سندرلال کمیٹی رپورٹ سے پرے حیدرآباد پولیس ایکشن میں مسلمانوں کا قتل عام

 

عبید باحسین (7350715191)

ملک عزیز کے مسلمانوں پر ظلم کی داستانوں پر جتنی بات کی جائے کم ہی ہے ۔ ایک طرف تقسیم ہند کے وقت شمالی ہند کے مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ تو سب کے سامنے موجود ہے ۔ لیکن جنوب ہند کے مسلمانوں پر تقسیم ہند کے ایک سال بعد جو قیامت صغریٰ طاری ہوئی تھی اس متعلق کم ہی لکھا، بولا اور پڑھا جاتا ہے ۔ لمبی بات چیت کے دور کے بعدسنہ 1948میں جب ریاست حیدرآباد نے بھارت میں انضمام کی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔بھارتیہ حکومت نے اس خوبصورت فلاحی ریاست پر فوجی کاروائی کرتے ہوئے کسی بھی شرط پر اسے بھارت میں ضم کرنے کی زبردستی کی اور 17ستمبر1948کو جنوبی ہند کی واحد مسلم ریاست کو بھارت میں ضم کر دیا گیا۔ اس ریاست کے آخری بادشاہ ساتویں نظام میر عثمان علی خان کو ریاست حیدرآباد کا پہلا راج پرمکھ بنا دیا گیا ۔ ان کے خاندان کے گزران کے لئے تمام تر وظیفہ جات سے انھیں نوازا گیا۔ عزت بخشی گئی ۔ لیکن نئے راج پرمکھ کو نئے اقتدار ملنے سے پرجا کا کہاں کچھ فائدہ ہونا تھا۔ فوجی کاروائی کی شروعات ہی سے رضا کاروں کے نام پر چن چن کر گائوں دیہاتوں میں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ مسلم خواتین کی عزت ریزی کی گئی۔ مسلمانوں کی زمینات پر قبضہ کر دیے گئے اور خالی مکانات کو آگ کے سپرد کریا گیا۔

 کرناٹک اور مہاراشٹر میںمسلمانوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہوالیکن حیدرآباد اور اکناف میں اتنے برے حالات نہیں تھے ۔ اس لئے اضلاع سے کئی خاندانوں نے حیدرآباد شہر میں پناہ لی اپنے نا م بدل کر رہنے پر مجبور ہوئے۔ انہی میں میر ے پرنانا عبدالصمدخان صاحب بھی تھے ۔ جو ناندیڑ شہر کے صرافہ میں رہتے تھے اور پولیس محکمہ میں امین کے عہدے پر فائز تھے ۔ پولیس ایکشن کے دوران بھارتیہ افواج مراٹھواڑہ کی اور بڑھنے لگی ، ناندیڑ کے حالات بھی کشیدہ ہونے لگے ، میرے پرنانانے اپنی ۴ لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے کر حیدرآباد میں پناہ اختیار کر لی ۔ کئی دنوں تک حیدرآباد میں رہے اور بعد میں نظام آباد کے کسی تحصیل میں اپنی پہچان چھپاکر رہنے لگے ۔ میری نانی کہتی تھی کے اس رات کو جب ناندیڑ کے صرافہ میں موجود حویلی سے جو ٹرک کے زریعے جان بچاکر نکلے تھے ، راستہ میں لوٹ مارکے ڈر سے چاول بناکر اس میں اپنے سونے کے زیورات چھپاکر لے گئے تھے ۔ کئی دنوں تک انھیں کو بیچ کر گزر بسر کی بعد میں کسی مقام پر معمولی نوکری کر اپنے خاندان کی پرورش کی ۔کچھ سال پہلے تک وہ حویلی صرافہ میں موجود تھی جس پر غیر مسلموں نے قبضہ کر لیا ۔  

