محبت کا وہم
افسانہ نگار : اختر خان رضا،دیولگاوں ماہی ضلع بلڈانہ ،مہاراشٹر ۔فون 9763934468
برسات کا موسم تھا ۔ ہولے ہولے ہوا کے جھونکے اس کے رخسار کو چھونے لگے۔ خوش گوار ماحول کا وہ لطف لے رہی تھی۔ ثانیہ بےحد حسین اور خوبصورت و جمیل لگ رہی تھی۔اۤسمان سے کوئی پری اتر اۤئی ہو۔وہ اپنے گھراۤنگن میں بارش کا مزا لے رہی تھی۔باراستی بارش کے بوندے اس کے رخسار کو چھوتے جیسے گلاب پر شبنم برس رہی ہوں۔بارش میں بھیگتے دیکھ کر اس کی امی نےاۤواز دی۔بیٹی ثانیہ بیمار ہوجاوگئی ۔پہلے سےتو تم بیمار ہو۔اور اوپر سے بارش میں بھیگ رہی ہو۔امی مجھے بارش میں بھیگنے میں مزا اۤتاہے ۔ چلو جلدی سے کپٹرے بادلواور گرماگرم چائے کامزالو۔ امی تم کب تک میرے لیے چائے بناو گی۔میرے بھی فرض ہے۔کہ اۤپ کی خدمت کروں، خدمت تو تجھے تیرے ساس ۔ساسرکی کرنی ہے۔وہ ناراض ہوکر اپنے کمرے میں چلی گئی۔وہ اپنی امی کو چھوڑکر کہیں جانا نہیں چاہتی تھی۔بیٹی گھر میں رہاکر بھی پرائی ہوتی ہے۔چائے پیتے پیتے ثانیہ کی امی نےکہا۔بیٹی کالج ختم کرکےگھرکے کام کاج میں دھیان دو کھانا پکانہ گھر کی صاف صفائی وغیرہ یہ بات لڑکی کےلیے بےحد ضروری ہے۔ثانیہ غصہ سے اۤگ بگولہ ہوگئی۔امی پہلے تم نے گرما گرم چائے بلائی اور اوپر سے تم مجھے گرم کررہی ہو۔میں تمھیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں گی۔دونوں کی لٹرائی دیکھ کر راشد صاحب گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ کیا ہوا۔۔۔ دونوں لٹرائی کیوں کررہی ہو۔دیکھونہ ابو امی مجھے جدا ہونے کو کہہ رہی ہیں۔تو اس میں غلط بات کیا ہے۔ تمھیں ایک نہ ایک دن اپنے گھر جانا ہے۔ ابو تم بھی امی کی تعریف کررہے ہو۔ وہ ناراض ہوکر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ َََ وہ اپنے ماں باپ سےبہت محبت کرتی تھی۔ ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ راشد صاحب اور ان کی بیوی انجم بیگم چائے پیتے پیتے گفتگوکررہے تھے۔۔
ثانیہ بیڈ پر لیٹ کراپنے گزرے ہوئے ماضی کے لمحات کو یاد کرنے لگی۔ جب کالج کا خوبصورت پہلا دن تھا۔ نئے نئے دوست نئے نئے منظر نئی نئی باتیں سننے اور دیکھنے کو ملی ۔ ثانیہ کی ایک بہت دل عزیز سہیلی تھی۔زاراجہاں جس کی حسن و جمیل کی کوئی انتہا نہیں دونوں اپنے دلوں کی بات ایک دوسرے سے کہتے ساتھ آتے جاتے زارا جہاں کا تعلق بٹرے گھرانے سےتھا۔ اس کے والد ڈاکٹر ،بھائی انجینئر اور ماں سماج سودارک تھی۔زاراجہاں بھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ثانیہ ایک دفعہ ایک گلی سےگزری جہاں ماں اپنےبیٹے کو گالی گولچ کررہی تھی۔ تیرا خانہ خراب ہو۔ ثانیہ کو یہ بات ناگوار گزری اۤگے جاکر وہ زاراجہاں کے گھر کے پاس روک گئی۔ اس نے اۤواز دی۔زارا کے گیٹ پر کھٹرے چپراسی نے کہا۔زاراکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ کیا میں اس سے مل سکتی ہوں۔