سر سید کے تاریخی کارنامے
ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)
محسنِ قوم سر سید علیہ الرحمہ نے جس دور میں آنکھیںکھولیں ، وہ ہندوستانی مسلمانوں کی بدحالی سماجی و تعلیمی پس ماندگی کا زمانہ تھا ، مسلم قوم کو اِس زوال کی گہرائی سے نکالنے کے لئے سر سید اور اُن کے رفقاء نے جو تحریک شروع کی اُس کا مقصد مسلمانانِ ہند کو سیاست سے دور رکھ کر تعلیمی اور سماجی لحاظ سے اُونچا اُٹھا ناتھا ، اِس تحریک کو ’علی گڑھ تحریک‘ کا نام دیا گیا۔ اِسے موثر بنانے کے لئے سر سید نے تین طریقے اپنائے۔
پہلا طریقہ ملک کے اتحاد اور قومی یک جہتی کو ہر قیمت پر پیشِ نظر رکھنا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ سر سید نے مدرستہ العلوم علی گڑھ میں مسلمانوں کے لئے ضرور قائم کیا لیکن اِس کے وجود میں آنے سے آج تک اِس درس گاہ کے دروازے کسی غیر مسلم کے لئے بند نہیںکے گئے ، اِس علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سب سے پہلے گریجویٹ ہندوستان کے مشہور مورخ ایشوریہ پرساد بنے، سر سید نے علی گڑھ کالج میں دوسرے مضامین کے ساتھ سنسکرت کی تعلیم کا بھی انتظام کیا اور ایک قابل پنڈت کیدار ناتھ کو اس کے لئے مقررکیا، سر سید کی اِسی رواداری کا نتیجہ تھا کہ کالج کے لئے چندہ دینے والوں میں ایک بڑی تعداد ہندؤں کی تھی ، کالج کے ۵۰ کمروں میں سے تقریباً ۹ کمرے اہلِ ہنود کے چندہ سے تعمیر ہوئے ، سر سید کسی قیمت پر اِس کے لئے تیار نہیں تھے کہ کالج کے ہندو طلباء میں کسی طرح کا احساسِ کمتری پیدا ہو یا اُنہیں مذہبی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑے۔ ۱۸۸۲ء میںجب بعض مسلمانوں نے بی اے میں امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے مسلم طلباء کے لئے گولڈ مڈل کا انتظام کیا تو سر سید نے کالج کے پرنسپل کو لکھا کہ وہ اُن ہندو طلباء کو جو بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کریں گے اپنی طرف سے گولڈ مڈل دیں گے، سر سید کا ۱۸۹۷ء میں جب انتقال ہوااُس وقت کالج میں ۲۸۵مسلمان اور چوسٹھ ہندو زیرِ تعلیم تھے اور سات اساتذہ میں دو ہندو اُستاد تھے۔
سر سید کی دل سوزی اور فکر کا نتیجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے پر آشوپ زمانہ میں علی گڑھ اتحاد و اتفاق کا گہوارہ بنا رہا ، نہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمانوں میں کسی طرح کی تفریق نظر آئی، علی گڑھ سے دور رہنے والے کچھ بھی الزام لگائیں لیکن کوئی بھی انصاف پسند علی گڑھ یو نیورسٹی میں قومی یک جہتی کے خلاف کسی قول و فعل کی شہادت نہیں دے سکتا۔