میرے نانی کے خاندان کی طرح ایسے کئی ہزاروں خاندانوں نے پناہ گزینی اختیار کر لی ۔ جن کے بس میں تھا ، وہ ممبئی کے راستے پاکستان ہجرت کر گئے ۔ لیکن جنھیں ممکن نہیں تھا وہ شہر کے محفوظ علاقوں میں رہنے لگے۔حیدرآباد میں ویسے بھی کثیر تعداد میں شمالی ہند کے مسلمانوں نے سنہ 1947کے مسلم کش فسادات سے بچنے کے لئے پہلے سے نام پلی ریلوے اسٹیشن کے قریب پناہ لے رکھی تھی ۔ پاکستان کے مشہور صحافی ابراھیم جلیسـ جن کا تعلق عثمان آباد سے تھا ، انھوں نے اپنی کتاب’’ دو ملک اور ایک کہانیـ‘‘ میں حیدرآباد سے لے کر لاہور تک کے ان کے ازیت بھرے سفر کا زکر کیا ہے ۔ اس کتا ب کو ضرور پڑھا جانا چاہے۔ لیکن ایسے بس کچھ ہی خاندان تھے جنھیں ازیتوں کے ساتھ ہی صحیح لیکن پناہ تو ملی لیکن ایسے کئی خاندان تھے جنھیں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑی ۔ ناندیڑ شہر کی بات کی جائے تو قندہار ، لوہا ، بھوکر سے لے کر تامسا تک مسلمانوں کو چن چن کر مارا گیا ۔ ناندیڑ شہر میں موجود اتحادالمسلمین کے زمہ دار نزیر علی صاحب ہاشمی ایڈوکیٹ و دیگر کی گرفتاریاں عمل میں آئی۔ مرزا احمد بیگ چغتائی صاحب نے ان کتاب ’’تاریخ دکنـ‘‘ میں لکھا ہے کہ فوج کے داخلے کے دوسرے دن (10) پٹھانوں اور( (20عربوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی۔ سہ روزہ کرفیو نافذ رہا۔ لیکن مقامی ہندوئوں اور سکھوں کی سفارشات پر فوجی انتظامیہ نے انھیں جلد رہا کر دیا۔

سندر لال کمیٹی رپورٹ سے پرے۔۔

بہت سار ے لوگ صرف سندر لال کمیٹی کا حوالہ دیتے ہیں جب کہ اس کے علاوہ دیگر کئی ایسے دستاویزات موجود ہیں جس میں کانگیریس کی عدم تشدد کا چہری بے نقاب ہوجاتا ہے ۔مہاتما گاندھی کو ہندوتوادی فرقہ پرست نتھورام گوڑسے نے 30جنوری 1948کو قتل کر دیا تھا۔ مسلمانوں کے لئے اب آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں بچا تھا۔ 11ستمبر 1948کو پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد مولانہ ابولکلام آزاد کی بھی ان کے اچھے دوست رہے پنڈت نہرو بھی نہیں سنتے تھے۔

-1  حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کے ممبئی دفتر سے شائع کردہ دستاویز ـ”Thus Fought Marathwada”میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانگریسیوں نے صرف اگست 1948تک  844مسلمان رضاکار، روہیلا پٹھانوں اور عربوں کو شہید کر دیا تھا۔ 

-2  بھارت سرکار کے اعلی ٰ افسر آ ئی سی ایس رہے و ی ٹی دہیجیا نے وزیر داخلہ کو بھیجی گئی اپنی ایک رپورٹ بتاریخ 5 ڈسمبر 1947میں واضح لکھا ہے کہ ضلع رائچور میں کانگریسوں نے سنہ 1947میں ایک گائوں پر حملہ کر مسجد کو شہید کر دیا۔

 -3ٹائمز آف انڈیا کی16مئی، 24مئی اور 4اگست 1948کی مختلف رپورٹوں کی مطابق سرحدی سولاپور اور دیگر اضلاع میںمسلمانوں کے پاس کے ہتھیار ضبط کئے گئے اورمقامی ہندو کانگیریسی غنڈوں میںکلکٹر کے زریعے ہتھیار بانٹیں گئے ۔

-4 16 اگست 1948کو نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی گرفتاریں عمل میں لائی گئی حتیٰ کے مسلم ارکان اسمبلی کی بھی گرفتاریاں کی گئی ۔ 

 -5حیدرآباد سے آنے والی اطلا عات کو سن کر مولانہ ابولکلام آزاد کو بھی دلبرداشتہ ہوگئے اور انھوں نے بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو کو 23نومبر 1948میں خط لکھ کر حیدرآباد کے حالات پر رنج و غم کا اظہار کیا اور انھوں حیدرآباد دورہ کرنے کی اجازت مانگی ۔