ضرور۔۔۔ ثانیہ اس سے ملنے کےلیے اس کے کمرے میں چلی گئئ،یہ کیا زارا۔۔زارا کی اۤنکھوں سے اۤنسوں بہنے لگے۔ثانیہ نے رونے کی وجہ پوچھی ۔ زارا ثانیہ کے گلے لگ کر اور رونے لگی۔ زارا تم پاگلوں کی طرح روتے جارہی ہو۔ آخر ہوا کیا۔۔ اۤخر رونے کا سبب کیاہیں۔ ثانیہ میری شادی کی بات طےہوگئی ہے ۔ اور تم توجانتی ہونہ میں کاشف سےکتنا پیار کرتی ہوں۔۔ کیا تم نے یہ بات گھر والوں کو بتائے نہیں تو پھر اتنا رونے کی ضرورت کیا ہے۔مجھے ڈرلگتا ہے کہ کہیں وہ اس رشتہ کو ٹھوکرانہ دے۔کمرے کےاندار زارا کی امی داخل ہوتی ہے۔ کب اۤئی بیٹی ثانیہ اسلام وعلیکم خالہ جان بس ابھی وعلیکم اسلام گھر پرسب ٹھیک ہے۔ جی زارا کی اۤنکھ اتنی لال کیوں ہے، زارا تمہاری اۤنکھو میں اۤنسوکیا بات ہے کوئی پریشانی ہے کیا تم شادی کےلیے تیار نہیں ہو۔۔۔
زارا نے اپنی پوری ہمت اور دل ایک جوٹ کرکے کہا۔ امی میں کسی اور کو چاہتی ہوں ۔میں کچھ سمجھی نہیں امی میں ایک لٹرکے سے محبت کرتی ہوں یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔ تمہارا دماغ کو ٹھیک ہے نہ یا اۤج کوئی نئی فلم نہیں دیکھی۔۔۔ امی میں نے کوئی فلم نہیں دیکھی ۔۔بس ایک ملاقات میں اسے دل دے بیٹی۔۔ اگر یہ بات تمہارےا بوکو پتہ چلی تو قیامت ہوجائےگی۔ ثانیہ تم لوگ اس لئے کالج جاتے ہو۔ عشق لٹرانے کےلیے۔ ایسی با ت نہیں ہے دراصل یہ دونوں ایک دوسرے کوبہت چاہتے ہیں اور با ت اس حدتک بٹرھ گئی ہے۔ کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ خبردار،اگرتم نے اس بات کواۤگ بٹرھایا زارا تمھیں ہم نے اٖۤزادی دی اور تم نے ہمیں یہ صلہ دیا۔ امی خدا کےلیے مان جاو۔۔
زارا کی امی نےزارا کوایک تھٹپر ماری ،یاد رکھنا ہمارے دامن خراب کرنے کی کوشش کی تو بہت عزت ہے ہماری اس شہر میں زارا کی امی کمرے سےباہر چلی گئی، زارا کی اۤنکھوںسے اۤنسو بہنے لگے۔ثانیہ نے کہا زارا بھلا ایک ملاقات میں تم کاشف کی دیوانی کیسے ہوگئی۔ کیاتم کو یقین ہے کہ وہ بھی تم سے پیار کرتا ہے۔اس ملاقات کے بعدکیا کبھی تم اس سے ملی۔۔تم نے کبھی یہ بات مجھےکبھی بتائے نہیں۔۔ کیا مجھے اس کےقابل نہیں سمجھا، ایسی بات نہیں ہے۔ثانیہ مجھے محبت کب ہوئی یہ بھی نہیں جانتی اس کا چہرا ہردم میری نظروں کے سامنے جھلکتا رہتاہے، مجھے اۤج بھی پہلی ملاقات کامنظریاد ہے، کاشف کی باتوں کا انداز چاند کی طرھ اس کاچہراہونٹوں پر مسکراہٹ کی ادائیں اس کی ہربات دل کو چھونےجیسی تھی۔کیا تماس منظرکودیکھ کراسے دل دے بیٹھی اس کے اخلاق اس کے کردار سےگلاب کی مہک اوربھی ایسی بات ہیں جو میں بتانہیں سکتی۔کیاتمہاری ملاقات ابھی بھی ہواکرتی ہے۔اۤج ایک مہینہ ہوگیا۔ اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دل تو ہرگھٹری اس کے یاد میںمنتظر ہے کیاتمہارے ساتھ محبت کاکھیل تو نہیں کھیل گیا؟ نہیں نہیں وہ ایسا نہیں ہیں۔وہ کوئی پریشانی میں ہوگا۔ زارا ان باتوں کو چھوڑ دو اور اپنے ماں با پ کی پسند کو اپنی پسند سمجھ کر شادی کرلو، اور میری محبت کونسی محبت کیسی محبت جوصرف کھیل کی طرح کھیلا گیاہوں ۔ نہیں نہیں میں اپنی محبت قربان نہیں کرسکتی۔ زارا ہوش سے کام لو۔پگھلی مت بنو ایک بار سوچ کر دیکھو۔ جس اجنبی کو تم دل دے بیٹھی کیا وہ تم کو اتنی ہی محبت کرتاہے۔جتنا تم اس پر فدا ہو۔ ثانیہ اس نے مجھ سےشادی کرنے وعدہ کیا ہے۔ اگر وہ تم سےشادی کا وعدہ کرتا تو تم کواپنی پریشانی خط کے ذریعے بتاتا اس طرح منہ چھپائے نہ بیٹھتا۔ زارا کی اۤنکھوں سےاۤنسووں اۤنا بند ہوگیا۔زارا تم اس کی اتنی تعریف کررہی ہوکہ جیسے تم کو اس کے بارے میں سب کچھ پتہ ہے۔ تم کومعلوم ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ اس نےبتایا تھا۔کہ وہ اس شہر میں اکیلے ہے میرا کوئی دوست نہیں ہے۔یہاں اپنے ماموں کے پاس رہتا ہوں،اوراپنی پٹرھائی کےتعلق سے اۤیاہوں،کیااس نے کبھی تمھیں اپنے ماموں کے گھر نہیں لےگیا،اس نے کہا تھا کہ اس کےماموں کو پسند نہیں ہے کہ کوئی لٹرکی ان کے گھراۤئے اس نے تم سےجھوٹی محبت کی،اگر وہ تم سے محبت کرتا تو ضرور اپنے بارے میں بتاتا۔ اس نے دوستی کا ہاتھ مانگاتھا، اور تم دل دےبیٹھی،زارا سوچنے پرمجبور ہوگئی،جسےثانیہ کی باتے سب کے سب صحیح معنوں میں صحیح ہوں،ثانیہ اسے تسلی دےکرچلی گئی۔زارا ثانیہ کےجانے کے بعداس کی باتوں پرغورکرنےلگی، زارا کواس بات کی زیادہ فکرو پریشانی تھی، کہ کاشف نےکوئی خط نہیں لکھا، کبھی میراھال نہیں پوچھا، نہ اپنا کوئی پتہ بتایا،اگر اس کے دل میں ذراسی بھی محبت ہوتی تو ضرورملنے کی چاہت رکھتا، اس نے اپناوقت گزارنے کےلیے مجھ سےمحبت کا کھیل رچاجس کےجال میں پھنس گئی،زارا سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی اۤنکھ لگی پتہ نہیں چلا اۤسمان پرتارے چمکنےاور روشنی پھیلائے ہوئے تھے چاند اپنی کیرنوں میں مست تھا، صبح اۤنکھ کھلی تو دیکھا۔گھر میں خوشی کی لہر مچل رہی ہے،امی ابوکےچہرے پر مسکراہٹ جھلک رہی ہے۔ زارا جلدی اٹھو اۤج تمھیں دیکھنے کےلیے لٹرکے والے اۤنے والے ہے،جلدی سےتیار ہوجاو زارا ،امی کےگلے مل کر رونے لگی، امی مجھے معاف کردو،نہیں زارا اس عمر میں اکثر غلطی ہوجاتی ہیں،مگر کسی اجنبی پر اتنا بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں۔ لٹرکے والوں کو زارا پسند اۤگئی شادی کی تاریخ بھی طےکردی۔ اۤج زارا سرخ جوڑے میں دلہن کے لباس میں بہت حسین و جمیل لگ رہی تھی، جیسےزمین پر چاندنکل اۤیا ہو،بیٹی ثانیہ اٹھوصبح کے۹ رہے ہیں۔کالج نہیں جاناکیا۔امی اۤج میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ثانیہ اپنے ماضی کے دنوں کویاد کرتے کرتے کب صبح ہوئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
