خواب شرمندہِ تعبیر اور ختم بخاری
قاری محمد حنیف ٹنکاروی
پھول کھلے ہیں گلشن گلشن رنگ میں ڈوبا صحن چمن ہے
عشق نبی میں نغمہ سرا ہے ختم بخاری اللہ
قرآن مقدس کے بعد تشریع کا دوسرا سب سےاہم مأخذ لسان نبوت سے صادر ہونے والے فرامین و ارشادات ہیں، جن کے بارے میں وحئ الہی خود ناطق ہے "وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی” اور جس طرح قرآن مقدس کے الفاظ و کلمات کی حفاظت کا وعدہ ہے اسی طرح اس وعدہ ربانی میں قرآن کریم کے معنی احادیث بھی شامل ہیں اور اللہ پاک نے حدیث کی نشر واشاعت غالیوں کی تاویل اور مبطلین کی تحریف سے حفاظت کے لئے ہر دور میں ایسے رجال کار پیدا فرمائے، جنہوں نے فن منیف کی زبردست خدمات اور ایسے محیرالعقول کارنامے انجام دیئے جنہیں اللہ پاک کے فضل خاص اور حفاظت حدیث کے لئے اس کے قائم کردہ غیبی نظام کا ہی کرشمہ قرار دیا جاسکتا ہے ہمارے ملک کی خوش قسمتی رہی کہ ابتدا ہی میں کلام نبوت کی روشن کرنوں سے اسے ضیا بار ہونے کا موقع ملا، اور بتدریج گجرات سمیت ملک کے کئی خطوں میں مراکز حدیث قائم ہوتے گئے، جن میں سے ایک دارالعلوم فلاح دارین، ترکیسر، گجرات کی با فیض درسگاہ بھی ہے، اس کی مسند حدیث پر ہمیشہ با کمال افراد ہی فائز رہے۔ الحمد للہ
علم حدیث کے نہایت قدر و منزلت کے حامل عظیم محدث حضرت مرحوم شیخ یونس صاحب رحمہ اللہ کے شاگرد رشید اور اجل خلفاء میں جن کا شمار ایسے استاد گرامی قدر مشفق و مربی حضرت اقدس مولانا یوسف صاحب ٹنکاروی مد ظلہ ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان ہوشمند، صاف دل اور مطالعہ کتب کا خاص ملکہ عطا فرمایا ہے۔
حضرت مولانا شیخ یوسف صاحب دام ظلہ کو آج ١٨ رجب المرجب مطابق ٢٠ فروری ٢٠٢٢ صبح مادر علمی میں پہلی مرتبہ بخاری شریف کا آخری درس دینے کا موقع ملا، جس پر خوب خوب مبارک بادی پیش کی جاتی ہے، جیسا کہ حضرت ہی نے تحدیث نعمت کے طور پر دوران درس آخر آخر میں فرمایا کہ ہمارے ایک ساتھی نے ششماہی کے موقع پر خواب دیکھا تھا کہ مرحوم حضرت شیخ الحدیث جونپوری رحمۃاللہ علیہ دارالعلوم میں تشریف فرما ہیں اور سامعین میں اساتذہ، طلبہ اور مہمان وغیرہ لوگ موجود ہیں لیکن حضرت مرحوم شیخ رح شیخ یوسف ٹنکاروی کے حلیہ میں نظر آ رہے تھے۔ ہو سکتا ہے خواب میں آج کے اس پر مسرت دن کا اشارہ دیا گیا ہو۔
مذکورہ خواب کو بیان فرماتے ہوئے جو الفاظ استعمال فرمائے وہ یہ تھے کہ "ہمارے ایک دوست نے خواب دیکھا” حالانکہ وہ دوست نہیں بلکہ وہ شاگرد رشید حضرت الاستاد قاری عبد العزیز صاحب فلاحی زید مجدہ ہیں لیکن انداز بیان میں حضرت کا تواضع چھلکتا ہے۔نیز اور ایک خواب بیان فرمایا کہ ہماری ایک بچی نے خواب دیکھا کہ دو چڑیا آسمان میں "سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم” کے الفاظ لکھ رہیں تھیں، جس سے یہ تعبیر سمجھ میں آ رہی تھی کہ امام بخاری نے یہ آخری باب میں "ونضع الموازين القسط” سے آخرت کی یاد دلائی ہے، جس سے کچھ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اب بساط الٹنے کا وقت آ گیا ہے، دوسرے دن حضرت الاستاد قاری محمود الحسن کے انتقال کی خبر آئی تو فوراً محسوس ہوا کہ چڑیوں کا آسمان میں لکھنا اسی قاری صاحب کی رحلت کا اشارہ تھا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف صاحب ٹنکاروی مدظلہ کو بعافیت عمر نوح عطا فرمائے نیز حضرت الاستاد قاری محمود الحسن کی مغفرت فرمائے اور دیگر تمام اساتذہ کو صحت عافیت سلامتی کے ساتھ رکھے اور مادر علمی کو دن دوگنی ترقیات سے نوازے اور نظر بد سے بچائے۔ آمین ثم آمین
Comments are closed.