-6  لیکن 29نومبر سنہ 1948کو سردار پٹیل کی ڈائیری  (Inside Story of Sardar Patel : Diary of Maniben Patel: 1936-5)کے مطابق سردار پٹیل نے انھیں وہاں جانے سے منع کر دیا تھا ۔

-7  اس کے باوجود مولانہ آزاد کو نہ حیدرآباد نہ بھیجتے ہوئے پنڈت نہرو نے حیدرآباد کے حالات کا معائنہ کرنے کیلئے سینیر کانگریسی قائد پنڈت سندر لال و دیگر کو حیدرآباد واضلاع کا دورکرنے ایک کمیٹی کی شکل میں بھیجا ۔ 

 -8ایک انگریز Wilfred Cantwell Smithنے اپنے تحقیقی آرٹیکل میں سنہ 1950میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ 50ہزار سے 2 لاکھ مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے ۔ 

 -9خودریاست حیدرآباد کے سرکاری دستاویز  Hyderabad Reborn: First Six Months of Freedom میں حکومت نے یہ قبول کیا تھا کے پولیس ایکشن کے صرف چھ ماہ کے اندر ہی ناندیڑ کے کنوٹ اور عادل آباد کے نرمل میں مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا ۔ 

-10حکومت حیدرآباد کی جانب سے سنہ 1951میں ریاستی کانگریسی قائدنرسنگ رائوکی قیادت میں ایک کمیٹی نے عثمان آباد کے 47گائوں کا دورہ کر اپنی رپورٹ Confidential Report of Rehablition Committee Appointed by Government of Hyderabadمیں لکھا ہے کہ پولیس اییکشن کے بعد صرف 47گائو ں میں 2500بیوائیں اور 6000یتیم بچے موجود تھے ۔ انھوں نے حکومت کو سفارش کی کی عثمان آباد ضلع کے حساب سے کسی بھی اسکیم کے لئے حکومت 10000بیوائوں اور 25000یتیم بچوں کے حساب سے پلاننگ کرے۔ 

 -11سنہ 1950میں دستور ساز اسمبلی کے ممبر اور جمعیت العلمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولوی حفظ الرحمن نے نہرو کو مراٹھواڑہ کے اضلاع کا دورہ کر ایک رپورٹ 9جنوری 1950کو دی جس کے مطابق عثمان آباد میں  2000بیوائیں اور 1222اورنگ آباد میں موجود تھی۔ 

 -12پنڈت سندرلال کمیٹی رپورٹ کی تحقیقات کوسردار پٹیل اور ملٹری گورنر چودھری نے سرے سے مستر د کر دیا ۔لیکن ملٹری گورنر نے 19نومبر سنہ 1948کو بھارت سرکار کو دی گئی ایک رپورٹ A report on Certain Aspects of the Situation in Hyderabad میں اس بات کو تسلیم کیا کہ فرقہ پرستوںہندوئوں کو پولیس ایکشن کے بعد یہ لگنے لگا کہ اب ریاست حیدرآباد میں ہندو راج آگیا ہے ۔ ہندو فرقہ پرستوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے نام تقریباََـ2000سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کر دیاتھا ۔

19 -13اکتوبر کو نہرو نے پٹیل کو خط لکھ کر حیدرآباد میں جو کچھ ہوا اسے پنجاب ریاست میں ہندوئوں کے ساتھ ہوئے خوفناک اور غیر انسانی سلوک کے برابر قرار دیا ۔

-14لیکن سردار پٹیل جہاں ہندو قیدیوں کو رہا کر رہے تھے وہیں تقریباََ 1600مبینہ رضاکار جیلوں میں بند تھے ۔شروعاتی دور میں تو رضاکاروں کے بام پر 15000سے زائد مسلمانوں کو جیلوں میں بنا کوئی سنوائی کے قید کر دیا گیا تھا۔ 

-15 ریاستی کانگریس کے صدر سوامی رامانندتیرتھ نے سردار پٹیل کو  10مئی 1949کو ایک خط لکھ کر مسلمانوں پر ہوئے اس ظلم و زیادتی کو صحیح ٹہر انے کے لئے رضاکاروں مبینہ ظلم کو زمہ دار ٹہرایا اور اس قتل و غارت گیری کو  ہندوئوں کے ردِوعمل کے طور پر پیش کیا ۔

