سر سید احمد خاں علماء کی نظرمیں
مولانا غیاث الدین دھام پوری (بجنوریوپی )محلہ بندوقچیان دھام پور
تاریخ نویسی کا مسلمہ اصول ہے کہ واقعات بیان کر نے میں پوری دیانت داری برتی جائے تاریخ نویس کے لئے ضروری ہے کہ وہ غیر جانب دار ہو البتہ تاریخی واقعات سے نتائج اخذ کرنے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے سر سید احمد خاں مرحوم اور علما ء دیوبند کے باہم اختلاف کو بھی تاریخ نویسو ںنے ایسی شکل دینے کی کوشش کی ہے کہ جس کی وجہ سے عوام الناس اختلاف کو فساد سمجھ کر دو الگ الگ نظریوں پرمتفق ہو گئے ہیں اس اختلاف کی خلیج کو گہرا کر نے میں داکٹر عا شق حسین بٹالوی نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے ،بقول بٹالوی صاحب ’’سر سید احمد خان مرحوم سیکولر لیڈر تھے لیکن مولویوں نے ان پر کفر کا فتویٰ لگا کر واجب القتل قرار دے دیا ،تو ا س غریب کو جان بچانے کے لئے اور مو لویوں سے دو دو ہاتھ کر نے کے لئے انہیںکے ہتھیا ر استعمال کر نے پڑے ‘‘حالانکہ یہ بات تاریخی حقائق کے بالکل خلاف ہے کہ ’’علماء نے انہیں واجب القتل قرار دیا ‘‘ سر سید احمد کو جن مولویوںنے کافر قرار دیا وہ آج کل کے سرکاری وظیفہ خوار دانشوروںکے طرزکے مولوی تھے ،علما ء دیوبند نے تو سر سید احمد خان کو نہ تو کبھی کافر بتایا اور نہ کبھی کافر بنایا، ہندو ستان کے تمام جید علما ء اور مشائخ نے سر سید کی مسلمانوں کے لئے ہمدردی اور خیر خواہی کی بر ملا تعریف کی اگرچہ انہوں نے سر سید کے طریق کار سے ضرور اختلاف کیا مگر انہیںکبھی کا فر قرار نہیںدیا ‘‘مجددالملت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نو ر اللہ مرقدہ کا شماربر صغیر کے نامور جید علما ء صوفیا میں ہو تا ہے آپ کے ملفوظات میں بے شمار جگہو ںپر سر سید کا تذکرہ ملتا ہے اگر چہ مولانا اشرف علی تھانوی بھی دیگر اکابر کی طرح سر سید کے طریق کار سے متفق نہ تھے آپ سر سید کے کالج کو فالج کہتے تھے او ر یہ فرماتے تھے ’’مغربی تعلیم کے ذریعہ مسلما نو ںکی فلاح و بہبود ممکن نہیں‘‘لیکن اس اختلاف کے باوجود مولانا تھانوی ؒنے کبھی بھی سر سید پر نہ تو ذاتی حملے کئے او ر نہ ہی ان کو کافر بتا کرواجب القتل قراردیا اس کے بر عکس آپنے سر سید کی مختلف صفات کی ہمیشہ بر ملا تعریف کی آپ سر سید کے خلوص و ملی ہمدردی کی اکثر تعریف کیا کر تے تھے ایک مجلس میں دوران گفتگو فرمایا’’عیب من جملہ بگفتی ہنر من نیز بگو ‘‘سرسید کا عقیدئہ توحید و رسالت جس درجہ کا بھی تھا بلاشک و شبہ نہایت پختہ تھا جیسا کہ آپ کی بعض تصانیف سے مجھ کو یعنی (حضرت تھانوی )کو ظاہر ہوا اور قرآن و حدیث کی جو تو جیہات انہوں نے کی ان کی منشا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کا اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہ ہوگواس کے لئے انہوں نے جو طریقہ اختیا ر کیا وہ غلط تھا اس لئے میں ان کونادان دوست کہتا ہوں (اشرف السوانح ج: اص ۲۱۵) ایک اور موقع پر مولانا تھانوی نے سر سید کے استغنا ء اور حوصلہ کی تعر یف کرتے ہوئے فرمایا :’’بڑا شخص چاہے دیندار ہو یا دنیادار اس میںاستغنا ء ضرور ہو تا ہے ‘‘ ایک مرتبہ کوئی مولوی صاحب سر سید کے بارے میںتذکرہ کر رہے تھے ’’اس نے شریعت محمدی میں بڑا تنزل اور اختلاف کیا ہے ہزاروں حملے شریعت پر کئے ہیں ‘‘ مولانا نے یہ باتیں سن کر کہا:’ان کی ظاہری تقریر کو نہ یکھو،ان کے قلب کو دیکھو کہ کیسا ہے مولانا محمد علی مونگیری خلیفہ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی تشریف فرما تھے کہ چند مولوی صاحبان صحن میں لڑ رہے تھے کہ سر سید روایات صحیحہ کا انکار کرتا ہے ،کافر ہے حضرت قبلہ حجرہ سے نکلے ،مسجد میں تشریف لائے اور مولانا مونگیری سے فرمایا ’’یہ لوگ اس بیچارے کو کافر بناتے ہیں ،مگر اس کے قلب کو دیکھ کہ کیسا ہے ’’میدان تصوف میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مکی کا مقام اہل علم سے مخفی نہیں حاجی صاحب نے ایک مرتبہ حضرت تھانوی ؒسے مسودہ تیار کراکر سر سید احمد خاں کو بطور نصیحت ایک خط لکھا ’’ مجھ کو آپ سے صوری نیاز حاصل نہیں مگر آپ کے اخلاق کے اوصاف سن کر غائبانہ تعلق ضرور ہے ،جہاں تک آپ کی مساعی اور تصانیف کو غور سے دیکھا ہے تو معلوم ہوا کہ آپ کو دو چیزیں مقصود ہیں’خیر خواہی اسلام اور خیر خواہی مسلمانان‘ ان دو باتوں کے مستحسن ہونے میں کسی کو کلام نہیں،مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ان مقاصدکے حصو ل کے لیے ذرائع کیا استعمال کئے جا رہے ہیں ؟ (حیات اشرف ) جس وقت سر سید نے علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تو انہوں نے ایک خاص معمتد قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں بھیجا کہ و ہ مولانا کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ میں نے مسلمانو ںکی ترقی کے لئے کالج کی بنیاد ڈالی ہے تاکہ مسلمان پستی سے نکل کر ترقی کی طرف بڑھیں، لہٰذا آپ میرا ساتھ دیں مولانا گنگوہی ؒنے یہ پیغام سن کر فرمایا : بھئی ! ہم تو آج تک مسلمانو ںکی فلاح کا راستہ اللہ اور اس کے رسول سے سمجھتے رہے مگر آج معلوم ہوا کہ ان کی ترقی کا اور بھی کوئی راستہ ہے ‘‘ پھر آپ نے مولا نا محمد قاسم نانوتویؒ کا نام لے کر فرمایا ’’وہ ان باتوں میں مبصر ہیں ،جووہ فرمائیں ہم ان کی تقلید کر یں گے ‘‘جب یہ شخص مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے پاس پہنچا اور مولانا گنگوہی کاجواب ارشاد فرمایا تو مولانا محمد قاسم صاحب نے کہا ’’کام کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں ،ایک نیت اچھی مگر عقل اچھی نہیں دوسرے عقل اچھی مگر نیت اچھی نہیں تیسرے نہ نیت اچھی نہ عقل اچھی ‘‘سر سید کے متعلق یہ تو نہیں کہ سکتے کہ نیت اچھی نہیں ہے مگر یہ ضرور کہیں گے کہ عقل اچھی نہیں ہے ،کیونکہ وہ جس زینہ سے مسلما نوں کوترقی کی طرف لیجانا چاہتے ہیں اور فلاح و بہبود کا سبب سمجھتے ہیں وہ مسلما نوںکے تنزل کا سبب ہوگا یہ تھی سر سید کے متعلق جید علما ء و مشائخ کی رائے دوسری طرف سر سید احمد خان کو بھی دار العلوم دیوبند اور علماء دیوبندسے بڑ ا حسن ظن اور عقیدت تھی مولانا قاسم صاحب ؒنے 15 اپریل1888 ء کووفات پائی اور سر سید نے 24اپریل 1880ء کو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں تعزیتی مضمون لکھا زمانہ بہتوںکو رویا اور آئندہ بھی بہتوں کو روئے گالیکن ایسے کے لئے رونا جس کے بعد اس کا جا نشیں کو ئی نظر نہ آئے تو نہایت رنج و غم اور باعث افسوس ہوتا ہے ہماری قوم کا صرف یہ کام نہیں کہ مولانا کی وفات کے بعد صرف چند کلمات افسوس کے کہہ کر خاموش ہو جائیں ،یا چندآنسو بہا کر رومال سے پونچھ کا صاف کر لیں بلکہ ان کا فرض ہے کہ ایسے شخص کی یادگار کو قائم رکھیں دار العلوم دیوبند ان کی ایک نہایت عمدہ یاد گار ہے سب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایسی کوشش کریں کہ وہ مدرسہ ہمیشہ قائم اور مستقل رہے (مقالات سر سید )مسلم یونیورسٹی میں جب شعبہ دینیات قائم کیا گیا تو اس کے لئے مولانا قاسم صاحبؒ کے داماد مولانا عبد اللہ ناظم مقرر کئے گئے ،اس پر کچھ لوگوں نے مخالفت کی تو سرسید نے کہا وہ نواسہ ہیںمولانا مملوک علی صاحب ؒکے داماد ہیں مولانا قاسم صاحب ؒکے مجھے ان پر بڑا اطمینان ہے سر سید کا دارالعلوم دیوبندسے دلچسپی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جب دارالعلوم کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو سر سید نے اس کے ہاتھ پچاس روپیہ چندہ بھی بھیجا تھا ہمارے اکابرین کو سر سید احمد خان سے صر ف ان کے طریق کار کی وجہ سے اختلاف تھا ان کی ذات سے کوئی عنادنہ تھا لہٰذا یہ کسی کا کہنا کہ سر سید کو علما ء دیوبند نے کفر کے فتو وں کی ز د میں لے لیا تھا ، نا واقفیت اور کم علمی کی بنا پر دعویٰ بلا دلیل ہے اگر چہ سر سید احمد خان کی زندگی ہی میںان کی مذہبی تحریروں نے مسلمانوں کے اندر شکوک و شبہات کے بیج بو دئے تھے جسکا علماء دیوبند نے بروقت نوٹس لیا مگر نوبت کفر تک نہ پہنچی۔
Comments are closed.