صرف مسجد میں ہی عورت کا داخلہ آخر کیوں ہے فتنہ کا باعث ؟؟؟
احساس نایاب شیموگہ کرناٹک
ایڈیٹر گوشہ خواتین بصیرت آن لائن
سوشیل میڈیا پر اہل علم حضرات کے درمیان ایک مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اب یہ بحث سرد جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے کہ "خواتین نماز ادا کرنے کے لئے مسجد جاسکتی ہیں یا نہیں ؟”
کچھ حضرات خواتین کے مسجد جانے کی حمایت کررہے ہیں تو کچھ مخالفت
ویسے بات حمایت و مخالفت ہی تک ہوتی تو ٹھیک تھا کیونکہ سب کا اپنا نظریہ نہ کوئی مکمل صحیح نہ غلط
لیکن افسوس کہ اس بحث نے اب بےہودگی اختیار کرلی ہے اور اہل علم حضرات ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے نیچا دکھانے کے خاطر عیل فیل بک رہے ہیں یہاں تک کہ تمام حدیں پار کی جارہی ہیں ۔۔۔۔۔
ایسے میں ہمارے ذہن میں بھی بہت سارے سوال اُٹھ رہے ہیں
عالم دین، مفیان کرام سے عاجزانہ گزارش ہے برائے مہربانی ہمارے سوالات کے جواب دے کر ہماری اور ہماری جیسی لاکھوں خواتین کی الجھن دور کریں ۔۔۔۔۔
جب لڑکیاں خواتین اسکول, کالج, یونیورسٹی جاسکتی ہیں،
گھر سے باہر جاکر مختلف جابس کرسکتی ہیں
اکیلی پارکوں اور بازاروں میں گھوم سکتی ہیں
اور اب تو شاندار مولس کے نام پر مزید چار قدم آگے ہوٹلس، بیوٹی پارلرس اور ورزش کے نام پر یوگہ سینٹرس، ایروبک اور جم جیسے فٹ نیس سینٹرس میں بھی جانا جیسے معمول بن چکا ہے
ایسے میں جہاں ہر جگہ جاسکتی ہیں
شادیوں میں بھی بن ٹھن کر گھوم سکتی ہیں، پکنک کے لئے ساری دنیا کی سیر کرسکتی ہیں تو عبادت کے لئے گھر سے چار قدم کے فاصلے کی مسجد یعنی اللہ کے گھر جانے پر ہی اعتراض اور پابندیاں کیوں ہیں ؟؟؟
کیا مرد حضرات صرف مساجد میں ہی ہوتے ہیں ؟
کیا بازاروں و دیگر جگہوں پر مرد نہیں ہوتے ؟
کیا فتنہ صرف مسجد تک ہوتا ہے ؟
کیا اسکول, کالج ؤ دیگر جگہوں پہ فتنہ نہیں ہوتا ؟
یا شادیوں میں اجتمائی پروگرامس میں مرد حضرات آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر آتے ہیں ؟
کیا ایسی جگہوں پر فتنہ نہیں ہوتا ؟؟؟
جبکہ مسجد تو اللہ کا گھر ہے جہاں پر دیندار، نمازی حضرات ہوتے ہیں اور تو اور مسجدوں میں خواتین کے لئے الگ انتظام ہوتا ہے، مسجد میں داخلہ سے لے کر ، وضو خانہ سے نماز ادا کرنے تک باقاعدہ الگ کمرہ ہوتا ، جہاں خواتین کے سوا کسی مرد کی پرچھائی تک نہیں پڑتی ، ایسے میں وہاں فتنہ کا خطرہ کیسے ؟؟؟
اور ہاں خواتین کے مسجد جانے سے اگر مسجدوں میں فتنہ پھیلنے کا اس قدر خطرہ ہے تو مستورات کے لئے مدارس کیوں بنائے گئے ہیں ؟؟؟ اجتماؤں سے لے کر دیگر جلوس جلسے و پروگرامس میں انہیں کیوں جانے کی اجازت ہے ؟؟؟
جبکہ ایسی جگہوں پر تو ہر قسم کے لوچے، لفنگے، لوفر، زانی اچھے بُرے، نیک ہر قسم کے مردوں کی موجودگی ہوتی ہے اور تو اور وہان کسی کے ماتھے پہ اُس کی فطرت نہیں لکھی ہوتی باوجود دنیا بھر میں گھومنے کے لئے عورت کو اجازت ہے لیکن اللہ کے گھر جانے پر پابندی ۔۔۔۔
کیا آپ کو نہیں لگتا یوں خواتین کو ہر جگہ کھلی آزادی دے کر صرف مساجد جانے پر پابندی لگانا سب سے بڑا فتنہ ہے ساتھ ہی ایک خاتون کو دین سے دور رکھنے کی کوشش ہے ؟؟؟
بہرحال کئی حضرات نے ہمارے ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی لیکن کسی کا کوئی جواب اطمینان بخش نہیں تھا
اُلٹا ذہن مزید اُلجھ کر رہ گیا اور دس کی جگہ سو سوال الگ سے پیدا ہوگئے ۔۔۔۔۔
ہمیں لگتا ہے اُن سوالات و جوابات کو بھی یہاں پر کوڈ کرنا ضروری ہے
تاکہ ایک عام انسان کو کسی قسم کی کنفیوژن نہ رہے ۔۔۔۔۔۔
{” ایک عالم دین نے ہماری اس تحریر پر جواب کے طور پہ کہا ۔۔۔۔۔۔
ہر جگہ جانے کی اسلام نے شرائط لگائی ہیں
انہی شرائط کے ساتھ جاسکتی ہیں
صرف لوگوں کو کرتے ہوئے دیکھنے سے وہ چیز دلیل نہیں بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔
دلیل صرف قرآن و حدیث ہے ۔۔۔۔۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
