قانون کے رکھوالوں کا مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ اور متعصبانہ رویہ
از: آفتاب اظہرؔ صدیقی
قارئین کرام! اگر میں آپ سے معلوم کروں کہ مسلمانوں کی ایک بھیڑ اگر کسی مندر میں گھس کر ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگادے تو کیا ہوگا، ظاہرہے کہ آپ بھی وہی جواب دیں گے جو میرے ذہن میں ہے کہ پھر تو ان مسلمانوں پر دیش دروہی کا مقدمہ ہوجائے گا، کئی ہندوتوا تنظیمیں ان کے پیچھے پڑ جائیں گی، ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا، ان کے خلاف گودی میڈیا چینلز پر کئی طرح کے جہادی ڈبیٹ شروع ہوجائیں گے؛ لیکن اگر خبر اس کے برعکس ہو تو! یعنی اگر ہندؤں کی ایک بھیڑ کسی مدرسے میں گھس کر جے شری رام کا نعرہ لگادیں تب کیا ہوگا، جی ہاں! ایسا کرناٹک میں ہوا ہے، کرناٹک میں 15ویں صدی عیسوی کے قدیم مدرسے میں گھس کر بھیڑ نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے،یہ واقعہ کرناٹک کے بیدر میں محمود گنوا مدرسہ میں 5؍ اکتوبر کو پیش آیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے 9 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے چار لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
موصولہ خبر کے مطابق دسہرہ کے جلوس میں شامل لوگوں کے ایک گروپ نے کرناٹک کے بیدر میں 15ویں صدی عیسوی کے ایک قدیم مدرسے میں گھس کر‘جئے شری رام’اور‘ہندو دھرم کی جئے’کے نعرے لگائے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ بیدر کے محمود گنوا مدرسہ میں بدھ (5؍ اکتوبر) کو پیش آیا۔ اس سے متعلق ویڈیو کو لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ ویڈیو میں مدرسہ کی سیڑھیوں پر بلند آواز میں موسیقی، ڈھول پیٹتے ہوئے اورنعرہ لگاتے ہوئے ایک بڑا گروپ نظر آرہا ہے۔ مدرسہ کے اندر اس بھیڑ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدمسلم کمیونٹی کے لوگوں نے مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،مسلم کمیونٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ پوجا کے دوران ہجوم کے ذریعے ناریل توڑنے سے مدرسہ کے ڈھانچے کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ تاہم پولیس نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے مظاہرین کو ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ یقین دہانی کہاں تک پہنچے گی اس کا اندازہ ہم نہیں لگاسکتے ، اس لیے کہ جب جب ہم پر ظلم ہوا اور ہم نے آواز اٹھائی تو یقین دہانی ہی کرائی گئی، یقین دہانی کے بعد اکثر ایسا ہوا کہ مظلوم مظلوم ہی بنا رہا اور ظالم ظالم ہی، یعنی انصاف کی کوئی بات دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس واقعے کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا، بیدر کی تاریخی محمود گنوا مسجد اور مدرسہ کا 5؍ اکتوبر کانظارہ، انتہا پسندوں نے گیٹ کا تالا توڑدیا اور اس کی بے حرمتی کی کوشش کی۔ چیف منسٹر بسواراج بومئی اور بیدر پولیس آپ ایسا کیسے ہونے دے سکتے ہیں؟ بی جے پی صرف مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔
قارئین! یہ مدرسہ ایک تاریخی عمارت ہے جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے محفوظ کیا ہے۔ 1460؍ کی دہائی میں بنایا گیایہ قدیم ڈھانچہ بہمنی سلطنت کے تحت ہند-اسلامی فن تعمیر کے علاقائی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔اس ورثے کو قومی اہمیت کی یادگاروں کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس کا نام دکن کی بہمنی سلطنت میں ایک فارسی نژاد وزیرمحمود گنوا کے نام پر رکھا گیا ہے۔
قارئین! ایک نظریہ آپ کا اور میرا ہے کہ مدرسے میں گھس کر جے شری رام کا نعرہ لگانے والوں پر سخت کارروائی ہونی چاہیے، ان پر یو اے پی اے کا مقدمہ چلنا چاہیے اور فوری طور پر تمام لوگوں کی گرفتاری ہونی چاہیے؛ لیکن یہ نظریہ میرا اور آپ کا ہوسکتا ہے، گودی میڈیا کا نظریہ اس سے کچھ الگ ہوگا، اسی خبر کو گودی میڈیا چینلز پر اگر پیش کیا جائے تو گودی میڈیا اینکرز چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کچھ لوگ اگر مدرسے میں جارہے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ مدرسے میں سروے کرنے کے لیے گئے ہوں، کیا وہ مدرسہ ہمارے ملک کا حصہ نہیں ہے، کیا پتا وہ لوگ جے شری رام کا نعرہ لگانے کے بعد مدرسے میں نماز پڑھ کر واپس آتے، گودی میڈیا چینلز والے الٹا مسلمانوں کو ہی نشانہ بناکر ہیڈ لائنز چلانے لگ جائیں گے ’’مدرسہ میں جے شری رام کے نعرے پر ببال کیوں؟‘‘ کیا مدرسہ صرف مسلمانوں کی جاگیر ہے‘‘ کیا مدرسے میں ہندؤں کو پوجا سے روکا جارہا ہے‘‘ کیا اس مدرسے پر بلڈوژر چلائے گی سرکار؟ مدرسے میں جے شری رام کے نعرے سے دقت کیوں؟ ایسے ہیڈلائنز کسی چینل پر دیکھنے کو تو نہیں ملے ؛لیکن گودی میڈیا اس سے ملتا جلتا اور اسی جیسا کونٹینٹ پیش کرتا ہے ، یہی اس گودی میڈیا کا کام ہے کہ یہ ہر نیوز کو جانب دارانہ طریقے سے دکھاتا ہے۔
