”اسلامی قوانین“ غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ”آب حیات“ بھوپال، ایم پی
رابطہ: 9826268925
اسلام ایک آفاقی مذہب اور مکمل نظام حیات کا نام ہے جس نے ہر دور میں انسانیت کی رہبری ورہنمائی کی ہے۔
اسلام کے قانونی نظام نے ہر دور میں انسانیت کے ہر طبقے کے مسائل کو حل کیا ہےاور ملک و قوم کی ترقی و استحکام میں بنیادی رول ادا کیاہے۔
اسلامی قانون امن وخوشحالی، ترقی و استحکام اور داخلی اور خارجی سکون کا دائمی ضامن ہے۔
‘اسلام’ نام سے ہی واضح ہے کہ امن و سکون اور محبت سے لبریز دین ہے۔ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اسلام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ دوسرے آسمانی ادیان کے برخلاف اس میں ابھی تک تحریف واقع نہیں ہوئی۔ساتھ ہی جس طرح سوا چودہ سو سال پہلے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اس میں دستور پائے جاتے تھے آج بھی اسی طرح جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
اسلامی قانون میں ساری انسانیت کی حیات و ارتقا کا راز پنہاں ہے۔ اسلامی قانون میں تمام اقوام عالم اور دنیا کے ہر خطے کی نفسیات اور طبعی میلانات کی رعایت رکھی گئی ہے۔ جو چیزیں طبع سلیم پر گراں گزرتی ہیں ان کو ممنوع قرار دیا گیاہے۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسانی قانون کی توثیق و تصدیق انسانی جماعت یا انسانی عدالت کرتی ہے اس کے بغیر وہ قانون بن ہی نہیں سکتا، جب کہ اسلامی قانون کی تصدیق خود رب کائنات کرتا ہے، دنیا کی عدالت اس کو مانے یا نہ مانے اس کی قانونی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انسانی قانون لوگوں کے جسموں پر تو حکومت کرتا ہے؛ لیکن دلوں پر نہیں اس کے برعکس اسلامی قانون جسموں کے ساتھ دلوں پر بھی حکومت کرتا ہے۔
انسانی قانون کی تعمیر عموماً منفی بنیادوں پر ہوتی ہے جبکہ اسلامی قانون زیادہ تر مثبت اصولوں پر چلتا ہے۔ انسانوں کا بنایا ہوا مصنوعی نظام کبھی خالقِ کائنات کے عطا کردہ قانونی نظام کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ اگر معاشرہ پر اسلامی قانون کی حکمرانی نہ ہو تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
اسلامی قانون انسانی دنیا کے لیے خدا کا شاندار عطیہ ہے، انسانوں کا بنایا ہوا کوئی قانون اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ جب سے دنیا کے بسنے والے انسانوں نے اسلامی قوانین سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے اس وقت سے امن و سکون اور زندگی کی بیش بہا نعمت سے محروم ہو گئی ہے۔
آج دنیا کو پھر سے اسلامی قانون کی ٹھنڈی سایوں کی ضرورت ہے تاکہ دنیا سے غربت، بھکمری، زنا اور بد چلنی ختم ہو سکے۔
جب تک دنیا پر اسلامی قانون کے ماننے والے رہیں گے دنیا میں لوگ امن و سکون کے ساتھ باقی رہیں گے۔ جس وقت دنیا اسلامی قانون کے ماننے والے سے خالی ہو جائے گی خالق کائنات اس دنیا کو توڑ پھوڑ کر ختم کردے گا۔
اسلامی قانون کے خوبیوں کا اعتراف اپنے تو اپنے غیروں نے بھی کیاہے یہاں تک کہ تعصب پسند غیر مسلموں نے بھی جب تعصب کی عینک اتار کر اس کا حقیقت پسندانہ اور انصاف پسندانہ انداز میں جائزہ لیا ہے تو انہیں اسلامی قوانین کے تفوق اور اس کی اہمیت و عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
حقیقت میں فضیلت وہی ہے جس کی گواہی ہمارا مخالف دے۔
حالانکہ کفار ومشرکین نے بہت کوششیں کیں کہ اسلام کی تعلیمات اور اس کی اچھائیوں سے دنیا کو دور رکھا جائے لیکن اس کام میں ان کی ساری مشنریاں ناکام ہوئیں اور اسلام کی حقانیت اپنے اثرات دنیا پر چھوڑتی گئی۔
