علماء کرام اور پلمبری
الطاف جمیل شاہ
باتیں ہیں باتوں کا کیا
رب العزت نے دنیا کو خوب سے خوب سنوارا اسے جنت کا عکس جیسا بنا دیا اپنی مخلوق کو جہاں میں رہنے کے لئے وجہ تسکین و وجہ الم بھی میسر رکھے قلب و جگر کو جھنجھوڑ دینے والے آلام بھی وافر رکھے خیر جہاں چلتا ہے چلتا ہی رہے گا پر روئے زمین پر اصلاح و تصحیح کے لئے اپنے پیغمبر کرام کو مبعوث کرتا رہا تاکہ اصلاح ہو اہل جہاں کی اب جب کہ یہ سلسلہ ختم ہوا تو علماء کے فضائل و مناقب بیان کئے گئے قرآن و سنت میں تاکہ یہ تا قیامت لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں جیسے کہ رب العزت قرآن کریم میں فرماتے ہیں
سورہ فاطر میں فرمان الہی : {اِنَّمَایَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُا} اہل علم نے کہا یہ آیت علماء کی شان بیان کرتی ہے اور اس امتیاز کو حاصل کرنے کیلئے اللہ سے تقوی اور خشیت ضروری ہے۔ یاد رکھو کہ علم محض جان لینے کانام نہیں، خشیت و تقویٰ کا نام ہے۔ عالم وہ ہے جو رب سے تنہائی میں ڈرے اور اس میں رغبت رکھے اور اس کی ناراضگی سے بچے ۔ سورہ زمر میں فرمایا: پوچھو بھلا علماء اور جہلاء برابر ہوسکتے ہیں؟ حالانکہ نصیحت تو عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔
احادیث میں فضائل
فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ” .ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” إِنَّ اللَّهَوَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِيجُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِالْخَيْرَ ” . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌغَرِيبٌ . قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍالْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يَقُولُ عَالِمٌعَامِلٌ مُعَلِّمٌ يُدْعَى كَبِيرًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ .
عالم کی فضیلت عابد پر اسطرح ہے جسطرح میری تمہارے ادنی ترین آدمی پر – پھر فرمایا کہ یقیناّ الله، فرشتے اور تمام اہل زمین ؤ آسماں یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں بھی، اس شخص کی لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رحمت بھیجتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھاتا ہے-
[جامع ترمذی :٢٦٨٥]
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَالنَّاسِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ فَإِذَا لَمْيُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوافَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ”
اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے ۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا ۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے ۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔
[صحیح بخاری:١٠٠، سنان ابن ماجہ، جلد ١، حدیث ٥٢]
عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ نے فرمایا:
عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَخَذُوا الْعِلْمَ عَنْ أَكَابِرِهِمْ وَعَنْ أُمَنَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَإِذَا أَخَذُوا مِنْ صِغَارِهِمْ وَشِرَارِهِمْ هَلَكُوا