اصحابی کاالنجوم بایھم اقتدیتم اہتدیتم
یعنی میرے صحابی ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے کامیاب ہوجاؤ گے
عورتوں کا مسجد میں آنا خلیفہ ثانی امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بندکیا اور اس وقت سے سبھی اہل ایمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس سنت پر پابندی سے عمل کررہے ہیں
جس طرح تراویح کی ایجاد بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی اور آج تک پوری امت مسلمہ کا اس پر عمل ہے ۔۔۔۔۔
ہمارے لیے قرآن کے بعد حدیث اور حدیث کے بعد صحابہ نمونہ ہیں
اگر ہم نے صحابہ کو نمونہ نہیں مانا تو اسلام کی پوری بنیاد ہی ہل جائے گی
کیوں کہ قرآن کو جمع کیا صحابہ نے
تو اگر صحابہ کو نہیں مانیں گے تو قرآن بھی مشکوک ہوجائے گا نعوذ باللہ ۔۔۔۔۔۔ ” }
مولانا کے علاوہ بھی کئی حضرات نے ایسے ہی ملتے جلتے جواب دئے ہیں لیکن کوئی جواب اطمینان بخش نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ جہاں آپ حضرات خود اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ
غیر ضروری عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی حرام ہے باوجود ایک عام مسلم خاتون کے ساتھ ساتھ آج کل اہل علم حضرات کے خود اپنے گھروں کی خواتین بھی کسی نہ کسی ہلے بہانہ سے گھروں سے باہر جارہی ہیں ۔۔۔۔۔
جبکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے مسجد جانے کو کبھی حرام یا ناجائز نہیں کہا ، بلکہ گھروں میں عبادت کرنا مسجد سے افضل بتایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہیں بازاروں میں گھومنے کو سختی سے منع کرتے ہوئے حرام کہا گیا ہے باجودو حرام کاموں کے لئے مواقعہ دئے جارہے ہیں، چھوٹ دی جارہی ہے
اور جو حرام نہیں ہے بلکہ اسلام میں جس کا جواز ہے اُس پہ اس قدر پابندی لگاکر خواتین کو دین سے اللہ کے قرب سے کیوں دور کیا جارہا ہے ؟؟
بھائی جب مسجد جانے پر آپ حضرات پابندی لگا سکتے ہیں تو دیگر جگہوں پر جانے پہ پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی ؟؟؟
ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہ مسجد جایا کرتی تھیں
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو انہیں کبھی آنے سے منع نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔
بلکہ اس تعلق سے آپﷺ کا ارشاد ہے کہ: لا تمنعوا نساءكم المساجد إذا استأذنكم إليها ( صحیح مسلم)
”جب تمہاری عورتیں مسجدوں کے لیے اجازت طلب کرے تو انہیں اس سے مت روکو “ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کیوں آپ ایک حدیث کو دلیل بناکر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو نظرانداز کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نعوذباللہ
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اجازت دے دی ہے اور اوروں کو بھی روکنے سے منع فرمایا ہے تو آپ نبیوں کے وارث کیوں منع کررہے ہیں ؟؟؟
کیا یہ بھی ایک طرح سے حماقت ، جہالت اور صنف نازک کی حق تلفی نہیں ہے ؟؟؟؟
اور ہاں سب سے اہم بات خواتین کے مسجد میں جانے سے اگر اتنا ہی خطرہ ہے ، تو اللہ سبحان تعالی نے اپنے گھر خانہ کعبہ کی زیارت وہاں پہ عبادت کرنے سے بھی خواتین کو سختی سے منع کیا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن نبی کے شہر مکہ اور مدینہ میں تو پابندی نہیں لگائی گئی ؟؟؟
بلکہ وہاں پر تو خواتین و بچوں کے لئے بہتر سے بہتر انتظامات کئے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جو حضرات مسجد میں خواتین کے جانے کو فتنہ کا باعث سمجھتے ہیں
کیا سفر حج کے دوران یا سعودی دبئی و دیگر مسلم ممالک کے سفر یا وہاں پہ رہائش قیام کے دوران بھی آپ حضرات اپنی خواتین کو کمروں و گھروں میں ہی عبادت کرنے کی تاکید کرتے ہیں ؟؟؟
کیا وہاں پر بِھی آپ خواتین کو حرم شریف اور مسجد جانے کی اجازت نہیں دیتے ؟؟؟