مشہور یورپی فلاسفر کار لائل اپنی کتاب "Heroes of the world” میں اسلام کے خلاف یورپ کے بے بنیاد الزامات کے جوابات میں لکھتا ہے کہ اسلام کی دیواریں اگر کچی اینٹوں سے بنی ہوتیں تو صدیوں تھپیڑوں کی زد میں ٹھہر نہیں سکتی تھیں، فنا ہو چکی ہوتیں۔”
ڈاکٹر کرٹ والڈ ہانیم سے دنیا کے کئی ملکوں سے شائع ہونے والے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے جب یہ سوال کیا کہ دنیا کو درپیش مسائل پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا: کہ انسانیت کی بہبود و ترقی کے لئے دنیا کا کوئی بھی نظام اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دنیا نے بے پناہ ترقی کرلی؛ لیکن وہ اس سے ان مسائل پر قابو نہیں پا سکتی، مجھے اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظام نظر نہیں آتا جو انسانیت کی مشکلات کو حل کر سکتا ہو۔ (روز نامہ جنگ لاہور)
فرانسیسی محقق (DoBo lenn Willy yean) کہنا ہے کہ محمد (ﷺ) کے دین کا آئین اس حد تک عقلی بنیادوں پر استوار ہے کہ اس کی تبلیغ کے لیے کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ بس اتنا کافی ہے کہ اس کے اصول لوگوں کے لیے تبیین ہو، تاکہ سارے اس کی طرف متوجہ ہو جائیں اس کے قوانین اس حد تک عقل کے مطابق ہیں کہ پچاس سال سے بھی کم مدت میں اس نے دنیا کی نصف آبادی کو اپنی طرف جذب کر دیا۔ "امریکی دانشور (Rhyod Frye) کہنا ہے کہ میری نظر میں اسلام صرف ایک الہی دین ہی نہیں بلکہ بہت ہی اہمیت کے حامل قوانین و تہذیب و تمدن کے میدانوں میں کافی اہم اثرات چھوڑے ہیں۔
ڈاکٹر کے ایس سیتارام کہتے ہیں:
”دنیا کی موجودہ تہذیب صرف اسلام کی بدولت ہے۔“
(فاران سیرت نمبر: جنوری ١٩٥٦)
پروفیسر راما کرشنا راؤ لکھتے ہیں کہ:
مہاتما گاندھی کے بقول پوری اقوام جنوبی افریقہ میں اسلام سے خوف زدہ ہیں؛ لیکن اسلام نے اسپین کو تہذیب دی، اسلام نے مراکش میں نور کی شمع روشن کی اور پوری دنیا کو بھائی چارہ کے اصول سے آگاہ کیا۔” (اسلام کے پیغمبر محمد ﷺ/مؤلفہ پروفیسر راما کرشنا راؤ) (بحوالہ تجلیات سیرت)
رابندر ناتھ ٹیگور کہتے ہیں کہ:
”وہ وقت دور نہیں، جب قرآن اپنی مسلمہ صداقتوں اور روحانی کرشموں سے سب کو اپنے اندر جذب کر لے گا۔وہ دن بھی دور نہیں، جب اسلام ہندو مذہب پر غالب آجائے گا اور ہندوستان میں ایک ہی مذہب ہوگا۔“
سوامی وویکا نند کہتے ہیں کہ ”شاید تم پوچھو گے کہ مذہب اسلام میں کیا خوبی ہے۔ اگر اس میں خوبی نہ ہوتی تو وہ اب تک زندہ کیسے رہتا؟ جو اچھا اور نفع بخش ہے وہی اس دنیا میں زندہ رہ سکتا ہے باقی سب فنا کے بے کنار غار میں چلا جاتا ہے۔ جو نفع بخش ہے اسی کو بقا ہے۔ اس لیے وہی دائمی زندگی کا حقدار بھی ہوتا ہے۔اور موجودہ زندگی کا بھی۔“
(اسلام غیر مسلموں کے نظر میں، ص: ٨٩)
برطانوی محقق (Byron Wolfe) کا کہنا ہے کہ جتنا اسلام اور اسلامی زندگی (کے اصولوں سے) آگاہ ہوتا جاتا ہوں اتنا ہی محمد (ﷺ) نے صفائی کے حوالے جو قوانین مسلمانوں کے حوالے سے لے کر آئے، زیادہ حیرت میں پڑ جاتا ہوں۔ ساتھ ہی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ بہت سارے مسلمان ان تمام تعلیمات پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے۔“
برطانوی تاریخ دان اور دانشور (William Moeys) کا کہنا ہے کہ محمد (ﷺ) پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو واضح ترین منطقی دلائل سے لبریز ہے۔ عدالتی اور وہ تمام قوانین جو اجتماعی زندگی شہری زندگی سے متعلق ہیں،اس مقدس کتاب میں سادہ عبارت میں مضبوط دلائل کے ساتھ ذکر ہوۓ ہیں کہ قاری کو اپنی طرف جذب کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔“
