سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
ساجد حسین سہرساوی
بہت جلد ہمت ہار جانا عزم و حوصلہ کھو دینا مایوسی و بےبسی کا شکار ہوجانا ارادے کی مضبوطی نیت کی استواری طبیعت کی استقلالی اور مزاج کی استحکامی پر یقین کا نہ ہونا خودی کو نہ پہچاننا اور احساس کمتری کا شکار ہوجانا حوصلہ شکن بننا بےکسی پر کف افسوس ملنا اور تدبیر نہ کرنا حالات کا رونا روکر گوشہ خمول میں پڑے رہنا حادثات پہ مصلحت کے تانے بانے بننا اور طائر زیر دام کے نالہ و فغاں کی چارہ سازی نہ کرنا یہ نہ تو مزاج اسلام سے ہم آہنگ ہے نہ ہی روایات امت مسلمہ سے میل کھاتا ہے اور نہ ہی تعلیمات اسلامیہ کا جز ہے بقول علامہ اقبال: "ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات”. ایسوں کے بار سے دنیا کا جلد خالی ہوجانا ہی بہتر ہے.
مذہب اسلام میں بزدلوں ، درپیش حالات سے راہ فرار اختیار کرنے والے کم ہمتوں اور جلد مایوس ہوجانے والوں کی کوئی جگہ نہیں اس راہ کے راہی بازو فولادی اور سینہ آہنی رکھتے ہیں ان کے سروں پہ کفن اور زبان پہ کلمہ شہادت کا ورد ہوتا ہے ثبات قدمی و مستقل مزاجی ان کا خاصہ اور کل سرمایہ ہوتا ہے خلوص و للہیت اور خشیت الہی سے ایمان صیقل کرتے ہیں بلندئ اخلاق ان کا شعار ہوتا ہے اور عاجزی و انکساری ان کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے وہ جھکتے صرف ایک کے سامنے ہیں اور جس کے سامنے جھکتے ہیں مانتے بھی اسی کی ہیں اور مانگتے بھی اسی سے ہیں.
یہ بہادری و دلیری میں عمر بن خطاب ؓ کے جیالے ہیں شجاعت و بےباکی میں حیدر کرار ؓ کے شیر ؛ خالد بن ولید ؓ کے سپہ سالار اور ان کے کردار کے پاسباں ہیں موسی بن نصیر ؒ کے باز ہیں بقول کاونٹ جولین (شاہ اندلس کاڈرک کے مطالبہ کمک پر ) "اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے”. اور جبال طارق بن زیاد ؒ کے چٹان ہیں بقول تھیوڈ میر:” ہمارے ملک پہ ایسے لوگوں نے حملہ کیا ہے جن کا وطن معلوم ہے نہ اصلیت کہ کہاں سے آئے ہیں زمین سے نکلے ہیں یا آسمان سے اترے ہیں” قتیبہ بن مسلم ؒ کے جواں مرد جاں ہار سپاہی ہیں محمد بن قاسم ؒ کے مرد آہن اور کوہ بےعدیل ہیں جس نے سندھ کی ماؤں بہنوں کی صدا "اغث یا حجاج” پہ لبیک کہا اور سرپٹ دوڑے چلے آئے اور راجہ داہر کو بے دہر کرکے فتح و کامرانی کا پرچم بلند کیا، فتنہ و فساد کا اڈہ سومنات مندر کے فاتح محمود غزنوی ؒ کے بت شکن وارثین ہیں نورالدین زنگی ؒ اور صلاح الدین ایوبی ؒ کے تربیت یافتہ ہیں ٹیپو سلطان ؒ کے قول زریں "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے” کے محافظ ہیں لیبیا کے اس بوڑھے بےگھر شیر کے پالے پوسے ہوئے ہیں جن کا نام سن کر آج بھی ایوان اطالوی لرز اٹھتا ہے اور دنیا بجا طور پہ آج بھی "عمر المختار ؒ ” کو صحرائی شیر کے نام سے یاد کرتی اور جانتی ہے اور حال ہی میں وقت کے سپرپاور امریکہ کا بھاگنا اور مٹھی بھر افغانی کی توقیر دنیا کے سامنے ہے ؛ جس قوم کے مربی اس قدر دلیر اور جاں باز ہوں اس قوم کے نوجوانوں پہ مایوسی و ناامیدی زیب نہیں دیتی وہ کیوں کر حکم ربانی ” لا تقنطوا من رحمة الله ” کے خلاف جاسکتے ہیں اور کیوں کر ان کے عزم و حوصلہ کو بس میں کیا جاسکتا ہے جنہیں فتح و نصرت اور کامیابی و کامرانی کا پروانہ بارشاد باری تعالی: "وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين” مل چکا ہو آخر انہیں حالات کیوں کر دبا اور کچل سکتی ہے.
