میڈیا کی نفرت انگیزی پر عدلیہ کی فکرمندی
ڈاکٹر سلیم خان
پاپولر فرنٹ کے خلاف میڈیا میں چھیڑی جانے والی نفرت انگیزی کی مہم شاہد ہے کہ موجودہ حکومت کی گاڑی نفرت اور خوف کے دو پہیوں پر چلتی ہے ۔ پونے میں ’پاکستان زندہ باد ‘ کی بہتان طرازی کو اچھال کر ٹیلی ویژن چینلس کے مالکین اور اینکرس نے منافرت پھیلانے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی بھرپور کوشش کی ۔ اس کو دیکھ کر ایسا لگا گویا ٹیلی ویژن چینلس والے دھن دولت کی لالچ میں اندھے ہوکر نفرت کے فروغ میں سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اس نفرت انگیزی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلتے زہر کے حوالے سے مرکزی حکومت کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ کے مطابق نیوز چینلوں کے ٹی وی اینکرس اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے سب سے زیادہ نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نےیہ بھی کہا کہ ٹی وی اینکرس اپنے مہمان کو بھی خاطر خواہ وقت نہیں دیتے ہیں بلکہ اپنی بات پیش کرنے کے لئے ہر طرح کی منافرت کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدالت نے مرکز ی حکومت کو خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے ریگولیٹری سسٹم ترتیب دینے کی تلقین کی ۔ اس کام کے لیے مرکزی حکومت کودو ہفتوں میں جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں غیر معمولی پھرتی کا مظاہرہ کرنے والی وفاقی حکومت اپنے گودی میڈیا کی نکیل کسنے میں کتنا وقت لگاتی ہے۔
جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ نے انگلینڈ میں ایک نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینل پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی مثال پیش کرکے افسوس کے ساتھ کہا کہ بدقسمتی سے ایسا نظام ہندوستان میں موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ یہ بات بے لگام اینکرس کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہے کہ کہ اگر وہ غلط کام کریں گے تو انہیں اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گےلیکن سوال یہ ہے میڈیا کے گلے میں سرکار گھنٹی کیوں باندھے گی؟ جسٹس جوزف نے خود اعتراف کیا کہ نفرت انگیزی کا سب سے زیادہ فائدہ سیاست دان اٹھارہے ہیں اور اس کے بعد نہایت سادگی سے یہ مطالبہ بھی کردیا کہ نہ صرف اینکرس بلکہ نفرت کی اس کھیتی کو روکنے کے لئے ایک باقاعدہ نظام لانے کی اشد ضرورت ہے ۔جسٹس جوزف چاہتے ہیں کہ نیوز اینکرس کی دھاندلیوں پر مرکز ی حکومت لگام لگائےاور ریاست کو بطور ادارہ حرکت میں آئے لیکن پھر وہی سوال کہ آخر مقننہ ایسا کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی چلانے کی حماقت کیوں کرے ؟ عدالت کے خیال میں مرکز کے خاموش تماشائی بنے رہنے سے نیوز اینکرس کے حوصلہ بلند ہوجاتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ عدلیہ بھی ارنب گوسوامی جیسے نہ جانے کتنے اینکرس کو خصوصی تحفظ فراہم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لے کر کہا کہ مرکز کےعلاوہ ای سی کو نیوز چینلس کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ہےلیکن وہ بھی کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ عدلیہ کو الیکشن کمیشن سے شکایت ہے کہ اس نے گیند مرکز کے پالے میں پھینک کر اپنا پلہ جھاڑ لیا ہے۔ مودی یگ میں کوئی بھی سرکاری ادارہ حکومت کی مرضی کے خلاف اقدام کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ کسی خاص قانون کی عدم موجودگی میں، نفرت انگیز تقاریر اور افواہوں پرلگام لگانا اس کے بس کا روگ نہیں ہے ۔ وہ بیچارہ تو صرف آئی پی سی کی مختلف دفعات عائد کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مرکز ی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے اپنے حلف نامے میں صاف طور پر کہہ دیا کہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کوئی واضح قانون موجود نہیں ہےاور موجودہ قوانین اپنے اندرنفرت پھیلانے والے بیانات اور افراد کے خلاف مناسب کاروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ آئی پی سی اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت کام کرتا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں سمیت لوگوں کو ہم آہنگی میں خلل ڈالنے سے روکا جا سکے ۔
الیکشن کمیشن نے اپنا پلہ جھاڑ کر الٹا سپریم کورٹ سے اس معاملے میں مناسب حکم دینے کا مطالبہ کردیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لاء کمیشن کی جانب سے مارچ 2017 میں پیش کی گئی 267 ویں رپورٹ میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق فوجداری قانون کے اندر ضروری ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ 2017 میں، لاء کمیشن نے نفرت اور اشتعال انگیز تقریر کی تعریف بھی کی تھی اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور فوجداری ضابطہ (سی آر پی سی) ، دفعہ 153 سی اور 505 اے کو شامل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس مباحثے سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ کمیشن اور عدالت خود کوئی اقدام کرنے کے بجائے اس کو ایک دوسرے پر ٹال رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں کمیشن کے ہاتھ کھڑے کردینے کے بعد عدالت نےسب کو مل بیٹھ کریہ مسئلہ حل کرنے کی تجویز پیش کی ۔ سپریم کورٹ نے یہ کہنے کے بعد کہ سیاسی جماعتیں ٹی وی چینلز پر سرمایہ لٹا کر انہیں ایک پلیٹ فارم کے طور استعمال کرتی ہیں جب مرکزی حکومت سے مخالفت کا رویہ ترک کرے عدالت کی مدد کرنے کی گہار لگائی تو اس کے بھولے پن پر بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آگیا؎
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
عدالتِ عظمیٰ کی فکرمندی قابلِ قدرہے اور بظاہر اس کے اخلاص پر شک کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں لیکن جس مرکزی حکومت کو میڈیا پر لگام کسنے کی تلقین کی جارہی ہے جج صاحب اس کو نہیں جانتے ۔ مودی جی کا مشہور جملہ ہے ’آپدا میں اوسر‘ یعنی ’مشکل میں موقع ‘ ۔ موجودہ حکومت اپنے مخالفین کی آواز کو کچلنے کا بہانہ تلاش کرتی رہتی ہے۔ بعید نہیں کہ اسے سپریم کورٹ کے اس مشورے سے اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے کا لائسنس مل جائے۔ نیا قانون بنائے بغیر ہی مرکز کی مودی حکومت سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز کی باریکی سے نگرانی کر رہی ہے۔ سرکاری نکتۂ نظر سے غلط خبر پھیلانے والے یعنی سرکار پر تنقید کرنے والے یوٹیوب چینلز پر وقتاً فوقتاً کارروائی کا سلسلہ جا ری ہے۔ اس ضمن میں 10 یوٹیوب چینلز کے خلاف وزارتِ اطلاعات و نشریات نے غلط جانکاری پھیلانے کا الزام لگا کر ان پر اَپلوڈ تقریباً 45 ویڈیوز کو بلاک کر دیا ۔ ان ویڈیوز کو بلاک کرنے کا حکم اسی 23؍ ستمبر 2022 کو دیا گیا جب جسٹس جوزف سرکار کی خاموشی پر برہم ہورہے تھے ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیٹ گائیڈلائنس اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رول 2021 کے تحت 1 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ بار دیکھے جانے والے مقبول عام ویڈیوز کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ اس خبر کو پڑھ کر ممکن ہے جسٹس جوزف اپنے مشورے پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہیں ؎