8 نصيحة أهل الحديث للخطيب البغدادي لا يزال الناس بخير ما أخذوا العلم
"لوگ ہمیشہ اچھائی پر رہیں گےجبتک وہ علم لیں اپنے بڑوں سے، قابل اعتماد اور ثقہ لوگوں سے اور علماء سے- اگر لوگ اپنے نوجوانوں اور برے ؤ خیانت دار لوگوں سے علم لیں گے تو پھر وہ تباہ ہو جاینگے-
[ ابن منده, مسند ابراہیم بن آدم ، صفحہ ٣٤ اور نصیحه الخطیب البغدادی ٨، صحیح الالبانی ]
اقوال سلف
ابن القیم رحمه الله فرماتے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہالت ایک بیماری ہے اور اسکا علاج علماء سے پوچھنا ہے
[الداء والدواء صفحہ ٨،]
عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یہ بات درست ہے کہ ایک عقلمند شخص تین طرح کے لوگوں کی بے قدری نہ کرے:
علماء کی، حکمرانوں کی اور اپنے مسلمان بھائی کی-
شیخ البانی
"آج کی نوجوان نسل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جونہی وہ کچھ سیکھ لیتے ہیں وہ سمجھ بھیٹتے کہ وہ عالم بن گئے-
[الحدا والنور ٨٦١]
اپنی بات
علماء کرام روئے زمین کے ایسے ستارے ہیں جن کی روشنی چھن چھن آتے ہوئے تمام عالم کو رونق بخشنے کو کافی ہے
جب روئے زمین ان علماء امت سے خالی ہوگی تو رہ جائیں گئے و گنوار جنہیں سلیقہ نہ زندگی کا ہوگا اور نہ شعور انسانی سے مزین ہوں گئے یہ علماء کے فضائل کے لئے کافی ہے وہ میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں جنہیں خود لسان نبوت سے وارث انبیاء کہا گیا ہے
علماء کے لئے علم و آگہی لازم ہے جس سے مفر کسی صورت ان کے شایان شان نہیں جب تک وہ کتب کے صحراء میں کمر کس کے تحقیق و تخریج کے کام میں مصروف ہوں تب تک مولائے کریم ان کی ضروریات کا کفیل بنتا ہے اور کفالت مکمل کرتا ہے ہاں جب علماء تن آسانی کے لئے صرف آرام طلب اور جاہ و حشمت کے طالب بن جائیں تو یقینأ پھر روئے زمین کے لئے باعث مصیبت ہی رہ جاتے ہیں
محققین علماء نے جو ذخیرہ علم امت کے لئے رات دن کرکے تیار کیا وہ بذات خود ایک ایسی خدمت ہے جس سے مفر انکار کی ذرا بھی گنجائش نہیں امام محمد راتوں کو جاگتے علم و عرفان کے موتے تلاشتے پوچھنے والے نے پوچھا راتوں کو تو کم سے کم آرام سے رہیں فرمایا کہ میں جاگتا ہوں تو امت سوتی ہے انہیں خبر ہے میں جاگ رہا ہوں گر میں سو گیا تو امت کو جاگنا پڑے گا امام سرخسی جیسے بحر العلوم کی کاوشوں کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے جنہوں نے کنویں کے اندھیرے میں بیٹھ کر بھی علمی کی وہ خدمت کی کہ علمی دنیا اب بھی داد دے بنا نہیں رہ سکتی ابن تیمیہ ابن حجر شیخ البانی ہوں یا برصغیر کے شیخ تھانوی یا علامہ ندوی سید مودودی ہوں یا علامہ بریلوی جیسے رجال العلم جن کی محنت و مشقت کے ثمرات سے آج علمی دنیا سیراب ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی
پھر زمانے نے کروٹ بدلی
ایک ایسا طبقہ اہل جہاں میں پیدا ہوا جو خود تو بیکار پڑے رہتے ہیں پر اصحاب علم و دانش پر کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ان کا معروف نعرہ ہے کہ علماء کو روزگار کے بقیہ مواقع بھی تلاش کرنے چاہئے جیسے کارپینٹر پلمبری یا تجارت وغیرہ اول یہ نعرہ ہی معقول نہیں ہے مطلب اشخاص مذکورہ کی عقل و شعور اس درجہ ابہام و توہمات کا مارا ہے اسے خبر ہی نہیں کہ علماء کی اکثریت تو تاجروں کی ہی رہی ہے اور علماء تو اس بات کو ترجیح دیتے ہیں تجارت یا ہنر مندی کوئی عیب تو ہے نہیں جو علماء اس سے پرہیز کریں اس لئے جن کا جہاں تک بس چلتا ہے وہ ایسے کام جن میں نکیر نہ ہو کرنے سے نہیں رکتے
