صدی کی عظیم شخصیت ڈاکٹر القرضاوی کی رحلت
از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
چیف ایڈیٹر: ہفت روزہ آب حیات، بھوپال
عالم اسلام کے ممتاز ترین عالم دین، نامور فقیہ، مربی، مجاہد عظیم مفکر، ومجدد، ایک جری اور بے باک عالم دین اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
اللہ رب العزت اپنے فضل سے آپ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور متعلقین اور متؤسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
علامہ القرضاوی کی رحلت ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔
ان کا تعلق مصر سے تھا ان کی ولادت 1926میں ہوئی۔ بچپن میں ہی والد محترم کا انتقال ہوگیا تھا 9سال کی عمر میں آپ نے حفظ قرآن مجید مکمل کرلیا تھا، اس کے بعد جامعہ ازھر میں تعلیم حاصل کی اور علوم اسلامیہ میں خصوصی مہارت حاصل کی اور طویل عرصے تک وہاں دینی خدمات پیش کرتے رہے لیکن یہ سرکاری مولوی بننا پسند نہیں کیا اس لیے جلا وطن کر دیے گئے قطرنے ان کی علمی مقام اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے مکمل احترام کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور شہریت سے نوازا۔
آپ نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی کوششوں کا دائرہ بہت وسیع اور مختلف میدانوں میں پھیلا ہوا ہے۔ شیخ نے اپنی متعدد کتابوں میں یہ واضح کیا ہے کہ ہماری اصل لڑائی سرزمین فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں سے ہے، اور جب تک یہودی ہماری سرزمین پر قابض رہیں گے ہمارا معرکہ جاری رہے گا۔
آپ کی شخصیت مختلف کمالات کا مجموعہ تھی، حق گوئی، مظلومین کی تائید اور ظلم کے خلاف جدوجہد آپ کی شخصیت کے بنیادی عناصر تھے۔آپ کی شخصیت ایسی تھی جنہوں نے امام حسن البنا شہید سے لے کر آج تک پوری اخوانی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا آپ کی زندگی صبر عزیمت سے عبارت تھی۔ آپ عالم اسلام کے واحد شخصیت تھے جس کا ہر مسلک، ہر مکتب فکر اور ہر نظریہ کے حامل شخص دل وجان سے احترام کرتا تھا۔ آپ اسلام اور اسلامی امت کی عظمت کا نشان تھے۔ پوری دنیا میں آپ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔ یارب العالمین
Comments are closed.