ہے تمنا مجھے ابنائے زمانہ سے یہی مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا
حکومت نے اپنے دستورِ زباں بندی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ ان ویڈیوز میں موجود مواد سے مذہبی طبقات کے درمیان نفرت پھیلنے کا خدشہ تھا۔ ان ویڈیوز کو فرضی خبروں اور چھیڑ چھاڑ شدہ موادکاستعمال کیا گیا تھا۔ اس کام میں تو بی جے پی کا آئی ٹی سیل ہمہ وقت منہمک رہتا ہے لیکن وزارت اطلاعات و نشریات کی کیا مجال کہ اس کی جانب نگاہِ غلط ڈالے۔ اس کی تازہ ترین مثال پونے شہر میں پی ایف آئی کے کارکنان کی گرفتاری کے وقت لگایا جانے والا پاکستان زندہ باد کا نعرہ والی ویڈیو ہے۔ پولیس کے کئی افسران کی تردید کے باوجود اس جعلی ویڈیو کو بلاروک ٹوک زور و شور سے پھیلایا جارہا ہے۔ سرکار کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اسے تو ان ویڈیوز پر اعتراض ہے کہ جن میں حکومت پر کچھ طبقات کے مذہبی حقوق کو چھین لینے کا ، مذہبی طبقات کے خلاف پرتشدد اور دھمکیاں دینے کا یا ملک میں خانہ جنگی کا اعلان کیا گیا ہو۔ مسلمانوں کے حوالے سے یہ ساری باتیں بڑی حد تک درست ہیں لیکن حکومت کی نگاہ میں ان ویڈیوز کے ذریعہ ملک میں فرقہ وارانہ نفرت بڑھاکر عوامی نظام میں رخنہ اندازی کی جارہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت کا منظور نظر گودی میڈیا سرکار کے ایماء پر ہر شام یہی کرتا ہے لیکن اس کا بال بیکا نہیں ہوتا ۔ موجودہ سرکار کو اگنی پتھ یوجنا کے خلاف احتجاج والی ویڈیو سے پریشانی ہے ۔ وہ نہیں چاہتی کی مسلح افواج کی زیادتی یا کشمیر کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آئے اور بیرونی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ رشتوں کو لے کر منفی شبیہ بنے۔ حکومت اگر رشتوں کو مثبت بنانا چاہتی ہے تو میڈیا پر قدغن لگانےکے بجائے منفی بیان دینے والوں کی زبان پر لگام لگائے۔
عدالت عظمیٰ نے مذکورہ سماعت کے دوران یہ دلچسپ سوال بھی کیا کہ آخر عوام کو ہیٹ اسپیچ کیوں پسند آتی ہے؟ اس کا جواب تو یہ ہے کہ اگر لوگوں کو مفت میں کسی نشے کا عادی بنادیا جائے تو ہزار ایذا رسانی کے باوجود وہ انہیں اچھی لگنے لگتی ہے۔ فی الحال نفرت انگیزی کو عوام کے رگوں میں نشے کے طور پر دوڑا دیا گیا ہے۔ وہ اس کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ نفرت سے انہیں محبت ہوگئی ہے ۔ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے اور ایک منشیات کے عادی کی مانند اس کے حصول کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔کل یگ میں نشے کی خاطر بچے اپنے والدین کے قتل سے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ عوام کا یہی حال زہریلے میڈیا نے کررکھا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو اس سے سیاسی فائدہ ہورہا ہے ۔ رائے دہندگان کے مسائل کو حل کیے بغیر یہ نسخۂ کیمیاء انہیں ووٹ دینے پر مجبور کردیتا ہے ۔ اس لیے سرکار اس کی ممانعت کے بجائے فروغ میں جٹی ہوئی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ عوام مست رہیں مستی میں آگ لگے بستی میں ۔ سپریم کورٹ کے مطابق جمہوریت کے ستونوں کو آزاد ہونا چاہیے لیکن فی الحال تو سارے ہی سرکاری ا دارے حکومت کے بندۂ بے دام بنتے جارہے ہیں۔ عدلیہ کی غیر جانبداری بھی مشکوک ہوچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ کو خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھناچاہیے اور سرکاری دھاندلی پر خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے ازخود آگے بڑھ کر اقدام کرنا چاہیے۔
Comments are closed.