قارئین کرام! دوسری افسوس ناک خبر گجرات سے ہے، گجرات میں پولیس نے مسلمانوں کو باندھ کر پیٹا اور ’تماشہ’دیکھنے کے لیے گاؤں والوں کوجمع بھی کیا، گجرات کے کھیڑا ضلع کے ُاندھیلہ گاؤں میں پولیس کے ہاتھوں کھمبے سے باندھ کر مسلم نوجوانوں کی پٹائی کے وائرل ویڈیو نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا ہے، دی پرنٹ’میں شائع جانکی دیوی کی رپورٹ نے انتظامیہ کے متعصبانہ رویے کی پول کھول دی ہے، رپورٹ کے مطابق اندھیلہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی پولیس اہلکاروں نے منگل کی دوپہر ایک بجے کے قریب گاؤں کے مرکزی چوک پر جمع ہونے کو کہا۔تقریباً ایک گھنٹہ بعد، پولیس 10 مسلم نوجوانوں کو چوک پر لے آئی، ان سب کو بجلی اور ٹیلی فون کے تاروں کے ساتھ کھمبوں سے باندھ دیا گیا، اور سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار، جن میں سے ایک کے پاس پستول بھی تھا، نے انہیں ڈنڈوں سے پیٹا۔پھر قریب ہی کھڑی پولیس وین میں ڈال کر لے گئے۔بعد میں منظر عام پر آنے والے واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب نوجوانوں کی پٹائی کی جا رہی تھی تو وہاں موجود گاؤں والے‘بھارت ماتا کی جئے’کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ اور لوگ بھی خوشی مناتے اور تالیاں بجاتے نظر آئے۔اندھیلہ کی رہنے والی گیتا بین شرما کا کہنا ہے کہ‘لوگوں کو ہر گھر میں پیغام بھیج کر بلایا گیا، ملزمان کی پٹائی سے پہلے ہم وہاں جمع ہو گئے تھے، وہاں کیمرے لگے تھے، اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی تھی بدھ کو جب رپورٹر نے اندھیلہ کا دورہ کیا تو چوک پولیس اہلکاروں سے بھرا ہوا تھا، لیکن ان میں سے کوئی بھی گزشتہ روز کے واقعے کے بارے میں بولنے کو تیار نہیں تھا۔
قارئین ! آخر ان مسلم نوجوانوں کا‘جرم’ کیا تھا؟ ان پر الزام ہے کہ وہ ان 43 لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مبینہ طور پر ہندؤں کے پروگرام پر پتھراؤ کیا، تشدد پھیلایا اور کل رات اسی چوک میں ہونے والے گربا پروگرام میں خلل ڈالا، اس واقعہ میں 43 مسلم نوجوانوں کے خلاف نامزد رپورٹ ہے، ان میں سے 13 پولیس کی حراست میں ہیں، باقی فرار ہیں۔ لیکن یہ صرف الزام ہے ، جس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا ہے، پتھراؤ کرنے والوں کی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی ہے؛ جبکہ طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کے طرز پر پولیس والوں کے ذریعے سرعام سزا دینے اور کھمبے سے باندھ کر پیٹنے کے واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ ہم یہاں پر ان پولیس والوں سے معلوم کرنا چاہیں گے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ لوگ مجرم تھے تو آئین اور سنویدھان کی کس دفعہ کے تحت پولیس والوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ مجرموں کو کھمبے سے باندھ کر جانوروں کی طرح پیٹا جائے اور اس درندگی کو دیکھنے کے لیے لوگوں کو دعوت دے کر بلایا جائے۔ کیا جب دہلی اور اترپردیش میں کچھ دہشت گرد تنظیموں سے جڑے لوگوں نے مسجدوں پر پتھراؤ کیا تھا، حتی کہ مسجدوں کے میناروں پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لہرانے کا گھناؤنا کام کیا تھا تو کیا ان لوگوں کو بھی پولیس پرشاسن نے اسی طرح کھمبے میں باندھ کر پیٹا تھا؟ کیا جن لوگوں نے کرناٹک کے تاریخی مدرسے میں گھس کر جے شری رام کے نعرے لگائے ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کے سامنے کھمبوں سے باندھ کر پیٹا جائے گا؟ آخر قانون کے ساتھ یہ کیا کھلواڑ چل رہا ہے؟ عدالتیں کیوں خاموش ہیں؟ وردی قانون کی رکھوالی کے لیے دی جاتی ہے، جب اسی وردی کو قانون کی دھجیاں اڑانے اور تعصب کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا تو ملک کا کیا بنے گا؟ ملک کے مستقبل کا کیا بنے گا؟