علی گڑھ کا ماحول ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کی مثال بنا رہا ہے اور یہ سب سر سید کی یک جہتی کے لئے تلقین اور اتحاد و اتفاق کے درس کا نتیجہ تھا، سر سید پر دو قوی نظریہ کی حمایت کا جوالزام لگاتے ہیں وہ ایک بھی مثال ایسی پیش نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اپنی تقریر یاتحریر میں کسی موقع پر دو قومی نظریہ کی تبلیغ کی ہو یا کسی فرقہ کی برائی زبان پر لائی ہو’ پائنیر‘ کے ایڈیٹر کے الفاظ میںوہ نباضِ قوم تھے اور اُن کا ہر فیصلہ سیاسی نقطۂ نظر سے لیکن قومی مفاد میں ہوا کرتا تھا‘۔
یہی وجہ ہے کہ سر سید کو سب نے سراہا اور نباضِ قوم کی حیثیت سے سب نے اُنہیں تسلیم کیا، پنڈت جواہر لال نہرو نے اُنہیں قوم پرست اور قومی یک جہتی کا داعی و مبلغ قرار دیاجو ہر قیمت پر اتحادو اتفاق چاہتے تھے اور یہی اُن کی زندگی کا مشن تھا، ایک موقع پر یک جہتی کے بارے میں وہ اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں’ اِس سے میری مراد ہر گز یہ نہیں کہ مسلمان ، مسلمان نہ رہیں اور ہندو ہندو نہ رہیںیا اپنا اپنا طریقہ کار چھوڑ دیں بلکہ یک جہتی سے میری مراد یہ ہے کہ لوگ دنیاوی معاملات میں اپنے مذہب کی بُنیاد پر کسی تعصب و تنگ نظری کا شکار نہ ہوں بلکہ مذاہب کے اختلاف کے باوجود سب ہندوستانی ایک دوسرے کی بھلائی کے لئے عمل کریں، آج تقریباسوا دیڑھ صدی کا عرصہ ہو رہا ہے، سر سید کا یہ پیغام زندۂ جاویدہے اور اِس پر عمل پیرا ہونے کی پہلے سے زیادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے، بد قسمتی سے لوگ اُن کے مقصدِ
حیات کو سمجھنے میں ناکام رہے، بیشتر نے یہ سمجھا کہ وہ صرف ایک مسلم کالج کے بانی تھے۔ حالانکہ سر سید زندگی بھر ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرتے رہے، اُن کی تحریک سے قومی یک جہتی کو کبھی نقصان نہیں پہونچا ، اِسی لئے گاندھی جی کی اُن کے بارے میں رائے تھی کہ اُن سے زیادہ بے تعصب اور قومی اتحاد کا علمبردار اِس وقت کوئی نہیں ہے۔
سر سید نے اپنی تحریک کو زُود اثر بنانے کے لئے دوسرے طریقہ کے طور پر’ تہذیب الاخلاق ‘اور ’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ،جیسے اصلاحی اخبارات جاری کئے اور ’ سائنٹفک سو سائٹی‘ کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کے تعلیم یافتہ اور متمول طبقہ کو اپنی اصلاحی تحریک کی طرف راغب کیا اور اِس کے لئے اُردو نثر کا نہایت سادھا اور سلیس اسلوب اپنایا، زبان کو مبالغہ آرائی سے پاک رکھا۔ معیاری انگریزی مضامین کو اُردو قالب میں ڈھالا اور اِس طرح چھوٹے چھوٹے مضامین میں علم وحکمت ، تہذیب و تمدن ، اخلاق و عادات اور زندگی کے اصول و آداب پر قلم اُٹھاکر پڑھنے والوں کے ذہنوں کو مانجھنے کا کام کیا ،کیسا ہی پیچیدہ مسئلہ ہو۔اِن مضامین میں اِس خوبی سے بیان ہو تا کہ قاری کے دل میں اُتر کر ذہن کو روشن کردیتا۔ غرضیکہ سر سید کے اخبارات بالخصوص ’تہذیب الاخلاق‘، نے آل احمد سرور کے الفاظ میں ’نہ صرف لکھنا پڑھنا سکھایا۔ بلکہ سوچنا اور محسوس کرنا بھی سکھایا، اُس نے نہ صرف زندہ رہنے کا گُر بتایا بلکہ تہذیب و شائستگی سے زندہ رہنے کا سلیقہ سکھایا اور نہ صرف دنیاداری پیدا کی بلکہ قابلِ فہم دینداری جو سمجھ میں آسکے اور سمجھائی جا سکے‘۔بحیثیت مجموعی سر سید نے اپنی صحافت کے وسیلہ سے جہاںجدید نثر کو فروغ دیا وہیں علی گڑھ تحریک کو مقبول بنانے میں بھی اِس سے کام لیا۔