-16جنرل چودھری نے بھی 17جون 1949کو وزرات داخلہ کو ایک رپورٹ دی کی ریاستی کانگریس نے پارٹی فنڈ کے نام پر مسلمانوں کی پراپرٹی کا ہراج کیا اورمسلم امراء سے چندے کے نام پرپیسوں کی ناجائز مانگ کی ۔ 

-17صرف مسلمان ہی ان فرقہ پرست کانگریسیوں کے نشانہ پر نہیں تھے بلکہ دلت سماج کے بھی زمینوں کو ان کانگریسیوں نے نہیں بخشا۔  دلت معاملوں کی جانکار Gail Omvedtنے اپنی کتاب Dalits and  the Demoratic Revolution   میں لکھا ہے کہ دلتوں کی جماعت(DCA)  Depressed Classes Associations  جس میں بیشتر مراٹھی زبان میں بات کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ دلت شامل تھے ۔ جو کے مسلمانوں کے تئیں ہمدردی بھی رکھتے تھے اور خود نظام کی پالیسیوں نے اس بات کو ثابت کیا تھا کہ نظام سرکار ہر ایک طبقہ کے ساتھ ہے۔ دلت مسلم اتحاد کی یہ ایک نظیر ہی تھی۔ جب کہ حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس صرف ہندوتوادی فرقہ پرستوں کی جماعت بن گئی تھی ۔ جب کہ نظام حکومت نے کئی بے کار پڑی زمینات کو دلتوںکو بطور انعام دے دیا تھا ۔اسی وجہہ سے ہندوتوادی کانگریسی لیڈروں نے حیدرآباد اسٹیٹ کے بھارت میں انصمام کے بعد دلتوں پر زبردستی کر کے یہ زمینات واپس لینے کے لئے تشدد کاتک سہار ا لیا۔DCA میں لاتور سے سوپن رائو دھنوے ، پربھنی سے گنپت رائو واگھمارے ، اورنگ آباد سے گوند رائو گائکواڑ اور ناندیڑ سے ہنمنت رائو مورے و دیگر دلت لیڈران شامل تھے۔ 

-16موجودہ حالات کشمیر کے اندر آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے بعد جس طرح سے حکومت کے دبائومیںآکرکشمیری مسلم لیڈران نے موجودہ حکومت کے حق بیان بازی کی تھی ، اسی طرح کی کوشش بھارت سرکار نے سنہ 1948کے بعد بھی کئی سال تک جاری رکھی ۔ کئی مسلم قومی لیڈران نے حکومت سے وفاداری کا ثبوت دینے کے لئے حیدرآباد کے حالات پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی ۔ لیکن سردار پٹیل کے لئے اتنا کافی نہیں تھا۔سردار پٹیل نے 6جنوری 1948 کو لکھنو میں دی گئی ایک تقریر میں صاف کہہ دیا تھا کہ صرف حکومت سے وفاداری کا اعلان یا خاموشی کافی نہیں ، آپ کوحکومت کے حق میں بیانات دے کر اپنی وفاداری کو ثابت کرنا ہوگا۔ 

-17بسمت نگر ضلع ہنگو لی کے تحصیلدار اور بلولی ضلع ناندیڑکے ڈپٹی کلیکٹر رہے فرید مرزا صاحب نے اپنی کتاب Pre and Post Police Action Days میں اپنے کئی مشاہدات کو کھل کر لکھا ہے ۔پنڈت سندرلال کمیٹی میں فرید مرزا بھی بحثیت رکن شامل تھے۔ فرید مرزا وہی شخض تھے جنہوں نے نظام اور رضاکاروں کی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔  فرید مرزا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ۔ 18ستمبر کی صبح جب انھوں نے حیدرآباد کی سڑکوں پر نکلے تو انھیں ہزاروں ہندو نوجوان اپنے ہاتھوں میں ترنگا لئے سڑکوں پر سردار پٹیل کی جئے ، اسٹیٹ کانگریس کے جئے کے نارے لگاتے دکھائی دیئے ۔ جب کے مسلمان غم و خوف میں مبتلا نظر آرہے تھے ۔ مسلمانوں کی ہمت ٹوٹ گئی تھی ۔ ان کے قائدین کی دی گئی جزباتی تقریروںکا نشہ چور چور ہوگیا تھا جو آصفیہ پرچم کو لال قلعہ پر لہرانے کی بات کررہے تھے وہ کہی دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔

-18 اسٹیٹ کانگریس کے لیڈر گوند رائو مہسیکر کے ساتھ فرید مرزا 11اکتوبر سنہ 1948کو ناندیڑ کادورہ کیا۔ جب فرید مرزا ناندیڑ آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ناندیڑ کے ریلوے اسٹیشن پر مسلمان کہیں نظر نہیں آرہے ، گورکھا جوان اپنے ہاتھوں میں رائیفل لئے ریلوے اسٹیشن پر طعینات نظر آرہے تھے ۔ فرید مرزا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے ناندیڑ ، بسمت نگر اور نظام آباد کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے حال جانے انھوں یہ سن کر بڑا افسوس ہوا اور غصہ آیا کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہورہا تھا ۔ وہاں پر آرمی کے جوان یا تو ظلم میں ملوث تھے یا تماش بین بنے ہوئے تھے ۔ فرید مرزا نے اپنے دورہ کی تمام رپورٹ حیدرآباد کانگریس کے صدر سوامی رامانند تیرتھ اور قاضی عبدالغفار کے سامنے رکھی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب وہ پنڈت سندرلال کے ساتھ جب دورہ پر تھے تو مسلم خواتین نے ان کے سامنے روتے ہوئے اپنے عصمت ریزی کی داستان بیا ن کی کہ کیسے ایکے بعد دیگر ہندو نوجوانوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی انھیں رات رات بھر سونے نہیں دیا گیا ۔ یہ سن کر پنڈت سندر لال پر بھی خوف طاری ہوگیا۔ پولس ایکشن کوہوئے ایک طرف مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا تھا تو دوسری جانب مسلم افسران کو سرکاری خدمات سے برطرف کیا جارہا تھا ۔ فرید مرزا نے یہ شکایات سردار پٹیل کے سامنے بھی کی تھی لیکن کچھ ایک حل نہ نکل سکا ۔ 

-19فرید مرزا اس کے بعد بھی ناندیڑ دورہ پر آتے رہے ۔ جب انھوں نے ناندیڑ شہر سے منسلک تامسا گائوں کا دورہ کیا تو وہ کافی حیران ہوگئے اور انھوں نے انسپیکٹر جنرل آف پولیس کو 13مئی 1949کو ایک خط لکھ کر تامسا میں ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی شکایت کی ۔ انھوں نے لکھا کے 23اکتوبر 1948کو آرمی نے 26مسلم نوجوانوں کو گھسیٹ کر گھر سے باہر لے گئے ۔ 3 مسلم نوجوانوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ جب کہ 23 مسلم نوجوانوں کو جنگل میں لے جاکر گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ 23مسلم نوجوان پر ہوئی ان کاروائیوں کے وقت مقامی انتہا پسند جنگل میں آرمی کے ساتھ موجود تھے ۔ اسی طرح اورنگ آباد کے بھوکر دن میں ہر گھر سے مسلم مردوں کو باہر نکال کر ہندو توادی غنڈوں نے شہید کرد یا۔ سینکڑوں خواتین کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کر دیا گیا ۔

-20تامساکے متعلق My Dad to Jinnah Sahib – The demise of Hyderabad Deccanنامی کتاب میں سید جعفر لکھتے ہیں کے تامسا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مسعود جوکہ ICCSR Osmania University کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے ، ان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مرنے والوں میں ان کے رشتہ داربھی شامل تھے۔ جن کے نام اعظم خان ، اسحاق الدین ، اما م الدین ، سردار الدین ، انورالدین تھے ۔ اسی کتاب میں ان کے حوالے سے زکر کیاگیا ہے کہ ان کے رشتہ دار جو مجلس کے لیڈر تھے ، ان کا قتل کرکے زبردستی ان کی بیٹی کی شادی غیر مسلم سے کرادی گئی ۔ 

