حجاب پہننا ہو تو پاکستان جاؤ
حفظ الرحمٰن بن شیخ عبد القوی
مظفرپور شہر میں بھی ایم ڈی ڈی ایم کالج میں حجاب کو متنازع فیہ مسئلہ بنا دیا گیا ہے ۔لڑکیوں کے حجاب پہننے کے اصرار پر ان سے کہا گیا کہ تم کھاتی ہندوستان کا ہو اور گاتی پاکستان کا ۔ اگر تمہیں حجاب سے اتنا لگاؤ ہے تو پاکستان کیوں نہیں چلی جاتی ۔
یہ ذہنیت جو تعلیمی اداروں سے لے کر محکمہ پولیس اور انتظامیہ کے جڑوں بلکہ عدلیہ کے قلم تک پہونچی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیا ہمارے آئینی حقوق کو کچلتی نہیں چلی جائے گی! اس پر نہ صرف غور کرنے بلکہ اس کے تحفظ کے لئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
اکثریت کے سامنے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر کے لٹریچر کی شکل میں ان کے بڑوں کے درمیان پہونچا نے کی ضرورت ہے کہ وہ اسلامی احکام و مسائل اور اسلامی شعار کو پاکستانی کلچر اور شعار بناکر اس طرح دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش نہ کریں گویا اسلامی احکام و مسائل اور اسلامی شعار سے وفاداری پاکستان سے وفاداری کے ہم معنیٰ ہے اور ہندوستان سے غداری کی کوشش بھی ۔ یہ صحیح ہے کہ تقسیم کے زمانے میں ہم نے ہجرت کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے آباء و اجداد کی زمین پر اسی ملک کے شہری رہتے ہوئے اپنی زندگی اور اپنی نسلوں کے لئے اس کو منتخب کیا تھا۔یہ ہندوستان سے گہری محبت کی دلیل ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں لینا چاہئے کہ ہم نے اس ملک میں رہنا اس لئے قبول کیا ہے کہ ہم کو کوئی ظالم طاقت اسلام سے دست بردار کردینے کی کوشش کرے ۔ ہم جس طرح اس وقت تقسیم کی سیاست کو نامنظور کردیئے تھے آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم سے اسلام اور اس کے کسی چھوٹے جزء سے دست بردار کرنے والوں کو نامنظور کرتے ہیں، ایسے اقدام کو ہم ملک سے غداری اور آئین کا تمسخر سمجھتے ہیں ۔
یہ صحیح ہے کہ پاکستان کی اکثریت اور ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے درمیان مذہب کا اشتراک ہے ۔ان کا مذہب بھی اسلام ہے اور ہم بھی مذہب اسلام کے پیرو ہیں ۔اس لئے ہمارے اور ان کے اندر مذہبی مماثلت بے شک اسی طرح پائی جاتی ہے جیسے ہندوستانی ہندو ، پاکستانی ہندو اور امریکی ہندو کے مابین پائی جاتی ہے ۔چونکہ یہ مماثلت نہ اپنے اصل کے اعتبار سے پاکستانیت ہے اور نہ ہندوستانیت، بلکہ یہ اسلامیت ہے ۔یہ اسلام سے وفاداری کا ظاہرہ بے شک ہے لیکن اسے پاکستان یا کسی اور ملک سے وفاداری کا ظاہرہ بناکر پیش کرنا پاگل پن اور کمینہ پنی ہے ۔کوئی اچھی شئے نہیں۔
حجاب بھی ایک اسلامی شعار ہے اور نماز و روزہ زکوۃ و حج کے بغیر اسلام کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ پاکستانی لڑکیاں بھی حجاب پہنتی ہیں اور ہندوستان کی مسلم لڑکیاں بھی ۔تو گندی ذہنیت رکھنے والے افراد بغیر سوچے ہوئے” حجاب پہننا ہو تو پاکستان چلی جاؤ”جیسے نفرت انگیز جملے بول دیا کرتے ہیں ۔ان کی گندی ذہنیت انہیں اتنا بھی نہیں سوچنے نہیں دیتی کہ آخر حجاب کا پاکستان سے کیا رشتہ ہے کہ اسے پہننے کا شوق پورا کرنے کے لئے وہاں کیوں جانا پڑے گا؟ ۔اور یہ حجاب اس ملک کے ان پاگلوں کا جو اپنی ظلم و جبر کو دیش بھکتی کے نام سے جواز فراہم کرتے ہی رہتے ہیں کیا بگاڑا ہوا ہے؟
کیا کل صرف اس بنیاد پر کہ پاکستان کے مسلمان اور ہندوستان کے مسلمان دونوں نماز پڑھنے ہیں یہ کہا جائے گا کہ تمہیں نماز پڑھنا ہے تو پاکستان چلے جاؤ ،اس کے بعد پھر روزہ، حج اور دیگر امور کا نمبر بھی آئے گا ۔
کاش قائدین ملت اپنی سطح پر مضبوطی سے اپنے موقف کو رکھنے کی صلاحیت رکھتے تو معاملہ بتدریج اور پھر بسرعت اس طرح ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکلتا ۔
ہم ان ستم گروں سے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ مہربانی فرماکر پاکستان کا نام لے کر ہمیں مذہب پر آزادی کے حق سے محروم مت کیجئے، اگر اہل پاکستان چاہے تو وہ اسلامی شعار سے دست بردار ہو جائیں ہم صرف اس وجہ سے کہ وہ بھی کسی شعار پر عمل کرتے ہیں نہیں چھوڑ سکتے۔جس طرح ہمارا ہندؤں سے ہمارا یہ مطالبہ غلط ہوگا کہ پاکستانی ہندو بھی درگا پوجا مناتے ہیں اس لئے ہندوستانی ہندو درگا پوجا کرنا چھوڑ دیں۔ویسے ہی آپ کے ایسے بے تکے مطالبات غلط اور نامنظور کرنے کے لائق ہیں ، آپ یقین رکھئے ہم نہ ہجرت کا راستہ اختیار کریں گے اور نہ ہی اسلام سے دست برداری کا ۔آپ سے التماس ہے کہ دیش کو غیر حقیقی مدعوں میں الجھا کر تباہی کے دہانے پر پہونچانے کے بجائے دیش میں موجود حقیقی مدعوں پر دھیان دیں تاکہ ہمارا دیش دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کر سکے ۔
Comments are closed.