کیا حج کے دوران منی، عرفات ، مزدلفہ و دیگر مقدس مقامات پر تمام ارکان ادا کرتے ہوئے بھی آپ کو کسی قسم کا خدشہ لگارہتا ہے ؟؟؟؟
بیشک نہیں کیونکہ اللہ کے گھر کی حرمت، وہان کا نورانی منظر ہی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ہر ڈر خوف سے دور بس اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں محو ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
تو یہاں پر آپ کو اس قدر فتنہ کا خوف کیوں ؟؟؟
چاہے کعبہ ہو یا میرے محلے کی مسجد آخر ہیں تو دونوں اللہ ہی کے گھر اُتنے ہی مقدس اُتنے ہی حرمت والے ہیں ۔۔۔۔۔۔
پھر خواتین پر یہ ظلم یہ ناانصافی کیوں کی جارہی ہے ؟
خیر یہاں پر اہل سنت سے لے کر تبلیغ و اہل حدیث حتی کے ہر فرقہ ایک اللہ, ایک رسول, ایک قرآن کو مانتے ہیں
صحابہ رضی اللہ عنہ اور احادیث کو فالو کرتے ہیں
باوجود آپ حضرات میں اس قدر اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ آپ حضرات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے خاطر سامنے والے کو نقصان پہنچانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ؟؟؟؟
آخر کیوں کوئی ایک خود کو پوری طرح افضل اعلی صحیح اور دوسرے کے غلط ہونے کا دعوی کرتا ہے ؟؟؟
آپ حضرات کے انہی آپسی اختلافات نے آج ایک عام مسلمان کی واٹ لگا کے رکھ دی ہے، عام مسلمان کو گھن چکر بناکے رکھ دیا ہے جو نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا
کوئی اس جماعت کے پیچھے بھاگ رہا ہے تو کوئی اُس جماعت کے پیچھے، یوں ایک گھر میں رہنے والے ایک والدین کی اولاد ایک دوسرے کی دشمن بن چکی ہے ، میان بیوی جو ایک دوسرے کا لباس ہیں آج وہ بھی ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے نظر آتے ہیں افسوس کے آج ایک گھر ایک خاندان میں چار الگ فرقہ سر اُٹھارہے ہیں، اور آپ کے انہیں اختلافات کی وجہ سے عام مسلمانوں کے اندر ایک دوسرے کے لئے ہمدردی ، اپنائیت اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ ، خوشیوں مین شرکت بھی ختم ہوتی نظر آرہی ہے ،
آج ان جماعتوں کی وجہ سے اللہ کے بنائے خون کے رشتہ پھیکے پڑتے نظر آرہے ہیں نعوذباللہ
اور ان سب کی وجہ آپ حضرات ہیں
معاف کیجئیے گا آپ نے صرف مسلمان سے مسلمان کو ہی نہیں بلکہ بھائی سے بھائی حتی کے ایک مان کی اولاد کو بکھیر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔
بڑے ہی دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ آپ نے اُمت کے ایک جسم کو کاٹ چھانٹ کے رکھ دیا
تسبیح کے مانند مسلمانوں کو بکھیر کے رکھ دیا
یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان تعداد میں تو زیادہ ہیں ، اسباب وسائل طاقت میں بھی سب سے بہتر ہیں
باوجود کمزور، لاغر ، بےبس ،لاچار ، دھتکارے جارہے ہیں، مظلومین میں شمار کئے جارہے ہیں
اور ہماری شدت پسندی دنیا کے آگے ہمیں ذلیل و خوار کررہی ہے ہمارے زوال کی وجہ بن رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
خیر ان حالات پر جتنا رویا جائے کم ہے ، سالوں سے فرقہ بندی کا جو وائرس مسلمانوں کے دل و دماغ پہ سوار کیا گیا ہے کاش اس کا بھی کوئی ویکسین ایجاد کیا جاتا تو آج دشمنان اسلام کو اسلام و شریعت کے خلاف بھونکنے کے مواقعہ نہیں ملتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال ( نوٹ ) کیا جائے ، ہمارے گھر سے قریب مستورات کے لئے مسجد بنی ہے لیکن ہمیں اپنے گھر میں نماز ادا کرنا اچھا لگتا ہے ، لیکن یہ ہماری پرسنل چوائس ہے اور اپنی پرسنل چوائس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ہم کسی اور کو غلط نہیں کہہ سکتے، کوئی خاتون اگر مسجد جاکر نماز ادا کرنا چاہتی ہے تو وہ اُس کا حق ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اُسے روکا نہ جائے ۔۔۔۔۔۔۔
باوجود کوئی خاتون کے مسجد جانے کو ناجائز ، غلط یا اُلٹا سیدھا کہتا ہے تو وہ صرف اُس کی جہالت ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.