-21 عثمان آباد کے مسلمانوں کے ساتھ تو دو طرفہ حملے ہوئے ، فوجیوں نے نوجوانوں کو لائن میں لگاکر مار دیا تو دوسری جانب ہندو فرقہ پرستوں(آریا سماجی اور کانگریس کے کارکنان) نے مسلم خواتین کی عزتیں لوٹی ۔ گائوں کے گائوں خالی ہوگئے ۔اس وقت کی حیدرآباد اسمبلی میں ناندیڑ کے ایم ایل اے اور اس وقت کے حزب اختلاف کے لیڈر کامریڈوی ڈی ڈیشپانڈے نے مسلمانوںکے حالات پر اپنے سوالات سے کہر ام مچادیا تھا ۔وی ڈی دیشپانڈے کا حیدرآباد اسمبلی میں معاملات کو اٹھانا اخبارات کی سرخیاں بن گیا تھا ۔ ریاستی حکومت گھبرا گئی تھی ۔  اس بات کا ذکرعمر خالدی کی کتاب سقو ط حیدر آباد میں موجود ہے ۔ 

-22اس کا اثر یہ ہوا کہ بھارت کے وزیراعظم پنڈت نہرو نے سنہ 26اور 27 ستمبر 1952 کو عثمان آباد اور بیدر کا دورہ کیا ۔ عثمان آباد میںمسلم بیوہ خواتین نے کاعثمان آباد کانگریس کے صدر پھول چند گاندھی کی لاکھ رکاوٹوں کے باوجود راستہ روک کر پنڈت نہرو کے سامنے اپنی داستان بیان کی ۔اس کے بعد پنڈت نہرو نے مسلمانوں کی باز آباد کاری کے لئے ریاست حیدرآباد کے مسلمانوں اور خاص کر عثمان آباد کے لئے خصوی فنڈ بھجوائے ۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، تعمیر ملت اور جمییت علمائے ہندکے رہنمائوں نے اس وقت مظلوم مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا ، ان کا سہارا بنے ۔

-21 عثمان آباد کے حالات پر اس وقت کے کلکٹر رہے محمد حیدر کی کتاب  ــ’’October Coupــ‘‘  جو کہ انھوں نے سنہ 1949میں عثمان آباد کی جیل میں قید کے دوران لکھی تھی ، ضرور پڑھنا چاہیے۔ کرناٹک کے حالات اس سے بھی زیادہ سنگین تھے ۔لیکن احقر کو اس متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں ۔ 

-22لکھنو سے تعلق رکھنے والے علی گرھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کردہ قاسم رضوی مجلس اتحاد المسلمیں کے صدربنے سے قبل لاتور میں وکالت کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ بہادر یا رجنگ کی کرشمائی شخصیت اور تقریروں سے سے مجلس کی طرف راغب ہوئے ۔ اپنی تمام زندگی مجلس کے لئے وقف کردی ۔ خطیب دکن بہادر یار جنگ کے کم عمری میں انتقال کے بعد ہی قاسم رضوی کو مجلس کے قیادت مل گئی تھی۔ قاسم رضوی نے نظام کے تئی آخر تک ایمانداری کا ثبوت دیا۔ اگر وہ چاہتے تو حیدرآباد چھوڑکر بھاگ جاتے تھے لیکن انھوں نے گرفتاری دی ۔ جیل ہوئی ۔ بی بی نگر ڈکیٹی کیس اور شعیب اللہ خان کے قتل کے معاملے میں انھیں سزا بھی ہوئی۔حیدرآباد کی چنچل گوڑہ اور  پونے کی یروڑا جیل میں قید رہے ۔ سزا مکمل کرنے کے بعد جب وہ باہر نکلے تو پہلے جیسی کوئی بات نہ رہی ۔لیکن کچھ اردو مصنفین اس بات کو لکھتے ہیں کہ جب قاسم رضوی پونے یروڑا جیل سے رہاہوکر پونے سے حیدرآبا د آرہے تھے ان کا جگہہ مسلمانوں اور رضاکاروں نے گاڑی رکا کر استقبال کیا ۔ 

