سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت
شمشیر داؤد تیمی
نبی پاک ﷺ کی سیرت ہمارا دین وایمان ہے،اس دین وایمان کی حفاظت ہم سب کے لیے اسی قدر ضروری ہے جس قدر زندہ رہنے کے لیے ہمارا کھانا اور پینا، جس طرح کھائے اور پیے بغیر ہم زندگی کی گاڑی کو آگے نہیں لے جاسکتے ، اسی طرح آپ ﷺکی سیرت کے بغیر ہم اپنے دین وایمان کو زندہ و تابندہ نہیں رکھ سکتے۔
آج ہر چہار جانب فتنوں کا بازار گرم ہے، آئے دن دشمنان اسلام محسن انسانیت کے خلاف دشنام طرازیاں کررہے ہیں اور آپ ﷺکی پاک وصاف زندگی کو گدلاکرنے کی ناپاک سعی کر رہے ہیں، ایسے میں ہماری اور آپ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم سب نبی ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں، تعلیمات نبوی کو عام کریں اور بساط بھر انہیں دوسروں تک پہنچانے کی جد وجہد کریں ۔
افسوس یہ ہے کہ آج غیرلوگ سیرت نبوی کا مطالعہ کرکے اس میں نقص نکالنے کی کوشش میں ہیں، اور ہم آپ ﷺکی سیرت طیبہ سے کوسوں دور ہیں ، ہم میں سیرت رسول کو پڑھنے اور پڑھانے کا کوئی اہتمام نہیں ہے، یہی وجہ ہیکہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کے پاس بھی آپﷺ کی سیرت کے حوالے سے کچھ بھی علم نہیں ہے، اس معاملے میں وہ نرے جاہل ہیں،وہ آپ ﷺ کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہیں، سیرت نبوی کے تعلق سے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہے توجاہلوں کا حال کیا ہوگا،اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ حال آج کے مسلمانوں کا ہے، جن کا دعوی ہے کہ ہم سب سے زیادہ نبی سے محبت کرنے والے ہیں۔
مکاتب و مدارس میں بھی سیرت نبوی کے حوالے سے بہت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے، سیرت کی کتابیں نصاب میں تو داخل ہیں، لیکن یہاں بھی درس و تدریس کا کوئی خاص اہتمام نہیںہے ، داخل نصاب مقررات کو مطالعہ میں رکھ دیا جاتا ہے، (جس کا مطلب ہے کہ طلبہ خود سے پڑھیں) بنابریں ہوتا یہ ہے کہ طلبہ امتحان کے دنوں میں اپنےمقررات کی ورق گردانی کرکے کسی طرح پاس ہوجاتے ہیں،پھر طلبہ سال بھر اس کی طرف التفات بھی نہیں کرتے ، یہ حال دینی مدارس میں پرھنے والے طلبہ کا ہے،توبھلا اسکول و کالج میں پڑھنے والے طلبہ سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
اس دنیا کی ریس میں ہم اپنے بچوں کوسب سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں،ان کے تئیں کئی طرح کے خواب سجو تے ہیں،جس کی بازیابی کے لییجی توڑ کوشش کرتے ہیں،ان پر اپنی گاڑھی کمائی کرچ کرتے ہیں،تاکہ ہمارے بچے کسی طرح کامیاب ہوجائیں، اس دنیوی زندگی میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو، ان کی لائف اسٹائل سب سے جدا ہو، گاڑی،بنگلہ،مال ودولت کے ساتھ ساتھ تمام طرح کی سہولیات انہیں خوب خوب میسرہوں ،تقریباہر والدین کی فکر اور سوچ اسی طرح کی ہوتی ہے، اور یہ کوئی بری چیز بھی نہیں ہے، مگرذرا رک کر ہم اپنے آپ سے استفسار کریں ،کہ کیا بچوں کی دینی کامیابی کے لیے بھی ہم اسی طرح سیفکرمند رہتے ہیں ؟اگر جواب نفی میں ہے، تو پھرہمیں اپنی فکر پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
