وحدت انسانیت اسلام کا پیغام ہے
ذات پات کفر کا پیغام ہے
عبدالعزیز
ہمارے بزرگوںنے ایسے وقت میں مسلم مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالی جب فرقہ وارانہ فسادات کالامنتاہی سلسلہ ملک بھر میں پھیل رہاتھا اور مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ رہے تھے۔ مشاورتی اجتماع جس میںمسلم مجلس مشاورت عالمِ وجودمیںآئی اس کی روداد میں مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ لکھتے ہیں کہ:
’’ اجتماع تاثیر و جذبات سے ڈوبی ہوئی، فضا میں شروع ہوا، گویا ہندوستانی مسلمانوں کی کشتی بھنور میں پھنسی ہے، اور طوفان میں ہچکولے کھارہی ہے، اورکشتی کے ناخدا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو بچانے کی فکرمیں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، قرآن شریف پھر پڑھا گیاخلافت کے دیرینہ خادم و کارکن ملاجان کی فرمائش پراقبال کی نظم ۔ ؎
’’یارَب دلِ مسلم کووہ زندہ تمنّا دئے ‘‘
پڑھی گئی،جب خوش الحان کمسن طالب علم اس شعر پرپہونچا ؎
بھکٹے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہرکے خوگر کو پھر وسعت صحرادے
تو کئی آنکھیں پُر آب ہوگئیں، اور بہت سے دل امنڈآئے‘‘۔ (پرانے چراغ 415-414)
وفاقی تنظیم کانام جب رکھاگیا ہوگا تو’’وامر ہم شوریٰ بینھم ‘‘
(مسلمان ،اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں )
کی آیت کریمہ ضرور پیش نظر رہی ہوگی۔ یہ الشوریٰ کی 38 ویںآیت ہے اس سے پہلے 36 او ر 37 کی آیتیں ہیں:
’’ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیاگیا ہے وہ محض دنیاکی چند روزہ زندگی کاسروسامان ہے، اورجوکچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہترین بھی ہے اورپائیداربھی۔وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیںاوراپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں،جو بڑے بڑے گناہوں اوربے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں، جواپنے رب کاحکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں،اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ 36-38 کی آیتوں میں اپنے بندے سے مخاطب ہے۔وہ کہتا ہے کہ:
’ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر آدمی پھول جائے بڑی سے بڑی دولت بھی جو دنیا میں کسی شخص کوملی ہے ، ایک تھوڑی سی مدت کے لئے ملی ہے۔ چند سال وہ اس کو برت لیتاہے اور پھر سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوجاتاہے۔ وہ دولت بھی چاہے بہی کھاتوں میں کتنی ہی بڑی ہو عملاً اس کاقلیل سا حصہ ہی آدمی کے اپنے استعمال میںآتا ہے‘۔
اس مال (یاکسی عہدہ )پر اترانا کسی ایسے انسان کا کام نہیں جو اپنی اور اس مال ودولت ،عہدہ اورمنصب کی اورخود اس دنیا کی حقیقت کو سمجھتاہو ۔
نہایت معذورت اور افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہاہے کہ چندسال پہلے مشاورت کا عہدہ ایک ایسے شخص کو سونپا گیا جو بدقسمتی سے اس عہدے کے لائق نہیں تھا ۔ اس کی اپنی تگ ودو اور کچھ لوگوں کی خواہشات اور مفادات نے اسے کرسیِ صدارت تک پہنچا دیا اُس کجروی کی وجہ سے آج مشاورت میں اتحاد کے بجائے انتشار برپا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’عہدوںکاحریص ہونا ایک مجرمانہ ذہن کاذمہ دار ہے اوراس سے ذراہی کم درجہ اس رویے کا ہے کہ آدمی کوجونہی کسی عہدے کے لئے بلایا جائے فوراً ادھر لپک جائے کہ حضرت پہلے سے ہی منتظر بیٹھے تھے اورمزید عہدے ملتے جائیں بصد شوق انہیں شرف قبولیت دیاجاتارہے‘‘۔