سر سید کا تیسرا اور سب سے مہتم بالشان کارنامہ مسلمانوں کو زوال و ادبار سے نکال کر مغربی علوم اور عصری فنون سے آشنا کرنا تھا، اِس مقصد کے حصول کے لئے اُنہوں نے تعلیمی درس گا ہیں قائم کیں۔ غازی پوراور مرادآباد کے بعد علی گڑھ کو عصری تعلیم کا مرکز بنایا، یہاں جو مدرستہ العلوم اُنہوں نے قائم کیا وہ چند سال کے بعد محمڈن اینگلو ااُورینٹل کالج بن گیا،سر سید انگلینڈ سے آکسفورڈاورکیمبرج یو نیورسٹیوں کے تعلیمی نظام کا مطالعہ کرکے آئے تھے اور علی گڑھ کے کالج میں اُسی طرح سائنس کی تعلیم دینا چاہتے تھے کیونکہ اِس کے بغیر اُنہیں ترقی کی دوڑ میں مسلمانوں کے پچھڑ جانے کاخطرہ تھا۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ کالج کے دروازے بلا امتیاز مذہب و ملت سب کے لئے کھلے رہیں ، اُن کا یقین تھا کہ اگر دونوں یعنی ہندومسلمان ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کرینگے تو دونوں میں اخوت ہمدردی اور محبت کے جذبات پروان چڑھیں گے ، وہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسا تعلیمی ادارہ ترقی دینا چاہتے تھے جو دنیا کا اعلیٰ ترین ادارہ ہو، جہاں تعلیم کے ساتھ مسلمانوں کی بہترین تربیت بھی ہو۔
شدید مخالفت کے باوجود یہ کالج قائم ہوگیا اور اِس کے لئے سر سید نے اپنی زندگی وقف کردی، ۱۹۲۰ء میں آغا خان کی موثر نمائندگی سے کالج کو یو نیورسٹی کا درجہ مل گیا اور ایک خواب جو پودے کی شکل میں نمودار ہوا تھا، تناور درخت بن گیا، اِس یو نیورسٹی سے قابل ترین فرزند پڑھ کر نکلے جو بعد میں ادیب ، شاعر ڈرامہ نویس ، سائنس داں، مُصور کھیل کے میدانوں سے نام پیدا کرنے والے اور اُردو انگریزی کے شعلہ بیان مقرربنے غرضیکہ ہر میدان میں قابل و ماہر انسا ن تسلیم کئے گئے ۔ لیکن ۱۹۴۷ء کے تقسیم ملک کے المیہ نے یہ ستم ڈھایا کہ پڑھے لکھے اور باصلاحیت مسلمانوں کی بڑی تعداد پاکستان چلی گئی۔ اِس جانگسل صورتِ حال میں ڈاکٹر ذاکر حسین اِس یو نیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے اور اُنہوں نے مختلف شعبوں کے ماہرین کایونیورسٹی میں تقرر کیا ، ہوشیار اساتذہ کو دوسرے ممالک بھیج تربیت دلوائی تب کہیں جاکر یو نیورسٹی کا کھویا ہوا قار واپس آیا، لیکن بیرونی ریشہ داونیوں سے یونیورسٹی آج بھی سرد وگرم حالات سے دو چار ہے ، جس کا انسداد اور یونیورسٹی کے مقاصد و کردار کی نگہہ بانی قوم و ملت کے ہر فرد و بشر کی ذمہ داری ہے۔
Comments are closed.