مسلمانوں نے ہندوستان پر کم و بیش ۵۰۰؍سال حکومت کی ۔ یہ وہ دَور تھا جب دنیا میں نہ ہی اقوام متحدہ تھا ، نہ ہی عالمی میڈیا، نہ ہی عالمی قوانین اور نہ ہی حقوق انسانی نام کی کوئی شئے ۔ اگر مسلمان واقعی چاہتے کہ انہیں اس ملک میں ہندودھرم کو ختم کرکے اسلام لانا ہے تو یہ ان کیلئے بہت آسان تھا ۔آسان اس لحاظ سے تھا کہ ان سے پہلے حکومت کرنے والے آریاؤں نے ایسا ہی کیا تھا۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان کی اکثریت بودھ دھرم ماننے والی تھی یہاں کے مقامی لوگ بودھسٹ تھے لیکن آریاؤں نے اس دھرم کو ایسا ختم کیا کہ آج بودھ دھرم کے ماننے والے ایک فیصد پر سمٹ گئے۔ بودھ دھرم کے اہم ’بودھ شالاؤں‘ پر قبضہ کیا۔آج ہندو دھرم کے اہم مقامات جیسے بدری ناتھ ،کیدارناتھ اور جگن ناتھ مندر وغیرہ درحقیقت بودھ شالہ ہی ہیں اور اب یہ بات عیاں بھی ہوچکی ہے۔ آریاؤں نے ہندوستان میں حکو مت حاصل کرنے کے بعد ’ورن ۔ویوستھا‘ متعارف کراکے یہاں کی مقامی آبادی کو غلام بنادیا۔ آریاؤں کی طرح مسلم حکمران ہی بہت ہی آسانی سے ہندوستان کے مقامی دھرم (جو اس وقت ہندو دھرم تھا ) کو ختم کرسکتے تھے لیکن مسلم حکمرانوں نے ایسا نہیں کیا۔
مسلم حکمرانوں نے اپنی رواداری ، خلوص، انصاف پسندی اور انسانی تقاضوں کے تحت نہ صرف یہ کہ ہندو دھرم کو ختم نہیں کیا ،بلکہ ہندو دھرم کی اشاعت و ترویج اور اس کے پرچار میں پوری مدد کی ۔ ٹیپو سلطان اور اورنگ زیب جیسے حکمرانوں نے مندروں کیلئے زمینیں ،جائیدادیں، جاگیریں اور دھن دولت دئیے۔ہندو دھرم کی مذہبی کتاب وید کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے اور انہیں عام کرنے کا کام کیا ۔ درحقیقت مسلم حکمرانو ں نے ہندو دھرم کی نشوو نما اور پرورش کی ،اور یہی ان کی سب سے بڑی بھول تھی۔ان کے فرشتوں کے بھی گمان میں نہیں تھا کہ جس ہندو دھرم کی وہ نشوونما اور پرورش کررہےہیں آنے والے وقت میں انہیں اسی ہندو دھرم کا دشمن قرار دے دیا جائے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ پورے ہندوستان میں درحقیقت ایک بھی مندر ایسا نہیں ہے جسے مسلم حکمرانوں نے صرف اس مقصد سے توڑ دیا کہ انہیں ہندو دھرم کو ختم کرکے اسلام کو پھیلانا تھا ۔ اُلٹا انہوں نے مندر تعمیر کروائے جس کے ثبوت دستاویزات کےساتھ آج بھی موجود ہیں۔ بابری مسجد معاملہ دیڑھ صدی تک چلا اور دیڑھ صدی میں بھی ہندو فریق یہ نہیں ثابت کرسکا کہ یہاں مندر منہدم کیا گیاتھا۔ حتیٰ کہ ملک کے سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ صرف’آستھا‘ کے نام پر ہی دیا۔
اب بابری مسجد کے اسی بدنام زمانہ فیصلے کا حوالہ دے کر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولہ مسجد کو بھی مندر قرار دے دیا۔یعنی ہندو آستھا کے نام پر ایک اور مسجد مسلمانوں سے چھین لی گئی ۔
مدھیہ پردیش کے ’دھار‘ شہر میں کمال مولہ مسجد تقریباً ۱۳۱۰ءتا ۱۳۲۰ء میں تعمیر کی گئی تھی ۔ یعنی مغل سلطنت کے بھی قائم ہونے کے ۲۰۰؍سال قبل ۔ تب سے لے کر ۱۹۰۳ء تک۔یعنی تقریباً ۷۰۰؍سال تک اس مسجد پر کسی طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کیاگیا۔ اس دوران اس شہر کی اکثریت ہندوؤں پر ہی مشتمل تھی۔۷۰۰؍سا ل میں ہندوؤں کی درجنوں نسل گزرگئی ۔ لاکھوں ہندو ؤں نے یہاں اپنی پوری پوری زندگی گزار دی لیکن ۷؍صدی تک کسی بھی ہندو نے کبھی نہیں کہا کہ مذکورہ مسجد ایک مندر ہے ۔اگر واقعی مذکورہ مسجد کسی مندر کی جگہ پر بنائی گئی ہوتی تو ۷۰۰؍سال میں کوئی تو ثبوت ہوتا؟کہیں تو ذکر ہوتا! لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ۔
۱۷۴۰ء کے آس پاس اس شہر پر مراٹھاؤں کا قبضہ ہوگیا۔یہ شہر مراٹھاؤں کے خطہ مالوہ کی راجدھانی بھی بنا۔ اس کے بعد بھی اس مسجد پر کسی طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کیاگیا۔ یہ سارا فتنہ شروع ہو ا برطانوی دورِ حکومت میں۔ ۱۹۰۳ء میں پہلی بار ایک ہندو نے ان شکوک کا اظہار کیا کہ یہاں پہلے کوئی ’بھوج شالہ‘ رہی ہوگی۔ بس ! مسجد تعمیر ہونے کے تقریباً ۷۰۰؍سال بعد ان شکوک کا اظہار ہی آج کی عدالت کیلئے کافی تھا اور ہائی کورٹ نے اسی بنیاد پر یہ فیصلہ دے دیا کہ مذکورہ مسجد ایک مندر ہے ، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جس وقت یہ فیصلہ سنایا جارہاتھا اس وقت مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جارہی تھی۔
