جنگ عین جالوت

طلحہ گلبرگوی

دنیا ئے اسلام کی ایک سب سے اہم جنگ معرکہ عین جالوت ہے جو 25 رمضان 658 بمطابق 3 ستمبر 1260 ہوی تھا۔ جنگ عین جالوت مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان لڑی جانے والی تاریخ کی مشہور ترین جنگ ہے جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطز اور مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار قطبوغہ خان مارا گیا۔

مصر شام اور فلسطین کے سرحدی علاقوں پر مشتمل عین جالوت کا میدان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میدان کو عین جالوت اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت داؤد ؑ نے جالوت نامی ایک ظالم اور جابر بادشاہ کو شکست دی تھی۔

اس معرکہ آرائی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ بیان کیا ہے: ترجمہ:’’ اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا اسے سکھایا۔‘‘(البقرۃ : آیت نمبر:251)

عین جالوت کے معنی ’’جالوت کا چشمہ‘‘کے ہیں اور اس علاقے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔ اس وقت مصر کا حاکم مملوک سلطان سیف الدین قطز تھا اور رکن الدین بیبرس اس کا سپہ سالار ۔سلطان قطز کی فوج کسی بھی طرح تین لاکھ کے لشکر جرار کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی اور اب مصر کی شکست کا مطلب تھا کہ ہلاکو خان کی رسائی حجاز مقدس کے شہروں اور حرمین شرفین تک ہو جاتی اور پھر مراکش، شمالی افریقہ کے مسلم علاقے اور پھر اندلس !مگر اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو بچالیا۔ ایک معجزہ رونما ہوا اور ہلاکو خان کو اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ لے کر قراقرم واپس جانا پڑا ۔

قراقرام کے چوتھے خاقان اعظم منگو خان کا انتقال ہوگیا اور دنیا بھر سے تاتاری شہزادے قراقرم کے مرکزی جرگے جسے قرولتائی کہا جاتا تھا اس میں شرکت کرنے کیلئے قرقرم روانہ ہوگئے۔ ہلاکو خان نے اپنے نائب کتبغا خان کو بیس ہزار کا لشکر سونپ کر واپس قراقرم کی راہ اختیار کی۔یہاں اس دھمکی آمیز خط کا ذکر ضروری ہے جو تاتاریوں کی طرف سے قطز کو لکھا گیا تھا۔

یہ خط ہلاکو خان کی طرف سے لکھا گیا تھا یا کتبغا خان کی طرف سے اس بارے میں تاریخ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بہر حال تاتاری سفیر نے یہ خط سلطان قطز کو پیش کیا۔ ’’یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا آقا ہے کہ اپنی پناہ گاہیں منہدم کر دو، اطاعت قبول کر لو، اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلند و بالا اور جاودانی آسمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘ غالب امکان ہے کہ خط ہلاکو خان نے قراقرم روانگی سے قبل بھیجا تھا جس میں صاف انداز میں اعلان جنگ کیا گیا تھا۔

بہر حال تاتاری سفیر نے رعونت آمیز انداز میں یہ خط سلطان مصر کے سامنے پھینک دیا۔ یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر اور رکن الدین بیبرس کی آنکھیں غصے کے عالم میں سرخ ہو گئیں۔سلطان کو خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے گئے تو سلطان نے سفیر سے کہا کہ ہمارا ہلاکو خان سے کوئی جھگڑا نہیں لہٰذا اسے چاہیے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ کر واپس چلا جائے.

