دیوبند میں نابالغ طالبہ کی عصمت ریزی
دیوبند، 19؍ اکتوبر (سمیر چودھری؍بی این ایس )
اسکول جارہی درجہ 9کی طالبہ کے ساتھ ایک نوجوان کے ذریعہ زبردستی ایک خالی گھر میں لے جاکر عصمت دری کرنے کا سنسنی خیز معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ طالبہ کی والد کی تحریر پر پولیس نے نوجوان کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہوئے اس کی تلاش شروع کردی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق شہر کے ایک محلہ کے رہنے والے شخص نے دیوبند پولیس کو تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کل اس کی 14سالہ نابالغ لڑکی گھر سے اسکول جانے کے لئے نکلی تھی ، اس شخص کا الزام ہے کہ اسی دوران شہر کا ہی رہنے والا ایک نوجوان زبردستی اسے اپنے ساتھ مینابازار میں واقع ایک خالی مکان میں لے گیا اور اسے خوف زدہ کرتے ہوئے اس کی عصمت دری کی۔ اس شخص کا یہ بھی الزام ہے کہ مذکورہ نوجوان نے مخالفت کرنے یا کسی سے شکایت کرنے پر پورے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔ لڑکی کے والد کے مطابق جب اس کی لڑکی بدحواس حالت میں گھر پہنچی تو اس نے اپنے ساتھ ہوئی زبردستی کے بارے میں بتایا جسے سن کر ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی، تحریر میں نوجوان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نامزد نوجوان کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہوئے اس کی تلاش شروع کردی ہے۔ اس سلسلہ میں تھانہ انچارج دیوبند پیوش دیکشت نے بتایا کہ متأثرہ طالبہ کا میڈیکل کرایا گیا ہے ، تحریر کی بنیاد پر مقدمہ قائم کرلیا گیا ہے اور نوجوان کی تلاش کی جارہی ہے،جلد ہی اسے گرفتار کرلیا جائیگا۔
Comments are closed.