ڈبلیو ڈبلیو کیش کہتے ہیں:
”اسلام نے عورتوں کو پہلی بار انسانی حقوق دیے اور اُنہیں طلاق کا حق دیا۔“
The E pension of Islam
”آئرنا میڈمیکس“ (1930 Women in Islam) میں اسلام اور ماقبل اسلام عورت کی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”محمد ﷺ نے ان چیزوں کو اپنی پسندیدہ قرار دیا ہے، نماز، روزہ، خوشبو اور عورت، عورت آپ ﷺ کے لیے قابل احترام تھی، معاشرہ میں جہاں مرد اپنی بیٹیوں کو پیدائش کے وقت زندہ دفن کیا کرتے تھے، محمد ﷺ نے عورت کو جینے کا حق دیا۔“
فرانسیسی محقق ڈاکٹر گستاؤلی لکھتے ہیں:
”اسلام نے عورتوں کی تمدنی حالت پر نہایت مفید اور گہرا اثر ڈالا ذلت کے بجائے عزت و رفعت سے سرفراز کیا اور کم و بیش ہر میدان میں ترقی سے ہمکنار کیا چنانچہ قرآن کا ”وراثت وحقوق نسواں“ یورپ کے ”قانون وراثت“ اور ”حقوق نسواں“ کے مقابلہ میں بہت زیادہ مفید اور فطرت نسواں کے زیادہ قریب ہے۔ (سنت نبوی اور جدید سائنس)
دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر راجندر صاحب نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
”تاریخی طور پر اسلام عورتوں کو جائیداد کے حقوق دینے میں میں بہت زیادہ فراخ دل اور ترقی پسند رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ 1956/ میں ہندو کوڈ بل سے قبل ہندو عورتوں کا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں تھا، حالانکہ اسلام مسلم عورتوں کو یہ حق چودہ سو سال پہلے دے چکا تھا۔“
ڈاکٹر موسیولیبان مصنف تمدن عرب لکھتے ہیں:
مسلمان کی جائز کثرتِ ازدواج یورپ کے ناجائز کثرت ازدواج سے ہزار درجہ بہتر ہے، اسلام پر جس دریدہ دہنی سے نکتہ چینی کی جاتی ہے اور جس بری صورت میں پیش کیا جاتا ہے وہ فرضی مہیب صورت بھی یورپ کے موجودہ معاشرہ کے آگے کچھ حقیقت نہیں رکھتی، دراصل یورپین ممالک میں عصمت عنقا بن گئی ہے۔“
پادری جیمس مولر لکھتا ہے:
کہ دیگر مذاہب کے تعلیمات پر نظر ڈالو تو وہ اوسط اور عام انسانوں کی جگہ فرشتہ صفت انتہاپسندوں کے لیے معلوم ہوتی ہیں جب کہ اسلامی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے ہیں جن میں نہ رہبانیت ہے نہ ترک دنیا۔ زمین وآسمان کی ہر نعمت سے استفادہ کریں اور ان کے خالق کا شکر ادا کریں۔
(مستفاد اسلام غیر مسلموں کی نظر میں)
آج کے مغربی فلسفہ نظام نے اسلام کے بارے میں اور بہت سے اسلامی احکام و قوانین کے بارے میں نئی نسل کے ذہنوں میں جو شکوک و شبہات پیدا کر رکھے ہیں میڈیا اور لابنگ کے ذرائع سے شکوک و شبہات کا دائرہ دن بدن وسیع کیا جا رہا ہے، ان کا سامنا کرنا اور عام مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کو ان کے جال سے نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ آج کا سب سے بڑا فتنہ ہے؛ لیکن ہماری اس طرف بالکل توجہ نہیں ہے۔ شریعت اسلامی کے احکام و قوانین پر اعتراضات اور ان کی ضرورت و افادیت کی نفی کا رجحان دن بدن بڑھتا جارہا ہے اور بین الاقوامی اور قومی ماحول میں اس کو فروغ حاصل ہو رہا ہے جبکہ ان کے جوابات کے لیے کوئی اجتماعی کام نظر نہیں آ رہا، افراد کی حد تک یہ محنت کسی درجے میں موجود ہے مگر اداروں اور طبقات کی سنجیدہ توجہ نہیں ہے۔ دوسری طرف باطل کی محنت اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرنے میں کس قدر ہے۔
ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں ہر کلمہ گو کی ذمہداری بنتی ہے کہ اپنی بساط بھر معاشرہ کو بےحیائی وفحاشی سے پاک کرنے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی خاطر حتی المقدور محنت و کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلامی شریعت کامل و مکمل اور تمام دنیا کے قوانین سے بالاتر ہے۔ جس میں کوئی بھی کتر بونت نہیں کر سکتا۔ اسلام صرف نماز، روزہ کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک مکمل دین ہے جس کے ہر جز کی اتباع اسی طرح لازم ہے جس طرح نماز، روزہ کے احکام کی۔ لیکن ابتدا ہی سے اس ملک میں ایک ایسا طبقہ سرگرم عمل رہا جس کا اولین مقصد مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو ختم کرکے انہیں ملکی تہذیب میں ضم کرنا تھا، یہ طبقہ دفعہ 44 کا سہارا لے کر شروع ہی سے ملک میں یکساں سول کوڈ کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ یہ حکومت یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کا تہیہ کرچکی ہے، لیکن مسلم پرسنل لا کے تحفظات کے لئے بورڈ نے ماضی میں جو قابل قدر کارنامے اور خدمات انجام دیے ہیں اور مسلم معاشرہ میں اسلام کے عائلی قوانین کے نفاذ کے لیے جو ہمہ گیر جد و جہد کی ہے وہ تاریخ کا روشن باب ہے؛ لیکن فی الوقت بورڈ مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور شریعت ایکٹ کے نفاذ کو قائم اور باقی رکھنے کے لئے مؤثر تدابیر جو اختیار کرنا چاہیے بظاہر وہ کرتا ہوا نظر نہیں آرہاہے۔ مسلمانوں کو اس ملک میں جو خطرات درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لئے اگر ہم نے متحد ہوکر کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہیں کیا تو اس کا نتیجہ مستقبل میں بھیانک ہوگا خدا نخواستہ اگر یونیفارم سول کوڈ نافذ ہوگیا تو مذہبی آزادی اور عمل آوری کے تمام اختیارات سلب کرلئے جائیں گے اور سب کو ایک رنگ میں رنگ دیا جائے گا جس سے مسلمانوں کا اس ملک میں اپنے تشخص اور امتیاز کے ساتھ رہ پانا نہایت مشکل ہوگا۔
ہندوستان کثیر مذہبی ملک ہے، اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کا دستور بنایا گیا ہے اور ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اس کی دعوت دینے کا حق دیا گیا ہے،ایسے بڑے ملک اور کثیر مذہبی سماج کے لئے یکساں سول کوڈ نہ مناسب ہے اور نہ مفید بھارت میں اس طرح کی کوشش دستور میں دیے گئےبنیادی حقوق کے مغائر ہیں۔ مسلمان ملکوں نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے یکساں سول کوڈ بنانے کی کوشش نہیں کی ہے جیسا کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کے پیش نظر ہے، بلکہ غیر مسلموں کے لیے ان کے پرسنل لا محفوظ رکھے گئے ہیں۔
مسلمان مذہب اسلام سے وابستگی کی بنیاد پر مسلمان بنتے ہیں اور ان کی ایک مخصوص تہذیب ہے۔
مسلمانوں کے تہذیب و تمدن میں وہ تمام باتیں داخل ہیں جو نسلہا نسل سے مذہب کے واسطے وراثت میں آئی ہیں اور ان میں نکاح، طلاق، خاندان افراد خاندان کے حقوق اور ترکہ و وراثت کے معاملات شامل ہیں۔ اس کے باوجود مسلمانوں کو پرسنل لا کے معاملات میں کسی اور قانون پر چلنے کے لئے کہنا یا مجبور کرنا کھلے طور پر مرتد ہونےکی دعوت دینا ہے۔سچامسلمان تو ایسی دعوت جیتے جی قبول نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مسلم پرسنل لا جن شعبہائے زندگی کے قوانین کو شامل ہے وہ نہایت اہم ہیں، بلکہ زیادہ تر احکام وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن وحدیث میں واضح تشریحات موجود ہیں۔
Comments are closed.