’’غزواتِ نبویؐ ‘‘پرایک نظر

منظور پروانہؔ
’’غزواتِ نبویؐ‘‘حکیم حامدتحسین کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کو بہت ہی پاکیزہ مقصد سے لکھا گیا ہے۔ یہ صرف غزوات کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ اس میںبین السطور جو پیغام دیا گیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ یعنی غزوات کے سلسلے میں اٹھائے جانیو الے سوالوں کا جواب۔ زبان شگفتہ اور سلیس ہے اور اندازِ بیاں مدلل اور جاذب نظر ہے۔ اس لئے ترسیل کا بھی کوئی مسئلہ درپیش نہیںآتا ہے۔ عام تعلیم یافتہ بھی اس سے فیض حاصل کر سکتا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تمام مواد مستند و معتبر حوالوں اور صحیح تاریخ اسلام سے پُر ہے۔ یہ وہ تاثرات ہیں جو حکیم حامد تحسین کی کتاب ’’غزواتِ نبویؐ‘‘ کے مطالعہ کے بعدنوک قلم سے جاری ہوگئے۔
حکیم حامد تحسین کی کتاب ’’غزواتِ نبویؐ‘‘ کل نو غزوات پر مشتمل ہے۔ کتاب میں شامل ’’اپنی بات‘‘ نامی مضمون میں مصنف نے بہت تفصیل سے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ جہاد بالسیف کی ابتداء کیوں ہوئی؟ اس سلسلے میں وہ رقم طراز ہیں کہ:
’’ تیرہ سالوں تک کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لفظوں کے انگارے برساتے اور دامن صبر کو جلانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے لیکن خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین ان پر ہمیشہ دعاؤں کے پھول ہی برساتے رہے لیکن …… ان قہقہو ںکا گلا گھونٹنے، زبان درازی کو تراشنے، دست درازی کو قطع کرنے، اہل مکہ کی عسکری قوت کو فوت کرنے، ان کے غرور کو خاک چٹانے اور مسلمانوں کی تلوار کی تیزی و کاٹ کے احساس کو ان کے ذہن ودل پر غالب کرنے اور ظلم اورظالم کو مٹانے کا وقت آگیا تھا۔ جب پانی سر سے گذرنے لگا اورحالات و واقعات مسلمان کے وجود کے لئے ایک چیلنج بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے دوسرے سال اس شرط پر جنگ کی اجازت فرمائی کہ خود کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں یہی مجبوری اورضرورت تھی اور حکم الٰہی تھا جہاں سے جہاد بالسیف کی ابتداء ہوتی ہے۔‘‘
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ محبت اورجنگ میںسب جائز ہوتا ہے۔ حکیم حامد تحسین اس سلسلے میں غزوات نبویؐ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ:
’’آپ کی غزواتی زندگی شجاعت اورجرأت کے سرفروشانہ جذبوں سے عبارت ہے لیکن محبت اورجنگ میں سب کچھ جائز قرار دینے والے لوگ آپ کی غزواتی زندگی میں جھانک کر دیکھیں ایک ایک لمحے کا حساب محدثین اور مؤرخین کے پاس ہے، ان کو پتہ چلے گا کہ سنگین ترین حالات اور مشکل ترین وقت کی کڑی دھوپ میںبھی آپ کے اخلاق کریمانہ کے پھولوں کی تازگی میں تل بھر بھی فرق نہیںآیا۔‘‘
آخر ایسا کیوں؟ اس کا جواب کتاب میں شامل مولانا نسیم اختر شاہ قیصر استاذ دارالعلوم وقف دیوبند کے ’’مقدمہ‘‘ میں ملتا ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :
’’آپ کی مقدس زندگی کا ایک رخ آپ کے غزوات بھی ہیں۔ یہ غزوات خدا نہ خواستہ ہوس ملک گیری۔ جاہ پسندی۔ اقتدار پرستی کی کوشش نہیں بلکہ اعلاء کلمۃ الحق کے لئے نافرمان، سرکش اور خدا کے باغیوں کے خلاف وہ تدابیر ہیں جن کو دنیاوی جنگوں کے پیمانے پر ناپنا خدا کے ایک عظیم پیغمبر کے مقدس مشن کو داغ دار کرنا ہے آپ کے تمام غزوات رضائے الٰہی کامظہر اور رب کریم کے حکم کی تعمیل ہیں۔‘‘
غزوات کے موضوع پر قلم اٹھاناہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے کیوںکہ یہ کام صرف واقعات کی کھتونی تیار کرنے جیسا نہیں ہے جس کے لئے صرف خوب صورت الفاظ کا استعمال کر اسے بیان کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کام کے لئے تاریخ کا عمیق مطالعہ اور وسیع النظری بھی بہت ضروری ہوتی ہے اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے کہ جب لکھنے والے کی نظر مستند حوالوں پر ہو، تاریخ اسلام پر ہو۔ اس حوالے سے مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی، مفتی دارالعلوم دیوبند اپنی تقریظ میں یوں رقم طراز ہیں:
’’زیر نظرکتاب جو غزوات سے متعلق ہے پیش نظر ہے، غزوات کا موضوع ایک اعتبار سے بڑا نازک ہے۔ اس میں صرف تحریر کی خوبصورتی اور خوبصورت الفاظ کی سلیقے سے تراش خراش کافی نہیں ہوتی بلکہ مستند و معتبر حوالوں اور صحیح تاریخ اسلام پر گہری نگاہ کی احتیاج ہوتی ہے۔غزوات نبویؐ کے مسودہ کے مطالعہ کے بعد اس سے مسرت ہوئی کہ حامدتحسین نے اپنا شگفتہ اسلوب برقررا رکھتے ہوئے ہر واقعہ مستند طریقے سے بیان کیاہے۔ یہ ان کے گہرائی سے تاریخ کے مطالعہ اور ذہانت آمیز وسیع النظری کی غماز ہے۔‘‘
مندرجہ بالا اقوال کی تائید میں چند نمونے حکیم حامد تحسین کی ’’غزواتِ نبویؐ‘‘ سے پیش ہیں:
غزوۂ بدر کے سلسلے میں حکیم حامد تحسین تحریر کرتے ہیں کہ ’’جنگ بدر بھی ایک ٹکراؤ تھا لیکن اس کی کیفیت بالکل مختلف تھی، اس میں دو عقیدوں کا تصادم تھا اور جب عقیدوں کا تصادم ہوتا ہے تو ایک کا مٹ جانا لازمی ہے۔ جس طرح آفتاب طلوع ہوتا ہے تو باطل اندھیرے مٹ جاتے ہیں۔ جنگِ بدر کی یہی کیفیت تھی یہ حق وباطل کی جنگ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کوہِ صفا کے پہلے خطبہ سے ہی شروع ہوگئی تھی۔‘‘
اس غزوہ میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
’’ کفار مکہ کے سینوں میں دل لرز رہے تھے، وقت کے مؤرخ کے ہاتھ میں قلم کانپ رہا تھا، حضرت حذیفہؓ کو اپنے ہی باپ کے،ابوبکرؓ کو اپنے ہی لختِ جگر کے خلاف ننگی تلواریں لیے کھڑا اور حضرت عمرؓ کی تلوار کو اپنے ہی ماموں کے خون میں تر عفراء کے بیٹے ابوجہل کو مارنے والے نوجوان معاذؓ کو اپنا کٹا ہوا بازو خود ہی اپنے پاؤں کے نیچے دباکر جسم سے علٰحدہ کرتے دیکھ کر تاریخ کی بوڑھی آنکھیں حیرت زدہ تھیں، کیونکہ اس نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔‘‘
٭غزوۂ احد کے ایک واقعہ کو حکیم حامد تحسین نے اس طرح پیش کیا ہے کہ:
’’حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ بدر میں عتبہ کو قتل کیا تھا، اس لئے اس کی بیٹی ہندہ کے صحرائے دل میں حضرت حمزہ ؓ کے خلاف نفرت کی آندھی شدت سے چل رہی تھی اور انتقام کی غرض سے اس نے نیزہ اندازی کا ماہر ایک وحشی نامی حبشی غلام کی خدمات اس شرط پر حاصل کی تھیں کہ اگر اس نے حضرت حمزہؓ کو قتل کردینے کی آرزو کے خواب کی تعبیر دے دی تو وہ آزاد کردیا جائے گا۔ اس کے پاگل پن اور جنون کا یہ عالم تھا کہ اس نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبانے کی قسم کھالی تھی۔ ‘‘