-23 12 ستمبر 1957کو سزا ختم کرنے بعد وہ حیدرآباد آئے اور مجلس کے لیڈران سے میٹنگ کی ۔ کہتے ہیں کے مجلس کی قیادت کو قبول کرنے کوئی تیار نہیں تھا لیکن بالآخر ایڈوکیٹ عبدالواحد اویسی نے یہ زمہ داری قبول کی ۔ اس وقت رضوی  سیان کے ساتھی کہنے لگے کے آپ یہاں رک جائیے ۔ تو انھوں کہا کہ وہ سزا یافتہ ہیں اس لئے عدالت میں وکالت کا کام بھی نہیں کر سکتے ۔ پھر یہاں رہ کر وہ کیا کرینگیں ۔قاسم رضوی اپنے دوستوں کے ہمراہ بمبئی گئے اور وہاں سے ایک طیارہ سے کراچی پاکستان ہمشہ کے لئے رخصت ہوگئے ۔ اس رات پاکستان ریڑیو نے حیدرآباد یہ خبر پہنچا دی تھی کے کراچی کا موسم آج صاف ہے ۔ اس کا مطلب یہی تھا کے قاسم رضوی با سلامت پاکستان پہنچھ گئے ہیں ۔

-24کئی لوگ اس بات پر آج بھی حیران ہوجاتے ہیںکے بھارت سرکار کے دشمن نمبر ایک رہے قاسم رضوی کو بھارت سرکارنے جانے کیسے دیا ؟ اس بات پر راجیہ سبھا میں بھی 14ستمبر 1957کو گرم بحث ہوئی ۔ تمام ممبر آف پارلیمنٹ نے ایک کے بعد دیگر مسلسل سوالات حکومت سے کئے کے قاسم رضوی کو جانے کیوں دیا گیا ؟ کیا وہ بھارت میں رہتے تو ملک کے لئے اور خطر ہ بن جاتے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن قاسم رضوی کی زندگی کا سفر لکھنو سے علی گڑھ، لاتور سے حیدرآباد اور بمبئی سے کراچی مکمل ہوا۔ 15 جنوری 1970 کو قاسم رضوی کا انتقال ہوگیا ۔  

مراٹھی کتابوں میں۔۔ 

مراٹھی کتابوں میں کھل کرجھوٹ بولا گیا ۔ صحیح حقائق کے بجائے لفاظی کی گئی۔ کچھ مصنف جن کی عمر پولیس ایکشن کے وقت کافی کم تھی وہ بھی خود کو مجاہد آزاد ی کہنے لگے ۔ مراٹھی کتابوں میں مسلمانوں کو قتل و غارت گیری کے لئے کس طرح سے فرقہ پرست ہندوئوں نے فوج کی مدد لی اور نشاندہی کر کے زی اثر مسلم نوجوانوں کو شہید کیا ،ا س کی داستانیں بہادری کے طور پربیان کی جانے لگی ۔ سنہ 1947میں نطام حکومت کے وقت ناندیڑ کے صرافہ میں ہوئے ترنگا لہرانے کی بات کو لے کراتنی مبالغہ آرائیاں کی گئی جس کی کوئی انتہا نہیں ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے اس وقت کے اتحادالمسلمین کے لیڈروں کی سوجھ بوجھ اور سنجیدگی معاملے کو خراب ہونے بچا لیا تھا۔ لیکن مسلمانوں کی سمجھداری کو ان کی کمزوری سے تعبیر کرنے کے لئے سماجوادی مصنفوں نے بھی کوئی کثرنہیں چھوڑی ۔ 

خود پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کے سامنے پنڈت سندر لال کے علاوہ دیگر حلقوں سے کئی رپورٹیں موصول ہوئی تھی ۔ جس میں مقامی کانگریسی اور آریا سماج کے غنڈوں کے زریعے مسلمانوں پر ہوئے ظلم کی تمام سچائیاں سامنے آگئی تھی ۔ کس طرح مکتی سنگرام کے نام پر عمری بنک کی لوٹ کر قتل غارت کر لاکھوں روپیوں کی لوٹ کر کئی سوامی رامانند کے بھکتوں نے پیسوں کا غبن کر لیا تھا ۔ ان پیسوں کے حساب کے متعلق سردار پٹیل نے سماجوادی رہنما شراف جن کا تعلق اورنگ آباد سے تھا کئی خط لکھے لیکن کوئی تصلی بخش جواب نہ ملا۔ یہی وجہ رہی کے مکتی سنگرام کا نام لے کر اپنی بہادری کی دکانیں چلانے والے کئی رہنمائوں کو نہرو اور پٹیل نے کانگریس میں کوئی اہمیت نہیں دی ۔ نہ ہی انھیں کبھی انتخابات میں موقع دیا۔ مراٹھی مصنفین کی بد کاریوں پر تفصیل سے کبھی روشنی ڈالی جائے گی ۔ 