تاریخ گواہ ہے آزمائش ہم پہ اتری تو سرخرو بھی ہم ہی ہوئے حالات ہم پہ آئے تو اس سے نکلنے کی سبیل ہم نے ہی کی ، خوابیدہ ہوئے تو ہم پہ جگانے والے مسلط کیے گئے اور جب ہم جاگ گئے تو کسی کی مجال گزر نہ ہوئی.
مجال تھی جو کوئی روکتا زمانے میں
ہم اپنے دم سے صبا تیغ بے پناہ رہے
ہر دور نے ہمارے عدل و انصاف فتح و نصرت عزم و ہمت بہادری و دلیری اور طرز حکمرانی کی نغمہ سرائی کی ہے ؛ ہم ساتویں صدی میں ظہور پذیر ہوئے فاران کی چوٹیوں سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور جہاں کہیں پڑاؤ رہا وہاں کے رہائشی گرویدہ ہوکر ہمارے ساتھ محو سفر ہوگئے غریب و لاچار کی مسیحائی کی انہیں جہالت و ناخواندگی سے نکال کر علم و ہنر کا فلسفہ سمجھایا اور دنیاوی خداؤں سے رشتہ توڑ کر مالک حقیقی سے ان کا رشتہ جوڑ دیا اور ہر کسی کو کھلی فضا میں سانس لینے کا حق دے کر جینے کا سلیقہ سکھایا جسے دیکھ وقت کے سپر پاور طاقتوں کی رات کی نیندیں اڑ گئیں؛ آٹھویں صدی میں عرب سے باہر قدم رکھا مغربی ایشیا شمالی افریقہ وسط ایشیا جنوبی ایشیا اور جنوبی یورپ کی سرحدوں تک پہنچے ظالموں کو انجام تک پہنچایا مظلوموں کی امید بنے جہاں بھر کو پیغام امن دیا اور دنیا سے اپنی شرائط منظور کروائے؛ نویں صدی میں ہماری بانگ ملک ملک اور خطہ خطہ میں سنائی دینے لگا دسویں صدی میں دنیا ہمارے سامنے دست بستہ کھڑی ہماری روشن تاریخ پہ رشک کر رہی تھی گیارہویں صدی میں ہر شخص کی زبان ہماری مدح خواں تھی بارہویں صدی میں حالات آئے پھر بھی ہم ہی سرخرو ہوئے اور فتح بیت المقدس کا سہرا سر سجا تیرہویں صدی نے ہمیں بہت سا زخم دیا نڈھال کرکے بےسہارا صحراؤں میں بھٹکنے پر مجبور کیا پہاڑوں میں پناہ لےکر تازہ دم ہوئے اور پھر ہم نے ازسرنو آغاز کیا اور دنیا کو سرنگوں کرکے پیغام امن و امان عام کیا عدل و انصاف کا بول بالا ہوا
دنیا کو تسخیر و تخلیق کا ہنر سکھایا علم و ہنر کی درسگاہیں دی ، رعایا خوش اور امرا رحم دل ہوئے یہ حسین سفر صدیوں پہ محیط رہا لیکن امن و شانتی کے دشمنوں کا ہاضمہ زیادہ دیر صحیح نہ رہ سکا انہیں امن کب راس آنا تھا لہذا اٹھارہویں صدی سے امن کے دشمنوں نے سر ابھارنا شروع کر دیا انیسویں صدی تک کافی کمک اکٹھا کر لیا اور چہار جانب فتنہ و فساد کو فروغ ملا اور بیسویں صدی میں امن کا یہ ستارہ غروب ہوگیا باوجودیکہ ہمارے قدموں کو متزلزل نہ کرسکا ہم نے ان صدیوں میں بھی وہ کر دکھایا جو تاریخ کا سنہری باب ہے ؛ لیبیا کی سرزمین ہماری جرات کی گواہ صحرا و بیابان ہمارے قدموں کی آہٹوں سے واقف اور پہاڑ کی چوٹیاں اور غاریں ہماری تدبیروں کے معاون و مشیر ہیں ؛ اور