اس پر سفیر نے جواب دیا:’’تو گویا چاہتے ہو کہ تمہارا بھی وہی حشر کیا جائے جو ہم تمہارے خلیفہ کا کر کے آئے ہیں۔ جان لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘‘تاتاری سفیر کا یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے کہا:’’ان تاتاریوں کی زبانیں گدی سے کھینچ کر انہیں قتل کر دیا جائے۔ ہمارے طرف سے خط کا جواب یہی ہے۔‘‘
قطز علماء اسلام کی اھمیت سے بھی بخوبی واقف تھا اور ان کے عوام میں اثرات سے بھی اگاہ تھا۔ اس نے علما سے مدد کی درخواست کی اور ان سے کہا کہ فتح کے لیے دعا کریں اور عوام سے کہا کہ اپنے دین کی سرفرازی کے لیے ثابت قدم رہیں۔ اسنے علما اسلام میں سے اپنے قریبی اور اہم وزیرمنتخب کیے۔
سب سے اہم عالم جنھوں نے سلطان کی مدد کی وہ ” سلطان العلماء” العز بن ابدیس سلام تھے۔ سلطان قطز نےبن ابدیس سلام سے فتویٰ طلب کیا کہ وہ عوام پر مزید جنگی ٹیکس عائد کرسکے تاکہ مزید ہتھیار حاصل ہوسکے۔ دیانت دار عالم نے سلطان پر یہ واضح کردیا کہ حکومت کوئی نیا ٹیکس عوام پرنہیں عائد کرسکتی جب تک کہ گورنر و وزرا اپنی ذاتی دولت اور ان کے تمام رشتہ دار اپنی تمام دولت خرچ نہ کرڈالیں۔ العز نے ان غلام سرداروں کو بھی فروخت کرنے کو کہا کو کہ حکومت کے اہم عہدہ دار تھے مگر قانونی طور پر اپنے مالکان سے ازاد شدہ نہ تھے اور افواج میں طاقت حاصل کرچکے تھے۔
مطلوبہ رقم عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس عائد کیے بغیر پوری ہوگئی۔ عوام جو کہ اس سارے سلسلے کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہے تھے اپنے حکمرانوں کے نافذکردہاسلامی قوانین کے وفادار ہوگئے جیسا کہ انھیںمخلص اسلامی علما کرام نے بتایا۔ مخلص علما نے عوام کو عفلت کی نیند سے جگایا اور انھین قانونی حکمران سے وفاداری اور جہاد کی اھیمت کا احساس دلایا۔ اور اللہ کی راہ میں قربانیوں کی ترغیب دی اور دشمن سے لڑنے کی راہ دکھائی تاکہ خلق خداکو ظلم سے نجات ملے اور اللہ کے ماننے والوںکی نصرت ہو۔

بہر حال 25 رمضان 658 بمطابق 3 ستمبر 1260 کو عین جالوت کے میدان میں منگول سالار کتبغا خان اپنے لشکر کے ساتھ مقیم تھا کہ سلطان قطز اور امیر رکن الدین بیبرس افواج مصر کے ساتھ آ موجود ہوئے۔ہلاکو خان کی روانگی کے بعد دونوں لشکروں میں عددی توازن تقریباً برابر ہو گیا تھا کیونکہ تاتاری لشکر کا بڑا حصہ ہلاکو خان اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

عملی طور پر افواج کی کمان رکن الدین بیبرس کے پاس تھی۔ بیبرس تاتاریوں کے قصے سن کر کہا کرتا تھا کہ:’’وقت آنے دو ہم ان وحشیوں کو بتا دیں گے کہ صرف وہ ہی لڑنا نہیں جانتے بلکہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اِن کی گردنیں دبوچ سکتے ہیں۔‘‘ کتبغا خان کو ہلاکو خان کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ اس کی واپسی تک اسی جگہ قیام کرے اور مصر پر ہرگز حملہ آور نہ ہو۔امیر رکن الدین بیبرس کو جب ہلاکو خان کی واپسی کی اطلاع ملی تو اس نے سلطان قطز کو فوراً منگولوں پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح باقاعدہ طور پر آگے بڑھ کر رکن الدین بیبرس نے منگول لشکر پر حملہ کر دیا۔

عین جالوت کی اس تاریخ ساز جنگ میں رکن الدین بیبرس نے تاتاریوں پر ان کا اپنا طریقہ حرب استعمال کیا۔ اس نے اپنے چند دستے ایک گھاٹی میں گھات لگا کر بٹھا دیے۔ بیبرس نے ابتدائی طور پر پسپائی کا انداز اختیار کیا اور منگول اس کی چال میں آ کر گھاٹی میں پھنس گئے۔ گھات لگا کر دشمن کو تنگ جگہ لا کر پھنسانا تاتاریوں کا اپنا انداز جنگ تھا جو رکن الدین بیبرس نے خود ان پر استعمال کیا اور ماضی کی فتوحات کے نشے میں سرشار کتبغا خان بیبرس کی چال میں آ گیا۔ گھاٹی میں گھات لگائے محفوظ مصری دستے نے منگولوں کو تحس نحس کر دیا۔ منگول لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ دو اطراف سے مسلمانوں میں گھر گئے۔

