کچھ تو شرم کرو!

 

ــــــــــــــــــــ

مولانا حکیم محمود احمد خاں دریابادی

 

آج ہی کہیں پڑھا تھا کہ ” گربا ” جو درحقیقت ہندوؤں کے تہوار نوراتری میں کسی دیوی ماں کو خوش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے، اس میں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ ہاتھ میں دو لکڑیاں لے کر مخصوص تال پر گھوم گھوم کر رقص کرتے ہیں، کہیں کہیں اس میں بڑے بڑے فلم اسٹاروں، کرکٹ کھلاڑیوں اور شوبزنس کے بڑے ناموں کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے، مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارے گربا میں زیادہ سے زیادہ لڑکے لڑکیاں شامل ہوجائیں ـ ظاہر ہے جب لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی ظاہر ہوگا، چنانچہ کئی برس پہلے اخبار میں یہ بھی پڑھاتھا کہ نوراتری کے بعد ناجائز حمل گروانے والی لڑکیوں کی تعداد نسبتاً بڑھ جاتی ہے ـ اسی گربا میں ہرسال کچھ مسلمان لڑکے بھی اپنے غیر مسلم زنانہ یا مردانہ دوستوں کے ساتھ شامل ہوتے رہے ہیں،………. گزشتہ کچھ برسوں سے ملک کے بعض علاقوں میں مسلم لڑکوں کو پہچان کر الگ کیا جاتا ہے اور پھر ان کے ساتھ گالی گلوچ اور شدید مارپیٹ کی جاتی ہے، کئی جان بچا کر بھاگے ہیں ورنہ ہلاکت میں پڑسکتے تھے ـ

 

علماء کرام اور ائمہ مساجد ہمیشہ اپنے خطبات میں یہ کہتے رہے ہیں کہ کسی دوسرے مذہب کی تقریبات میں شمولیت حرام ہے، حدیث میں اس کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں یہ تک کہا گیا ہے جو کسی غیر قوم کے مجمع میں شامل ہوکر ان میں اضافہ کرے گا اُس کا حشر اُن ہی غیروں کے ساتھ ہوگا ـ ………. پھر گربا تو دیوی ماں کی پوجا کے لئے ہوتا ہے، یہ صریح مشرکانہ عمل ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم تمام گناہوں کو معاف کردیں گے مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کریں گے ـ………. افسوس ہمارے اُن بدچلن نوجوانوں پر علماء وائمہ کرام کی یہ نصیحتیں صدا بصحراثابت ہوتی ہیں اور بہت سے نوجوان ” لڑکیوں کے چکر میں ” وہاں چلے جاتے ہیں، ………….. لیکن تعجب تو یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے گربا میں شامل مسلمانوں پرمتعصب ہندو شدت پسندوں کے جان لیوا حملے بھی ” لڑکیاں تاڑنے کے شوقین ” ہمارے نوجوانوں کو نہیں روک پاتے، وہ وہاں جاتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں ـ

 

ہم ایسے تمام ” شاہدان بازاری کےعاشقانِ خام ” سے دست بستہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کو یوں ہی حرام موت مرنے کا شوق ہے تو اور بھی بہت سے راستے ہیں، ٹرین کے نیچے لیٹ جائیں، اب تو ہر شہر میں فلک بوس عمارتیں دستیاب ہیں، سب اونچی منزل پر چڑھ جائیں چھلانگ لگادیں، پنکھا تو آپ کے گھر میں ہوگا ہی رسی یا اماں کا ڈوپٹہ باندھ کر لٹک جائیں، اب تو کھٹمل مارنے کی دوا بھی اصلی نہیں ملتی مگر نیند کی گولیاں ہر جگہ کچھ زائد رقم دیکر بغیر نسخے کے مل جاتی ہیں، پوری شیشی ایک ساتھ کھالیجئے بڑے آرام کی موت آئے گی ـ ………….. مگر خدا را اپنے گھٹیا عمل سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام مت کیجئے ـ اس ملک میں ہم پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہیں، ہماری عزت آبرو محفوظ نہیں، ہماری مساجد، مقابر اور مدارس خطرے میں ہیں، ہم پر، ہمارے لوگوں پر اور ہماری تنظیموں پر بلاوجہ دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں، ہمارے نیک صالح اور تعلیم یافتہ نوجوان جو قوم کا مستقبل ہیں ان کو بے گناہ جیلوں میں سڑایا جارہاہے، جو ناانصافی کے خلاف احتجاج کرتا ہے وہ بھی جیل میں پہونچ جاتا ہے، بالکل ” جبرا مارے بھی اور رونے بھی نہ دے ” والی کیفیت ہےـ

 

اے میرے نوجوانو کچھ تو شرم کرو، اپنا خیال نہیں ہے تو کم ازکم اپنے ماں باپ، بھائی بہن اور مسلم قوم کا خیال کرو، ملت کے مسائل میں اضافے کا سبب تو نہ بنو ! ………. یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے، سوچو اگر کل محشر میں اللہ کے سچے رسول نے تمھارا دامن پکڑ کر یہ سوال کرلیا کہ وہ تم ہی تھے نا جس نے میری امت کو شرمندہ کیاتھا، کیا جواب دوگے، اللہ اور اس کے محبوب کو کیا منہ دکھاو گے، وہاں مرنا بھی چاہو تو موت نہیں آئے گی ـ

 

خاک ڈالی ہے میں نے زخموں پر

کوئی بھی زخم اب ہرا نہیں ہوتا

Comments are closed.