پر
مسئلہ پھر بھی یہی ہے گر آپ تمام علماء کو اپنی جگہوں سے اٹھا کر تجارت و صنعت و حرفت میں جھونک دین گئے تو مسائل شرعیہ کی تدوین و تخریج کون کرے گا یہ کام پلمبری کا نہیں ہے یہ علم و دانش کا کام ہے اس کے لئے اوقات درکار ہیں محنت اور تحقیق لازم ہے جس کے لئے اصحاب علم کا فارغ ہونا لازم ہے اس لئے ایسے نعرے کی دو کوڑی کی قیمت نہیں جو چلاتے پھرتے ہیں کہ بھائی علماء صنعت و حرفت سے وابستہ ہوجائیں
خیر یہ بات نہ ہی موٹی چمڑی والا اور نہ ہی موٹے دماغ کے ساتھ چھوٹے سر والا خود ساختہ محقق سمجھ سکتا ہے کیوں کہ اس کے لئے جس علم کی ضرورت ہے جناب اس سے فارغ ہی رہتے ہیں
دوم
علماء کا اپنا ایک مقام اور علمی پہچھان ہوتی ہے یہ جو ہمارے ہاں ہر گلی نکڑ پر علماء نما مخلوق علم و دانش سے یتیم دیکھائی دیتی ہے اور تن آسانی کی مارے ہوئے یہ لوگ علماء نہیں کہلاتے اس لئے انہیں علماء کی صف میں سمجھنا ہی فضول ہے ان کے القابات خطابات چاہئے سو ڈیڑھ سو ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی یہ قبیل علماء کی نہیں ہے ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ایک مزدور راجستھان کا تھا ایک گاؤں میں ڈاڑھی رکھے ہوئے تھے میٹھی باتیں کرتا تھا اور تھوڑا بہت قرآن پڑھ لیتا تھا اہل محلہ اسے مولوی صاحب کہتے کہتے امام بنا گئے پر جب اس جناب کی اصلیت کا علم ہوا تو سب نے نئے سرے سے وضو کیا اور معافیاں مانگتے رہے اللہ سے کوئی نعت خواں ہے نعت خوانی میں اسے کمال ہے تو یہ علامہ ہوا اب کوئی کہئے بھائی علامہ اور نعت خواں میں فرق ہے تو اس کے متبعین نہیں مانتے یہ پیشہ ورانہ ۔مبلغ ہوں یا نعت خواں لوگ یہ اصحاب علم نہیں بلکہ انہیں طلباء کہنا مناسب ہے
خیر
اگر اصحاب علم و دانش اپنے علمی کام کے ساتھ ساتھ صنعت و حرفت میں بھی زور آزمائی کریں تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی بہتر ہے ہاں گر فرصت اوقات محدود ہیں اور علمی مشغولیت زائد ہیں تو یقین رکھیں اللہ کافی ہے آپ کے لئے آپ جو چلاتے ہیں انہیں چلانے دیں آپ اپنے خالق کے بھروسے رہیں وہ رزق کی برکت سے آپ کو بے نیاز کردے گا یہ اس کا وعدہ ہے
کیونکہ
آپ کا واسطہ ایک ایسی مخلوق سے پڑا ہے جہاں ایک بے نمازی نماز کے آداب راستے پر سناتا ہے اور ایک جاہل امام سے کہتا ہے آپ کو قرآن پڑھنا نہیں آتا ہمارے ہاں جتنے دانشور سڑکوں اور دکانوں کی چوکھٹوں پر بحث و مباحثے میں دیکھائی دیتے ہیں گر ان کی نصف تعداد ہی صحیح شعور و ادارے کے ساتھ دیں سے جڑ جاتی تو کمال تھا
خیر
باتیں ہیں باتوں کا کیا وہ اپنے بحث و مباحثے کی مجالس میں مصروف ہیں تو اے گروہ علماء آپ اپنے کام سے فرار اختیار کیونکر ان کی باتوں میں آکر کرو گئے
اپنے کام کو مزید بہتر اور مناسب طریقے سے انجام دیں میری معروضات پر مجھ سیاہ کار کو معاف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں.
فی امان اللہ
Comments are closed.