معاملہ اب سپریم کورٹ میں جائے گااور سچ پوچھئے تو سپریم کورٹ اس مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کردے اس کی امید بہت ہی کم ہے۔ حالات جس سمت رواں دواں ہیں وہ کسی سے چھپے نہیں ہیں۔یہاں انصاف، سچ، حق ، دلیل، ثبوت، دستاویزات وغیرہ کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہی ۔ انسانیت اور مذہبی رواداری کو تو بھول ہی جائیے۔یہاں صرف ایک کہانی چاہئے ، ایک الزام چاہئے کہ ’فلاں مسجد پہلے مندر تھی‘، بس! اس کے بعد کسی بھی ثبوت یا دلیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ آستھا کے پھندے پر مسجد کو لٹکا دیا جائےگا۔ بابری مسجد کے وقت یہ کہا جارہاتھاکہ ایک بابری مسجد دے کر مسلمان امن خرید سکتےہیں۔ اب جبکہ بابری مسجد بھی ہندو مندر بن چکا ہے تب تو اس طرح کے متعصبانہ معاملات ختم ہوجانے چاہئے تھے لیکن اس طرح کے معاملے ختم ہونے کی بجائے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے۔
ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں دیا جبکہ ملک میں ۱۹۹۱ء کا تحفظ عبادت گاہ قانون بھی موجود ہے۔جسٹس وجئے کمار شکلااور جسٹس آلوک اوستھی کی بینچ نے اپنے خیالی گھوڑوں کے آگے ملک کے اس قانون کو بھی روند ڈالا۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے ’’ تحفظ عبادت گاہ قانون ۱۹۹۱‘ ‘ کا مقصد ہی یہ تھا کہ ملک میں ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل کی تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے تاکہ فرقہ وارانہ تنازعات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو سکے، لیکن افسوس کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ نظامِ عدل میں قانون کی کوئی حیثیت نہیں ، جسے جب اور جہاں چاہیں، سنگھ پریوار کے ایجنڈے کے مطابق موڑا جا سکتا ہے۔
عدالتِ عالیہ کا یہ فیصلہ دراصل اس تلخ حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ اب ملک کی مسندِ انصاف پر آئین نہیں، بلکہ اکثریتی برادری کے جذبات اور مفروضے حکمرانی کر رہے ہیں۔ جب جج صاحبان تاریخی حقائق اور ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوتوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف کسی کے وہم اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر صدیوں پرانی مسجد کو مندر قرار دے دیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انصاف کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ قانون کی کتابیں اب صرف دیمک کی نذر ہونے کے لئے رہ گئی ہیں، کیونکہ فیصلوں کی بنیاد اب شواہد پر نہیں بلکہ اس بات پر رکھی جا رہی ہے کہ اکثریتی طبقے کی ’آستھا کو کس طرح تسکین پہنچائی جا سکے۔ یہ فیصلہ انصاف کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس نے عدلیہ کے غیر جانبدارانہ تشخص کو بری طرح پامال کر دیا ہے۔
قانون کو اس طرح پامال کرنا ملک کو آئینی جمہوریت سے نکال کر جنگل راج کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عدالتیں اب انصاف فراہم کرنے کا ادارہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا اڈہ بنتے جارہی ہے ۔ کمال مولہ مسجد کے خلاف آنے والا یہ فیصلہ ملک کی دیگر ہزاروں مساجد کے وجود کے لئے ایک خطرناک وارنٹ بن چکا ہے، کیونکہ اس نے شرپسند عناصر کو یہ ِشہ دی ہے کہ وہ کسی بھی اسلامی یادگار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، عدالتیں ان کی پشت پناہی کےلئے تیار بیٹھی ہوں گی۔
کمال مولا مسجد فیصلہ : انصاف یا اکثریتی آستھا کی تسکین
Comments are closed.