اس وقت کی سپر پاور اطالوی حکومت ہماری قوت بازو سے لرزہ ہیں ؛ سوویت یونین کا ٹکڑا بخرہ بھی ہمارے سامنے ہے اور یہ زخم ابھی تازہ ہیں؛ اکیسویں صدی کا آغاز گرچہ کچھ بہتر نہیں ہوا ؛ ہم سوئے ہوئے تھے کسی نہ کسی کو تو ہمیں جگانے پہ مسلط ہونا تھا سو ہوا بھی وہی ہر چہار سو سے ہمیں گھیرے میں لے لیا گیا اور ہر طرح سے بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ؛جب ہم بیدار ہونے لگے تو خوب شور مچا کہ ابھی تو مٹھی بھر ہی ہوش میں آئے ہو، سنو! بےسروسامانی میں دنیا کی عظیم طاقتوں سے برسرپیکار ہونا تمہارے بس کا نہیں؛ عقل و دانش چیخ رہی تھی کہ نئے ہتھیاروں اور جدید ٹکنالوجی سے لیس سپر پاور سے پنگا لینا حماقت ہے، منٹوں میں مٹ جاؤ گے اور تمہارا نام لیوا تک اس جہاں میں کوئی نہ ہوگا لیکن بقول شخصے "عقل و دانش محو تماشائے لب بام کھڑی دیکھتی اور نہ جانے کیا کیا سوچتی رہی”. مٹھی بھر بیدار مغز مومنین صادقین کے سامنے وقت کی عظیم طاقتیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور اتحادیوں سمیت برسوں کی ناکامیاں سمیٹے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس کی.
اسلیے ہم بےباک ببانگ دہل کہتے ہیں یہ صدی بھی ہماری ہوگی (ان شاء اللہ) ہمارے پائے ثبات کو متزلزل کرنے کا ہنر دنیا نے ابھی سیکھا نہیں ہے ہمیں مٹانے والے اپنے خوابوں سمیت صدیوں پہلے دفن ہوچکے ، ہر صدی میں ایسوں کی لمبی لسٹ ہے اب بھی حالات آئے ہیں گھٹن میں اضافہ در اضافہ ہورہا ہے اور ابھی تو جہاں کو صف بستہ ہوکر ہمارے خلاف ہونا باقی ہے.
برادران وطن _جنہیں ہم نے جینے کا سلیقہ سکھایا لذت کام و دہن سے آشنا کرایا لطف جہاں کشید کرنے کا طریقہ بتایا ہم کلامی کا ہنر دیا اخلاق و کردار کا پاٹھ پڑھایا اور علم و ہنر کی راہ سجھائی_ گر امن و امان کو سائڈ پہ رکھ کر ہر قسم کے ظلم و تعدی کو جائز سمجھتے ہوئے ہمارے وجود سے نالاں ہیں اور ہمارے شعار کے مٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں تو یقینا یہ ان کے نسلی تعصب کا شاخسانہ ہے اور حقیقت یہ ہےکہ ان کے خواب ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے ہیں جن میں ہمارا قد سما سکے ؛ صدیوں سے ایک ساتھ بھائی بندو بن کر رہ رہے ہیں جس کا لحاظ ہم پر ضروری ہے لیکن اگر انہیں اس کا پاس نہیں تو پھر جس دن ہم نے معذرت کر لی اور بھائی چارہ کا لحاظ کھو دیا اس دن ہندوستان کی تاریخ کے اوراق خون گرم سے سیاہ ہوں گے اور ان شاء اللہ ایک بار پھر ہم ہی اس ملک میں سرخرو و مختار ہوں گے.
سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا
علامہ اقبال.
Comments are closed.