یہ تو تھی گجرات کی خبر، مدھیہ پردیش سے بھی اسی طرح کی افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے ، مدھیہ پردیش میں گربا پنڈال پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں پولیس نے تین مسلمانوں کے گھر پر بلڈوزر چلادیا،مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں گربا پنڈال میں دو گروپوں کے درمیان تنازعہ کے بعد پتھراؤ ہو گیا۔ پولیس نے 19؍ افراد کے خلاف معاملہ درج کیا ہے، جن میں سے تین افراد کے گھروں کو غیر قانونی تعمیرات بتاکرتوڑ دیا گیا۔ ایک پولیس افسر نے منگل کو بتایا کہ ضلع کے سیتامئو تھانہ حلقہ کے سرجانی گاؤں میں 2؍ اکتوبر کی رات کو پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چار لوگ زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ دو گروپوں کے درمیان تنازع کے بعد گربا پنڈال میں پتھراؤ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ ایس پی انوراگ سوجانیا نے صحافیوں کو بتایا کہ 19؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے اور ان میں سے سات کو تفتیش کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ملزمین عادی مجرم ہیں۔
ایس پی نے بتایا کہ منگل کو محکمہ ریونیو کی مدد سے تینوں ملزمین کی ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ کی قیمت کی 4500 مربع فٹ سے زیادہ کی غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ پنڈال میں پتھراؤ کے سلسلے میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کئی خبر رساں اداروں نے اس واقعے کو گرباپنڈال پر مسلمانوں کی طرف سے پتھراؤ کے طور پرپیش کیا ہے، لیکن پرتشدد جھگڑے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ایس پی انوراگ سوجانیا نے کہا، دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے گربا پنڈال میں پتھراؤ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ مندسور کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سندیپ شیوا نے کہا، مکانات غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے اس لیے ہم نے انہیں گرا دیا۔ ہم تمام ملزمین کی جائیداد کے کاغذات چیک کر رہے ہیں اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس معاملے میں اب تک 11 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
قارئین! مقدمہ درج کرنا، گرفتار کیا جانا، یہ سب سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں؛ لیکن بلڈوژر سے گھر گرادیا جانا کہاں کا انصاف ہے؟ آخر ایک گھر میں کوئی مجرم تن تنہا تو نہیں رہتا، اس کے ساتھ اس کی فیملی اور خاندان کے دیگر افراد بھی رہتے ہیں، جب گھر گرادیا جائے گا تو دوسرے لوگ کہاں جائیں گے، پرشاسن کو ان بے گناہوں کے سروں سے چھت چھین لینے کا حق کس نے دیا؟ آخر یہ بلڈوژر کلچر کب ختم ہوگا؟ جو ہمارے آئین اور سنویدھان کے سراسر خلاف ہے، نہ کسی عدالت کا فیصلہ آتا ہے اور نہ مجرم کا جرم ہی ثابت ہوتا ہے اس سے پہلے اس کے گھر کو زمیں بوس کردیا جاتا ہے، یہ ظلم کی انتہا ہے، اس سے آپ کسی بھی قوم کا اعتماد نہیں جیت پائیں گے، اس طرح کی ایک طرفہ اور متعصبانہ کارروائی ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینے کے لیے کافی ہے۔
قارئین! سماجی کارکن سمیع اللہ خان لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ان ہندوتوا واردات پر ملک و بیرون ممالک سے انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی آواز اٹھائی ہے، البتہ مسلم قیادت کو شاید اپنی قوم پر مسلط اس ہندوتوا عذاب کی کوئی خبر نہیں مل سکی ہے، اتنا سب کچھ ہورہاہے، پر کہیں کوئی شور کوئی اضطراب محسوس کیا آپ نے؟ سب اپنے اپنے میں مگن اور مست ہیں، ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اب بھارت میں مسلمانوں پر ہندوتوا کے یہ حیوانی مظالم معمول بن چکے ہیں، چند افراد کے علاوہ کسی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور تاریخ گواہ ہے کہ مظالم کو سہنے کا معمول بنا لینا غلامی کی طرف تیز رفتار سفر کی علامت ہوتی ہے۔
قارئین ! ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی بہت تیزی کے ساتھ غلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور زندہ رہنے کی خواہش میں مظلومانہ زندگی گزارنے پر راضی ہوئے بیٹھے ہیں؟
Comments are closed.