بھلا بتلائیے کہ ہم کس ڈگر پر چل رہے ہیں، ایک طرف ہم عصری علوم کے لیے پانی کی طرح پیسے بہارہے ہیں، اور دوسری طرف دینی تعلیم کے نام پر نیل بٹا سناٹاہے، یہ کہاں کا انصاف ہے،کیاایسے والدین سے قیامت کے دن سوال نہیں ہوگا، کہ انہوں نے اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کیوں نہیں کیا، دینی تعلیم سے بے رخی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلم بچوں کو دین کی بنیادی باتوں کا علم نہیں ہے، انہیں کلمہ طیبہ،سورۃ الفاتحہ اور نماز میں پڑھی جانے والی بنیادی دعائیں تک یاد نہیں ہیں، انہیں سیرت نبوی کا کچھ بھی علم نہیں ہے،الاماشا اللہ۔
آج ہم جس طرح مطالعہ سیرت سے غفلت برت رہے ہیں اور اسکے پیغام کو فراموش کررہے ہیں وہ شاید اس دور کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، غیروں کی نقالی میں ہم مست ومگن ہیں، جبکہ نقالی کے لییہماریپاس آپ ﷺ کی سیرت طیبہ ہے جو دنیا کی تمام چیزوں بہتر اور برتر ہے، آپ کی زندگی ہمارے لیے بہترین آئیڈیل اور نمونہ ہے، آپﷺ کے اخلاق و عادات ، رحمت ورافت، محنت وشفقت، خشیت وانابت، شجاعت و امانت، صداقت وعدالت، فراست ومتانت، جود وسخا، ایثار وقربانی، احساس ذمہ داری،حلم و تواضع، صبر وتوکل، عدل وانصاف، رعایا پروری، سیاسی سوجھ بوجھ، دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک غرضیکہ آپ ﷺ کا اٹھنا بیٹھنا ، سونا جاگنا، چلنا اور پھرنا، ہر ہرعمل ہمارے لیے قابل تقلید اورلائق اتباع ہے۔
لیکن شب و روز پیش آنے والے مسائل سے ہم سیکھنے کو تیار نہیںہیں ، اسلام کی اسپرٹ ہمارے اندر سے مفقود ہوچکی ہے،وقتی شور و غوغاں کرنے کے بعد ہم ایسے خاموش ہوجاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، ہمارے پاس نہ تو کوئی لائحہ عمل ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے کو ئی مضبوط منصوبہ بندی ہے، شتر بے مہار کی طرح ہماری زندگی کٹ رہی ہے ،اورعیش کوشی وآرام طلبی میں ہم بہت آسانی سے دشمنوں کے بنے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔
دشمنان اسلام کی یہ دلی خواہش ہے کہ مسلم( نوجوان) نسل کو دنیا کی زیب و زینت، مادی زندگی کا عیش و تنعم، بلا مواخذہ جسمانی لذتوں کے مواقع فراہم کرکے انہیںروحانی لذتوں سے بے بہرہ کردیں اوررسول رحمت ﷺ کے ارشادات وتعلیمات کی اصل روح کو مسخ کرکے مسلمانوں کے دلوں سے رحمت عالم ﷺ کی محبت کا نقش مٹادیں، جس کے لیے وہ رات ودن تن ،من، دھن سے اپنے مشن میںمصروف ہیں۔
آج جوحالات ہمارے سامنے رونما ہورہے ہیںان کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیرت طیبہ کی ضرورت و اہمیت کا احساس ہمارے دلوں سے محو ہو گیا ہے،سیرت رسول کوپڑھنے،پڑھانے اور پھیلانیو عام کرنے میں ہم کوتاہ ثابت ہوئیہیں، اور حیرت یہ کہ ہمیں اس اہم خلا کا احساس بھی نہیں ہے۔
وائے نا کامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
Comments are closed.