بیبرس نے منگول فوج کا قتل عام کیا اور انہیں اس بری طرح سے مارا کہ تاریخ میں اس سے پہلے تاتاریوں کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ کتبغا خان بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور بیبرس نے اسے قتل کر دیا۔ منگول لشکر مکمل طور پر قتل یا گرفتار ہو گیا تھا۔ مقتول سالار کتبغا خان کی لاش کی نمائش قاہرہ کی گلیوں میں تاتاری قیدیوں کے ساتھ کی گئی اور بعد ازاں ان قیدیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔عین جالوت کے میدان میں تاتاریوں کی شکست کی خبریں شام اور فلسطین کی منگول مقبوضات میں آگ کی طرح پھیل گئیں۔ مسلمانوں نے منگول حاکموں کے خلاف بغاوت کر دی اور جگہ جگہ سے خبریں آنے لگیں کہ مسلمانوں نے تاتاریوں سے شہر واپس لینے شروع کر دیے ہیں۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے شام اور فلسطین کی اکثر مقبوضات منگول تسلط سے آزاد ہو گئیں۔

اس طرح منگولیا سے اٹھنے والی کالی آندھی چالیس سال تک مظلوم مسلمانوں کا خون پی کر عین جالوت کے میدان میں رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی تاتاریوں نے مسلمانوں کے علاقوں پر کئی حملہ کیے مگر ان کے ناقابل شکست رہنے کا تاثر ختم ہو گیا تھا اور اب مسلمان ہر جگہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ہندوستان پر مسلسل تاتاری حملے اور خلجیوں کا کامیاب دفاع اس کی ایک روشن مثال ہے۔معرکہ عین جالوت سے قبل سلطان مصر سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ فتح کے بعد شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقے بیبرس کے تصرف میں دے دیے جائیں گے۔

مگر بعد میں سیف الدین قطز مکر گیا اور اس طرح قطز اور بیبرس کے درمیان رنجش پیدا ہو گئی اور معرکہ عین جالوت کے چند دنوں بعد ہی پراسرار طور پر سلطان قطز قتل کر دیا گیا اور رکن الدین بیبرس سلطان مصر بن گیا۔ سلطان قطز کے پراسرار قتل میں تاریخ میں سلطان بیبرس کا نام مشکوک انداز میں لیا جاتا ہے۔

۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مصر و شام کو منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچایا۔ ورنہ ان ملکوں کا بھی وہی حشر ہوتا جو ایران، عراق اور ترکستان کا ہوا۔ اس جنگ کے بعد منگولوں کے حملے ختم ہوگئے اورمسلمان بادشاہ انکے علاقوں پر حملہ آورہوئے سرزمین حجاز کے آخری اہم قلعےیعنی مصرکی جنگ سے عین پہلےمنگولوں کے سب سے بڑے بادشاہ مونگے خان کا مرنا، اور ہلاکو کا اپنی اکثر فوج کے ساتہ منگولیا واپس جانا اورپھرمنگول سیول وار کی وجہ سے اسلامی دنیا کی طرف واپس نہیں آسکنا اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ عین جالوت کی جنگ میں صرف مملوک اور منگول نہیں بلکہ خدائی نظام کا بھی بہت بڑا رول تھا۔ بلکہ اگر کہا جائے کہ اللہ نےاس دفعہ ابابیل بھیجنے کے بجائے اپنے مجاہدوں سے حرمین اور بیت المقدس وغیرہ کا تحفط کیا تو بھی شائد غلط نہ ہوگا۔
ملوک اور منگول افواج کا عین جالوت میں ٹکراؤ عالمی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے — جس کا تقابل میراتھن، سلامز، لپانٹو، کالونز اور طوغ – کی جنگوں سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس جنگ نے اسلامی و مغربی تہذیب کے مستقبل کا تعین کیا۔ اگر منگول مصر فتح کرنے میں کامیاب ہو جاتے، تو وہ بلاشبہ ہلاکو کی واپسی کے بعد مشرقی افریقہ میں آبنائے جبرالٹر تک پیش قدمی کرتے۔ یوں یورپ پولینڈ سے ہسپانیہ تک منگولوں کے گھیرے میں آ جاتا۔ ان حالات میں کیا یورپ میں نشاۃ ثانیہ واقع ہوتا؟ اگر ہوتا تو اس کی بنیادیں بلاشبہ کہیں زیادہ کمزور ہوتیں اور دنیا ممکنہ طور پر آج ایک کہیں مختلف مقام ہوتی۔

(یہ مضمون طلحہ گلبرگوی نے شاہ ولی اللہ ریسرچ فاؤنڈیشن کیلئے لکھا ہے)

Comments are closed.