اس میں اہل نظر کےلئے عبرت ہے

 

محمد صابر حسین ندوی

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کی کسی بھی موثر تنظیم کو پنپنے، اٹھنے، عوام میں مقام بنانے اور حق و باطل کیلئے کوشاں ہونے کی اجازت نہیں ہے، اسلامی معاشرے ہر گہرے نقوش چھوڑنے، انہیں منظم کرنے، قوت عمل پیدا کرنے، ان کی رگوں میں تڑپتا پھڑتنا خون دوڑانے اور ان ممولوں کو بازوں سے لڑوا دینے کی مہم چلانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس وقت چپے چپے پر نظر آنے والی تنظیمیں محض خانہ پوری کے سوا کچھ نہیں ہیں، وہ بَس اپنے لوگوں کو جیل سے چھڑوا سکتے ہیں، مگر جیل میں نہ ڈالے جنے کیلئے کوئی ایکشن نہیں لی سکتیں، حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتیں، لاکھوں، کروڑوں روپے کے جلسے جلوس کر سکتے ہیں، لمبی چوڑی تقریریں، پرجوش خطابات کر سکتے ہیں، جن سے عوام میں برتری حاصل ہو، انہیں سنہرے خواب دکھائے جائیں، نعرے بازی کی جائے، سرد خون کو گرمایا جائے اور نوجوانوں کو تمام ضروری اقدامات سے ہٹا کر محض جوشیلے نعروں پر روک دیا جائے، اس طرح انہیں چندے کی کوئی کمی نہ ہو اور ان کا، ان کے خاندان، ملحقین کا پیٹ پلتا رہے، اس کیلئے کبھی کبھی سرخ آنکھوں کا استعمال ہوسکتا ہے، جس سے توازن برقرار رہے، مگر یاد رکھئے کہ یہ میاں بیوی کے درمیان کی وہ لڑائی ہے جو شب کی تاریکی میں ایک تکیہ پر دو سر آتے ہی کافور ہوجاتے ہیں، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عوام کا بھروسہ بنا رہے اور حکمران طبقہ بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھائے رکھے، پچھلے ستر سال سے زائد کا عرصہ اسی طرح گزرا ہے، جس کے نتائج جدید نسل بھگت رہی ہے، اس کے برعکس اگر کوئی تنظیم اس راہ سے ہٹ کر جد وجہد کو اپنا سرمایہ بنائے گی، قانون، حق، برابری اور جمہوری حکومت میں حصے کی بات کرے گی تو اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، اس کے آفسز پر چھاپے مارے جائیں گے، ان کے عمال کو اٹھا لیا جائے گا، قدم قدم پر انہیں ستایا جائے گا، انہیں جیل میں ٹھونسا جائے گا، ان کو ہزار صعوبتوں سے گزارا جائے گا، یہ ایک بدیہی بات ہے کہ حق کے سامنے کھڑا شخص باطل کے تیر و نشتر کھاتا ہی ہے، اس کے بندوق کے دہانے پر رہتا ہے، اس کے گھر آنگن سے لیکر تمام دوست و احباب سبھی زَد میں رہتے ہیں، اس دنیا میں دو ہی حقیقت ہے، یا تو انسان حق کا ہو یا پھر باطل کا ہم نوا، باطل کا دوست پریشان نہیں ہوتا، وہ ہنسی مذاق کرتا ہے، مظلوموں پر فقرے کَستا ہے، طعنہ دیتا ہے اور اپنی منافقت کی سیاست کرتا ہے؛ جبکہ حق کا راہی اپنے راستے میں کانٹے پر چلتا ہے، پتھر پر گھستا ہے، کنکریاں کھاتا ہے، ہاتھ پیر میں چھالے برداشت کرتا ہے، تب کہیں کوئی ایک منزل پاتا ہے.

اس حقیقت کو قبول کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ہماری تنظیموں نے عموماً باطل یا پھر حق کے کنارے کا سہارا لیا ہے، کہ جہاں کہیں بھی انہیں موقع ملتا ہے تو باطل کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں اور جب کبھی اپنے ناراض ہوتے ہیں تو ہلکی سی ہوا کے رخ پر حق کی سرخ لکیر کو چھو لیتے ہیں، اسے آپ یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ وہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھو الیتے ہیں ،اگر آپ کے سامنے بات صاف نہیں ہوپا رہی ہے تو سی اے اے اور این پی آر کے موقع پر احتجاج اور اس وقت ان تنظیموں، سرکردہ لوگوں اور نام نہاد زعماء کے کرداد کو یاد کر لیجیے! یاد کیا! شاید اب آئینہ سے دھول چھٹ گئی ہوگی، اگر نہیں تو کشمیر سے دفعہ ٣٧٠ ہٹائے جانے کے بعد مظالم اور ان سرخیل لوگوں کا رویہ یاد داشت کے خانے میں تازہ کیجئے، ٹھیک ہے تو بابری مسجد پر تاریخی فیصلے کے بعد ان کے سلوک اور بیان بازیاں یاد کیجئے! کم از کم طلاق ثلاثہ کے وقت گھڑیال کے آنسو بہانے والے تو یاد ہوں گے، اگر اب بھی یاد نہیں اور کچھ نہیں سمجھتے تو پھر آپ پر خدا ہی رحم کرے! اس صورتحال پر قرآن مجید کی ایک آیت موزوں معلوم ہوتی ہے، ارشاد الہی ہے:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُۨ اطْمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ. (حج:١١) "اور بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرتے ہیں کہ جیسے وہ کنارے پر کھڑے ہوں ، پھر اگر کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہے تو اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ، اور کوئی آزمائش آتی ہے تو اُلٹے منھ پھر جاتے ہیں ، دنیا بھی گئی اورآخرت بھی ، یہی تو کھلا ہوا نقصان ہے !” – – – یہی حقائق ہیں، جن سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے، صد افسوس ہم اب تک منہ موڑتے آئے ہیں، چنانچہ اب ہمارا منہ دکھانے کے لائق نہ رہا، پورا ملک ہمارے لئے اجنبی بن چکا ہے، جس ملک کی خاطر سر تن سے جدا کروا بیٹھے آج ان کی ایک تنظیم بھی محفوظ نہیں، ان کے مدارس اور مجامع تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے، ہر دن یہی خبر آتی ہے کہ مسلمانوں کو اس دفعہ یوں دھڑ دبوچا گیا، یہاں پر یوں اکھاڑ پھینکا گیا وغیرہ، ایک طرف اعلی کمان ہندو مسلم اتحاد کی دہائیاں دیتا ہے تو دوسری طرف کوئی بڑی کارروائی ہورہی ہوتی ہے، یہی اصل پلاننگ ہے:اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ . (نور:٤٤)”یقیناً اس میں اہل نظر کے لئے عبرت کا موقع ہے”.

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

Comments are closed.