 

آخرمیں ۔۔

 

ناندیڑ سے تعلق رکھنے والے ایم اے عبدلالعزیز اپنی کتاب ـ’پولیس ایکشن ‘‘میں لکھتے ہیں کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کی موت کے بعد ہی سنہ 1972میں کانگریس نے اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں پہلی مرتبہ اس سے جنگ آزادی ،مکتی سنگرام کا درجہ دیا ۔ جب تک سردار پٹیل اور پنڈت نہرو نے بالکل نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح کی کسی تقریبات سے مسلمانوں کے جزبات مجروح ہوں۔ لیکن اس کے بعد بتدریج حکومت نے اسے سرکاری پروگرام کی طرح منایا۔ ہر سال حیدرآباد مکتی سنگرام کے نام نہاد مجاہد آزادیوں کی فہرست میں اضافہ ہوتا گیا ۔ حتیٰ یہ کے مہاراشٹر کی خاتون لیڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مراٹھواڑہ میں سب سے زیادہ نقلی نام نہاد مجاہد آزادی کی تعدار زیادہ ہوگئی ہے ۔

لیکن افسوس تو یہ بھی ہوتا ہے کہ جس طرح سے سن 1948میں پولس ایکشن کے دوسرے دن سینکڑوں ہندو نوجوان حیدرآباد کی سڑکوں پر اپنے ہاتھ میں ترنگا لئے سلطنت آصفیہ کے خاتمہ کا جشن مناتے ہوئے اسٹیٹ کانگریس کی جئے جئے کار کے نارے لگا رہے تھے کیا 16ستمبر 2022کو ہمارے ہی اپنوں نے جانے انجانے میں یا جان بوجھ کریا کسی دبائو میں یادل کے بدل جانے سے اسی حرکت کو حیدرآباد کی سڑکوں پر ترنگا ریلی کا جشن مناکر دوہرا یا تو نہیں ؟ کیا سردار پٹیل کی طر ح خود کو ثابت کرنے پر تلے ہمارے ملک کے وزیر داخلیٰ کے دبائو میں مسلم رہنماء سنہ 1948کی طرح اپنے بیانوں سے وفاداری کا ثبوت تو نہیں دے رہے تھے ؟۔ 

 وہی دوسری جانب کئی مراٹھی زبان جاننے والے میرے دوست بھی اس بات کو جلد تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ پولیس ایکشن میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا یا نہیں ؟ لیکن جو حوالہ جات اوپر نئے طرح سے سب کے سامنے رکھے گئے ہیں مجھے لگتا ہے کے انصاف پسند لوگ ان حقائق کو پڑھ کر مسلمانوں کے ہوئے قتل عام کو سمجھنے کی کوشش کرینگے ۔ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے باوجود بھارت سرکار نے کبھی مسلمانوں سے معافی نہیں مانگی۔ نہ ہی کبھی مسلمانوں کے قتل عام کے اعداد و شمار جاری کئے ۔حیدرآباد کا مسئلہ اس و قت اقوام متحدہ میںموضوع بحث تھا۔اس لئے عالمی سطح پر بھارت سرکار اپنے اہیمسا اور گاندھی وادی چہرے کو بے نقاب ہونے سے بچانے کے لئے صرف یہ پروپیگنڈہ چلایا کہ ریاست حیدرآباد کا بھارت انضمام بناکئی مزاحمت کے خون خرابے سے تکمیل کو پہنچا۔دکن کے مسلمانوں کے قتل عام پرمعافی تودور کی با ت ہے بھارت سرکار کی جانب سے حیدرآباد قتل عا م کے کئی دستاویزات کو آج بھی خفیہ Classified کے زمرہ میں رکھا گیا ہے ۔ اس متعلق کئی کتابیں بھارت میں آج بھی دستیاب نہیں ہے۔ لگتا یہی ہے کے سرکار اس معاملے کے 74سال پورے ہونے کے باوجود بھی سچ قبول کرنے تیار نہیں ہے ، کچھ راز ہے جنہیں وہ آج بھی چھپانا چاہتی ہے ۔ امیر مینائی نے شائد اسی لئے اس شعر کو پولیس ایکشن سے ایک صدی قبل لکھ رکھا تھا ۔ 

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر 

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا 

 

Comments are closed.