عہدوں کے سلسلے میں احادیث پر نظر جاتی ہے توآدمی لرزاٹھتا ہے کہ منصب وقیادت کے ثواب کے زیادہ ہونے کے ساتھ اس کا حساب کتاب کتنا سخت ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے کہ ’’ تم لوگ اگر حصولِ امارت وقیادت کے حرص کرو گے توقیامت کے دن یہ تمہارے لئے ندامت کے باعث ہوں گے‘‘۔ جہاں بھی نا موزوںقیادت کا تجربہ ہوا، معاملات ایسے شخص کے ہاتھ میں آئے وہاں حالات ابترسے ابتر ہوگئے ۔ یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ’’ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو ‘‘ (النساء۔58) ۔
صاحبِ تفہیم القرآن نے سورہ النساء کی آیت 58کی تفسیرمیں لکھا ہے کہ’’ تم اُن بُرائیوںسے بچے رہنا جن میںبنی اسرائیل مبتلاہوگئے ہیں ۔ بنی اسرائیلوں کی بُنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوںنے اپنے انحطاط کے زمانہ میںامانتیں ، یعنی ذمّہ داری کے منصب اور مذہبی پیشیوائی اور قومی سرداری کے مرتبے (Position of trust) ایسے لوگوں کو دینے شروع کردیے جو ناہل ، کم ظرف ،بداخلاق ، بددیانت اوربدکار تھے۔ نتیجہ یہ ہواکہ بُرے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں ، یعنی جن میں بارِ امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو ‘‘۔
جن لوگوں نے کسی وجہ سے مذکورہ شخص کو اس عہدہ جلیلہ تک پہونچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایاتھا۔ ان میں سے جو لوگ آج بقید حیات ہیں کف افسوس مل رہے ہیں، معافی تلافی کے لئے کوشاں ہیں۔ اتحاد کس قدر ضروری اوراہمیت کاحامل ہے وہی لوگ جانتے ہیںجو اہلِ اتحاد ہیں اہلِ انتشار اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مولانا ابولکلام آزاد نے ہندومسلم اتحاد کے بارے میںکچھ اس طرح کہاتھا کہ اگر آزادی جلد مل جائے اور اتحاد باقی نہ رہے تو وہ آزادی کے لئے سوسال کی تاخیر انتظار کرلیں گے مگر ہندو مسلم اتحاد کوآزادی جیسی نعمت کے لئے اتحاد کو قربان کرنا گوارا نہیں کریںگے۔ سابق صدر مسلم مجلس مشاورت، مولانا مفتی عتیق رحمن عثمانی ؒ اکثر کہا کرتے تھے مسلم تنظیموں کے سربراہوں کا ایک ساتھ بیٹھنا بھی ایک کام ہے ۔ اس سے اتحاد واتفاق کی جھلک نظر آتی ہے۔ اتحاد کو ہر حال میں قائم رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے چاہے کسی اور کام میں جتنی بھی تاخیر ہوجائے‘‘۔
بیسویں صدی کی ایک عبقری شخصیت نے لکھا ہے کہ’’ مسلمانوں کی جماعتوں کو جس چیز نے آخر کار خراب کیا وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بہت سے ناقابلِ اعتماد لوگوں کا شریک ہوجانا ۔ تحریک خلافت میں بڑے بڑے نیک اور فاضل اور بہترین اخلاق کے لوگ شامل تھے۔ لیکن ایک کثیرتعداد اس میں ایسے کارکنوں کی بھی آکر شامل ہوگئی تھی جو سیرت وکردار کے لحاظ سے ناقص تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوںنے اپنے اعمال سے تحریک کو بدنام کیااور اپنے بہترین لوگوں کوبدنام کیا ۔مسلمانوں نے لاکھوں اورکروڑوںروپیہ جمع کرکے اس کارِخیرکے لئے دیا تھا اُس کااچھا خاصاحصہ ان غلط کارکنوں کے ہاتھوں خوردو برد ہوااورایک مدت دراز تک مسلمانوں میںچندہ کا نام لینا مشکل ہوگیا۔ کیونکہ عوام سے چندہ لے کر کام کرنے والے کارکنوں کااعتماد اس بری طرح مجروح ہوچکاتھاکہ مخلص اور نیک نیت کارکن بھی اگر کسی اچھے کام کے لئے لوگوںسے مالی مددطلب کرتے تھے کہ لوگ کہتے تھے یہ چندہ کھاجائیں گے۔
