور نہ ہی ملی تنظیموں کا کوئی موثر احتجاج ہی درج ہو سکا. گو کشی کے نام پر مسلمانوں کی لنچنگ پر بھی تمام سیاسی پارٹیوں نے بس خانہ پری کے طور پر ہی احتجاج کیا. اور یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ان شرپسندوں کا حوصلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ اب ببانگ دہل مسلمانوں کے قتل عام کا اعلان کر رہے ہیں. یعنی اب حالات اس قدر نازک ہو چکے ہیں کہ کبھی بھی اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا اعلان کیا جا سکتا ہے. اور ایسے حالات کے لئے ہمارے پاس نہ تو کوئی لائحہ عمل ہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ.

لیکن اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ضرور ہے اور وہ ہیں ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان. منہاج احمد قاسمی ایسے ہی ایک نوجوان ہیں جن کی دوربین نگاہیں اس پورے حالات کو دیکھ رہی ہیں اور نوشتہ دیوار پڑھ رہی ہیں. اب ضرورت صرف اس کی ہے کہ ملت کا ایسے نوجوان پر اعتماد بحال ہو جائے. اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ منہاج احمد قاسمی کے لئے ان کے اہل علاقہ کے دلوں کو نرم کر دے تاکہ وہ دل جمعی کے ساتھ اپنے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار کر سکیں.

Comments are closed.