ثانیہ تیارہوکر کالج جاتے وقت اس کے ہاتھ سےکتاب گرگئی۔ اٹھانے لگی۔تو اس میں ایک تصویر نیچے گرگئی،جب تصویر پر نظر پٹری تو دیکھا یہ تو زاہد ہے، کچھ پل کے لیےتو وہ اس تصویر میں کھوگئی،اپنے اۤپ کو سنبھل کر جانے لگی، تو امی نے اۤواز دی۔بیٹی ثانیہ ناشتہ کرکے جاو، ناشتہ تیار ہے، امی میراجی نہیں کہہ رہاہے۔ میں پہلے ہی بہت لیٹ ہوگئی ہوں اچھاچلتی ہوں،خدا حافط۔۔راشید صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہیں، ارے بیگم ثانیہ نے ناشتہ نہیں کیا پتہ نہیں اۤج وہ جلدی میں تھی۔ سوچتی ہوں اس کا کالج بند کرکےاس کی شادی کردوںمگر تم ہوکہ مانتے نہیں۔۔ کالج ختم ہوجانے کے بعد ہم اپنی بیٹی کی شادی بٹرے دھوم دھام سےکریں گے۔ثانیہ ایم ۔اے اردو کی تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اۤج اس کا پھول جیسے چہرے مرجھایا ہوا تھا، پتہ نہیں اۤخر اس تصویر میں کیاتھا۔جواداس بیٹھی اپنی خاموشی چھپارہی تھی۔ شاید وہ بھی کسی کو دل دے بیٹھی تھی۔ کالج ختم ہونے کے بعد ثانیہ اپنی سہیلی عرشیہ کے گھر گئی۔ عرشیہ اس کی کلاس مینٹ تھی۔ گھر کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سےتعلیم کو ادھورا چھوڑ دیا۔ ثانیہ تو اۤج پریشان کیوں ہے۔ تیری خاموشی بتارہی ہے۔ کہ تو مجھ سے کچھ چھپارہی ہے۔ثانیہ نےبے ساختہ کہادیا۔ زاہد کی یاد آرہی ہے۔ کیا تو زاہد سے محبت کرتی ہے۔ شاید مجھے ہی اس سے محبت ہوگئ،جب اس نےکالج کو الوداع کہاتھا۔۔۔۔
اس وقت کی تصویر اس کی میرے پاس ہے۔ کیا تیری تصویر بھی اس کے پاس ہے، پتہ نہیں دل اۤج بہت مغموم ہے۔ ثانیہ کیا تیری محبت زارا جیسی تو نہیں ہے نہ اس پگلی نےایک اجنبی کو نہ جانےکیا سمجھ بیٹھی تھی۔ جو اپنے ماں باپ سے بغاوت کرنے پر اتر اۤئی، نہیں عرشیہ زارا کی بات اور ہے۔یہ سب بات چھوڑوں تم تیار ہوجاو میں تمہارے لیے گرما گرم چائے لے کر اۤتی ہوں عرشیہ اپنے کچن روم میں چلی گئی۔ ، ثانیہ ابھی بھی اس کی یاد میں کھوئی ہوئ تھی۔اۤج بھی اس کا دل زاہد کےلیے تٹرپ رہا ہے۔ وہ اٹھ کر بیڈروم میں چلی گئ۔تیار ہوکر دونوں نے چائے کا لطف اٹھایا، اور ثانیہ تمہاری پٹرھائی کیسی چل رہی ہے۔ اس سال شادی کا خیال ہے یا نہیں امی ابوکی خواہش ہے کہ ایم۔اے ختم ہونے کے بعد شادی کردیں گے ۔ مگر دل ہیں کہ منتانہیں۔ کیا زاہد اور تمہاری ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ نہیں اۤج ایک سال کا عرسہ ہوگیا ہے۔ اس کا چہرادیکھنے کےلیے کاروبار کے سلسلے میں شہر گیا ہوا ہے، اگر وہ تم سے محبت کرتا ضرورتم کو ملتا۔ شاید تیرا وہم تجھے پریشان کررہا ہیں۔ محبت کرنے والے کبھی دوریاں پیدا نہیں کرتے۔ بلکہ جس حالت میں ہو پانے کی چاہت اور تمنا رکھتے ہیں، عرشیہ ثانیہ کو سمجھنے لگی۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ثانیہ حد سےبھی زیادہ بھروسہ کرنا اچھانہیں ہوتا۔۔۔ اچھا عرشیہ میں چلتی ہوں خدا حافظ۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔
ثانیہ اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے۔۔
ثانیہ کا ایک گلی سےگزرہی تھی اچانک اس کی نظر اس شخص پر پٹری جس شخص کےلیے اس کا دل تٹرپ رہاتھا، زاہد میلے کچلے لباس میں بال بکھرے ہوئے گمشدہ بیٹھا ہواتھا، میں نے حالے دل پوچھنے کےلیے اۤگے قدم بٹرھایاہی تھاکہ کسی نےپاگل کہہ کر زاہد کو اۤواز دی میں رک گئی، پاگل زاہد چل ہاسپٹل اۤج تجھے پاگل پن کا انجکشن لگواناہے میں دیوار کے سہارے سےاسے دیکھنے لگی۔وہ بٹربٹرا نےلگا۔ میں پاگل نہیں ہوں ،میں پاگل نہیں ہوں۔دواۤدمیوں نےاسے اٹھاکر گاڑی میں لےگئے۔میں یہ سب منظر اپنی اۤنکھوں سےدیکھنے لگی ۔پاس میں کھٹری عورت سےپوچھا کیاہوا اس لٹرکے کو اس کی پاگل پن کی وجہ کیا ہے، اۤپ کو معلوم ہے یہ بات پتہ ہےکہ وہ کسی لٹرکی کو پسند کرتاتھا۔مگر گھرکےحالات اور ماں باپ کی پریشانی کا بوجھ اس کے سرتھا۔۔۔۔اس لٹرکی سےزاہد بے پناہ محبت کرتا تھا۔ کیا وہ لٹرکی بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی تھی، جتنی کےزاہد اس سے کرتاتھا، اگر وہ لٹرکی زاہد سےاتنی محبت کرتی تو شاید زاہد پاگل نہ ہوتا اۤخر وہ لٹرکی تھی کون، کہکشاں ،کہکشاں ۔ہاں زاہد کاروبار کے سلسلے سے شہر گیا ہواتھا۔ اس شہر میں کہکشاں نامی لٹرکی سے اسے محبت ہوگئی،کیا اس لٹرکی کو زاہد کی حالت معلوم ہے، پتہ ہے اس نےکھبی اس سےمحبت نہیں کی جھوٹے وعدے جھوٹے قسمیں وہ امیرگھرانے کی دیوی تھی،اس نے زاہد کا استعمال کیا، اور یہ صاحب اس دیوی سےعشق کربیٹھے اس
لٹرکی نےاس سے صاف کہہ دیا کہ میں تم سے پیارنہیں کرتی چلےجاوں یہاں سے کبھی اپنامنہ مت دیکھانا پھرکیاتھا۔ زاہد اس کے چہرے کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ جیسے اس کے اوپر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پٹرا ہو،،جس لٹرکی سےمیں اپنی جان تک دینے کےلیے تیارتھا اۤج اس نے میری محبت کو ٹھوکرادیا۔ اس نے اۤج مجھے فراموش کردیا، کہکشاں کےلفظ زاہد کےدماغ میں نشتر کی طرح چھوپ گئے۔ دماغی حالت سےوہ پاگل ہوگیا۔ ثانیہ خاموشی سےاس عورت کے تمام بات سنتی اور دل ہی دل میں سوچنےلگی۔ کیا یہ حقیقت ہے یہ کوئی خواب ثانیہ اپنے گھر کی طرف قدم بٹرھانے لگی، تو اس عورت نےاسے اۤوازدی سنو تم کیوں پوچھ رہی تھی۔ یہ سب۔۔۔ جی میں اس کی کلاس مینٹ تھی اچھا زاہد تمہارے ساتھ پٹرھتا تھا۔۔ ہاں دعا کرنا زاہد ٹھیک ہوجائے ۔ اس بے وفا لٹرکی نےاسےدھوکہ دیا۔۔ثانیہ نے گھر پر اۤکر اپنی زندگی کا جائزہ لیا۔ جس لٹرکے کےلیے میرے دل میں جومحبت تھی۔ اۤج بھی شاید رہی ہوگی اللہ زاہدکوٹھیک کردے میں تو اۤ ج بھی اس کےلیے منتظر ہوں ۔ شاید اس کے نصیب میں نہیں شاید ایک طرفہ
محبت نے مجھے دیوانہ بنادیا۔ جو بار بارذہین و دماغ کو بے چین کررہا ہے۔ اس کی زبان سےبے ساختہ یہ اشعر نکلا۔۔۔
جسے میں اپنی زندگی کی کتاب سجمھ بیٹھی۔
وہ کتاب کے سرورق پرکوئی اور ہی تھا،
Comments are closed.