مشاورت مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق ، ان کے مشترکہ مسائل اور برادران وطن سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے لئے قائم ہوئی تھی۔ رخصت پذیر صدر محترم جاتے جاتے آخری وقت میں اپنے آپ کو ’لوہار‘ کے زمرے میں از خود شامل کرکے مشاورت کے دستور کو نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے توڑ کر پسماندہ غیر پسماندہ دو طبقے میں تقسیم کردیا اور مشاورت سے جو مسلم تنظیموں میںاتحاد تھا اُسے خاک میں ملادیا۔ایسے وقت میں جب برادران وطن ذات پات ،اونچ نیچ کے نظام سے تنگ ہو کر اُسے ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ مسلمان بھی جوعالمی برادری ، وحدت انسانیت ، اخوت ومساوات کے علمبردارتھے اسلام کے اُس آفاقی تعلیم ’’اللہ کے نزدیک تم سب میں سب سے بڑا شریف اور بزرگ وہی ہے جو سب سے زیادہ (نیک) اور پرہیزگار ہے‘‘ ۔ (سورہ الحجرات ۔13) کو تسلیم کرتے تھے اورآج بھی ایک حدتک مانتے ہیں ۔
اسلام کاعقیدہ توحید اتنا صاف ، ستھرا اور فلسفیانہ موشگافیوں سے اتنا اعلیٰ اور ارفع تھا اورہے کہ اس کی بے مثال قوتِ تاثیر کے خلاف شرک کی تمام حیلہ سازیاں کند ہوگئیں۔
افسوس ہے کہ اسلام کا دوسرا اصول وحدت انسانیت میں رخنہ پیداکرنے میں حریفوں سے کہیں زیادہ خود اس دین کے علمبرداروں نے غیر معمولی رول اداکیا ۔ اگرچہ اس طرح کی کمزور کوششوں کا سراغ ملت اسلامیہ کے آباد دوسرے خطوں میںبھی ملتاہے،مگر ہندوستان کے فلسفہ اور نظام ذات پات نے اس اصول کومجروح کرنے میںایسا کردار اداکیا ہے جو حددرجہ تکلیف دہ ثابت ہواہے۔ یہ کوشش مختلف جہات سے کی گئی۔ کبھی تکریم سادات کی خودساختہ تشریحات نے اپنامقام بنالیا ، جس کے نتیجہ میں اشراف اور ارذال کی تقسیم کو دین کے نام پر رواج دیاگیا۔ کہیںکفاء ت کو ازدواج کا ایسامعیار بنادیاگیا جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خالص عملی ہدایت کودینی اقدار کے مرتبہ پر فائز کردیاگیا۔کہیںقریشی کے استحقاق خلافت کی خالص حکمت عملی کو دائمی اسلامی قدربنانے کی ناروا تعبیر کو دائمی وسعت عطا کی گئی۔ یہ اوراس طرح کی متعدد جہات سے کی گئی جدوجہد کے عملی اثرات اتنے وسیع اور دوررس ہوئے کہ ملت اسلامیہ تفریق ذات پات کے شکنجے میں گرفتار ہوگئی۔
سوچنا چاہئے کہ جب ڈاکٹر مریض ہوجائے تومریض علاج مرض کے لئے کس کے در پے جائے گا ؟ مسلمان یا مسلمانوں کی ایک وفاقی تنظیم ذات پات کی مہلک مرض کی شکارہوجائے توبردران وطن کس کی طرف دیکھیں ؟ کس کے دروازے پر دستک دیں ؟ ۔
وحدت انسانیت اسلام کا پیغام ہے ، اس کو دکھی انسانیت کے لئے بطور نسخۂ شفا پیش کیا گیا تھا۔ آج ذات پات اور نیچ اونچ کی بیماری اللہ کے فضل کرم سے مسلمانوں میں کم ہورہی ہے۔ جولوگ اسی مفاد یا سیاست کے لئے اس بیماری کو پھیلانے کی کوشش کریں گے تو کیا وہ ناکام ونامراد نہ ہوںگے؟ا وراللہ نزدیک معتوب نہیںہوںگے؟
Comments are closed.