٭غزوۂ خیبر کے حوالے سے یہ عبارت پیش ہے:
’’چونکہ کچھ لوگوںنے بیعت رضوان والے سفر پر آپ کے ساتھ جانے سے گریز کیا تھااس لئے اﷲ تعالیٰ نے خیبر میں ان کی شرکت پر پابندی لگادی، اس طرح رسول اﷲؐ نے صرف انہیں صحابہ کو غزوۂ خیبر میں شرکت کی اجازت دی جو مال غنیمت کے لالچ میں نہیں بلکہ صدق دلی سے جہاد کے جذبوں سے سرشار تھے اور واقعہ یہ ہے کہ بیعت رضوان والوں سے بڑھ کر کون سچا ہوسکتا تھا اس لئے صرف چودہ سو افراد ہی خیبرکی مہم پر روانہ ہوئے۔‘‘
٭غزوۂ مکہ کی فتح کو حکیم حامد تحسین نے اس طرح دیکھا، وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
’’سیرت نگاروں اورمؤرخین نے اس کو فتح مکہ کا نام دیاہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مکہ کی فتح نہیںتھی بلکہ اسلام کی فتح تھی، باطل کی شکست اورحق کی فتح تھی جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چھڑی کی نوک سے بتوں کو گراتے جاتے اورفرماتے جاتے کہ حق آگیا ہے اورباطل مٹ گیا اورباطل کو مٹ جانا ہی تھا، واقعی یہ انسانیت کی فتح تھی۔ اونچ نیچ، کمتربرتر، ذات ،پات، نسل کا امتیاز اورخاندانی غرور کی شکست تھی، اس موقعہ پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کاخطبہ نبی نوع انسان کے لئے منشور ہے،اور آپؐ کے یہ الفاظ ’’اے قوم قریش! اب جہالت کا غرور اور نسب کا امتیاز خدا نے مٹادیاہے تمام لوگ آدم کی نسل سے ہیں اورآدم مٹی سے بنے ہیں‘‘۔
٭غزوۂ حنین کے حوالے سے یہ عبارت بھی بہت خوبصورت ہے۔ حکیم حامد تحسین تحریر کرتے ہیں کہ:
’’اﷲ تعالیٰ نے دشمن کے جاسوسوں کو چتکبرے گھوڑے پر سوار دودھ کی طرح سفید فرشتوں کو انسانی شکل و صورت میں دکھادیا تھا، جن کو آسمان کی الہامی فضاؤں سے مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجا گیاتھا اس منظر نے ان کے اوسان خطا کردئیے اور ان پر لرزہ طاری تھا۔اگر مالک بن عوف نصری ذہن رسا اور دیدہ بینا رکھتا تو ہوسکتا تھا کہ جنگ کی نوبت نہ آتی اور اس کو شکست فاش اور ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا، لیکن اس کے ذہن ونظر پر نفرت و عداوت کے پردے پڑے اور دل میںاپنی بہادری اور اسلام دشمنی کے جذبوں نے ہلچل مچارکھی تھی۔‘‘
مندرجہ بالا عبارات کی روشنی میں عبداللہ عثمانی ایم-اے کی اس آراء سے سو فیصد اتفاق کرنے میںمجھے کوئی تأمل نہیں کہ حکیم حامد تحسین ہمارے عصر کے پختہ کار ادیب ہیں، انشاء پردازی ان کی تحریروں کا خاصہ ہیں۔ جدت، ندرت اور انفرادیت کے باعث وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔ حکیم حامد تحسین کا تخلیقی جہاں نہایت وسیع اور دلچسپ ہے۔
امید ہے کہ حکیم حامد تحسین کی یہ کتاب ’’غزواتِ نبویؐ‘‘ نئی نسل کے لئے کار آمد ثابت ہوگی۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں راقم الحروف دست بدعاء ہے کہ اے مالک کل کائنات تو اپنے کرم سے حکیم حامد تحسین کی اس کاوش کو متاعِ آخرت کے طور پر قبول فرما کر اپنے رحم سے ان کے درجات بلند فرما۔
منظور پروانہؔ
’’دانش محل‘‘ نگر نگم، انڈر گرائونڈ پارکنگ کے سامنے، امین آباد، لکھنؤ
موبائل : 9452482159

Comments are closed.